سيرة الشيخ الدكتور نذير أحمد الندوي لا تنسى أبدا
بقلم: الشيخ محمد فضل الرحيم المجددي ( رئيس جامعة الهداية ، جي فور ، الأمين العام لهيئة قانون الأحوال الشخصية للمسلمين لعموم الهند)
مترجّم: عتیق اللہ كليم
ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ — ایک ایسی یاد جو کبھی مٹ نہیں سکتی
تحریر: شیخ محمد فضل الرحیم المجددی
صدر جامعہ الہدایہ، جے پور، اور جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
آج ہم ایک ایسے مردِ علم و فضل کو یاد کر رہے ہیں، جو "ندوة العلماء" کے ان روشن چراغوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے علم، اخلاق اور خدمات سے ایسی روشنی پھیلائی جو کبھی مدھم نہیں پڑ سکتی۔
وہ عظیم المرتبت شخصیت شیخ ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ تھے۔
ان کی یاد محض ایک رسمِ تعزیت نہیں، بلکہ ان سے کیے گئے عہدِ محبت و وفا کی تجدید ہے۔
ان کی زندگی خلوص، زہد، صبر، اور خدمتِ دین و علم کی پیکر تھی۔ میں نے ان سے وفات سے چند دن قبل ملاقات کی تھی، "ندوة العلماء" میں ایک فقہی نشست کے موقع پر۔
ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نور تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھنے سے دل کو عجب اطمینان نصیب ہوتا۔ وہ بات میں نرمی رکھتے، لہجے میں شفقت، اور گفتگو میں علم و وقار کی خوشبو ہوتی۔
: جب میں نے ان کی بیماری کا حال پوچھا تو وہ مسکرا کر بولے
یہ کمزوری نہیں، عبدیت کی نشانی ہے۔ میں اللہ سے عافیت مانگتا ہوں تاکہ دین کی خدمت جاری رکھ سکوں۔
میں نے کبھی ان کے لبوں سے شکایت نہیں سنی۔ ان کی آنکھوں میں صبر و رضا کی چمک تھی۔ وہ گویا خاموش زبان میں یہ دعا کر رہے تھے
"اے اللہ! مجھے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جلد ملا دے۔"
میں جب بھی ان سے ملتا، محسوس کرتا کہ میں دنیا کے کسی انسان سے نہیں بلکہ آخرت کے ایک مسافر سے ہمکلام ہوں۔
ان کی مجلس سادگی اور روحانیت سے بھری ہوتی۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی اور دل کی صفائی شامل تھی۔
وہ جزا یا تعریف کے خواہاں نہیں تھے، صرف اللہ کی رضا کے متلاشی۔
اللہ نے انہیں ایک جامع علمی شخصیت عطا فرمائی تھی۔ وہ چار زبانوں کے ماہر تھے — عربی، فارسی، اردو اور انگریزی۔
لیکن اتنی وسعتِ علم کے باوجود ان کے دل میں تکبر کا ذرہ نہ تھا۔
وہ ہمیشہ سچائی کے ساتھ علم دیتے، اخلاص کے ساتھ تحقیق کرتے، اور اللہ سے جڑے دل کے ساتھ لکھتے تھے۔
میں نے کبھی انہیں کسی کی غیبت کرتے یا کسی انسان کی عزت پر بات کرتے نہیں سنا۔
اگر کوئی کمی یا غلطی نظر آتی تو بڑی نرمی اور محبت سے نصیحت کرتے، اور ہمیشہ دوسروں کے لیے بھلائی اور خیر کی دعا کرتے۔
ان کے نزدیک تدریس کوئی محض ملازمت یا روزی کا ذریعہ نہ تھی، بلکہ ایک عبادت، ذمہ داری اور امانت تھی۔
وہ خود کو اپنے شاگردوں کے ذہنوں اور دلوں کا امین سمجھتے تھے۔
ان کی دیانت کا یہ عالم تھا کہ کئی مرتبہ جب انہیں تدریس یا علمی کام کے بدلے کوئی انعام یا اعزازیہ دیا گیا، تو انہوں نے واپس کر دیا —
یہ کہہ کر کہ ”میں نے ابھی تک علم کا حق ویسے ادا نہیں کیا جیسے کرنا چاہیے تھا“۔
یہی ان کا ورع (تقویٰ) تھا، یہی ان کا حیاء اور خدا ترسی۔
وہ تمام اہلِ علم سے محبت کرتے، اپنے ساتھیوں کا احترام کرتے
اور شاگردوں کے لیے شفقت و مہربانی کا سراپا نمونہ تھے۔
ان کے نزدیک سب شاگرد ایک جیسے تھے — وہ سب میں اپنے
بیٹے اور بھائی دیکھتے تھے۔
وہ "ندوة العلماء" کو محض ایک درسگاہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے روحانی تربیت کا مرکز مانتے تھے، ایک ایسی جگہ جو عقل و روح دونوں کو سیراب کرتی ہے۔
ان کی سیرت، ندوہ کی اس اصل روح کی زندہ تعبیر تھی سادگی، علم اور اخلاق۔
ان نمایاں خصوصیات میں سے ایک ان کی جامعہ الہدایہ سے گہری وابستگی بھی تھی۔
اگرچہ وہ وہاں کے باقاعدہ مدرس یا استاد نہیں تھے، لیکن یہ ادارہ ہمیشہ ان کے دل میں بسا رہا۔
وہ اکثر اپنی دعاؤں میں جامعہ کا ذکر کرتے، اس کے حالات پوچھتے، اور جہاں تک ممکن ہوتا اس کی مدد کرتے۔
