Friday, May 30, 2025

تبصرہ : بر مسئلہ قربانی مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ


تبصرہ : بر مسئلہ قربانی
  مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ 
مسئلہ قربانی – ایک فکری و تہذیبی تجزیہ


جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے جلیل القدر مفکر و مصلح کی تحریر سامنے آتی ہے، تو محض ایک مضمون نہیں، بلکہ فکر و نظر کی پوری ایک کائنات ہماری نگاہوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ "مسئلہ قربانی" مولانا کا ایک مختصر مگر نہایت جامع رسالہ ہے، جو صرف تیس صفحات پر مشتمل ہے، لیکن معنویت اور استدلال کے اعتبار سے ایک فکری شاہکار ہے۔

یہ رسالہ اس وقت تحریر کیا گیا جب معاشرے میں قربانی جیسی عظیم عبادت پر مختلف زاویوں سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ کہیں سادگی کے نام پر اس سنت کو ثانوی حیثیت دی جا رہی تھی، تو کہیں معاشی مفادات کی آڑ میں اسے بےمعنی اور دقیانوسی قرار دینے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ایسے میں مولانا مودودیؒ نے دلائل، تاریخ، شریعت، اور تہذیب کے سہارے اس سنت کی اصل روح کو نہ صرف واضح کیا بلکہ مخالفین کی فکری کمزوریوں کو بھی بےنقاب کیا۔

:دلائل کا جادو

مولانا نے ابتدا میں ہی یہ واضح کیا کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک علامتی عبادت ہے، جس میں عبد کا رب کے حضور مکمل تسلیم و رضا کا اظہار شامل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کو مولانا نے نہایت پر اثر انداز میں بیان کرتے ہوئے یہ باور کرایا کہ قربانی کا مفہوم صرف جسمانی یا مالی نہیں، بلکہ روحانی ہے – ایک تزکیہ نفس، ایک تہذیبی شعور، اور ایک اجتماعی وابستگی ہے۔

: سنت کی حفاظت کا جذبہ

رسائل و جرائد میں قربانی کے خلاف پھیلائے گئے مغالطوں کا مدلل جواب دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں کہ اگر قربانی کو "مالی ضیاع" کہہ کر ترک کر دیا جائے، تو دین اسلام کی روحانیات، شعائر اور عبادات پر بھی ایک دن یہی تہمتیں لگیں گی اور انھیں غیر ضروری اور رسمی کہ کر ان کے ترک پر امت مسلمہ کو قائل کیا جائیگا اس مختصر سے رسالے میں وہ نہایت سلیقے اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ اسلامی تہذیب کا ایک ستون ہے۔

 : ادبی و فکری اسلوب

مولانا کا اسلوب ہمیشہ کی طرح متین، سادہ مگر پراثر ہے۔ ان کے جملوں میں دلائل کی کاٹ بھی ہے، اور روح کی حلاوت بھی۔ کہیں وہ قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، تو کہیں احادیث سے۔ کہیں تاریخی تناظر بیان کرتے ہیں، تو کہیں معاشرتی تغیرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا قلم ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم اور حکمت کی مشعل تھامے ہوئے ہو۔

 : مخالفین پر شائستہ تنقید

مولانا کا خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ تنقید برائے تنقید کے قائل نہیں۔ وہ اختلاف رکھنے والوں کو رد کرتے ہیں، مگر عزت و شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان کی زبان میں نہ تلخی ہے، نہ تندی، بلکہ دلائل کی روشنی میں حق کو نمایاں کرنے کا خلوص ہے۔

 : تہذیب کا مقدمہ

قربانی کو اگر تہذیبی مظہر کے طور پر دیکھا جائے، تو مولانا نے نہایت خوبصورتی سے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ اسلامی تہذیب اپنی علامتوں سے پہچانی جاتی ہے، اور اگر ان علامتوں کو مٹانے کی کوشش کی گئی، تو امت کا تشخص مٹ جائے گا، روحانی جوہر ماند پڑ جائے گا، اور دینی شعائر محض رسوم بن کر رہ جائیں گے۔

 : اختتامیہ

یہ رسالہ صرف ایک فقہی یا عقلی بحث نہیں، بلکہ ایک فکری تجزیہ ہے، جو قربانی جیسے عظیم عمل کی حقیقت، اہمیت اور اثرات کو آج کے دور کے تنقیدی مزاج کے سامنے نہایت خوبی سے پیش کرتا ہے۔ مولانا نے سنتِ ابراہیمی کے تقدس کو نئی نسل کے دلوں میں جاگزیں کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کا انداز نہ صرف قاری کو مطمئن کرتا ہے بلکہ اسے جھنجھوڑتا ہے، بیدار کرتا ہے، اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ رسالہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے، جذب کرنے، اور عمل کرنے کے لیے ہے۔ ایک ایسا اثاثہ جو ہر صاحبِ علم و دین کے مطالعے میں ہونا چاہیے۔

برادرم محمد عمران خیرآبادی 

درجہ :عالیہ رابعہ شریعہ

متعلم  :دارالعلوم ندوۃ العلماء ،لکھنؤ 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html

