Showing posts with label قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کے احوال و آثار رحمۃ للعالمین از قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری. Show all posts
Showing posts with label قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کے احوال و آثار رحمۃ للعالمین از قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری. Show all posts

Wednesday, July 2, 2025

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کے احوال و آثار

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور 
پوری اور ان کے احوال و آثار 



عتیق اللہ کلیم ✍️

ان کے خاندان کے ایک بزرگ پیر محمد عہد مغلیہ میں دہلی کے منصب قضا پر فائز تھے، اس لیے انہیں قاضی پیر محمد کہا جاتا تھا، اس کے بعد خاندان کے ہر فرد کو قاضی کہا جانے لگا۔

آگے چل کر ان کا سلسلہ نسب حضرت علی سے جا ملتا ہے لیکن کسی نے اپنے نام کے ساتھ ’علوی‘ نہیں لکھا۔

قاضی محمد سلیمان کے پردادا قاضی محمد باقی باللہ ضلع فیروز پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں بڈھیمال کے رہنے والے تھے حضرت غلام علی شاہ مجددی دہلوی کے حکم سے تبلیغ دین کے لیے منصور پور میں سکونت اختیار کر لیا ہے۔
قاضی باقی باللہ کے بیٹے غازی معز الدین اور ان کے لڑکے  قاضی
 ا حمد شاہ ،قاضی محمد سلیمان کے والد مکرم تھے، وہ ۱۲۵۰ھ (1834) منصور پور میں پیدا ہوئے
آپ ریاست  پٹیالہ کے محکمہ مال میں ملازم تھے۔
قاضی احمد شاہ ۲۸ محرم ۱۳۲۸ھ(19 فروری 1990) کو پٹیالہ میں فوت ہوئے ۔
 قاضی احمد کی نرینہ اولاد تین بیٹے تھے ،جن کے نام یہ ہیں: محمد سلیمان ،عبدالرحمن، اور محمد ،جو کم سنی میں وفات پا گئے تھے۔
عبدالرحمن طویل عرصے تک ریاست پٹیالہ کے منصب وکالت (ریاست میں وکالت ایک نہایت ذمہ دارانہ منصب تھا اس کے معنی تھے سفارت اور نمائندگی) پر فائض رہے، ۳۰ دسمبر ١٩٤٧ کو لاہور میں فوت ہوئے ۔

 قاضی محمد سلیمان


قاضی صاحب۱۸٦٧ (١٢٨٤ھ) کو منصورپور میں پیدا ہوا۔
آپ کی والدہ کا نام ”اللہ جوئی “ تھا اور لوگ انہیں مائ  جی کہہ کر پکار تے تھے ۔

: تعلیم


قاضی صاحب نے قران مجید اور اس دور کی مروجہ تعلیم والد گرامی قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔
مولانا عبدالعزیز فروکش سے علوم متداولہ کی تحصیل کی فارسی کی تعلیم مہندرہ کا لج کے پروفیسر  منشی سکھن لال سے حاصل کی جو آتش یا ناسخ کے شاگرد تھے۔
سترہ برس کی عمر میں وہ علوم عربیہ ،دینیہ اور فارسی کی اعلی مروجہ تعلیم سے فارغ ہو چکے تھے ۔

 : ملازمت
 ۱۸۸۵
 میں ریاست پٹیالہ کے محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ   کے طور پر  تقررہوا۔
اور کم و بیش 1۵ سال اس خدمت کو انجام دیا۔
اس کے بعد قاضی صاحب تمام عمر عدلیہ میں رہے اور تھوڑے عرصے میں اتنی ترقی کی ریاست کے سیشن جج بنا دیے گئے۔

تصانیف 

الجمال و الکمال ( یہ سورہ یوسف کی تفسیر ہے) 
شرح اسماء الحسنٰی 
مہر نبوت ( یہ سیرت پر ان کی مختصر کتاب ہے) 
 اصحاب بدر 
 غایۃ المرام اور تائید الاسلام ( یہ دو کتابیں مرزا غلام احمد قادیانی کے 
(دعوائے مسحیت اور اُن کی کتابوں کے میں لکھیں

: رحمۃ للعالمین 

“اس کا نام قران مجید کی ایت کریمہ” وما أرسلنك إلا رحمة للعالمين سے مستعار لیا گیا ہے ۔
پہلی جلد ۱۹۱۲ء میں شائع ہوئی اور دوسری جلد ۱۹۱۸ء میں ہوئی جب کہ تیسری جلد کی اشاعت وفات کے بعد ۱۹۳۳ء میں ہوئی ۔
رحمۃ للعالمین کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قران و سنت کے دلائل کے ساتھ ساتھ دیگر  مذاہب کی کتب ( تورات، انجیل وغیرہ ) سے آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت بیان کی گئی، رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہود و نصاری کے اعتراضات کے مدلل جوابات دیے گئے ہیں۔


: وفات
 

انہوں نے دوسرے حج سے واپس آتے ہوئے جہاز میں وفات پائی نماز جنازہ مولانا اسماعیل غزنوی نے پڑھائی،بعد ازاں ان کی میت سمندر کی لہروں کے سپرد کر دی گئی یہ ۳۰ مئی ۱۹۳۰ کا واقعہ ہے کہ ارحم الراحمین نے ” رحمۃ للعالمین  “کے مصنف کو اپنی رداۓ رحمت میں لے لیا ۔
تلخیص مقدمہ ” رحمۃ للعالمین“ از قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری 


پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...