بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
روزنامچہ
تاریخ: ۲۰ مئ ۲۰۲۵
دن: اتوار
![]() |
| مسجد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ |
آج کی صبح کچھ خاص تھی۔ فجر کی اذان نے جب سکوتِ شب کو چیر کر بیداری کی ندا دی، تو دل نے خوشی سے کہاالحمد للہ، آج بھی بیداری کی نعمت نصیب ہوئیبا جماعت نمازِ فجر ادا کی، پھر تلاوتِ کلامِ الٰہی سے دل و دماغ کو منور کیا، اور تن آسانی کی چادر کو جھٹک کر ورزش گاہ گیا، آدھے گھنٹے کی ورزش نے جسم میں توانائی پیدا کر دی۔ورزش کے بعد میں حسب معمول اپنے محبوب و محترم استاد، مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتهم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ معمول کے مطابق کاپی پیش کی، چند غلطیوں پر تنبیہ فرمائی، جو گویا جنہیں دور کرنے کا اسی وقت عزم کر لیا ۔ پھر آئندہ کے لیے نیا سبق عطا فرمایا، جو میرے علمی سفر کا ایک اور سنگِ میل بنا۔دارالعلوم واپسی پر ناشتہ کیا، اور ترمذی شریف کا اعادہ و مطالعہ اس ذوق و شوق سے کیا جیسے کوئی پیاسا چشمۂ علم پر جھک جائے۔ وقت سے پہلے درجہ میں حاضری دے دی۔الحمد للہ، آج تمام اوقاتِ درس پوری توجہ سے گزرے۔ ہر گھنٹہ جیسے علم کا ایک چراغ تھا، جو ذہن کی تاریکیوں کو روشن کرتا رہا۔نمازِ ظہر کے بعد اپنے رفیقِ درس، برادرم شاہد کے ساتھ "نخبۃ الأدب" کے چند اسباق کا ترجمہ کیا۔ یہ لمحات صرف مطالعے کے نہ تھے، بلکہ ذہن میں فکر اور عمل کا عزم پیدا ہوا۔کچھ ہی دیر بعد ہمارے قدیم اور عزیز رفیق، عاقب بھائی تشریف لائے، جن کے لیے دل بے اختیار مسکرا اٹھا۔ ضیافت کی، کچھ احوال پرسی ہوئی۔ پھر عصر سے کچھ قبل تھوڑی دیر قیلولہ کیا — جو بدن کی راحت اور ذہن کی تازگی کا سامان بن گیا۔نمازِ عصر کے بعد تبلیغی مشورے میں شرکت کی، پھر ایک دعا اور چند احادیث حفظ کیا، اور کچھ دیر چہل قدمی کرکے واپس مسجد آیا اور دعا میں مشغول ہو گیا۔مغرب کے بعد ایک علمی محفل میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ہال "علامہ حیدر حسن ٹونکی" میں ایک باوقار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں دارالعلوم کے ناظم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی، نائب ناظم مولانا عبد القادر ندوی، مہتمم سعید الرحمن اعظمی ندوی نائب مہتمم مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی،اساتذہ کرام اور ممتاز مہمانانِ گرامی موجود تھے۔تقریب کا آغاز عالیہ رابعہ کےطالب علم، برادرم ثمامہ کی تلاوت سے ہوا۔ ماجد دیوبندی صاحب نے نعتِ رسول پیش کی، اور پھر ترانۂ ندوہ پیش کیا گیا ۔اس کے بعد وہ لمحہ آیا، جب استاد محترم ڈاکٹر محمد فرمان صاحب ندوی مدظلہ العالی کی تصنیف "الشیخ سعید الاعظمی الندوی: حیاتہ و آثارہ" کا باضابطہ اجرا ہوا۔ آپ نے حضرت مہتمم صاحب کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اور بتایا کہ حضرت نے ۷۱ سالوں میں البعث کے لیے ۷۲۸ اداریے اور الرائد میں ٦٧ سالوں میں ۱١٤۰ مستقل کالم تحریر فرمائے۔
:تاثرات
:مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی نے کہا کہ
دوسروں کے لئے قربانی دینا اور دوسروں کے لئے جینا بہت بڑی بات ہے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا وہ آج تک قائم ہے، ان کے آگے صرف ندوہ ہی تھا، وہ دار العلوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ نے کہا کہ
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ۱۹۹۳ء میں مسلمانوں کی عصری علوم کے فروغ کے لئے انٹیگرل یونیورسٹی کو قائم کیا ، میں اس کا گواہ ہوں کہ مولانا کو دارالعلوم کے ساتھ ساتھ یو نیورسٹی قائم کرنے کی بہت فکر تھی ، آج یونیورسٹی جس شکل میں سامنے ہے، اس میں مولانا اعظمی کی توجہات شامل ہیں۔
![]() |
تقریب رسم اجراء |
![]() |
| ناظرین کی سہولت کے لیے ایل سی ڈی اسکرین کا اہتمام |
تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ ہال کے باہر ایک بڑی ایل سی ڈی اسکرین نصب کی گئی تھی تاکہ وہ افراد جو اندر نشست حاصل نہ کر سکے، وہ بھی اس روح پرور لمحے کا مشاہدہ کر سکیں۔ نتیجتاً ہال کے باہر بھی شائقینِ علم کی ایک بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہر طرف علم و ادب کے متوالوں کا ہجوم، اور کتاب سے محبت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔
![]() |
| طلبہ اور ناظرین کا جم غفیر |
بزم کا اختتام حضرت مہتمم صاحب کی دعاؤں سے ہوا۔
عشاء کے بعد کچھ ساتھیوں کے درمیان ہدایہ کا مذاکرہ کرایا، روزنامچہ رقم کیا، اور دل کو رب کے حضور سونپ کر پرسکون نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں بہتر بہتر سے مشغولیت میں مصروف رکھے اور یہ ہماری زندگی کا معمول بن جاۓ۔ آمین
تحریر کے تئیں اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کریں۔
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/molana-abul-kalam-azad.html