Friday, May 23, 2025

روزنامچہ بتاریخ ۲۰ مئی ۲۰۲۵

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

روزنامچہ 
تاریخ: ۲۰ مئ ۲۰۲۵
دن:        اتوار 

مسجد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ 

عتیق اللہ کلیم ✍️

آج کی صبح کچھ خاص تھی۔ فجر کی اذان نے جب سکوتِ 
شب کو چیر کر بیداری کی ندا دی، تو دل نے خوشی سے کہا
الحمد للہ، آج بھی بیداری کی نعمت نصیب ہوئی
با جماعت نمازِ فجر ادا کی، پھر تلاوتِ کلامِ الٰہی سے دل و دماغ کو منور کیا، اور تن آسانی کی چادر کو جھٹک کر ورزش گاہ گیا، آدھے گھنٹے کی ورزش نے جسم میں توانائی پیدا کر دی۔
ورزش کے بعد میں حسب معمول اپنے محبوب و محترم استاد، مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتهم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ معمول کے مطابق کاپی پیش کی، چند غلطیوں پر تنبیہ فرمائی، جو گویا جنہیں دور کرنے کا اسی وقت عزم کر لیا ۔ پھر آئندہ کے لیے نیا سبق عطا فرمایا، جو میرے علمی سفر کا ایک اور سنگِ میل بنا۔
دارالعلوم واپسی پر ناشتہ کیا، اور ترمذی شریف کا اعادہ و مطالعہ اس ذوق و شوق سے کیا جیسے کوئی پیاسا چشمۂ علم پر جھک جائے۔ وقت سے پہلے درجہ میں حاضری دے دی۔
الحمد للہ، آج تمام اوقاتِ درس پوری توجہ سے گزرے۔ ہر گھنٹہ جیسے علم کا ایک چراغ تھا، جو ذہن کی تاریکیوں کو روشن کرتا رہا۔
نمازِ ظہر کے بعد اپنے رفیقِ درس، برادرم شاہد کے ساتھ "نخبۃ الأدب" کے چند اسباق کا ترجمہ کیا۔ یہ لمحات صرف مطالعے کے نہ تھے، بلکہ ذہن میں فکر اور عمل کا عزم پیدا ہوا۔
کچھ ہی دیر بعد ہمارے قدیم اور عزیز رفیق، عاقب بھائی تشریف لائے، جن کے لیے دل بے اختیار مسکرا اٹھا۔ ضیافت کی، کچھ احوال پرسی ہوئی۔ پھر عصر سے کچھ قبل تھوڑی دیر قیلولہ کیا — جو بدن کی راحت اور ذہن کی تازگی کا سامان بن گیا۔
نمازِ عصر کے بعد تبلیغی مشورے میں شرکت کی، پھر ایک دعا اور چند احادیث حفظ کیا، اور کچھ دیر چہل قدمی کرکے واپس مسجد آیا اور دعا میں مشغول ہو گیا۔
مغرب کے بعد ایک علمی محفل میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ہال "علامہ حیدر حسن ٹونکی" میں ایک باوقار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں دارالعلوم کے ناظم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی، نائب ناظم مولانا عبد القادر ندوی، مہتمم سعید الرحمن اعظمی ندوی نائب مہتمم مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی،اساتذہ کرام اور ممتاز مہمانانِ گرامی موجود تھے۔
تقریب کا آغاز عالیہ رابعہ کےطالب علم، برادرم ثمامہ کی تلاوت سے ہوا۔ ماجد دیوبندی صاحب نے نعتِ رسول پیش کی، اور پھر ترانۂ ندوہ پیش کیا گیا ۔
اس کے بعد وہ لمحہ آیا، جب استاد محترم ڈاکٹر محمد فرمان صاحب ندوی مدظلہ العالی کی تصنیف "الشیخ سعید الاعظمی الندوی: حیاتہ و آثارہ" کا باضابطہ اجرا ہوا۔ آپ نے حضرت مہتمم صاحب کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اور بتایا کہ حضرت نے ۷۱ سالوں میں البعث کے لیے ۷۲۸ اداریے اور الرائد میں ٦٧ سالوں میں ۱١٤۰ مستقل کالم تحریر فرمائے۔

:تاثرات

:مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی نے کہا کہ

دوسروں کے لئے قربانی دینا اور دوسروں کے لئے جینا بہت بڑی بات ہے  مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا وہ آج تک قائم ہے، ان کے آگے صرف ندوہ ہی تھا،  وہ دار العلوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ نے کہا کہ

 مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ۱۹۹۳ء میں مسلمانوں کی عصری علوم کے فروغ کے لئے انٹیگرل یونیورسٹی کو قائم کیا ، میں اس کا گواہ ہوں کہ مولانا کو دارالعلوم کے ساتھ ساتھ یو نیورسٹی قائم کرنے کی بہت فکر تھی ، آج یونیورسٹی جس شکل میں سامنے ہے، اس میں مولانا اعظمی کی توجہات شامل ہیں۔

تقریب رسم اجراء
 

ناظرین کی سہولت کے لیے ایل سی ڈی اسکرین کا اہتمام 

تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ ہال کے باہر ایک بڑی ایل سی ڈی اسکرین نصب کی گئی تھی تاکہ وہ افراد جو اندر نشست حاصل نہ کر سکے، وہ بھی اس روح پرور لمحے کا مشاہدہ کر سکیں۔ نتیجتاً ہال کے باہر بھی شائقینِ علم کی ایک بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہر طرف علم و ادب کے متوالوں کا ہجوم، اور کتاب سے محبت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔

طلبہ اور ناظرین کا جم غفیر 


بزم کا اختتام حضرت مہتمم صاحب کی دعاؤں سے ہوا۔

عشاء کے بعد کچھ ساتھیوں کے درمیان ہدایہ کا مذاکرہ کرایا، روزنامچہ رقم کیا، اور دل کو رب کے حضور سونپ کر پرسکون نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں بہتر بہتر سے مشغولیت میں مصروف رکھے اور یہ ہماری زندگی کا معمول بن جاۓ۔ آمین 

تحریر کے تئیں اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کریں۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/molana-abul-kalam-azad.html

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...