Wednesday, May 27, 2026

فلسفۂ قربانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فلسفۂ قربانی 



بقلم : عتیق اللہ کلیم 

تمہید :

​دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کا کوئی بھی حکم حکمت و مصلحت سے خالی نہیں۔ بظاہر جو عبادات ہمیں محض روحانی یا روایتی محسوس ہوتی ہیں، اگر ان کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو ان کے پسِ پردہ بے پناہ سائنسی، معاشی اور ماحولیاتی فوائد نظر آتے ہیں۔ انہی شعائرِ اسلام میں سے ایک اہم ترین فریضہ "قربانی" ہے، جو سنتِ ابراہیمی کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ خالقِ کائنات کی رضا کے حصول کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔

عمومی طور پر قربانی کو محض جانور کا خون بہانے اور گوشت کی تقسیم تک محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں جب دنیا کو ماحولیاتی بگاڑ، گلوبل وارمنگ، آبی بحران اور معاشی عدم استحکام جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، تو اسلام کے اس نظامِ قربانی کی اہمیت اور افادیت مزید نکھر کر سامنے آتی ہے۔ یہ ایک ایسا متوازن خدائی نظام ہے جو نہ صرف معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کی معاشی کفالت کرتا ہے، بلکہ زمین کے حیاتیاتی اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

زیرِ نظر مقالے میں ہم قربانی کے اسی کثیر الجہتی فلسفے کا علمی و تحقیقی جائزہ لیں گے اور تاریخی و سائنسی حقائق کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اگر اس ربانی نظام میں انسانی مداخلت کی جائے، تو اس کے کرۂ ارض اور عالمی معیشت پر کس قدر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

لفظِ قربانی عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قربان' کے ساتھ "ی" بطور لاحقہ نسبت ملانے سے مرکب بنا ہے اور اردو زبان میں بطور اسم مستعمل ہے۔

قربانی کے اصطلاحی معنی: وہ جاندار جسے خدا یا دیوتا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ذبح کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ قربانی کا تصور تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے اور دینِ اسلام نے بھی حدود و قیود کے ساتھ اس کو باقی رکھا ہے۔

​لہٰذا دلیلِ ظنی ”فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ“ اور حدیث "مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا" کے تحت ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر ایامِ قربانی میں قربانی کرنا ضروری ہے۔

اگر ہم اس عبادت کے اندر غور کریں تو ہمیں تین اہم نکات معلوم ہوتے ہیں:

1۔ ​یہ ایک مذہبی عمل ہے جس پر رضائے الٰہی کا انحصار ہے۔

​2۔یہ ایک مربوط معاشی و اقتصادی نظام ہے جس سے مسلم اور غیر مسلم سب جڑے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر کسانوں کا چارہ اور جانور فروخت کر کے منافع کمانا، اور دیگر اجزاء (جیسے چمڑا، ہڈیاں وغیرہ) کے ذریعے دسیوں صنعتوں کا رواں دواں رہنا۔

3۔​قربانی کے ذریعے سے ماحولیاتی نظام کے توازن کا برقرار رہنا۔

​اس مقالے میں ہم ماحولیاتی نظام پر قربانی کے کردار اور اثرات کو پیش کریں گے۔

​خالقِ کائنات نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ اس میں ہر چیز، جس کے کرنے یا نہ کرنے کا خدا حکم دیتا ہے، اس کا انحصار اس کائنات کے نظام پر ہوتا ہے۔ اگر خدائی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

​مثلاً 1902 میں ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں، جب وہ فرانسیسی حکومت کے تابع تھا، انتظامیہ نے چوہوں کو ختم کرنے کا ارادہ کیا اور چوہے مارنے پر انعام بھی رکھا۔ اس کی وجہ سے تمام چوہے ختم ہو گئے اور پھر وہاں خطرناک قسم کا طاعون پھیل گیا۔

اسی طرح 1958 میں چینی حکومت نے چڑیوں کو فصل کھانے والا کیڑا قرار دے کر تمام چڑیوں کو مارنے کا حکم دے دیا۔ جب تمام چڑیاں ختم ہو گئیں تو ٹڈی دل نے تمام فصلوں کو کھا کر تباہ کر دیا اور 1959 سے 1961 تک چین میں عظیم قحط پڑا جس میں کروڑوں لوگ مرے۔ بالآخر چینی حکومت کو روس اور کینیڈا سے چڑیاں خرید کر اپنے ملک میں چھوڑنی پڑیں۔ یہ تمام مثالیں قدرت کے نظام میں خلل اندازی کے بھیانک نتائج کی ہیں۔

​ان تاریخی حقائق کی روشنی میں اگر ہم قربانی کے عمل پر پابندی کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیں تو درج ذیل سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ ہم گائے، بیل، بھینس وغیرہ کو دیکھیں کہ قدرت نے ان کے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن اگر ان کو ذبح نہ کیا جائے یا نہ کرنے دیا جائے تو کیا ہوگا:

1۔ میتھین گیس اور گلوبل وارمنگ میں اضافہ:

گائے، بیل اور بھینس جگالی کرنے والے جانور ہیں اور ہر گائے سال میں 100 کلو میتھین خارج کرتی ہے۔ یاد رہے کہ میتھین کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) سے 28 گنا زیادہ طاقتور گیس ہے۔ اس حساب سے دنیا میں ابھی 1.5 ارب گائے، بیل وغیرہ ہیں۔ اگر ذبح نہ کرنے پر ان کی آبادی دو گنا ہو جائے تو صرف میتھین سے گلوبل وارمنگ میں 10.8 فیصد اضافہ ہوگا اور یہ پوری ایوی ایشن انڈسٹری (Aviation Industry) سے زیادہ ہے۔

2۔ زمین اور جنگلات کی تباہی:

ایک گائے کو سال میں دو ایکڑ زمین کا چارہ چاہیے۔ اگر آبادی دوگنی ہو گئی تو چارے کے لیے مزید جنگلات کاٹنے پڑیں گے۔

3۔ پانی کا بحران:

ایک کلو بیف بنانے میں 15,000 لیٹر پانی لگتا ہے، لیکن اگر یہ جانور زندہ رہیں تب بھی انہیں روزانہ 100 لیٹر پانی پینے اور ان کا چارہ اگانے کے لیے درکار ہوگا۔ انہیں ذبح نہ کرنے سے ان کی آبادی بڑھے گی اور پانی کی قلت والے علاقوں میں شدید بحران پیدا ہوگا۔

4۔ حیاتیاتی تنوع کو نقصان:

اس آبادی کے بڑھنے سے گھاس کے میدان ختم ہو جائیں گے، جنگلی جانوروں کا مسکن تباہ ہو جائے گا اور ہرن، خرگوش اور پرندوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوگی۔

خلاصہ:

ہندوستان کی کئی ریاستوں میں گؤ کشی پر پابندی کی وجہ سے یہ جانور سڑکوں پر آوارہ پھر رہے ہیں۔ یہ فصلیں تباہ کرتے ہیں، ان کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ خود کچرا کھا کر تکلیف دہ موت مر رہے ہیں۔ لہٰذا خدائی احکامات میں مداخلت اور رد و بدل سے بچنا چاہیے اور اس اہم دینی فریضے، قربانی کو اللہ کی رضا کے لیے کرنا اور کرنے دینا چاہیے۔ ہمیں خود کو اور انسانیت کو اس عظیم خسارے سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حوالہ جات:

  1. ​اقوام متحدہ کی رپورٹ FAO 2013
  2. ​2021 IPCC
  3. ​2006 FAO
  4. ​Water Footprint Network
  5. ​Indian Council of Agricultural Research (ICAR)
 : مزید پڑھیں 

Monday, May 4, 2026

سالانہ تعطیل رمضان 1447ھ اور ہماری سرگرمیاں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 سالانہ تعطیل رمضان 1447ھ اور ہماری سرگرمیاں 



عتیق اللہ کلیم ✍️ 
مادرِ علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں جیسے ہی تعطیلاتِ رمضان کا اعلان چسپاں ہوا، شب و روز کی تھکن اور تعلیمی جدوجہد کے بعد بالآخر سکون کے وہ لمحات میسر آئے جنہیں 'چھٹی' کہا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ کی بڑی تعداد رختِ سفر باندھ کر اپنے گھر کو روانہ ہوگئی۔
میرے رفقائے درس سید امین الدین اور معراج بھائی کا ارادہ تھا کہ ہم ان تعطیلات میں دارالعلوم ہی میں قیام کریں گے اور ان فارغ اوقات میں مطالعہ اور کمپیوٹر کورس کریں گے۔ ان کا عزم دیکھ کر میں نے بھی دس روز تک ان کا ساتھ دینے کی حامی بھر لی۔
ابتدا میں ادارے کی جانب سے طعام کی اجازت نہ مل سکی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ وقت جو ہم نے مطالعے کے لیے وقف کر رکھا تھا، اب وہ صبح کے ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے عشائیے کی نذر ہونے لگا۔ سارا وقت انہیں ضرورتوں کی تگ و دو میں صرف ہوجاتا۔ اس وقت ہمیں شدت سے اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ اگر دارالعلوم کی جانب سے طعام و قیام کی سہولیات میسر نہ ہوں، تو حصولِ علم ناممکن نہیں تو دشوار ترین ضرور ہوجاتا۔
اس قیام کے دوران ہمیں یہ عملی تجربہ ہوا کہ معاشی فکر اور دیگر ضروریات کے ساتھ یکسوئی سے پڑھنا کتنا کٹھن عمل ہے، اور جو لوگ ان حالات میں بھی علمی تشنگی بجھاتے ہیں، وہ کس قدر جفاکش ہوں گے!! ان تمام تر پریشانیوں اور مصروفیات کے باوجود، ہم نے رمضان المبارک کے موضوع پر مطالعہ جاری رکھا اور روزانہ عصر کے بعد دارالعلوم کی مسجد میں کتاب خوانی کی سعادت حاصل کی۔
تاہم، دل میں ایک خلش سی باقی ہے کہ ہم ان قیمتی لمحات سے جس قدر فیضیاب ہونا چاہتے تھے اور ان کا جیسا حق تھا، ویسا استفادہ نہ کر سکے۔

