بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
رحمۃ اللعالمین (از : قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری) کے منتخب اقتباسا ت( قسط اول:( ص: 1 تا 80
تمہید
قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف "رحمۃ للعالمین" کا مطالعہ میں نے اپنے مربی و محسن استاد مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتہم کی نگرانی اور رہنمائی میں کیا۔ یہ مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کی معرفت، محبت اور حقیقتِ رسالت کی تجدید کے جذبے کے ساتھ تھا۔ کتاب کے ابواب، دلائل اور تحقیقی اسلوب نے میری فکر و بصیرت کو ایک نئی سمت عطا کی، اور مجھے یہ احساس دلایا کہ سیرت کا مطالعہ صرف ایک علمی مشق نہیں بلکہ روحانی تربیت اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔
اس مطالعے کے دوران میں نے اہم مباحث، دلائل، واقعات اور گہرے نکات کو نہایت احتیاط سے نوٹ کیا۔ اب میں ان منتخب نقاط اور اقتباسات کو ایک سلسلہ وار شکل میں اپنے بلاگ اور قارئین کے درمیان پیش کر رہا ہوں، تاکہ یہ روشنی صرف میرے دل تک محدود نہ رہے، بلکہ دوسرے دلوں اور ذہنوں تک بھی پہنچے۔ میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ سیرتِ پاک ﷺ کی عظمت، جامعیت اور آفاقیت کے شعور کو مزید مستحکم کرنے کا سبب بنے۔
رحمۃ للعالمینؐ کے مطالعے سے حاصل شدہ نکات
1. قرآن و حدیث اور دیگر مذاہب کی کتابوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نبی برحق ہیں۔
2. آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب مصنفؒ نے نہایت مدلل انداز میں خود معترضین کی مذہبی کتب کی روشنی میں دیا ہے۔
3. اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کے اوصافِ حسنہ حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ میں کامل صورت میں جمع تھے۔
4. مصنفؒ نے تقابلی انداز میں دیگر انبیاء کے مقابلے میں نبی اکرم ﷺ کی جامع اور برتر فضیلت کو ثابت کیا ہے۔
5. آپ ﷺ کے نسبِ پاک، آباء و اجداد اور خاندانِ بنی ہاشم کی سیرت و تاریخ نہایت جامع، واضح اور معتبر سند کے ساتھ مذکور ہے۔
6. غزواتِ نبوی کے واقعات، حکمتیں، نتائج اور ان میں شہید ہونے والے صحابہؓ کے حالات تحقیقی رنگ میں پیش کیے گئے ہیں۔
7. کتاب میں شامل جداول (چارٹس) فہمِ مضامین میں نہایت سہولت اور ترتیب پیدا کرتے ہیں، جیسے غزوات کے ساتھ شہداء کے اسماء، امہات المؤمنینؓ کے انساب وغیرہ۔
8. پہلی اور دوسری جلد میں اسلوب سہل، روان اور عام فہم ہے، جبکہ تیسری جلد میں اسلوب علمی و ادبی طور پر اعلیٰ درجے کا ہے۔
9. مصنف نے کئی مقامات پر اپنے ذاتی علمی و فکری نقطۂ نظر کو بھی وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
10. تاریخ کے مباحث میں مصنفؒ کی گہری تحقیق اور مضبوط علمی گرفت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
11. تیسری جلد کے آخر میں خاص فقہی و اعتقادی مباحث نہایت دقیق اور محققانہ انداز میں سامنے آتے ہیں۔
12. پوری کتاب میں ہر مقام پر رسولِ اکرم ﷺ سے مصنفؒ کی بے پناہ محبت اور والہانہ عقیدت جھلکتی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ میری یہ کتاب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حامد و محاسن کا اظہار اسی قدر کر سکتی ہے ،جس قدر ذرۂ بے مقدار آفتاب عالم تاب کے انوار کو آشکارا کر سکتا ہے۔ (مصنف علیہ الرحمہ)
عبد مناف کا نام مغیرہ تھا، پیدائش کے بعد ان کو مناف کے مندر میں لے گئے تھے اس لئے عبد مناف مشہور ہو گئے تھے ۔
ہاشم کا نام عمر تھا، یہ شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر غریبوں کو کھلایا کرتے تھے ہاشم نام پڑ گیا۔
