Sunday, November 24, 2024

البيان والتبيين للجاحظ

البيان والتبيين للجاحظ 



عتیق اللہ کلیم ✍️

:إسم المصنف

أبو عثمان عمرو بن بحر بن محبوب الكناني والأرجح أنه الكناني بالولاء

:ولادته

ولد في البصرة حول سنة 159ه‍

:التعليم والتعلم

أخذ الجاحظ النحو عن الأخفش والكلام عن النظام والعربيه عن أمثال الأصمعي وأبي زيد وأخذ الثقافة اليونانية عن حنين بن اسحاق وسلمويه وأمثالهما وحذق الثقافة الفارسية من كتب من المقفع وأخذ عن   أبي عبيدة وتوسع في الثقافات كلها
ودرس حياة رجال الطبقات المختلفة ووصفها في كتبه فتتجلى دراسته للحياة ولمسائل الحياة وألوانها ومن شقاء وسعادة ومن فكر وخيال وعاطفة وجد وهزل وقلما اعتنى بهذا الجانب الواقعي من حياة العامة والخاصة،أديب من أدباء العربية كالمبرد والقالي وابن قتيبة ممن عاصرهم الجاحظ
غلبت على الجاحظ النزعة الأدبية في كل ما كتب حتى في الحيوان، فهو يتخير خير الألفاظ وأحسن التعبيرات، ويفر سريعا من التحقيق العلمي إلى رياض الأدب، من شعر أو حكمة أو نادرة، من أهم كتبه’ البيان والتبيين‘ وهو من مصادر الأدب الأربعة

:اسم الكتاب:البيان والتبيين/البيان والتبين

المعروف عامة أن اسم الكتاب ’البيان والتبيين‘ ولكن آثار بعض الكتاب المتأخرين شكوكا حول اسم الكتاب وقالوا أن تسمية الكتاب ’البيان والتبين

:تاريخ التأليف

ألفه الجاحظ في أخريات حياته إلا أنه لا يوجد نص لذلك

:لمن ألفه
المعروف أن الجاحظ أهدى كتاب ’البيان والتبيين‘ إلى القاضي أحمد بن داود وظهر هذا الكتاب بعد قتل ابن الزيات سنة233

:بدء الكتاب

بدأ الجاحظ كتابه بالتعويذ من العي والحصر و السلاطة والهذر والعجب ثم ذكر أشعارا تعوذوا فيها قديما بالله من هذه العيوب، قال النهر ابن تولب أعذني رب من حصر وعي ومن نفس أعجالها علاجا ثم ذكر بعض العيوب التي توجد في كلام الفصحاء والخطباء كواصل ابن عطاء الذي كان غير قادر على نطق الراء ومحمد بن شبيب المتكلم الذي كان غير قادر على نطق الغين
ثم يعود الى عيوب اللسان ويذكر تنافر الحروف و تنافر الألفاظ عند العرب يذكر الاشعار في ذم المتكلمين الذين في كلامهم عيوب

:الخط
ثم يذكر الجاحظ الدلالة بالخط، ويذكر فضائل الخط والكتابة على اللسان

:التكرار في الكلام

مؤيد الجاحظ ترديد الكلام في مواضع وقال ليس بعيب إذا كان له داع،التكرار ورد في القرآن فقال: إني لم أر أحدا يعيب ذلك وما سمعنا بأحد من الخطباء كان يرى إعادة بعض الألفاظ و تردد المعاني عيبا

:باب الصمت 
ذكر الجاحظ في هذا الباب فضل الصمت وما ولد فيه من أحاديث وأقوال الحكماء
ثم ذكر الجاحظ الاشعار في فضل الحلم وقله الكلام وإمساك اللسان وبعد ذكر روايات في فضل الصمت
وينصح الجاحظ الكتاب والأدباء والشعراء يرسلوا كلامهم إرسالا بل يفكروا ويدبروا ويهذبوا وينقحوا كلامهم ويأخذوا ورأي من هو أعلم منه قبل أن يثقفوا بكلامهم

:الجزء الثاني من البيان والتبيين

أراد الجاحظ أن يفتتح الجزء الثاني من كتابه بالرد على الشعوبية في طعنهم على خطباء العرب لكنه آثر قبل الرد على الشعوبية أن يبدأ كتابه بكلام رسول رب العالمين صلى الله عليه وسلم وسلف المتقدمين والجله من التابعين الذين كانوا مصابيح الظلام وقادة هذا الأنام وملح الأرض وحلى الدنيا والنجوم التي لا يظل معها ساري والمنار الذي إليه يرجع الباغ
المأخوذ من كتاب ’مصادر الأدب العربي‘ ألفه الشيخ محمد واضح رشيد الحسني الندوي