 لکھنؤ سے گورکھپور  ایک یادگار سفر  

تعطیلات کے دس دن گزر چکے تھے، گھر کی یاد اب شدت سے ستا رہی تھی کہ اسی دوران میرے رفیقِ درس محمد شاہد کی طرف سے اصرار تھا کہ کچھ وقت ان کے ساتھ گورکھپور میں گزاروں۔ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ اسی بہانے گورکھپور کی سیر بھی ہو جائے گی۔
17 فروری 2026 کی صبح ساڑھے چار بجے میں چار باغ اسٹیشن کے لیے روانہ ہوا، جہاں سے پانچ بجے میری ٹرین تھی۔ الحمدللہ، میں بروقت اسٹیشن پہنچ گیا اور ٹرین اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو گئی۔ دورانِ سفر میں نے رمضان المبارک کی مناسبت سے ایک کتاب بنام رمضان المبارک اور اس کے تقاضے از : حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کا مطالعہ کیا، جس کی وجہ سے وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور میں دن کے گیارہ بجے گورکھپور پہنچ گیا۔ شاہد بھائی، جو پپرائچ سے بیس کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئے تھے، اسٹیشن پر میرے انتظار میں بیٹھے تھے ۔
سب سے پہلے ہم شاہد بھائی کی خالہ کے گھر گئے، وہاں سامان رکھنے کے بعد ہم گورکھپور کی مشہور تفریح گاہ 'نوکا وہار' کی سیر کو نکلے۔ وہاں ایک وسیع و عریض تالاب ہے جس کے بیچوں بیچ دو بڑے اسٹیمر موجود ہیں۔ بظاہر تو وہ اسٹیمر ہیں، مگر اندرونِ خانہ وہ کسی محل سے کم نہیں؛ وہاں خوبصورت میرج ہال، ریسٹورنٹ اور دیگر دلکش مناظر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ ہم نے بھی ایک چھوٹے اسٹیمر میں بیٹھ کر تالاب کی لہروں کا لطف اٹھایا اور ان یادگار لمحوں کو محفوظ کیا۔
اس کے بعد ہم 'نوکا وہار ٹو' پہنچے، جو ایک نہایت کشادہ اور خوبصورت پارک ہے۔ رنگ برنگے پھولوں، پودوں اور پانی کے فواروں نے ایک سحر انگیز سماں باندھ رکھا تھا۔ اسی سیر و تفریح کے دوران ایک بینچ پر ہمیں ایک موبائل فون پڑا ہوا ملا۔ فون کی حالت تو بہت اچھی نہ تھی، مگر وہ قابلِ استعمال تھا۔ میں نے اس میں موجود ایک نمبر پر رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ صاحب اپنا فون وہیں بھول گئے تھے۔ جب ہم نے ان سے ملاقات کر کے فون ان کے حوالے کیا، تو ان کی حیرت اور خوشی قابل دید تھی۔ گورکھپور کے موجودہ سماجی حالات میں ایک مسلم نوجوان کی طرف سے دیانت داری کا یہ مظاہرہ اس ہندو بھائی کے لیے نہایت حیرت کا باعث تھا۔ اس طرح ہماری یہ تفریح محض سیر تک محدود نہ رہی، بلکہ اسلام کے آفاقی اور اخلاقی پیغام کی تبلیغ کا ذریعہ بھی بن گئی۔
رات عشاء کی نماز کے بعد ہم شاہد بھائی کے گھر پہنچے اور شاہد بھائی کے والدین اور بھائی سے ملاقات کی امی نے آج کھانے میں چکن روٹی اور چاول بنایا تھا کھانا بے حد لذیذ تھا کھانے سے فارغ ہو کر ہم سب نے خوب باتیں کی اور پھر سو گئے۔ 
شاہد بھائی کے گھر مجھے بہت اچھا لگا اور مجھے محسوس ہی نہ ہوا کہ میں پہلی بار ان کے گھر آیا ہوں ۔ ان کے والدین اور بھائی نے خوب خیال رکھا ۔
اگلی صبح چار بجے شاہد بھائی نے مجھے اسٹیشن چھوڑا اور میں اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔
دورانِ سفر ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میرے بغل والی سیٹ پر بیٹھے ایک شخص کو اچانک دورہ پڑ گیا، اس کے ہاتھ پاؤں سکڑنے لگے اور اس پر ایک غیر معمولی کیفیت طاری ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا، ہر شخص یہی فکر کر رہا تھا کہ اس کی حالت کیسے سنبھلے۔ کوئی چمڑے کا جوتا سُنگھا رہا تھا، کوئی اس کے ہاتھ پاؤں سہلا رہا تھا اور کوئی دوسری تدبیر آزما رہا تھا۔ اسی ڈبے میں ایک کم سن لڑکی بھی موجود تھی، جو میڈیکل کی طالبہ تھی، اس نے ایک مناسب ترکیب آزمائی اور اللہ کے فضل سے وہ شخص جلد ہی سنبھل گیا۔ اس موقع پر نہ کسی نے دین دیکھا، نہ مذہب، نہ نسل، نہ رنگ و روپ؛ سب نے مل کر انسانیت کا پیغام دیا۔
اثنائے سفر ، الحمدللہ، رمضان سے متعلق مختلف مضامین کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ 18 فروری کو ظہر کی نماز سے پہلے میں گھر پہنچ گیا، جہاں والدین اور بھائی بہنوں سے ملاقات کر کے بے حد خوشی ہوئی۔

 رمضان کے بیس روز  

رمضان المبارک کا بابرکت اور باعزت مہینہ آ گیا۔ سرکش شیاطین قید کر دیے گئے، مسجدیں آباد ہو گئیں اور لوگ عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔ جمعہ کے دن پہلا روزہ تھا، الحمدللہ! اسی دن میں نے رمضان کے موضوع پر جمعہ میں بیان بھی کیا۔ ماہِ رمضان کے شب و روز میں نے بڑے ذوق و شوق اور روحانی مسرت کے ساتھ گزارے۔

 سحر کا وقت

رمضان بھر میرا دن، سحر کے پُرنور لمحات میں بیدار ہونے سے شروع ہوتا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر نوافل ادا کرتا، دعائیں مانگتا، اور پھر اہل خانہ کے ساتھ سحری میں شریک ہوتا۔ فجر کی نماز کے بعد تلاوتِ قرآنِ کریم میرا محبوب مشغلہ ہوتا، جو نیند غالب آنے تک جاری رہتا۔ اس کے بعد کچھ دیر آرام کرتا اور پھر تقریباً دس بجے بیدار ہوتا۔

والد صاحب کی معاونت اور کتب بینی

بیدار ہونے کے بعد میرا معمول تھا کہ میں اپنے والد صاحب کی دکان پر چلا جاتا؛ چوں کہ ان دنوں دکان پر کام کی مصروفیت زیادہ نہیں ہوتی تھی؛ اس لیے میں اس فرصت کو غنیمت جان کر قرآنِ پاک کی تلاوت اور کتابوں کے مطالعے میں صرف کرتا۔

 درسِ قرآن 

نمازِ ظہر کے بعد جامع مسجد میں درسِ قرآن دیتا۔ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی یہ سلسلہ جاری رہا، بلکہ خوشی کی بات یہ تھی کہ سال رواں حلقۂ درس میں حاضرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس ادنیٰ سی کوشش کو قبول فرمائے اور اسے میرے لیے نجات کا ذریعہ بنائے۔

گھریلو ذمہ داریاں اور افطار کی رونقیں

نمازِ عصر تک دکان پر وقت گزارنے کے بعد میں گھر لوٹ آتا؛ تاکہ اپنی والدہ محترمہ کا ہاتھ بٹا سکوں۔ افطار کے لیے مشروبات تیار کرنا، پھل کاٹنا اور دسترخوان سجانا میری روزمرہ کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ افطار کے وقت اہلِ خانہ کا مل کر دعا مانگنا ایک نہایت ایمان افروز منظر ہوتا۔
 مغرب بعد اکثر کچن جاکر افطار کے برتن دھو دیتا والدہ اکثر منع کرتی لیکن خوش ہو کر دعائیں دیتی پھر تھوڑی دیر اپنے والد صاحب کے پاس بیٹھتا اور ان کی خدمت میں مشغول رہتا۔ تھوڑی دیر آرام کے بعد عشاء اور تراویح کے لیے مسجد جاتا۔ نماز کے بعد ہم سب مل کر کھانا کھاتے، جس کے بعد میں دوبارہ والد صاحب کی خدمت، خصوصاً ان کے پاؤں دبانے، میں لگ جاتا۔ فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر موبائل فون کے ذریعے دنیا کے حالات سے باخبر ہوتا۔
ان دنوں نیند کی کمی کا سامنا تھا، لیکن میں نے اس کا مثبت حل یہ نکالا کہ تلاوت کرتے کرتے جب نیند آتی تو سو جاتا۔ اس وجہ سے تہجد کے وقت بیدار ہونا کبھی کبھی مشکل محسوس ہوتا، مگر میں پوری کوشش کرتا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیدار ہو جاتا۔

