Showing posts with label عربی زبان کی اہمیت ، عالمی یوم عربی زبان ، عربی زبان ، لسانیات. Show all posts
Showing posts with label عربی زبان کی اہمیت ، عالمی یوم عربی زبان ، عربی زبان ، لسانیات. Show all posts

Thursday, December 18, 2025

عربی زبان: انسانی تہذیب کا شاہکار اور علم و حکمت کا امین

عربی زبان: انسانی تہذیب کا شاہکار اور علم و حکمت کا امین


عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

زبانیں قوموں کی پہچان اور ان کی تہذیب کی عکاس ہوتی ہیں، لیکن کچھ زبانیں ایسی ہوتی ہیں جو جغرافیائی حدود کو عبور کر کے عالمگیر انسانی ورثہ بن جاتی ہیں۔ عربی زبان بھی ایک ایسی ہی زبان ہے۔ ہر سال 18 دسمبر کو جب دنیا "عالمی یومِ عربی زبان" مناتی ہے، تو درحقیقت یہ اس لسانی معجزے کا جشن ہوتا ہے جس نے ریگزارِ عرب سے نکل کر پوری دنیا کے علم، ادب اور فلسفے کی آبیاری کی۔ یہ محض ایک زبان نہیں، بلکہ فصاحت و بلاغت کا وہ سمندر ہے جس کی موجیں صدیوں سے انسانی شعور کو سیراب کر رہی ہیں۔

: فصاحت و بلاغت کا معجزہ

عربی زبان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی فصاحت (صفائی) اور بلاغت (جامعیت) ہے۔ قدیم عرب اپنی زبان کی مٹھاس اور وسعت پر اس قدر فخر کرتے تھے کہ باقی دنیا کو "عجم" یعنی گونگا قرار دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ کلام کی اصل طاقت صرف ان کے پاس ہے۔ مشہور قول ہے:

عربی سیکھو، کیونکہ یہ عقل میں اضافہ کرتی ہے اور مروت کو پختہ کرتی ہے۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ)

اس زبان کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عربی میں ایک ہی جذبے یا شے کے لیے سینکڑوں الفاظ موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، محبت کے مختلف درجات کے لیے عربی میں جتنے باریک اور لطیف الفاظ ملتے ہیں، وہ دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں پائے جاتے۔

: قرآنِ کریم: بقا اور عظمت کی ضمانت

عربی زبان کی بقا اور اس کے عالمی عروج کا سب سے بڑا سبب اسلام اور قرآنِ مجید ہے۔ اگرچہ دنیا کی قدیم زبانیں وقت کے ساتھ بدل گئیں یا ناپید ہو گئیں، لیکن عربی آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو اپنے آخری پیغام کے لیے منتخب فرمایا

بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا تاکہ تم سمجھ سکو۔ (القرآن)

قرآن کی وجہ سے نہ صرف یہ زبان محفوظ ہوئی بلکہ اس کے قواعد (Grammar) مدون ہوئے اور لغت (Dictionary) تیار ہوئی۔ آج دنیا کے ہر کونے میں بسنے والا مسلمان، چاہے وہ چینی ہو یا افریقی، جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اسی عربی زبان کے ذریعے اپنے خالق سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ روحانی تعلق عربی کو ایک "زندہ جاوید" زبان بناتا ہے۔

: علم و حکمت کا عالمی مرکز

تاریخ کے صفحات پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، تب عربی زبان علم و دانش کی واحد علامت تھی۔ آٹھویں سے تیرہویں صدی عیسوی تک، جسے "اسلامی سنہری دور" کہا جاتا ہے، عربی بین الاقوامی سائنسی زبان تھی۔

ریاضی: الخوارزمی نے عربی میں "الجبر" کی بنیاد رکھی، جس کے بغیر آج کا کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی ناممکن تھی۔

طب: ابنِ سینا (Avicenna) کی عربی تصانیف پانچ سو سال تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں طب کی بنیادی کتب رہیں۔

فلسفہ: ارسطو اور افلاطون کے یونانی فلسفے کو عرب مفکرین نے نہ صرف عربی میں ترجمہ کر کے محفوظ کیا بلکہ اس پر ایسی شرح لکھی کہ جدید فلسفے کی بنیاد پڑی۔

: اردو اور عربی کا اٹوٹ رشتہ

اردو بولنے والوں کے لیے عربی اجنبی نہیں ہے۔ اردو کا خمیر ہی عربی و فارسی سے اٹھا ہے۔ ہماری روزمرہ گفتگو میں شامل الفاظ جیسے حق، انصاف، دنیا، کتاب، قلم، مشورہ، دعا—یہ سب عربی سے آئے ہیں۔ اردو کا رسم الخط اور اس کی شعری روایات (جیسے نعت، حمد، منقبت) براہِ راست عربی ادب سے متاثر ہیں۔ فارسی کے مشہور شاعر سعدی شیرازی نے کیا خوب کہا تھا۔

عربی زبان کا ذائقہ وہی جانتا ہے جس نے اس کے ادب کی مٹھاس چکھی ہو۔

: فنِ خطاطی: حروف کا رقص

عربی زبان نے فنِ لطیفہ کو "خطاطی" کی صورت میں ایک انمول تحفہ دیا ہے۔ خطِ ثلث، خطِ نسخ اور خطِ دیوانی کی صورت میں جب عربی حروف کاغذ یا دیواروں پر بکھرتے ہیں، تو وہ محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ ایک مسحور کن فن پارہ بن جاتے ہیں۔ مساجد کے میناروں سے لے کر جدید آرٹ گیلریوں تک، عربی رسم الخط کی کشش غیر عربوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔

: جدید دور کے چیلنجز اور اہمیت

آج کے دور میں عربی کی اہمیت صرف مذہبی یا تاریخی نہیں، بلکہ معاشی اور تزویراتی (Strategic) بھی ہے۔ دنیا کی 22 ریاستوں کی سرکاری زبان عربی ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کی چھ سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی معیشت اور توانائی کے ذخائر نے عربی سیکھنے کو ایک عالمی ضرورت بنا دیا ہے۔ آج ڈیجیٹل دنیا میں بھی عربی مواد تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قدیم زبان جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

حرفِ آخر

عالمی یومِ عربی زبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اس عظیم لسانی ورثے کی قدر کریں۔ یہ زبان صرف عربوں کی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی ہے جو علم، ادب اور روحانیت سے لگاؤ رکھتا ہے۔ عربی سیکھنا دراصل ایک وسیع تاریخ اور روشن تہذیب کے دروازے کھولنا ہے۔ آئیے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس زبان سے روشناس کرائیں گے تاکہ وہ اپنے علمی اور مذہبی ورثے سے جڑے رہیں۔

: جیسا کہ عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے

اللسانُ مِفتاحُ القلب (زبان دل کی کنجی ہے)۔

اور عربی زبان تو وہ کنجی ہے جس نے صدیوں سے انسانیت کے لیے علم اور معرفت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ 

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...