علم کی فضیلت
عتیق اللہ کلیم ✍️
علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ و دل اویز انداز میں پائ جاتی ہے ، اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی، تعلیم و تر بیت تو گویا اس دین برحق کا جز ولا ینفک ہے کلام پاک کے تقریبا 78 ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ پروردگار عالم نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ ”اقرا“ ہے یعنی ”پڑھ“گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس بات کی طرف سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع بشر کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا، پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا، اور مزید اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ”قل هل يستوى الذين يعلمون والذين لا يعلمون“ کہ اے نبی کہہ دیجئے اہل علم اور جاھل ایک ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہو سکتے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” فضل العالم علی العابد کفضلی علی أدناکم“ ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”إن الله و ملائكته و أهل السموت و الأرضين حتى النملة في جحرها و حتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير“( رواه الترمذي )
عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی پر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالی رحمت نا زل کرتے ہیں اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں تک لوگوں کے معلم کے لئے بھلائی کی دعا کرتی ہیں ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کہ علم کا سیکھنا مومن پر فرض ہے۔
: تحصیل علم میں مشقتیں برداشت کرنا
علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی تکالیف اور مشقتوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا طالب علم کے لیے تحصیل علم میں استقامت کا ذریعہ ہے ، عربی کا شاعر کہتا ہے
تمنیت أن تصبح فقيها مناظرا
بغير عناء والجنون فنون
وليس اكتساب المال دون مشقة
تحملها، فالعلم كيف يكون
تمہاری خواہش ہے کہ بغیر تکلیف اور مشقت اٹھا ئے ہوئے بڑے فقیہ اور عالم بن جاؤ، یہ پاگل پن اور جنون ہے، کیونکہ جب مال و دولت کا حصول مشقت برداشت کیے بغیر نہیں ہو سکتا تو پھر علم جو اس سے بدر جہاں بلند اور بالا ہے اس کا حصول مشقت کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے؟
حضرت امام شافعی تحصیل علم میں چھ اہم امور کو ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے اشعار میں یوں بیان فرماتے ہیں
أخي لن تنال العلم الا بسته
سأنبيك عن تفصيلها ببيان
ذكاء وحرص واجتهاد وبلغه
وصحبه استاذ وطول زمان
،اے بھائی! تو علم حاصل نہیں کر سکتا مگر چھ چیز وں کے ذریعے میں تجھے وہ تفصیلا بتانا چاہتا ہوں ذکاوت ،علم کی حرص ،محنت اور گزارے کا سامان، استاد کی صحبت اور زمانہ دراز تک حصول علم۔
بلا شبہ امام موصوف کی یہ نصیحت بڑی قیمتی ہے اور چشم کشا حقائق پر مبنی بھی، کاش! ہم اسے حرز جان بنا لیں۔