اعتکاف  کے مبارک ایام

رمضان المبارک کے بیس دن گزر چکے تھے۔ ان دنوں مختلف مشغولیات رہیں، مگر دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ آخری دس دن مکمل یکسوئی کے ساتھ تلاوتِ قرآن، نوافل اور مطالعے میں گزارے جائیں۔ چنانچہ والدین سے اجازت لے کر میں نے سنتِ اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔اعتکاف کے ان مبارک دنوں میں نوافل، مطالعہ اور بالخصوص تلاوتِ قرآنِ پاک پر خصوصی توجہ رہی۔ الحمدللہ! اس دوران تین سے زائد مرتبہ قرآنِ مجید کی مکمل تلاوت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ساتھ ہی درسِ قرآن کا سلسلہ بھی جاری رہا، اس لیے تفسیر کے مطالعے کا بھی اہتمام رہا۔ تفسیر کے لیے زیادہ تر معارف القرآن سے رجوع کرتا تھا، جب کہ قرآنی افادات کا بھی مکمل مطالعہ کیا۔
اس تعطیل کے دوران مختلف جمعوں میں، تراویح ختمِ قرآن کے مواقع پر متعدد مسجدوں میں، اور عید کے دن بھی خطاب کرنے کا موقع ملا۔ ان بیانات کا اثر یہ ہوا کہ لوگ کافی متاثر ہوئے۔ مسجد میں آنے والے نوجوانوں سے بھی گفتگو رہتی۔ میں نے ان کے سامنے تعلیمی بیداری مہم سمانچل بہار کا تعارف کرایا اور بتایا کہ میں اپنے علاقے میں بھی ایسی مہم شروع کرنا چاہتا ہوں۔ سب نے اس تجویز سے اتفاق کیا، بلکہ بعض نوجوانوں نے میرا نمبر بھی لیا تاکہ ایک گروپ بنا کر اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی جا سکے اور کام کو عملی شکل دے سکیں۔
میرے بیانات اور بعض مخلص حضرات کی کوششوں کے نتیجے میں میرے علاقے کے چند لڑکے حفظِ قرآن کے لیے آمادہ ہوئے۔ اتفاق سے وہ ان دنوں گاؤں میں موجود تھے اور مجھ سے ملنا چاہتے تھے، لیکن مدارس میں اساتذہ کی طرف سے مارپیٹ کے ماحول سے متاثر ہو کر جھجھک بھی محسوس کر رہے تھے۔ تاہم اس باب میں حالات بہت بہتر ہوئے ہیں ، ستائیسویں شب نمازِ عشاء کے بعد کچھ چھوٹے بچے مسجد میں موجود تھے۔ میں نے ان سے گفتگو کی کوشش کی مگر وہ گھبرا رہے تھے۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ میں سختی نہیں کرتا۔ بچوں نے حیرت سے پوچھا: "سچ میں؟" میں نے مسکرا کر کہا: "ہاں!" پھر میں نے انہیں بسکٹ دئے۔ وہ بچے بہت متاثر ہوئے۔ میں نے ان کی نماز کی ہیئت درست کرائی، کلمے اور دعائیں بھی ان سے سنیں۔ اس واقعے کے بعد وہ بچے مجھے ڈھونڈتے ہوئے آنے لگے۔
انہیں دنوں میں اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی آن لائن نشست میں بھی شرکت کی اور سپرد کی گئی ذمہ داری ادا کی۔ اسی طرح دار البحث و الاعلام کے ڈائریکٹر، استادِ محترم مولانا مسعود عالم ندوی مد ظلہ العالی نے ادارے کی مالی معاونت کے لیے ایک رسید دی تھیں۔ الحمدللہ، میں نے پانچ ہزار روپے جمع کیے۔

 اعتکاف کا آخری دن

اعتکاف کے آخری دن جب ہم معتکفین گھر واپس ہونے لگے تو مسجد کے نمازی حضرات دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ سب نے نہایت محبت سے معانقہ کیا اور ہدیے بھی پیش کیے۔ یہ محبت و اخلاص میرے لیے ایک خوشگوار یاد بن گئی۔

 عید کا دن

عید کی صبح فجر کے بعد ہی تیاری شروع کر دی؛ کیونکہ عید کے موقع پر بیان بھی کرنا تھا۔ اس لیے میں اپنے چھوٹے بھائی اطیع اللہ کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے عیدگاہ پہنچ گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ عیدگاہ کے سکریٹری اور دیگر ذمہ داران نے طے کیا تھا کہ یہ عاجز خطاب کرے گا۔
ہمارے یہاں ایک ہی عیدگاہ میں تین گاؤں کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں، مگر چونکہ عیدگاہ والے گاؤں کے لوگ بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ عام طور پر اپنے امام کے علاوہ کسی اور کو خطاب کا موقع نہیں دیتے۔ بچپن سے دیکھتا آیا تھا کہ وہاں خطاب کرنے والا حافظ صاحب کم علمی کے باعث قصے کہانیوں اور بار بار درود شریف پڑھوا کر وقت گزار دیتے تھے۔ دو تین سال پہلے جب میں نے پہلی بار خطاب کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو معاملہ کافی بڑھ گیا تھا، یہاں تک کہ میرے علاقے کے لوگوں نے الگ نماز پڑھنے کی بات بھی کہہ دی تھی۔ بہرحال، حالات سنبھل گئے اور مجھے خطاب کا موقع ملا۔ میں نے عید الاضحی کے موضوع کے بجائے اتحاد و اتفاق پر گفتگو کی۔ لوگ بہت متاثر ہوئے اور نماز کے بعد خوشی سے معانقہ بھی کیا۔
میرے گاؤں میں عید کے دن ایک خوبصورت روایت ہے۔ عیدگاہ سے واپس آتے ہوئے لوگ پیدل ہر مسلمان بھائی کے گھر جاتے ہیں۔ اور ہر گھر میں پہلے سے سویاں، دہی بڑے، چھولے وغیرہ تیار ہوتے ہیں۔ ہر گھر پر سبھی کو کچھ نہ کچھ کھانا لازم ہوتا ہے۔ اس طرح پورا قافلہ گاؤں پہنچتا ہے، جہاں مسجد کے سامنے تخت اور کرسیاں لگا دی جاتی ہیں۔ پھر گاؤں کے ہر گھر سے مختلف کھانے آتے ہیں، اور سب مل کر ایک ساتھ تناول کرتے ہیں۔ واقعی یہ منظر نہایت دلکش ہوتا ہے اور اخوت و بھائی چارگی کا حسین پیغام دیتا ہے۔
گھر واپس آنے کے بعد دوستوں اور بھائیوں کی خواہش ہوئی کہ کہیں سیر و تفریح کے لیے جائیں۔ عام طور پر عید کے پہلے دن اس کی اجازت نہیں ملتی، مگر شاید اس دن میرے بیان کا اثر تھا کہ والد محترم نے اجازت دے دی۔ میں نے خطاب میں کہا تھا کہ اسلام میں عید کے صرف دو دن ہیں، لہٰذا ان دنوں بچوں کو خوشی دی جائے، انہیں گھمایا جائے اور عیدی بھی دی جائے؛ چنانچہ ہم تقریباً دس کلومیٹر دور ایک پارک میں سیر کے لیے گئے۔ اسی دوران علاقے کے بہت سے لوگ میرے گھر آ گئے اور والد صاحب سے میرے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ والد صاحب مسلسل فون کرتے رہے مگر ہم وقت پر نہ پہنچ سکے، جس کی وجہ سے والدین کو پریشانی ہوئی۔ جب گھر واپس پہنچا تو والد صاحب نے ناراضی کا اظہار کیا، اور بجا طور پر مجھے ڈانٹ بھی پڑی۔
عید کے بعد رشتہ داروں سے ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔25/مارچ 2026 کو اپنے چچا زاد بھائی کی شادی میں شرکت کی، اور خوشی کی بات یہ کہ نکاح پڑھانے کی سعادت بھی پہلی بار اسی عاجز کو حاصل ہوئی۔
یوں باقی ایام بھی گزر گئے اور پھر چھٹیاں ختم ہو گئیں۔ 30 اپریل کی شام میں اپنے بھانجے ( چچازاد بہن کے لڑکے ) کے ساتھ گھر سے اپنی مادرِ علمی دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے لیے روانہ ہوا اور الحمدللہ 31/اپریل 2026 کو نماز فجر سے قبل مادر علمی پہنچ گیا۔
یوں رمضان، اعتکاف اور عید کے یہ بابرکت ایام اختتام پذیر ہوئے، مگر ان کی روحانیت اور میٹھی یادیں دل میں باقی رہ گئیں۔ ان دنوں نے مجھے عبادت، خدمتِ خلق اور اخلاص کا حقیقی سبق دیا۔
اللہ تعالیٰ ہماری تمام کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔

