Showing posts with label ایک باپ کی پکار ، رشتے کی تلاش ، جہیز کا بائیکاٹ کریں. Show all posts
Showing posts with label ایک باپ کی پکار ، رشتے کی تلاش ، جہیز کا بائیکاٹ کریں. Show all posts

Sunday, December 21, 2025

ایک باپ کی پکار ۔۔۔۔

ایک باپ کی پکار: دیوار پر چسپاں رشتوں کی تلاش 




عتیق اللہ کلیم ✍️

آج کے جدید دور میں، جہاں مواصلات کے لاتعداد ذرائع موجود ہیں اور دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، کسی تعلیمی ادارے کی بیرونی دیوار پر ایک سادہ سا کاغذ چسپاں دیکھنا دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ محض کوئی اشتہار نہیں، بلکہ ایک باپ کی بے بسی اور معاشرتی دباؤ کا خاموش چیختا ہوا اظہار ہے۔

اس پرچہ کی ایک تصویر 


ضرورت: مجھے اپنی بیٹی کے لیے رشتے کی تلاش ہے اگر کسی طالب علم کے گھر والے رشتے کی تلاش میں ہیں تو وہ رابطہ کریں (یوپی سے ہونا چاہیے)

مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء، کی دیوار پر چسپاں یہ پرچہ صرف ایک فرد کی داستان نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کے نظامِ رشتۂ ازدواج کے سنگین تضادات اور خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

 یہ پرچہ کیا کہتا ہے؟

یہ منظر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے اور کئی تلخ حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے

رشتے کا بحران: اگر ایک تعلیم یافتہ طبقے (طالب علم) کے لیے رشتے تلاش کرنے والا شخص اس قدر بے بس ہے کہ اسے دیواروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، تو عام آدمی کی کیا صورتِ حال ہوگی؟ یہ واضح کرتا ہے کہ اچھے اور شریف گھرانوں کے درمیان رابطے اور اعتماد کا فقدان ہے۔

سماجی دباؤ: بیٹی کی شادی کی فکر ایک باپ کے لیے قرض سے بھی زیادہ بھاری کیوں ہو گئی ہے؟ جہیز، نمود و نمائش، اور غیر ضروری رسومات نے نکاح کو آسان بنانے کے بجائے مشکل ترین بنا دیا ہے۔

اعتماد کی تلاش: باپ نے خاص طور پر ایک دینی ادارے کے باہر یہ پرچہ کیوں لگایا؟ یقیناً وہ ایک ایسا رشتہ تلاش کر رہا ہے جو دیندار، سادہ اور ذمہ دار ہو، اور اسے امید ہے کہ اس ماحول سے منسلک لوگ ان اقدار کے حامل ہوں گے۔

: خواص و علماء کے لیے ایک فکری پیغام

یہ پرچہ دراصل معاشرے کے رہبروں، علماء، اور اہلِ دانش کے لیے ایک چیلنج اور دعوتِ فکر ہے۔

خطباتِ جمعہ کا موضوع: ہمارے مساجد کے خطبات میں یہ موضوع محض ایک ضمنی بات نہیں، بلکہ مرکزی مسئلہ ہونا چاہیے۔ علماء کو نکاح کی آسانی، سادگی، اور غیر شرعی مطالبات (جہیز، بھاری اخراجات) کی مذمت کو اپنی ذمہ داری بنانا چاہیے۔

تنظیمی کردار: دینی و سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ "رشتہ جوڑنے" کے فعال مراکز قائم کریں جو قابلِ اعتماد ہوں اور جن کا مقصد صرف سادگی سے نکاح کروانا ہو۔ ان مراکز میں ذات پات، اونچ نیچ، اور دولت کی بجائے سیرت و کردار کو ترجیح دی جائے۔

تربیت: ہمیں نوجوانوں کی اس طرح تربیت کرنی چاہیے کہ وہ سادہ زندگی گزارنے پر فخر محسوس کریں اور شادی کو ایک عظیم عبادت سمجھیں، نہ کہ ایک مالی بوجھ یا سماجی مقابلہ۔

 حل کیا ہے؟

اس مایوسی کے عالم میں، ہمیں نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کو مشعل راہ بنانا ہوگا: "وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو“( عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة

والدین عہد کریں: ہم بیٹیوں کی شادی میں صرف "ضروریات" کو اہمیت دیں گے، نہ کہ "خواہشات" کو۔

لڑکے والے پہل کریں: سسرال سے کسی بھی قسم کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیں۔

معاشرہ اپنائے: ایسے سادہ نکاح کرنے والوں کو تنقید کی بجائے تحسین کی نظر سے دیکھیں۔

ایک باپ کا دیوار پر پرچہ لگانا ہماری اجتماعی ناکامی کا ثبوت ہے۔ آئیے، اس باپ کی پکار کو سنیں اور اپنے رویوں کو بدلیں۔ جب ہم نکاح کو آسان بنائیں گے، تب ہی ہم بے راہ روی اور بے چینی سے پاک ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں گے۔ یہ پرچہ ایک شرمندگی بھی ہے اور اصلاحِ معاشرہ کی ایک تحریک بھی۔ 

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...