Showing posts with label فارغین مدارس فارغین مدارس کی ذمہ داریاں. Show all posts
Showing posts with label فارغین مدارس فارغین مدارس کی ذمہ داریاں. Show all posts

Monday, July 7, 2025

فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں

 فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں



عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

آج کے اس ترقی یافتہ اور تغیر پذیر دور میں مدارس اسلامیہ کی کثرت اور ان کی افادیت کسی سے مخفی نہیں۔ یہ مدارس ملتِ اسلامیہ کے علمی، فکری اور دینی تشخص کے مضبوط قلعے ہیں۔ یہی وہ گہوارۂ علم و عرفان ہے جہاں انسان سازی، کردار پروری، دینی بیداری، اور روحانی تربیت کا کام خاموشی سے انجام پا رہا ہے۔ یہ مدارس علومِ اسلامیہ کے سرچشمے ہیں، جہاں لاکھوں تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھا چکے ہیں اور آج پوری دنیا میں دینِ حق کی ترجمانی اور خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

فارغینِ مدارس کون ہیں؟

فارغینِ مدارس وہ خوش نصیب افراد ہیں جو علومِ دینیہ و اسلامیہ کے جامع نصاب سے فراغت حاصل کرتے ہیں، جنہیں درسِ نظامی، قراءت، تجوید، تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، عقائد، اور دیگر اہم اسلامی علوم میں مہارت دی جاتی ہے۔ ان کی یہ تعلیم محض رسمی نہیں، بلکہ ایک روحانی اور فکری تربیت کے ساتھ جُڑی ہوتی ہے، جو انہیں زندگی بھر کے لیے دین کا خادم اور ملت کا رہنما بناتی ہے۔

فارغینِ مدارس کی اہم ذمہ داریاں

فارغینِ مدارس کی ذمہ داریاں صرف منبر و محراب تک محدود نہیں، بلکہ ان کی خدمات کا دائرہ پوری امت، معاشرہ، اور بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داریاں حسبِ ذیل ہیں

اسلام کا تعارف اور دفاع

دورِ جدید میں جہاں اسلام پر فکری حملے ہو رہے ہیں، وہاں فارغین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کا صحیح تعارف، حکمت و موعظت کے ساتھ پیش کریں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

یعنی: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ"۔

 اصلاحِ معاشرہ اور امر بالمعروف

فارغین کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان پھیلی ہوئی اخلاقی، سماجی اور دینی برائیوں کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ان کی بنیادی دینی ذمہ داری ہے۔

 جدید تعلیمی نظام میں شمولیت

فارغینِ مدارس کو چاہیے کہ وہ عصری تعلیمی اداروں میں اسلامی اصولوں کو داخل کریں، نصاب میں اخلاقیات، سیرت النبی ﷺ، اسلامی افکار و اقدار کو جگہ دلوائیں تاکہ نئی نسل دین سے مربوط رہے۔

 تحریری و ابلاغی صلاحیتوں کا فروغ

تحریر، تقریر، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو دین کی دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کریں۔ آج کا دور تحریر و ابلاغ کا ہے، اس میں خاموش رہنا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔

 اداروں کی بنیاد اور قیادت

فارغین کو چاہیے کہ وہ ایسے ادارے قائم کریں جو دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج پیش کریں۔ جہاں جدید تعلیم کے ساتھ اسلامی نظریات کی تعلیم و تربیت بھی دی جائے، تاکہ مسلمان نوجوان گمراہی سے بچے رہیں۔

ذاتی اصلاح اور روحانی ارتقاء

فارغین کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنی ذات کی اصلاح ہے۔ اخلاص، ایمان، یقین، تعلق مع اللہ، دعا، تضرّع، خشوع، تواضع، اور اعتماد علی اللہ جیسے خصائص کو اپنا کر وہ نبوی اسوہ کو اپنے اندر زندہ کریں تاکہ ان کی دعوت و تبلیغ مؤثر ہو سکے

فتنوں کا علمی و فکری ردّ

یہ دور فتنوں کا ہے  دہریت، الحاد، سیکولرزم، لبرل ازم، قادیانیت، باطنیت، اور دیگر گمراہ کن نظریات نت نئے انداز سے نوجوانوں کے دل و دماغ کو متاثر کر رہے ہیں۔ فارغینِ مدارس کی یہ نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ان فتنوں کو گہرائی سے سمجھیں، ان کے علمی و فکری پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور قرآنی و نبوی روشنی میں دلائل و حکمت کے ساتھ ان کا ردّ کریں۔

یاد رکھیں! صرف نعرے اور تقاریر کافی نہیں، بلکہ تحقیق، علم اور بصیرت کے ساتھ گفتگو کرنا ہوگی۔

خاتمہ

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مدارس کے یہ فرزند—فارغینِ مدارس—اسلامی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ زمانے کی بدلتی ضروریات کو سمجھ کر اپنی دعوتی، اصلاحی، تعلیمی اور تنظیمی ذمہ داریوں کو شعور اور حکمت کے ساتھ نبھائیں۔ یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ وہ قلم و زبان دونوں سے دینِ اسلام کی حقانیت کو اجاگر کریں، امت کی رہنمائی کریں اور دشمنانِ اسلام کے فکری حملوں کا مدلل جواب دیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام فارغینِ مدارس کو امتِ مسلمہ کی صحیح قیادت و رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے، اور انہیں فتنوں کے اس سیلاب میں چراغِ ہدایت بنائے۔ آمین۔

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...