Sunday, February 22, 2026

الشيخ السيد محمد واضح رشيد الحسني الندوي حياته و ماثره الفكرية والأدبية

 بسم الله الرحمن الرحيم 

الشيخ السيد محمد واضح رشيد الحسني الندوي حياته و ماثره الفكرية والأدبية


بقلم : عتيق الله كليم
الدارس : في دار العلوم لندوة العلماء ، لكناؤ
إحدى العمارات القديمة لدار العلوم لندوة العلماء 

: المقدمة

يعد العلامة السيد محمد واضح رشيد الحسني الندوي أحد أعمدة الأدب الإسلامي والعمل الدعوي في القاره الهندية،كان عالما ربانيا، وأديبا لوراعيا، وصحفيا بارزا،فقضى حياته في خدمة اللغة العربية ونشر الاسلامي الصحيح 

: نسبه العريق

هو ابو جعفر محمد واضح رشيد الحسني الندبي بن رشيد احمد بن خليل الدين احمد بن رشيد الدين (١٢٣٩ھ-١٣١٢ھ) بن سعيد الدين ( م١٢٩٣ھ) بن غلام جیلانی ( م ١٢٥٤ھ أو ١٢٥٥ھ) بن محمد واضح بن صابر (م١١٦٣ھ) بن آیة ( م١١١٦ھ) بن علم الله الحسني ( ١٠٣٣ھ - ١٠٩٦ھ)

 : أسرته 

اسرته من اصل عربي، تحافظ على انسابها، وتمتاز بتمسكها بالشريعه الاسلاميه، وبذل الجهود في نشر العلم، وخدمه الاسلام،والعمل لخير المسلمين،واول من جاء الى الهند من اجداده هو الامير الكبير بدر المله المنير،شيخ الاسلام،قدوه الائمه الكرام السيد قطب الدين محمد المدني (٥٨١ھ- ٦٧٧ھ) هجر من بغداد ايام فتنه المغول في اوائل القرن السابع الهجري مع جماعه من اصحابه، فدخل غزنة، واقام بها زمانا، ثم قدم الهند ،لعله في ايام السلطان قطب الدين ايبك ، وتولى منصب شيخ الاسلام في دله‍ي مده من الزمان، وكان موضع اكرام وحب لدى سائر العلماء والسلاطين ، ثم خرج مجاهدا في سبيل الله، وفتح القلاع ،ونشر الاسلام، وربى جماعه كبيره من اهل العقيده السليمه والعلم والصلاح والدعوه الى الله تعالى ، ومن دله‍ي انتقل الى” كرمانك فوره “ و استوطنها وتوفي بها في۳ رمضان ٦٧٧ھ وقد بلغ من العمر۹٦ سنه، ثم استوطن بعض ذريته بلدة ” نصير آباد

نبغ من ذريته رجال العلم والمعرفه كالقاضي ركن الدين، والشيخ فضل الله، والشيخ محمد تقي، والقازي محمود بن العلى النصير آبادي، ومن اعقابه العلامه الشريف خواجه أحمد ، والشيخ هدايه، و العارف بالله علم الله الحسني الراي بريلوي

: خصاص أسرته 

: وقد كتب الاستاذ محمد بازح رشيد الحسن الندبي عن خصائص اسرته، فيقول 

كان من مزايا هذه الأسرة أن أفرادها انتسبوا إلى الشيخ أحمد السرهندي وأصحابه ، ثم الشيخ ولي الله الدهلوي ، وأبنائه البرره، فجمعوا بين العلم والتربية ، والدعوة والجهاد، والتورع والزهد، ولمعرفة الصلة القائمة بين هذه الأسرة والشيخ ولي الله الدهلوي نذكر ما كتبه الشيخ ولي الله الدهلوي في رسالة له إلى الشيخ محمد واضح بن الشيخ محمد صابر بن آية الله : ” إن الله سبحانه وتعالى قد خصكم بنعم عظيمة، منها الجمع بين النسب العلوي الهاشمي، والتمسك بعقيدة أهل السنة، وبين العلم والتقوى، والجلوس على مسند الاولياء الكرام، ثم الاتصاف بالتواضع وهو من الأضداد الذي لا يتفق إلا نادرا وناهبك فضلا 

 : والده 

وهو رشيد أحمد بن خليل الدين أحمد ولد يوم الثلاثاء ۱۰ / صفر سنة عشر و ثلاث مأة و ألف ( ۱۳۱۰ه‍ ) المصادف ۱۳ سبتمبر ۱۸۹۲ه‍ في في دائرة العالم الرباني علم الله الحسني البريلوي المعروف بتكية كلاں بقرية ميدان فور في مدينة رائى بريلي، يهتم بتعليمه وتربيته الشيخ فخر الدين خيالي، ووالده خليل الدين أحمد وجده الشيخ ضياء النبي، يعبر عن نفسه بالاشارة، واذا أراد كلاما طويلا أو خطابا مفصلا كتبه بخط واضح مفهوم، وتزوج من السيدة أمة العزيز أخت الشيخ أبي الحسن علي الحسني الندوي ، وولد له منها علماء أمجاد : الشيخ محمود حسن ،والشيخ محمد الثاني الحسني والشيخ محمد الرابع الحسني الندوي ، والشيخ محمد واضح رشيد الحسني الندوي رحمهم الله جميعا. 

في آخر حياته أجربت عملية جراحية في عينيه، فتدهور ت صحته واصيب بامراض ، حتى توفي في ٣ / شعبان سنۃ ١٣٩۵ھ ( ١٢ أغسطس ١٩٧٥ء ) وصلى عليه الشيخ ابو الحسن علي الندوي رحمه الله رحمة واسعة 

 : أمه الحنون 

أما أمه فهي الفاضلة الشريفة أمة العزيز بنت العلامة عبد الحي الحسني، ولدت عام ١٣٢٣ھ المصادف عام ١٩٠٥م وقرأت القران الكريم على عمها السيد عزيز الرحمن، ثم درست كتب والدها ومؤلفات نذير أحمد وغيرها من المؤلفات باللغة الاردية 

أورد هنا تلخيص ما كتبه ابنها الشيخ واضح رشيد عن حياتها ، فيقول: ” كانت السيدة أمة العزيز من النساء المربيات الصالحات المصلحات،فقد كانت حياتها كلها حياة الكفاح والصبر، والشكر، والمثابرة ، وإجهاد النفس في سبيل التربية........ وقد اقتبست مثل حياتها من أسلافها، فكانت صورة حية متحركة لهم، كانت خير أم لاولادها، وخير زوجة لزوجها،وخير أخت لإخوتها،وخير بنت لأبويها كانت شديدة الحرص على ترسيخ الغيرة الإيمانية والغيرة الكافية في أولادها، وكانت تحت أولادها على إكرام الناس، كان من عادتها أنها تنتهز كل فرصة مواتية للنصيحة، وتوجيه العناية إلى سبيل الخير والصلاح حتى أثناء الأكل والشرب، كانت رقيقة القلب، خاشعة، خاشية، لكنها اذا رأت المنكرة أو ما يخالف طريق الصالحين، كانت لا تخفي استنكارها، وكانت تقسو أحيانا للزجر، والتنبه كما قال الشاعر

قسى ليزدجروا و من يك حازما 

فليقس أحيانا على من يرحم 

توفيت في ليلة ٣٣ من رمضان ، وقد بلغت من العمر ٩٠ سنه وشيع جنازتها ألوف من الناس، ودفنت بجانب قبر والدها ووالدتها في مقبرة بجانب مسجد الشاه علم الله الحسني بتكية كلاں برائی بریلی

: مولده

ولد في الثالث من شعبان سنه اثنين وخمسين و ثلاث مأة من الهجره النبويه ( المصادف للعشرين من نوفمبر سنه ثلاث و ثلاثين و تسع مأة و ألف في قرية آبائه ” تكية كلاں 

 : تغيير اسمه 

وهو أصغر إخوته ، سمي كل واحد منهم محمدا تبركا باسم النبي صلى الله عليه وسلم، وللتميز بينهم عرف أكبر هم بالأول ، وتاليه بالثاني ، وهلم جراء وشيخنا المترجم له هو محمد الخامس، ولكنه غير إسمه إلى محمد واضح رشيد، ومحمد واضح هو أحد أجداده ،ورشيد هو أبوه والتسمية بالمركب سنة متبعة في الهند وغيرها من بلاد العالم. 

 : نشأته التعليمية

تعلم مبادئ القراءه والكتابه في بيته رائي بريلي ، فتلقى التعليم الابتدائي من أمه الحنون ، فكانت تقص عليه قصص الانبياء والصالحين، وتعلم قراءة القرآن من الأستاذ أبي بكر الحسني ثم تتلمذ على الشيخ عزيز الرحمن الحسني، وقرأ عليه الكتب الابتدائية والتحق بالمدرسة الإلهية في مدينة رائي بريلي ، حيث أكمل مرحلة الابتدائية و الثانوية

وبعد من انتقل إلى لكناؤ ، دخل في تربية خاله الدكتور عبد العلي الحسني والشيخ أبي الحسن علي الحسني الندوي رحمهم الله تعالى فكان الشيخ محمد واضح رشيد الندوي يقرأ ويطالع تحت إشرافه ويوسع ثقافته العلمية

 : التحاقه بدار العلوم لندوة العلماء

والتحق بدار العلوم لندوة العلماء عام ١٩٤٤م قبل ثلاث سنوات من استقلال الهند، دخل في السنة الأولى من العالية فأكمل مرحلة العالمية ومرحلة الاختصاص في اللغة العربية وآدابها عام ١٩٥١م.