مقالہ: مولانا الیاس رحمة اللہ علیہ حیات و خدمات

مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ حیات و خدمات 


✍️عتیق اللہ کلیم 

تقریبا 1876 عیسوی سے پہلے کی بات ہے دہلی کے باہر حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے مرقد کے قریب 64 کھمبے کے نام سے جو تاریخی عمارت ہے اس کے سرخ پھاٹک پر ایک بزرگ رہا کرتے تھے جن کا نام محمد اسماعیل صاحب تھا آپ کی دوسری بیوی سے مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔

ولادت، آپ کا خاندان،ماحول اور بچپن: 

اپ کی ولادت 1303 عیسوی میں ہوئی اختر الیاس اپ کا تاریخی نام ہے آپ کا بچپن اپنے نانہال کاندھلہ اور اپنے والد صاحب مرحوم کے پاس نظام الدین میں گزرا اس وقت کاندھلہ کا یہ خاندان دینداری کا گہوارہ تھا اپ کی نانی بھی امۃ الرحمن جو مولانا مظفر حسین رحمتہ اللہ علیہ کی صاحبزادی تھیں ان کی نماز کا یہ حال تھا کہ مولانا نے ایک مرتبہ فرمایا کہ امی بی کی نماز کا نمونہ میں نے مولانا گنگوہی کے نماز میں دیکھا۔ 

مولانا کی والدہ ماجدہ: 

مولانا کی والدہ محترمہ بی صوفیہ بڑی جید حافظہ تھیں انہوں نے قرآن مجید شادی کے بعد مولانا یحیی صاحب کی شیر خوارگی کے زمانے میں حفظ کیا تھا معمول تھا کہ رمضان میں روزانہ پورا قران اور مزید 10 پارے پڑھ لیا کرتی تھیں اس طرح ہر رمضان میں 40 قرآن مجید ختم کرتی تھیں۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے بچپن میں قرآن شریف حفظ کر لیا اور مکتب کی ابتدائی تعلیم حاصل کی نظام الدین میں والد صاحب کی شفقت اور اپنی عبادات میں مشغولی کی کثرت کی وجہ سے تعلیم جیسی ہونی چاہیے تھی نہیں ہو رہی تھی مولانا محمد یحیی صاحب نے والد صاحب سے عرض کیا کہ بھائی کی تعلیم معقول نہیں ہو رہی ہے میں ان کو اپنے ساتھ گنگوہ لے جاتا ہوں والد صاحب نے اجازت دے دی آپ بھائی کے ہمراہ 1314 ہجری یا شروع 1315 ہجری میں گنگوہ آگئے اور بھائی سے پڑھنا شروع کر دیا۔

درمیان میں درد سر کا ایک خاص قسم کا دورہ پڑا جس کی وجہ سے سلسلہ تعلیم منقطع ہو گیا مہینوں بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا یہاں تک کہ 1326 ہجری میں شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ درس میں شرکت کے لیے دیوبند تشریف لے گئے اور ترمذی اور بخاری شریف کی سماعت کی۔

مظاہر العلوم میں خدمت تدریس:

        شوال 1338 ہجری میں سہارنپور کے مدرسہ مظاہر العلوم میں آپ بحیثیت معلم مقرر ہوئے مظاہر علوم کی تدریس کے زمانے میں اکثر کتابیں ایسی پڑھائی جو پہلے پڑھی نہیں تھی لیکن پڑھانے کے زمانے میں مطالعہ کی طرف بڑی توجہ تھی چنانچہ کنزالدقائق کے لیے بحر الرائق ،شامی اور ہدایہ دیکھتے تھے اور نور الانوار کے لیے حسامی کی شروح و توضیح تلبیہ تک مطالعہ میں رہتی تھیں۔

نکاح: 

6 ذیقعدہ 1330 هجری مطابق 17 اکتوبر 1312 عیسوی کو بروز جمعہ بعد نماز عصر آپ کے حقیقی ماموں مولوی رؤف الحسن صاحب کی صاحبزادی سے آپ کا عقد ہوا مولانا محمد صاحب نے نکاح پڑھایا مجلس عقد میں مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری، شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری اور اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہم تینوں حضرات موجود تھے۔

مکاتب اور جزئی اصلاح سے نا امیدی: 

