Showing posts with label ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد ایک مس سیمیں بدن نظم کی تشریح. Show all posts
Showing posts with label ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد ایک مس سیمیں بدن نظم کی تشریح. Show all posts

Saturday, December 6, 2025

ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد

ایک  مس سیمیں بدن - تشریح 

اکبر الہ آبادی 

عتیق اللہ کلیم ✍️

یہ اکبر الہ آبادی کی بہت مشہور اور طنزیہ نظم ہے۔ اکبر الہ آبادی اپنی ظرافت اور طنز کے ذریعے مغربی تہذیب کی اندھا دھند تقلید پر تنقید کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

اس نظم میں شاعر نے ایک ایسے نوجوان کی زبانی بات کی ہے جسے اس کے بزرگوں (خاص طور پر سر سید احمد خان کی تحریک کی طرف اشارہ ہے) نے تعلیم کے لیے لندن بھیجا، لیکن وہاں جا کر وہ مغربی رنگ میں رنگ گیا اور ایک انگریز خاتون سے شادی کر لی۔

: یہاں اس نظم کی بند بہ بند (شعر بہ شعر) تشریح پیش ہے

 : ابتدائی اشعار: جرم اور الزام

ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد

اس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش

کوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قوم

کوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بد خصال و بد معاش

: تشریح

شاعر ایک نوجوان کا قصہ بیان کرتے ہیں جس نے لندن جا کر ایک "مس سیمیں بدن" (چاندی جیسے جسم والی، مراد گوری انگریز خاتون) سے شادی (عقد) کر لی ہے۔ اس شادی کی وجہ سے اسے اپنے ہم وطنوں اور بزرگوں کی طرف سے دل دکھانے والے طعنے سننے پڑ رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس نے غیر قوم میں شادی کر کے اپنی قوم کی نسل بگاڑ دی ہے، تو کوئی اسے بدچلن اور بدمعاش کہہ رہا ہے۔

: صفائی اور الزام کی واپسی

دل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگ

ہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش

: تشریح

نوجوان کہتا ہے کہ مجھ پر تنقید کرنے والے بزرگ انصاف سے کام نہیں لے رہے اور اصل حقیقت کو نہیں دیکھ رہے۔ اس لیے اب میں مجبور ہو کر اس راز کو کھولتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔

: مغربی تعلیم کی تاکید اور ترغیب

ہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھو

قوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع تراش

جگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کرو

سوپ و کری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آش

: تشریح

نوجوان یاد دلاتا ہے کہ یہ وہی بزرگ ہیں جو مجھے صبح و شام تاکید کرتے تھے کہ ترقی کرنی ہے تو لندن جاؤ، انگریزی پڑھو، انگریزوں سے ملو اور انہی کے طور طریقے (وضع تراش) سیکھو۔ مجھے کہا جاتا تھا کہ دیسی کھانے (یخنی اور آش) چھوڑو اور انگریزی ہوٹلوں میں جا کر سوپ اور کری کے مزے لو۔

: مغربی معاشرت میں گھلنے ملنے کا مشورہ

لیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے انداز و طریق

ہال میں ناچو کلب میں جاکے کھیلو ان سے تاش

بادۂ تہذیب یورپ کے چڑھاؤ خم کے خم

ایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاش

: تشریح

مجھے سکھایا گیا کہ انگریز خواتین (لیڈیوں) سے ملو، ان کے انداز اپناؤ، کلبوں میں جا کر ڈانس کرو اور تاش کھیلو۔ مجھے ترغیب دی گئی کہ میں یورپی تہذیب کی شراب (استعاراتی طور پر) جی بھر کے پیوں اور اپنے مشرقی اور ایشیائی پرہیزگاری (تقویٰ) کے شیشے کو توڑ دوں۔ یعنی مجھے پوری طرح مغرب زدہ ہونے کا درس دیا گیا۔