وبعد التخرج في دار العلوم قضى فيها سنة كمدرس مساعد بجنب دراسته المتخصصة في الأدب العربي وتاريخه ومصادره تحت اشراف وتوجيه خاله العلامة الشيخ أبي الحسن علي الحسني الندوي ووسع الثقافة الأدبية و الاسلامية

 : دراساته العالية والعليا

وقرأ في مرحلة العالمية تفسير القرآن الكريم وكتب التفسير: الكشاف والبيضاوي ، ودرس تفسير النسفي و تفسير الخازن

ودرس في الحديث الشريف: رياض الصالحين، ومشكاة المصابيح وأبوابا منتخبة من صحيح البخاري، و صحيح مسلم ،وسنن أبي داود، وجامع الترمذي ( كاملا) ، ومؤط الإمام مالك

ودرس في الفقه : شرح الوقاية، والهداية، نور الإيضاخ ، وأصول الشاشي 

ودرس في الأدب العربي والبلاغة : مختارات من أدب العرب، وديوان الحماسة، وديوان المتنبي، ثم تخصص في الأدب العربي، فقرأ مقامات الهمداني والحريري وغيرها من الكتب الأخرى.

ودرس الحديث النبوي الشريف رواية ودراية على المحدث الكبير الشاه حليم عطاء السلوني ، وأخذ المسلسلات من المحدث الكبير الشيخ محمد زكريا الكاندهلوي خلال رحلة علمية إليه ،وأجاز إجازة عامة ،وممن أجازه الشيخ العلامة عبد الفتاح أبو غده والشيخ أبو الحسن علي الحسني الندوي رحمهم الله

: دراسته في جامعة علي جراه الإسلامية 

وبعد التخرج في دار العلوم لندوة العلماء أكمل دراسته الثانويه العصريه في مدرسة رسمية،وأخذ شهادة البكالوريوس في اللغة الإنجليزية من جامعة عليكره الاسلاميه عام١٩٥٣م ، و أما الدراسة في عليكره الإسلامية فلم يدرس فيها بصورة منتظمة، وقد أدى الامتحان كان يلتقي ببعض الاساتذه والطلبة الدارسين فيها

 : نبوغه في اللغة العربية و الانلجليزية

كان إلى جانب اقتداره على لغته الأم الأردية، متقنا للعربية غاية الاتقان، وتشهد باضطلاعه منها وتفوقه فيها،كتاباته العلمية والأدبية والفكرية واعترف بإبداعه العلماء العرب، يقول الدكتور بسام ساعي أديب العربية الشهيرة المقيم في اكسفورد في تقديمه لكتاب أدب الصحوة الإسلامية 

وربما لا يعلم الكثيرون ان ندبه العلماء هذه خرجت لنا اول جيل من غير العرب في العصر الحديث يكتب ويؤلف وينشر كتبا باللغة العربية ليكون لهذه الكتب ديوعها وتاثيرها الفكري والحضاري في العرب والمسلمين، وواضح رشيد الندوي مؤلف كتاب” أدب الصحوة الإسلامية “ هو أحد من هؤلاء الكتاب الهنود الذين كتبوا بالعربيه 

ويرجع أحكام الاستاذ واضح الندوي للعربية ورسوخه فيها إلى البيئة اللغوية والأدبية التي أنشأتها العلامة تقي الدين الهلالي المراكشي والشيخ الأديب خليل بن محمد بن حسين اليماني في دار العلوم لندوه العلماء و مدينة لكناؤ وقد التقى بهما واستفاد منهما

تعلم الشيخ الندوي اللغة العربية على الشيخ محبوب الرحمن الندوي الأزهري والشيخ محمد عمران خان الندوي الأزهري ،وقد استفاد من الشيخ عبد الحفيظ البلياوي صاحب ”مصباح اللغات“ والدكتور عبد الله عباس الندوي

أما اللغة الإنجليزية وأدبها فقد قرأ الإنجليزية على الأستاذ عبد السميع الصديقي ، والشيخ نور الحسن،والشيخ أحمد الأعظمي ، والشيخ محمد إسحاق السنديلوي ، ودرس المقرر الدراسي المتبع في الكليات والجامعات العصرية للغة الإنجليزية وأدبها للمتوسطة و الثانوية ، وعندما التحق بجامعة علي جراه الإسلامية قرأ كتابات وقصائد وليم شكسبير وجون ميلتون، تشارليز ديكنز ، و جون إيلبت

: إتصال الشيخ الندوي برجال التزكية والتربية الدينية و الاسلامية 

 التزم الشيخ الصلاح منذ صغره،وآثر حياة التقي والعفاف، وصحب أهل الصدق والصفا ،و أهل القلوب، واتصل بالدعاة والمصلحين وتأثر بهم، واستفاد منهم في الطريقة والتربية الدينية ،وعلي رأسهم الشيخ عبد القادر الرئيفوري، والشيخ محمد يوسف الكاندهلوي ، والشيخ أبو الحسن علي الندوي وأجازه أخو الشيخ محمد الرابع الحسني الندوي

 : نشاطاته العلمية والفكرية خلال إقامته بدلهي 

كان خلال إقامته بدلهي يتردد إلى مكتبة مولانا أبي الكلام آزاد في ’راج بهون‘ فكان ينتهز الفرصة بعد أداء المسؤولية الإذاعية ، و ينفق وقتا في هذه المكتبة، وكذلك استفاد من مكتبة الجامعة الملية الاسلامية، و مكتبة المدرسة المجاورة للجامع الفتحفوري والتي كانت تابعة للمدرسة الإنجليزية

فكتب خلال إقامته بدلهي ( ١٩٥٣م - ١٩٧٣م ) مقالات علمية وفكرية وسياسية وأدبية وتحليلية في صحيفة ” الرائد “ ومجلة ” البعث الاسلامي “ ، بدأ يكتب في صحيفة ”الرائد“ من عددها السابع عشر من سنتها التاسعه عام ١٩٦٧م ، وفي مجلة ”البعث الاسلامي“ من عددها السادس في مجلدها الرابع عشر عام ١٩٧٠م ، وعين رئيس التحرير ”الرائد“ في اول فبراير عام ١٩٧٤م ( العدد: ١٥، و السنة : ١٥ )

ومن المقالات التي نشرها في صحيفة الرائد في هذه الفترة أكثر من خمسة و أربعين مقالا 

: تدريسه في دار العلوم لندوة العلماء 

ترك الشيخ الندوي الوظيفة في إذاعة عموم الهند،وفضل عملية التدريس في دار العلوم لندوه العلماء، على الوظيفة الحكومة مع أن هذه الوظيفة كانت تدر عليه طويلا، و أما السبب الرئيسي لذلك هو امتعاضه من الجو المادي الجامع في الإذاعة ، وأثارات صلته بالعلماء عاطفة دينية كامنة في نفسه، وغلبت هذه العاطفة على الجبان بالمادية وقبل هذه البيئة الدينية عندما اتيحت له الفرصة لقضاء فترة في دار العلوم لندوة العلماء في غياب أخيه الكبير الشيخ محمد الرابع الحسني الندوي لأداء الحج عام ۱۹۷۲م ، اسند اليه تدريس المواد التي كان يدرسها،وفي هذه الفترة وجد بيئة صالحة في ندوة العلماء، واستشار الشيخ محمد زكريا الكاندهلوي في رسالة له ( ١٧/١١/١٣٩٢ھ )

وهو يجيب على رسالته في هذا الشان 

” تلقيت منكم كتابا وهو رمز المحبة والمودة ، وأنا أرى أن ترجع إلى لكناؤ ، وذلك يفيدك علميا ودينيا، و إن كان الراتب في لكناؤ يكون أقل من الراتب في إذاعية بدلهي ، ولكن فرصة الاشتغال بالعلم لا تتوفر لكم في دلهي لكثرة الاشغال الرتبية ، وهذا العبد الفقير يدعو الله لكم من صميم القلب أن يمتع المدرسة بعلمك وفضلك، ويمتعك بفيوض دار العلوم وبركاتها وخيراتها، وكذلك أرى من المناسب أن تستشير خالك أبا الحسن بكتابة رسالة إليه، فإذا قبل طلبك فإنه يجب عليك أن تقبل العمل في المدرسة ( دار العلوم لندوه العلماء) و ألا تخاف لومة لائم في تعيينك في المدرسة ، وأنا أشير عليك بكل قوة أن تفضل الاشتغال بالعلم ، على الأعمال الأخرى ، و إن كان ذلك يسبب لك ضررا كبيرا

فقبل الشيخ هذا الأمر بدون استشار أحد ، وقدم الاستقالة، وقد اخبر شيخه محمد زكريا الكاندهلوي بهذه الاستقالة في رسالة له بتاريخ١٩ / شعبان ١٣٩٦ھ ، فسر بذلك شيخه سرورا كبيرا، وكتب إليه كتابا بتاريخ ٢٣/ شعبان ١٣٩٦ھ يشجعه ويبعث فيه الأمل في المستقبل الزاهر اللامع.