عبدالمطلب کا نام شیبہ تھا، پیدائش کے وقت چند بال سفید تھے اس لیے ماں نے ان کا نام شیبہ ( بوڑھا )رکھا اپنے چچا المطلب کی شکر گزاری میں یہ تمام عمر عبدالمطلب کہلاۓ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم الشان معجزہ دکھایا کہ دلوں کو بدل دیا اور روح کو پاکیزہ بنا دیا انسان اور لاٹھی، انسان اور سانپ، انسان اور پتھر میں جتنا تفاوت ہے وہی تفاوت اس معجزہ اور دیگر معجزات میں بھی ہے۔
حجر اسود کے نصب کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ جب مختلف اغراض اور مختلف مقاصد کے لوگ ایک جگہ فراہم ہو جائیں تو ان کو کیوں کر مرکز واحد پر لا سکتے ہیں، نیز ثابت فرما دیا کہ خدشہ جنگ کے ٹال دینے اور امن کو مستحکم رکھنے کے لیے جنگی طاقت کی نہیں بلکہ اعلی دماغی قابلیت کی ضرورت ہے۔
ذات مبارک صلی اللہ علیہ وسلم میں نوح کی سی گرمی، ابراہیم جیسی نرم دلی، یوسف کی سی درگزر، داؤد کی سی فتوحات، یعقوب کا سا صبر ،سلیمان کی سی سطوت، عیسی کی سی خاکساری، یحیی کا سا زہد ،اسماعیل کی سی سبک روحی کامل ظہور بخش تھی۔
خورشید رسالت میں اگرچہ تمام مقدس رنگ موجود تھے لیکن ” رحمتہ اللعالمینی“ کا وہ نور تھا جس نے تمام رنگتوں کو اپنے اندر لے کر دنیا کو ایک برگزیدہ و چیدہ روشنی سے منور کر دیا ہے، ذرہ بے مقدار کی کیا تاب کہ خورشید عالم افروز کی جلوہ نمائی میں آئینہ داری کرے ۔
: حسان بن ثابت کا شعر ہے
وشق له من اسمه ليجله
فذو العرش محمود وهذا محمد
،واضح ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد سے خاص مناسبت ہے حضور کا نام محمد و احمد ہے، اور حضور کے مقام شفاعت کا نام محمود ہے، امت محمدیہ کا نام حمادون ہے۔
ہمارے نبیﷺ موسمِ بہار میں دو شنبہ ( پیر) کے دن 9 ربیع الاول 1 عام الفیل مطابق 122 اپریل 571 ہے مُطابق یکم جیٹھ 628 بکرمی کو مکّہ معظمہ میں بعد از صبح صادق و قبل از طلوع نير عالم تاب پیدا ہوئے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں دوشنبہ کا دن خصوصیت رکھتا ہے، ولادت ،نبوت، ہجرت، وفات سب اسی دن ہوئی ہیں ۔
،سب کا اتفاق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دوشنبہ کو ہوا چونکہ دو شنبہ کا دن نو ربیع الاول کے سوا کسی اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے نو ربیع الاول ہی صحیح ہے، تاریخ دول العرب والاسلام میں محمد طلعت بک نے بھی نو ربیع الاول ہی کو صحیح قرار دیا ہے۔
بحیرہ راہب کی ملاقات کی داستان ناقابل اعتبار ہے ۔
پادری صاحبان نے اتنی بات پر کہ بحیرہ نصرانی ملا تھا یہ شاخ و برگ اور بھی لگا دیے کہ 40 سال کی عمر کے بعد جو تعلیم آپ نے ظاہر کی تھی، وہ اس راہب کی تعلیم کا اثر تھا ،میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے تثلیث اور کفارہ کا رد مسیح کے سلیب پر جان دینے کا بطلان، اس راہب کی تعلیمی سے کیا تھا، تو اب عیسائی اپنے اس بزرگ کی تعلیم کو قبول کیوں نہیں کرتے۔
غار حرا کا طول چار گز ،عرض پونے دو گز تھا ۔
امام طبری نے نزول قران کی تاریخ 17 یا 18 رمضان روایت کی ہے چونکہ 18 رمضان ایک نبوت کو یوم جمعہ تھا ( بمطابق ١٧اگست ٦١٠ء) اس لیے نزول قران مجید شب جمعہ 18 رمضان کو تھا۔
انسانی آزادی وہ ہے جو قانون اور مذہب کی پابندی کے تحت میں ہر شخص کو حاصل ہے اور حیوانی آزادی وہ ہیں جو قانون اور مذہب کے اثر کو باطل ٹھہرا کر حاصل ہوئی ہو۔
یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔۔۔
نوٹ: یہاں ان اقتباسات کو ارسال کیا جا رہا ہے جو عام طور پر دوسری کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں ۔