Showing posts with label مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ بحیثیت صحافی میرے پسندیدہ صحافی. Show all posts
Showing posts with label مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ بحیثیت صحافی میرے پسندیدہ صحافی. Show all posts

Saturday, September 14, 2024

مولانا ابوالکام آزاد رحمۃ اللّٰہ علیہ میرے پسندیدہ صحافی

مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃاللہ علیہ میرے پسندیدہ صحافی 



عتیق اللہ کلیم ✍️

:تمہید

صحافت انسان کے اندر پیدا ہونے والے احساسات جذبات اور خیالات کو پیش کرنے کا اہم ذریعہ ہے صحافت با مقصد تنقید کے ذریعے غلطی سے روکتی ہے خبروں اور اہم معاملات سے پردہ ہٹاتی ہے اس سے ہمیشہ ہر امت اور ہر معاشرے کی تعلیم و ثقافت میں اضافہ ہوتا ہے لہذا جب سے یہ فن وجود میں آیا لاکھوں صحافیوں نے قلم آزماءے انہی میں سے بیسویں صدی کے آغاز میں ایک انقلابی صحافی کے روپ میں مولانا ابوالکلام ازاد رحمۃ اللہ علیہ اردو صحافت کے افق پر ظاہر ہوئے

:تعارف

مولانا ازاد کا نام محی الدین احمد تھا وہ اپنی کنیت ابو الکلام سے مشہور ہوۓ آپ کے والد محترم کا نام مولانا خیر الدین تھا آپ دہلی کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ کی پیدائش 1305 ہجری مطابق 1888 عیسوی میں مکہ کے محلہ ”قدوہ“ میں ہوئی اور آپ نے عمر کی ابتدائی دن وہیں گزارے آپ ایک صاحب طرز ادیب شعلہ بیاں خطیب کامیاب شاعر بالغ نظر اور ایک جری انشاء پرداز تھے

:تعلیم و تعلم

بقول مولانا آزاد پانچ سال کی عمر میں بسم اللہ کی تقریب حرم شریف میں ہوئی اپنی خالہ سے قران پڑھا عربی و منطق مولوی محمد یعقوب اور فارسی اپنے والد سے سیکھا اور دیگر تین اساتذہ مولوی محمد عمر مولوی محمد ابراہیم اور مولوی نظر الحسن سے تعلیم حاصل کی 1902 کے اوائل میں مولانا نے درس نظامی مکمل کر لیا اور خود درس دینے لگے تعلیم ختم کرنے کے بعد مولاناآزاد نے امیر مینائی اور مولانا ظہیر احسن شوق منیومی سے شعر گوئی سیکھی

:بحیثیت صحافی 

مولانا آزاد نے صحافت میں ایک نیا معیار قائم کیا اور صحافت میں ادب کی شان پیدا کر دی انہوں نے غالبا 1899 میں ”نیرنگ عالم“ اور بعد میں ”المصباح“ ماہانہ گلدستہ جاری کیا لیکن دونوں ہی ایک سال بھی نہ چل سکا اس کے بعد ”لسان الصدق“ جاری کیا اس کا پہلا شمارہ 20 نومبر 1903 کو نکلا تھا لیکن تقریبا یہ بھی 18 مہینے بعد بند ہو گیا 13 جولائی 1912 میں پھر الہلال جاری کیا جو کہ حکومت بنگال کی وجہ سے مجبورا بند کر نہ پڑا اس کی جگہ ”البلاغ“ جاری کیا دونوں پرچوں میں محض نام کا فرق تھا تحریر اور انداز تحریر یکساں تھا الحلال کا ذکر کرتے ہوئے ایس اے انصاری نے لکھا ہے الہلال کے دو مقصد تھے پہلا مقصد تھا مسلمانوں میں ایک دفعہ پھر مذہب کی صحیح روح کو پیدا کرنا اور ان کی مذہبی اور سماجی زندگی میں تنظیم نو کرنا اور دوسرا مقصد تھا ان میں آزادی کا وہ جذبہ پیدا کرنا جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے

:وفات

19 فروری 1995کو آپ دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے

:خاتمہ
مولانا کی شخصیت کے بہت سے پہلو تھے وہ مذہبی رہنما‘ مقرر‘ عالم‘ صاحب طرزادیب‘ اور سیاستدان تھے اب مولانا ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن ان کی زندگی سے ہمیں روشنی ملتی ہے اورآئندہ نسلوں کو بھی ملتی رہے گی 
 : بقول علامہ اقبال

ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے
 بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا





پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...