ففي عام ١٩٧٣م عين مدرسا في دار العلوم لندوة العلماء وفوض إليه تدريس المواد الأدبية ، ثم عين مدير المعهد العالي للدعوة والفكر الإسلامي الذي أنشاه سماحة الشيخ أبو الحسن علي الحسني الندوي عام ١٩٨٠م، ثم عميد كلية اللغة العربية و آدابها في يناير ٢٠٠٠م ، و في عام ٢٠٠٦م انتخب رئيس الشؤون التعليمية لندوة العلماء بعد وفاة الدكتور عبد الله عباس الندوي

: رحلاته ومشاركته في الندوات والمؤتمرات 

قد قام الشيخ محمد واضح رشيد الندوي برحلات علمية وأدبية وجولات دعوية داخل البلاد وخارجها، فقد زار المملكة السعودية ، والكويت، والأمارات العربية المتحدة ، وتركيا، وباكستان، وبنجلاديش ، وعمان،ودولة قطر،وكذلك زار بريطانيا ، وشارك في المؤتمرات العالمية، وقدم فيها مقالات وبحوثا علمية ، والتقى فيها بمثل مختلف المدارس الفكرية ،وقادة الرأي،وكبار العلماء والأدباء والصحيفيين والكتاب في العالم العربي والإسلامي، وتبادل الآراء معهم في القضايا العلمية والأدبية والفكرية ، واستفاد من تجاربهم،واطلع بأحوال العالم، وخاصة أوضاع المسلمين وقضاياهم، والمواقف التي اتخذها قاده المسلمين نحو الأوضاع والقضايا، والحلول التي اتخذوها لحل المشاكل فتكونت بذلك عنده خبرة ومعرفة أحوال العالم

: نبوغه كأستاذ قدير 

قد ذكر تلامذته من سمات منهج تدريسه أنه لم يكن يركز على كتاب خاص، و إنما كان يجعله وسيلة لدراسته الموضوع، فكان تركيزه على الموضوع لا على الكتاب، وكان هذا التركيز الخاص على دراسته الموضوع، والجامعية والشمول الذي كان يتميز به منهج تدريسه، يخلق في المتعلم ملكة خاصة للاستقرار واستخراج المسائل،وزهنا حادا قاهرا، فكانت النتيجة أن هذا المنهج أنجب جيلا بعد جيل من الأساتذة وأصحاب القلم يؤلفون ويشرحون ويحققون في مواضيعهم المختلفة ، ويتحفون المكتبة الإسلامية بثروة طائلة من بحوثهم، ولم يكن ذلك إلا ثمرة لهذا التركيز

: تلامذته 

تخرج عليه جيل مزود بالفكرة الإسلامية السليمة ، يؤدي خدماته في مختلف مجالات الحياة في البلد، والدول العربية،و الاسلامية والأوروبية ، أمثال :

الشيخ وقار عظيم الندوي ،الدكتور علي أحمد الندوي ، الباحث المحقق الدكتور محمد أجمل الإصلاحي الندوي ، الدكتور سليم الرحمن خان الندوي ، الشيخ علاء الدين الندوي ، الشيخ سعيد مرتضى الندوي ، الشيخ أبو سحبان روح القدس الندوي ، البروفيسر ظفر أحمد الصديقي الندوي ، الشيخ شكيل أحمد الأعظمي الندوي ، الشيخ ظهير أحمد الصديقي الندوي ، الشيخ جعفر مسعود الحسني الندوي ، الشيخ بلال عبد الحي الحسني الندوي ، الدكتور محمد اكرم الندوي ، الدكتور عبد الماجد قاضي الندوي ، الشيخ نعمان الدين الندوي ، الدكتور محمد ثناء الله الندوي ، وغيرهم وكثير من الطلاب لا يحصى عددهم، تعلموا منه العربية كتابة و خطابة ونطقا وحوار ولا ينسى مؤرخ دار العلوم لندوة العلماء خدماته في العلوم العربية وآدابها وعرض الفكر الاسلامي السليم و السيرة النبوية ومواجهة الغزو الفكري الغربي

: مؤلفاته

أدب الصحوة الإسلامية

تاريخ الثقافة الإسلامية

تاريخ الأدب العربي، العصر الجاهلي

مصادر الأدب العربي

أعلام الأدب العربي في العصر الحديث

المسحة الأدبية في كتابات الشيخ أبي الحسن الندوي

الدعوة الإسلامية ومناهجها في الهند

لمحات من السيرة النبوية والأدب النبوي

إلى نظام عالمي جديد

من قضايا الفكر الإسلامي: الغزو الفكري

صور وأوضاع

من صناعة الموت إلى صناعة القرارات

نماذج من أسلوبه الأدبي 

كتب الشيخ الندوي تحت عنوان ”الحب هو المحب الأول للعقل“ وهو يتحدث عن المشاعر النبيلة والذوق السليم 
الحياة عبارة عن عنصرين رئيسيين ، أحدهما الذوق والآخر الشوق، وهما قوام الحياة ، واذا انعدم أي عنصر من هذين العنصرين الحيويين ،فإن الحياة تصبح مجرد مظهر للحياة ، والإنسان جسدا متحركا بدون قلب أو روح ،لا يميزه شيء عن الجهاز والماكينة ،فإذا كان اختصاص الإنسان في أي عصر ومصر ، انجاز مهمة بجهده وكده ، فقد بدا العقل الالكتروني يقوم بأعمال يعجز عن القيام بها الأبطال ، و ذو الكفاءات ، فالذوق والشوق وهما من إشاعات الحب، ميزتان تفصلان الانسان عن المادة والآلات التلقائية العاملة ، ولا يمكن أن يخلو من هذين العنصرين أي مرفق من مرافق الحياة ، وخاصة الدين، وقد قال الشاعر الاسلامي الفيلسوف ، محمد اقبال
إن الحب هو المعلم الأول للعقل والقلب والنظر ، ولولا الحب لكان الشرع والدين مجموعة أصنام النظريات ، والطقوس ، و إن صدق الخليل هو الحب وصبر الحسين هو الحب ، وليس بدر وحنين في معركة الوجود سوى الحب

خلقه 

كان الأستاذ الندوي غاية في التواضع جامعا بين العقل والحكمة والخلق الحسن، متجنبا فضول الكلام ، حافظا لوقته ، قليل الكلام والاختلاط مع الأنام ، بعيدا عن حب الجاه ، والمنصب والظهور أمام الناس ، طليق الوجه مشرق الجبين ، باسم المحيا ، رؤوفا ، شفوقا ، ناصحا للجميع ، لا يخطب إلا نادرا وقليلا وإذا خطب فقل ودل ، كأنه يرسم على اللوحة ، خيوط النور أو ينظم في السلك مرورا يد الكلام
يقول الأستاذ محمد علاء الدين الندوي وكيل كلية اللغة العربية وآدابها بجامعة ندوة العلماء
رزقه الله سبحانه بسطه في العلم ، ونضجا في الأدب ، وقدرة في البيان ، فكان عميقا في العلم ، ثريا بالفكر ، بارعا بالقلم ، زاهدا في العيش وقليلا في التكلف ، نيلا في السلوك ، كريما في العطاء

قالوا عنه

يقول فضيلة الشيخ محمد رابع الحسني الندوي رحمه الله عنه لقد كان الفقيد الكريم عالما ومفكرا ، ومربيا ومعلما ، وأديبا وموجها ، ومحللا صحفيا معروفا في أوساط العلم والأدب والثقافة والفكر والصحافة بآرائه الصائبه وتحليلاته القيمة للشؤون العالمية ، وكان يفيد بها في مجالات التعليم والتربية والصحافة والفكر والثقافة والأدب والتاريخ
ويقول فضيلة الشيخ أحمد بن حمد الحليلي كان ركنا ركينا في ندوة علماء المسلمين بالهند ، وعضوا فعالا في مجال الدعوة إلى الله والبر والصلاح ، وقد لبى النداء الأقدس بعد ما قضى عمره في خدمة العلم والدين ورفع راية الدعوة إلى الله تعالى
ويقول سعادة الدكتور سعيد الرحمن الأعظمي الندوي وهو من كبار الأدباء والكتاب الاسلاميين ، وقد صدر من قلمه مؤلفات وكتب قيمة في موضوع الأدب الحديث ، ومصادر الأدب العربي القديم ، وهو يعد من أفذاذ الأدباء ، ويحل مكانة  أدبية وعلمية ممتازة
ويقول الشيخ الدكتور أحمد الريسوني
وكان رحمه الله صحافيا بارعا ، كاتبا قديرا ، وأديبا أريبا ، مترجما ماهرا ، ذا إطلاع واسع على أحوال العالم الإسلامي و مستجداته الحديثة

تعريف موجز بحياه الشيخ محمد واضح رشيد الحسن الندبي

ولد ١٩٣٣م ، تلقى تعليمه الابتدائية في وطنه ” رائي بريلي “ والتحق بندوة العلماء للدراسة العالية ، وتخرج من القسم العربي بالندوة سنة ١٩٥١م ، ثم نال شهادة الماجستير ( M.A ) من جامعة عليكره الإسلامية
بدا حياته العملية مترجما ومذيعا بالقسم العربي من إذاعة الهند الخارجية وعمل بها من ١٩٥٣ إلى ١٩٧٣م ، ودرس خلال ذلك السياسه والاقتصاد والانجليزية والأدب الانجليزي ، و المدينة الغربية دراسة عميقة ، وأذيت له عدة كتابات ومقالات وقصص وروايات تمثيلية من إذاعة دلهي وغيرها من إذاعات البلدان العربية
وعين أستاذا بالقسم العربي في ندوة العلماء سنة ١٩٧٣م ، وعين كذلك رئيس تحرير جريدة الرائد التي تصدر عن ندوة العلماء
وفي سنه ٢٠٠٠م عين عميدا لكلية اللغة العربية وآدابها ، ومديرا للمعهد العالي للفكر الإسلامي ، وفي ٢٠٠٦م عين عميدا للشؤون التعليمية للندوة بعد وفاه الأستاذ الدكتور عبد الله عباس الندوي