ان کے نزدیک جامعہ الہدایہ دراصل ندوة العلماء کی علمی اور فکری روح کا تسلسل تھی ۔
ایک ایسا مرکز جو علم و دین کی خدمت کو آگے بڑھا رہا تھا۔
انہیں یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی کہ جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ علم و دین کی خدمت میں سرگرم ہیں۔
جب کبھی جامعہ یا اس کے طلبہ کا تذکرہ ہوتا، تو وہ محبت سے دعا دیتے
اللہ ان کی محنتوں میں برکت دے، اور ان کی کوششوں کو ثمر آور بنائے۔
ان کی یہ محبت، سچی، خالص اور قلبی تھی
اور جب تک وہ زندہ رہے، ان کی دعائیں اس ادارے اور اس کے لوگوں کے ساتھ رہیں۔
اللہ نے ان کی زندگی کے آخری ایام میں آزمائشیں بھی دیں، لیکن انہوں نے ہر تکلیف کو صبر و رضا سے قبول کیا۔
وہ بیماری میں بھی مطمئن، دل کے سکون اور چہرے کے نور سے معمور رہتے۔
ان کے نزدیک مصیبتیں اللہ کے قرب کا ذریعہ تھیں، نہ کہ شکوے کا سبب۔
: قرآن کہتا ہے
"اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ"
بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ یقیناً ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جنہیں یہ وعدہ نصیب ہوا۔
ان کا اثر و فیض آج بھی زندہ ہے، اور ان کے نقوش دلوں میں تازہ ہیں۔
میرے فرزند استاذ حبیب الرحیم ندوی اور میرے داماد استاذ حذیفہ ندوی —
دونوں ہی خالص طلبۂ علم میں سے ہیں —
انہوں نے شیخ نذیر احمد ندوی رحمہ اللہ سے بہت کچھ سیکھا، فیض پایا، ان کے اخلاق، ان کے انکسار، اور ان کے علمی طریقے سے گہرا اثر قبول کیا۔
علماء دراصل کبھی رخصت نہیں ہوتے
کیونکہ ان کے آثار باقی رہتے ہیں
ان کے اسباق ان کے شاگردوں کی زبانوں پر دہراتے رہتے ہیں
اور ان کے لیے دعائیں ان کے چاہنے والوں کے لبوں سے رات کے سناٹے میں آسمان کی طرف بلند ہوتی رہتی ہیں۔
: رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا
"جب ابنِ آدم وفات پاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے
ایک صدقۂ جاریہ
یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے
یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
اور بے شک شیخ نذیر احمد ندویؒ نے یہ تینوں نعمتیں اپنے دامن میں سمیٹ لی تھیں
ان کا نفع بخش علم
ان کے نیک شاگرد
اور ان کا باعزت، باایمان اور صالح خاندان۔
اللہ ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
وہ صبر کے پیکر، زہد کی مثال، اور نبی ﷺ کے اس ارشاد کے مظہر تھے
سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع رساں ہو۔
انہوں نے اپنی زبان سے تعلیم دی، اپنے اخلاق سے تربیت کی، اور اپنی سیرت سے دعوت کا فریضہ ادا کیا
یوں وہ ان خوش نصیبوں میں شامل ہو گئے جن کا نام علم اور وفا کے ساتھ ہمیشہ خیر سے لیا جاتا ہے۔
!اے اللہ! اے بے پایاں رحمت والے
!اے علماء و اولیاء کے ربّ
ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ اپنے بندے، شیخ نذیر احمد ندویؒ کو بخش دے
اور انہیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ وہ عزت و کرامت عطا فرما جو تُو نے اپنے صالحین سے وعدہ کی ہے۔
اے اللہ! ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے
اس میں نور بھر دے
اسے سکون، رحمت اور رضا سے منور فرما۔
اے اللہ! انہیں امت کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرما
اور ان کے شاگردوں، اہلِ خانہ اور محبوں کی جانب سے احسن الجزاء مرحمت فرما۔
اے اللہ! ان کا علم صدقۂ جاریہ بنا دے
اور ان کے شاگردوں اور اہلِ خاندان کو ان کے علم و عمل کے سچے امین بنا۔
اے اللہ! ان کے اہل و محبین کے دلوں پر صبرِ جمیل نازل فرما
اور انہیں اپنے فیصلے پر راضی رہنے والا بنا دے۔
اور ہمیں سب کو ان عملی علماء کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنا دے
تاکہ ہم بھی ان کے نقشِ حیات پر چلتے ہوئے دارِ ابدی تک پہنچ جائیں۔
اور ہمارا آخری کلمہ یہ ہے کہ
تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں،
اور درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ، ان کے اہلِ بیت اور تمام صحابہؓ پر۔