مکاتب کے ذریعے جو معمولی انفرادی اصلاح و تعلیم ہو رہی تھی مولانا رفتہ رفتہ اس سے غیر مطمئن ہوتے گئے آپ نے محسوس کیا کہ ماحول کی بے دینی اور ملک کی عمومی جہالت اور ظلمت کا اثر مکاتب پر بھی ہے اول تو طلباء کی پوری اصلاح اور ان کی دینی تربیت نہیں ہونے پاتی دوسرے جو طلباء ان مکاتب سے دین کی تعلیم اور تھوڑی بہت اسلامی تربیت حاصل کر کے نکلتے بھی ہیں جہالت اور بے دینی کے اس بحر ظلمات میں جو ان کے چاروں طرف سینکڑوں میل تک پھیلا ہوا ہے ایسے غرق ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا پتہ نہیں چلتا آپ مختلف تجربوں سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خاص و افراد کی اصلاح اور دینی ترقی مرض کا علاج نہیں آپ کے اس تاثر کو ایک میواتی نے اپنے سیدھے سادھے الفاظ میں یوں بیان کیا کہ’جب تک عام آدمیوں میں دین نہ آئے کچھ نہیں ہو سکتا‘ مولانا ایک میواتی کو لکھتے ہیں: ” میرے دوست! آدمی کا جاہل اور غافل ہونا اور حق کی کوشش میں سست ہونا یہ ہر فتنے کی کنجی ہے اور تبع اور جذبات کے ان نامبارک اور گندہ صفتوں پر رہنے سے خدا جانے کتنے فتنے اٹھتے ہوئے تم دیکھو گے اور کچھ نہ کر سکو گے اٹھتے ہوئے فتنوں کو مٹنے اور آئندہ کی فتنوں سے روکنے کے لیے تمہارے ملک میں پیش آئی ہوئی اسکیم کی مشق کرنے کے لیے یو پی کے لیے نکلنے پر زور دینے کے سوا اور کوئی علاج نہیں“ چنانچہ 10 آدمیوں پر مشتمل پہلی جماعت کاندھلا کے سفر کے لیے تیار ہو گئی اور حافظ مقبول حسن صاحب کی امارت میں دہلی سے روانہ ہوئی کاندھلہ کے لوگوں نے بڑے اعزاز و اکرام سے امی بی کے گھر میں ان کو ٹھہرایا اور بڑی خاطر کی۔

وفات اور تجہیز و تکفین: 

12 جولائی پنج شنبہ کی رات 12 بجے گھبراہٹ کا ایک دورہ پڑا جس پر ڈاکٹر کو فون کیا گیا ڈاکٹر آئے اور گولی دی رات کو بار بار اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز آتی رہی مولوی یوسف صاحب سے فرمایا یوسف! آمل لے ہم تو چلے اور صبح کی اذان سے پہلے جان جاں آفریں کے سپرد کی اور عمر بھر کا تھکا مسافر جو شاید کبھی اطمینان کی نیند سویا ہو،منزل پر پہنچ کر میٹھی نیند سویا۔

اس کے بعد غسل ہوا علماء و فقہا نے اپنے ہاتھوں سے غسل دیا اور تمام سنن مستحبات کا التزام کیا گیا شیخ الحدیث صاحب نے نماز پڑھائی مسجد کی جنوبی مشرقی گوشے میں باپ اور بھائی کے پہلو میں سپرد لحد کر دیا گیا۔

اخلاق و تواضع: 

مولانا سید سلیمان ندوی مولانا کے تذکرے معارف اعظم گڑھ بابت ماہ نومبر 1944 عیسوی میں تحریر فرماتے ہیں:” لکھنو کے قیام میں ایک دفعہ دوست کے یہاں عصر کے وقت چائے کی دعوت تھی خاص کوئی مزید نہ تھی ان کی کوٹھی ہی میں نماز باجماعت کا سامان ہوا خود کھڑے ہو کر اذان دی اذان کے بعد مجھے ارشاد ہوا کہ نماز پڑھاؤ میں نے معذرت کی تو نماز پڑھائی نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف رخ کر کے فرمایا بھائیو میں ایک ابتلاء میں گرفتار ہوں دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے اس سے نکالے جب میں یہ دعوت لے کر کھڑا ہوا ہوں لوگ مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں مجھے یہ خطرہ ہونے لگا ہے کہ مجھ میں کیا اعجاب نفس نہ پیدا ہو جائے، میں بھی اپنے کو بزرگ نہ سمجھنے لگوں میں ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس ابتلاء سے بسلامت نکالے آپ بھی میرے حق میں دعا فرمائیں۔

بحوالہ: (”مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی دینی دعوت“ مصنف: حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ)


پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...