Friday, December 26, 2025

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی


عتیق اللہ کلیم ✍️
 

وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار

سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ ماہ و سال کی یہ گردش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا۔ زندگی اس برف کی مانند ہے جو ہر لمحہ پگھل رہی ہے۔ ہم جسے "نئے سال کی آمد" کہتے ہیں، وہ حقیقت میں ہماری عمرِ عزیز کے ایک اور سال کا اختتام اور موت سے ہماری قربت کا ایک اور سنگِ میل ہے۔

عہدِ الست اور مقصدِ تخلیق

انسان اس دنیا میں محض وقت گزاری کے لیے نہیں آیا، بلکہ اس کے کندھوں پر "خلافتِ ارضی" کی عظیم ذمہ داری ہے۔ عالمِ ارواح میں ہم نے اپنے رب سے وفاداری کا جو وعدہ (عہدِ الست) کیا تھا، گزرتا ہوا ہر لمحہ اسی کی یاد دہانی ہے۔ قدرت ہمیں مہلت دے رہی ہے کہ ہم اپنی سمت درست کر لیں۔ قرآنِ کریم نے واشگاف انداز میں خبردار کیا:

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ  (اے انسان! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اور بالآخر تجھے اس سے ملنا ہے)۔

اپنا محاسبہ کیجیے (Self Introspection)

سالِ نو کی اصل روح جشن منانا نہیں، بلکہ خلوت میں بیٹھ کر محاسبہ کرنا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ زریں اصول ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے

اپنا حساب کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو تول لو اس سے پہلے کہ وہ تولے جائیں۔

: آئیے اس موڑ پر رک کر سوچیں

کیا میری عبادات اور معاملات اللہ کی رضا کے مطابق ہیں؟

کیا میرے اخلاق اور معاشرتی رویے ایک مومن کی شان کے عکاس ہیں؟

کیا میرے دن اور راتیں گناہوں کی نذر ہو رہی ہیں یا اطاعتِ الٰہی میں؟

: علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا

صورتِ  شمشیر  ہے  دستِ  قضا  میں  وہ  قوم

کرتی ہے  جو  ہر زماں  اپنے عمل  کا حساب

فرصت کو غنیمت جانیے

نبی کریم ﷺ نے ہمیں پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جاننے کی تاکید فرمائی ہے: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو مفلسی سے پہلے، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ یہ حدیث ہمیں مستقبل کی منصوبہ بندی اور وقت کی قدردانی کا درس دیتی ہے۔

حرفِ آخر: ایک نیا عزم

جو بیت گیا وہ ماضی کا حصہ بن گیا، مگر جو باقی ہے وہ ابھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ سالِ نو کا اصل پیغام یہ ہے کہ اگر اب تک غفلت میں زندگی گزری ہے، تو آج ہی ندامت کے آنسوؤں سے پچھلے داغ دھو ڈالیں اور ایک نئے عزم کے ساتھ زندگی کی بقیہ گھڑیوں کو "عہدِ الست" کی پاسداری میں وقف کر دیں۔

یاد رکھیے! تلافی کا موقع اب بھی موجود ہے، بس بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

اپنی رہنمائی اور دعا سے ضرور نوازیں ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں ۔۔۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/09/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

Sunday, December 21, 2025

ایک باپ کی پکار ۔۔۔۔

ایک باپ کی پکار: دیوار پر چسپاں رشتوں کی تلاش 




عتیق اللہ کلیم ✍️

آج کے جدید دور میں، جہاں مواصلات کے لاتعداد ذرائع موجود ہیں اور دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، کسی تعلیمی ادارے کی بیرونی دیوار پر ایک سادہ سا کاغذ چسپاں دیکھنا دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ محض کوئی اشتہار نہیں، بلکہ ایک باپ کی بے بسی اور معاشرتی دباؤ کا خاموش چیختا ہوا اظہار ہے۔

اس پرچہ کی ایک تصویر 


ضرورت: مجھے اپنی بیٹی کے لیے رشتے کی تلاش ہے اگر کسی طالب علم کے گھر والے رشتے کی تلاش میں ہیں تو وہ رابطہ کریں (یوپی سے ہونا چاہیے)

مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء، کی دیوار پر چسپاں یہ پرچہ صرف ایک فرد کی داستان نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کے نظامِ رشتۂ ازدواج کے سنگین تضادات اور خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

 یہ پرچہ کیا کہتا ہے؟

یہ منظر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے اور کئی تلخ حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے

رشتے کا بحران: اگر ایک تعلیم یافتہ طبقے (طالب علم) کے لیے رشتے تلاش کرنے والا شخص اس قدر بے بس ہے کہ اسے دیواروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، تو عام آدمی کی کیا صورتِ حال ہوگی؟ یہ واضح کرتا ہے کہ اچھے اور شریف گھرانوں کے درمیان رابطے اور اعتماد کا فقدان ہے۔

سماجی دباؤ: بیٹی کی شادی کی فکر ایک باپ کے لیے قرض سے بھی زیادہ بھاری کیوں ہو گئی ہے؟ جہیز، نمود و نمائش، اور غیر ضروری رسومات نے نکاح کو آسان بنانے کے بجائے مشکل ترین بنا دیا ہے۔

اعتماد کی تلاش: باپ نے خاص طور پر ایک دینی ادارے کے باہر یہ پرچہ کیوں لگایا؟ یقیناً وہ ایک ایسا رشتہ تلاش کر رہا ہے جو دیندار، سادہ اور ذمہ دار ہو، اور اسے امید ہے کہ اس ماحول سے منسلک لوگ ان اقدار کے حامل ہوں گے۔

: خواص و علماء کے لیے ایک فکری پیغام

یہ پرچہ دراصل معاشرے کے رہبروں، علماء، اور اہلِ دانش کے لیے ایک چیلنج اور دعوتِ فکر ہے۔

خطباتِ جمعہ کا موضوع: ہمارے مساجد کے خطبات میں یہ موضوع محض ایک ضمنی بات نہیں، بلکہ مرکزی مسئلہ ہونا چاہیے۔ علماء کو نکاح کی آسانی، سادگی، اور غیر شرعی مطالبات (جہیز، بھاری اخراجات) کی مذمت کو اپنی ذمہ داری بنانا چاہیے۔

تنظیمی کردار: دینی و سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ "رشتہ جوڑنے" کے فعال مراکز قائم کریں جو قابلِ اعتماد ہوں اور جن کا مقصد صرف سادگی سے نکاح کروانا ہو۔ ان مراکز میں ذات پات، اونچ نیچ، اور دولت کی بجائے سیرت و کردار کو ترجیح دی جائے۔

تربیت: ہمیں نوجوانوں کی اس طرح تربیت کرنی چاہیے کہ وہ سادہ زندگی گزارنے پر فخر محسوس کریں اور شادی کو ایک عظیم عبادت سمجھیں، نہ کہ ایک مالی بوجھ یا سماجی مقابلہ۔

 حل کیا ہے؟

اس مایوسی کے عالم میں، ہمیں نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کو مشعل راہ بنانا ہوگا: "وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو“( عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة

والدین عہد کریں: ہم بیٹیوں کی شادی میں صرف "ضروریات" کو اہمیت دیں گے، نہ کہ "خواہشات" کو۔

لڑکے والے پہل کریں: سسرال سے کسی بھی قسم کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیں۔

معاشرہ اپنائے: ایسے سادہ نکاح کرنے والوں کو تنقید کی بجائے تحسین کی نظر سے دیکھیں۔

ایک باپ کا دیوار پر پرچہ لگانا ہماری اجتماعی ناکامی کا ثبوت ہے۔ آئیے، اس باپ کی پکار کو سنیں اور اپنے رویوں کو بدلیں۔ جب ہم نکاح کو آسان بنائیں گے، تب ہی ہم بے راہ روی اور بے چینی سے پاک ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں گے۔ یہ پرچہ ایک شرمندگی بھی ہے اور اصلاحِ معاشرہ کی ایک تحریک بھی۔ 

Thursday, December 18, 2025

عربی زبان: انسانی تہذیب کا شاہکار اور علم و حکمت کا امین

عربی زبان: انسانی تہذیب کا شاہکار اور علم و حکمت کا امین


عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

زبانیں قوموں کی پہچان اور ان کی تہذیب کی عکاس ہوتی ہیں، لیکن کچھ زبانیں ایسی ہوتی ہیں جو جغرافیائی حدود کو عبور کر کے عالمگیر انسانی ورثہ بن جاتی ہیں۔ عربی زبان بھی ایک ایسی ہی زبان ہے۔ ہر سال 18 دسمبر کو جب دنیا "عالمی یومِ عربی زبان" مناتی ہے، تو درحقیقت یہ اس لسانی معجزے کا جشن ہوتا ہے جس نے ریگزارِ عرب سے نکل کر پوری دنیا کے علم، ادب اور فلسفے کی آبیاری کی۔ یہ محض ایک زبان نہیں، بلکہ فصاحت و بلاغت کا وہ سمندر ہے جس کی موجیں صدیوں سے انسانی شعور کو سیراب کر رہی ہیں۔