: ماحول کا اثر اور جذبات

جب عمل اس پر کیا پریوں کا سایہ ہو گیا

جس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاش

سامنے تھیں لیڈیاں زہرہ وش و جادو نظر

یاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش

: تشریح

نوجوان کہتا ہے کہ جب میں نے آپ کے مشوروں پر عمل کیا اور اس ماحول میں گیا تو مجھ پر وہاں کی حسیناؤں (پریوں) کا جادو چل گیا۔ میرا دل مچلنے لگا۔ میرے سامنے زہرہ (خوبصورتی کی دیوی) جیسی حسین اور جادوئی نظروں والی لڑکیاں تھیں، ادھر میں جوان تھا اور میرے دل میں امنگیں تھیں، اور ادھر انہیں بھی عاشقوں کی تلاش تھی۔

: حسن کی کشش اور نوجوان کی بے بسی

اس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل ربا

چال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاش

وہ فروغ آتش رخ جس کے آگے آفتاب

اس طرح جیسے کہ پیش شمع پروانے کی لاش

: تشریح

یہاں اس انگریز خاتون کے حسن کی تعریف کی گئی ہے کہ اس کی نظریں جادو کرنے والی اور باتیں دل موہ لینے والی تھیں۔ اس کی چال میں قیامت تھی اور نگاہوں میں بجلیاں۔ اس کے چہرے کی چمک ایسی تھی کہ سورج بھی شرما جائے اور میری حالت ایسی تھی جیسے شمع کے سامنے پروانہ جل کر راکھ ہونے کو تیار ہوتا ہے۔

: مجبوری اور فطرت

جب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برق بلا

دست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش؟

دونوں جانب تھا رگوں میں جوش خون فتنہ زا

دل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاش

: تشریح

نوجوان دلیل دیتا ہے کہ جب حالات ایسے تھے، ماحول اتنا رومانوی تھا، تو کیا یہ ممکن تھا کہ ایک بجلی گرانے والی حسینہ اپنا گورا ہاتھ میری طرف بڑھاتی اور میں اسے دھتکار دیتا یا کہتا کہ "دور رہو" (دور باش)؟ دونوں طرف جوانی کا خون جوش مار رہا تھا اور میرے سینے میں بھی انسان کا دل تھا، کوئی برف کا ٹکڑا (قاش) نہیں تھا جو پگھلتا نہیں۔

اختتامیہ: حضرت سید (سر سید) سے شکوہ

بار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیال

حضرت سید سے جاکر عرض کرتا کوئی کاش

'درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای

'باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش'

: تشریح

یہ نظم کا سب سے اہم حصہ اور "حاصلِ کلام" ہے۔ اکبر الہ آبادی کہتے ہیں کہ کاش کوئی جا کر "حضرت سید" (مراد سر سید احمد خان، جو علی گڑھ تحریک کے بانی تھے اور مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کرتے تھے) سے یہ فارسی کا شعر عرض کرے:

فارسی شعر کا ترجمہ: تم نے مجھے دریا کے بیچ میں ایک لکڑی کے تختے پر باندھ کر پھینک دیا ہے، اور پھر مجھے حکم دیتے ہو کہ خبردار! تمہارا دامن پانی سے گیلا نہیں ہونا چاہیے۔

مطلب: یعنی آپ نے خود ہی تو نوجوانوں کو مغرب بھیجا، انہیں وہاں کے کلچر میں گھلنے ملنے کو کہا، اور جب وہ وہاں جا کر ویسے ہی بن گئے تو اب آپ اعتراض کرتے ہیں؟ یہ ممکن نہیں کہ آپ آگ میں کودیں اور جلیں نہیں۔

: خلاصہ

یہ نظم دراصل ان لوگوں پر طنز ہے جو چاہتے تھے کہ ہندوستانی نوجوان مغربی تعلیم اور اطوار تو سیکھیں لیکن اپنی مذہبی اور مشرقی اقدار بھی نہ کھویں۔ اکبر الہ آبادی کا موقف یہ تھا کہ جب آپ کسی تہذیب کو اپناتے ہیں تو اس کے اچھے اور برے دونوں اثرات قبول کرنے پڑتے ہیں۔

: یہ بھی پڑھیں 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_7.html 

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...