Showing posts with label مسلم پرسنل لا مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف مسلم پرسنل لا کیا ہے ؟ مسلم پرسنل لا کی اہمیت. Show all posts
Showing posts with label مسلم پرسنل لا مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف مسلم پرسنل لا کیا ہے ؟ مسلم پرسنل لا کی اہمیت. Show all posts

Monday, July 28, 2025

مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف

مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف 




عتیق اللہ کلیم ✍️

: مسلم پرسنل لا کا مطلب 

مسلم پرسنل لا کے لفظ کے پس منظر میں دو بڑی بنیاد غلط فہمیاں راہ پاگئیں ہیں ، ایک تو خود لفظ” پرسنل“ ہی غلط فہمی کی بنیاد بن جاتی ہے ، جو مذہب کے شخصی اور ذاتی تصور سے پھوٹا ہے، جس کے مطابق مذہب فرد کا پرائیوٹ معاملہ ہے دوسرے لفظ” مسلم“ کی  پیدا کردہ غلط فہمی یہ ہے کہ اس سے عام طور سے ذہنوں میں یہی خیال کام کر رہا ہے کہ دوسری قوموں کے” پرسنل لاء“ کی طرح یہ ”مسلم پرسنل لا “بھی مسلمانوں کے خاندانی رسم و رواج اور معاشی اور معاشرتی حالات کا پیدا کردہ اور ان کی ایجاد ہے ، یہ نقطۂ نظر دوسری قوموں کے فیملی لاز ، کے متعلق صحیح ہوسکتا ہے ، لیکن مسلمانوں کے حق میں یقیناً صحیح نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کے لحاظ سے اس کا ایک معمولی حصہ اجتہاد و قیاس اور عرف استحسان پر مبنی ہے اور قرآنی تصریحات کے مطابق ان احکام میں کوئی انسانی ترمیم و تنسیخ ، ظلم و فسق اور کفر ہے ۔

مسلم پرسنل لا  کا مفہوم انگریزی دور میں بھی تقریباً پورے ہی اسلامی قانون و شریعت کے ہوتے تھے ، یعنی وہ قانون جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے ، اور اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا ،ظفر احمد   صاحب لکھتے ہیں 

آرٹکل ۲۵(۲) میں ہے کہ ریاست کا کسی اقتصادی ، مالی سیاسی یا سیکولر فعل کو ریگولیٹ کرنا پابندی عائد کرنا جس کا تعلق کسی مذہبی رواج سے ہو اس لۓ حکومت یا پارلیمنٹ کو اسلامی پرسنل لاء کے بدلنے کا اختیار نہیں ہوسکتا ، اور آرٹیکل ٤٤ میں ریاست کو یکساں سول کوڈ بنانے کا جو اختیار دیا گیا ہے ،وہ متذکرہ بالا حقوق کے تابع ہے، حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ رواجی قانون اور ان قوانین میں فرق کرے جو رواجی نہیں بلکہ جزو مذہب ہیں ، رواجی اور مذہبی قوانین کے فرق کو مسٹر چھاگلا چیف جسٹس بمبئی ہائی کورٹ نے اپنے رولنگ بمقدمہ اسٹیٹ آف بمبئی بنام نراسواپا مالی شائع شدہ اے آر ۱۹۵۲ بمبئی صفحہ نمبر ۸٤ میں واضح کر رہا ہے، لائق چیف جسٹس نے فرمایا کہ مذہبی عقائد اور مذہبی رواج میں فرق کرنا ملکی ضرورت ہے، بے شک جو رواج کسی مذہب کا جزء لاینفک ہے، وہ پبلک آرڈر، ضابطۂ اخلاق اور سوشل ویلفیئر کے مقابلے میں قائم نہیں رکھا جا سکتا، لیکن یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مذہبی عقائد اور ان قوانین کا تحفظ کرے جو جزءِ مذہب ہوں ۔

(بحوالہ: نداۓ ملت ١٦/فروری ١٩٦٩ء)

: پرسنل لا  کی ملی اہمیت 

قوموں کے لئے ان کے اقدار حیات، نظریات زندگی، اخلاق کے اصول، معاملات کے طریقے، ان کے قانونی نظام، عزیز ہوتے ہیں ، فکری سرمایہ، مذہبی اور اخلاقی تصورات ہی کسی تہذیب کا سرچشمہ اور اس کا بنیادی پتھر ہوتے ہیں، لیکن ان سب میں پرسنل لاء کسی قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتا ہے، اسلام میں قانون سازی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا و الذي اوحينا إليك جسم اگر بےجان کے، درخت بے جڑ کے قائم نہیں رہ سکتا ہے تو کوئی ملت بغیر اپنے عائلی قوانین اور خاندانی نظام کے زندہ رہ سکتی ہے، ورنہ نہیں، کسی قوم کے لئے اس کی اتنی اہمیت ہو یا نہ ہو، مسلمانوں کے لئے بہر حال ہے، اس لئے کہ مسلمانوں کا وجود ایمان و اسلام، یعنی ماننے اور اطاعت کرنے اور اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا قلادہ گردن میں ڈال لینے سے ہے، اور یہ اسلام و ایمان قولا ہی نہیں بلکہ بالفعل اور علمی طور پر اس کی پوری زندگی میں زندہ و تابندہ، جاری اور نافذ ہونا چاہئے ۔

پرسنل لاء اگر ایک طرف عقیدہ و ایمان کا مدار ہے دوسری جانب امت مسلمہ کے وجود و بقا کا انحصار ! یہ وہ دو دھاری تلوار ہے، جسے اگر کسی قوم کے خلاف استعمال کیا جائے تو اس کے معنوی وجود کےساتھ اس کے ظاہری ہیئت و بود اور نمود کو ختم کر کے رکھ دے 

بحوالہ: مسلم پرسنل لا اور اسلام کا عائلی نظام ، از :شمس تبریز خان 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_17.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_7.html


پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...