: فصاحت و بلاغت کا معجزہ

عربی زبان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی فصاحت (صفائی) اور بلاغت (جامعیت) ہے۔ قدیم عرب اپنی زبان کی مٹھاس اور وسعت پر اس قدر فخر کرتے تھے کہ باقی دنیا کو "عجم" یعنی گونگا قرار دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ کلام کی اصل طاقت صرف ان کے پاس ہے۔ مشہور قول ہے:

عربی سیکھو، کیونکہ یہ عقل میں اضافہ کرتی ہے اور مروت کو پختہ کرتی ہے۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ)

اس زبان کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عربی میں ایک ہی جذبے یا شے کے لیے سینکڑوں الفاظ موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، محبت کے مختلف درجات کے لیے عربی میں جتنے باریک اور لطیف الفاظ ملتے ہیں، وہ دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں پائے جاتے۔

: قرآنِ کریم: بقا اور عظمت کی ضمانت

عربی زبان کی بقا اور اس کے عالمی عروج کا سب سے بڑا سبب اسلام اور قرآنِ مجید ہے۔ اگرچہ دنیا کی قدیم زبانیں وقت کے ساتھ بدل گئیں یا ناپید ہو گئیں، لیکن عربی آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو اپنے آخری پیغام کے لیے منتخب فرمایا

بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا تاکہ تم سمجھ سکو۔ (القرآن)

قرآن کی وجہ سے نہ صرف یہ زبان محفوظ ہوئی بلکہ اس کے قواعد (Grammar) مدون ہوئے اور لغت (Dictionary) تیار ہوئی۔ آج دنیا کے ہر کونے میں بسنے والا مسلمان، چاہے وہ چینی ہو یا افریقی، جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اسی عربی زبان کے ذریعے اپنے خالق سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ روحانی تعلق عربی کو ایک "زندہ جاوید" زبان بناتا ہے۔

: علم و حکمت کا عالمی مرکز

تاریخ کے صفحات پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، تب عربی زبان علم و دانش کی واحد علامت تھی۔ آٹھویں سے تیرہویں صدی عیسوی تک، جسے "اسلامی سنہری دور" کہا جاتا ہے، عربی بین الاقوامی سائنسی زبان تھی۔

ریاضی: الخوارزمی نے عربی میں "الجبر" کی بنیاد رکھی، جس کے بغیر آج کا کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی ناممکن تھی۔

طب: ابنِ سینا (Avicenna) کی عربی تصانیف پانچ سو سال تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں طب کی بنیادی کتب رہیں۔

فلسفہ: ارسطو اور افلاطون کے یونانی فلسفے کو عرب مفکرین نے نہ صرف عربی میں ترجمہ کر کے محفوظ کیا بلکہ اس پر ایسی شرح لکھی کہ جدید فلسفے کی بنیاد پڑی۔

: اردو اور عربی کا اٹوٹ رشتہ

اردو بولنے والوں کے لیے عربی اجنبی نہیں ہے۔ اردو کا خمیر ہی عربی و فارسی سے اٹھا ہے۔ ہماری روزمرہ گفتگو میں شامل الفاظ جیسے حق، انصاف، دنیا، کتاب، قلم، مشورہ، دعا—یہ سب عربی سے آئے ہیں۔ اردو کا رسم الخط اور اس کی شعری روایات (جیسے نعت، حمد، منقبت) براہِ راست عربی ادب سے متاثر ہیں۔ فارسی کے مشہور شاعر سعدی شیرازی نے کیا خوب کہا تھا۔

عربی زبان کا ذائقہ وہی جانتا ہے جس نے اس کے ادب کی مٹھاس چکھی ہو۔

: فنِ خطاطی: حروف کا رقص

عربی زبان نے فنِ لطیفہ کو "خطاطی" کی صورت میں ایک انمول تحفہ دیا ہے۔ خطِ ثلث، خطِ نسخ اور خطِ دیوانی کی صورت میں جب عربی حروف کاغذ یا دیواروں پر بکھرتے ہیں، تو وہ محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ ایک مسحور کن فن پارہ بن جاتے ہیں۔ مساجد کے میناروں سے لے کر جدید آرٹ گیلریوں تک، عربی رسم الخط کی کشش غیر عربوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔

: جدید دور کے چیلنجز اور اہمیت

آج کے دور میں عربی کی اہمیت صرف مذہبی یا تاریخی نہیں، بلکہ معاشی اور تزویراتی (Strategic) بھی ہے۔ دنیا کی 22 ریاستوں کی سرکاری زبان عربی ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کی چھ سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی معیشت اور توانائی کے ذخائر نے عربی سیکھنے کو ایک عالمی ضرورت بنا دیا ہے۔ آج ڈیجیٹل دنیا میں بھی عربی مواد تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قدیم زبان جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

حرفِ آخر

عالمی یومِ عربی زبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اس عظیم لسانی ورثے کی قدر کریں۔ یہ زبان صرف عربوں کی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی ہے جو علم، ادب اور روحانیت سے لگاؤ رکھتا ہے۔ عربی سیکھنا دراصل ایک وسیع تاریخ اور روشن تہذیب کے دروازے کھولنا ہے۔ آئیے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس زبان سے روشناس کرائیں گے تاکہ وہ اپنے علمی اور مذہبی ورثے سے جڑے رہیں۔

: جیسا کہ عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے

اللسانُ مِفتاحُ القلب (زبان دل کی کنجی ہے)۔

اور عربی زبان تو وہ کنجی ہے جس نے صدیوں سے انسانیت کے لیے علم اور معرفت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ 

اللغة العربية: شمس الحضارة و لغة البيان

 اللغة العربية: شمس الحضارة ولغة البيان



 عتيق الله كليم ✍️ 

: مقدمة

يحتفل العالم في الثامن عشر من ديسمبر من كل عام بـ "اليوم العالمي للغة العربية"، وهو اليوم الذي اعتمدت فيه الجمعية العامة للأمم المتحدة اللغة العربية كلغة رسمية سادسة في عام 1973. إن هذا الاحتفاء ليس مجرد مناسبة عابرة، بل هو اعتراف دولي بعظمة لغة قدمت للبشرية إرثاً علمياً وأدبياً لا ينضب، وكانت جسراً للتواصل بين الحضارات لقرون طويلة

: لغة القرآن والقدسية

تستمد اللغة العربية مكانتها الرفيعة لدى المليارات من البشر لكونها لغة القرآن الكريم. لقد اختارها الله سبحانه وتعالى لتكون وعاءً لرسالته الخاتمة، كما قال في كتابه العزيز: "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ". وبفضل القرآن، حفظت العربية قواعدها وتوسعت مفرداتها، وأصبحت لغة التعبد والروحانية للمسلمين في شتى بقاع الأرض، مما جعلها لغة "خالدة" لا تموت بموت قائلها

: عبقرية البيان وفصاحة اللسان

تتميز اللغة العربية بمرونتها واشتقاقاتها العجيبة التي تجعلها من أغنى لغات العالم. إن نظام "الجذور" في العربية يسمح بتوليد آلاف الكلمات من أصل واحد، مما يمنح المتحدث قدرة فائقة على التعبير عن أدق المشاعر والأفكار. وقد قال أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه

"تعلموا العربية؛ فإنها تزيد في المروءة، وتثبت العقل"

: دور العربية في النهضة العلمية

في العصور الوسطى، كانت اللغة العربية هي لغة العلم والبحث الأولى في العالم. ففي بيت الحكمة ببغداد ومدارس قرطبة، دُونت أعظم الاكتشافات في الطب، والرياضيات، والفلك، والكيمياء. إن كلمات مثل "الجبر" و"الخوارزميات" و"الإنبيق" لا تزال شاهدة في اللغات العالمية على فضل العلماء العرب والمسلمين الذين كتبوا بالعربية ونقلوا مشعل الحضارة إلى أوروبا

: جمالية الخط العربي

لم تقف العربية عند حدود النطق، بل تجاوزتها إلى فن البصر عبر "الخط العربي". إن أنواع الخطوط مثل الثلث، والنسخ، والكوفي، والديواني، تعتبر سيمفونية بصرية تعكس روح الفن الإسلامي. هذا الجمال جعل من الحرف العربي زينة للمساجد والقصور واللوحات الفنية، وجذب قلوب غير العرب قبل عربهم

: العربية في العصر الحديث

اليوم، تعد اللغة العربية لغة حية نابضة بالحياة، يتحدث بها أكثر من 400 مليون نسمة، وهي لغة رسمية في 22 دولة. في ظل العولمة، تبرز أهمية العربية كضرورة اقتصادية وسياسية، حيث يسعى الكثيرون حول العالم لتعلمها لفهم الشرق الأوسط وبناء روابط تجارية وثقافية متينة

: خاتمة

إن الاحتفاء باللغة العربية هو احتفاء بالهوية والثقافة والقيم الإنسانية. هي لغة الماضي العريق، والحاضر المتجدد، والمستقبل الواعد. واجبنا اليوم ليس فقط التحدث بها، بل الحفاظ على سلامتها ونشرها بين الأجيال القادمة، لتبقى دائماً منارة للعلم والأدب

: كما قيل قديماً

"العربية لسان الضاد، وهي أجمل لغات الأرض بياناً"

فلسفۂ قربانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم فلسفۂ قربانی   بقلم : عتیق اللہ کلیم  تمہید : ​دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کا کوئی بھی حکم حکمت و مصلحت سے خ...