Wednesday, November 26, 2025

‎ ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ — ایک ایسی یاد جو کبھی مٹ نہیں سکتی

سيرة الشيخ الدكتور نذير أحمد الندوي لا تنسى أبدا 

بقلم: الشيخ محمد فضل الرحيم المجددي ( رئيس جامعة الهداية ، جي فور ، الأمين العام لهيئة قانون الأحوال الشخصية للمسلمين لعموم الهند)

 مترجّم:  عتیق اللہ كليم 

ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ — ایک ایسی یاد جو کبھی مٹ نہیں سکتی

تحریر: شیخ محمد فضل الرحیم المجددی

‎صدر جامعہ الہدایہ، جے پور، اور جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

‎آج ہم ایک ایسے مردِ علم و فضل کو یاد کر رہے ہیں، جو "ندوة العلماء" کے ان روشن چراغوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے علم، اخلاق اور خدمات سے ایسی روشنی پھیلائی جو کبھی مدھم نہیں پڑ سکتی۔

‎وہ عظیم المرتبت شخصیت شیخ ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ تھے۔

‎ان کی یاد محض ایک رسمِ تعزیت نہیں، بلکہ ان سے کیے گئے عہدِ محبت و وفا کی تجدید ہے۔

‎ان کی زندگی خلوص، زہد، صبر، اور خدمتِ دین و علم کی پیکر تھی۔ میں نے ان سے وفات سے چند دن قبل ملاقات کی تھی، "ندوة العلماء" میں ایک فقہی نشست کے موقع پر۔

‎ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نور تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھنے سے دل کو عجب اطمینان نصیب ہوتا۔ وہ بات میں نرمی رکھتے، لہجے میں شفقت، اور گفتگو میں علم و وقار کی خوشبو ہوتی۔

: ‎جب میں نے ان کی بیماری کا حال پوچھا تو وہ مسکرا کر بولے

‎یہ کمزوری نہیں، عبدیت کی نشانی ہے۔ میں اللہ سے عافیت مانگتا ہوں تاکہ دین کی خدمت جاری رکھ سکوں۔

‎میں نے کبھی ان کے لبوں سے شکایت نہیں سنی۔ ان کی آنکھوں میں صبر و رضا کی چمک تھی۔ وہ گویا خاموش زبان میں یہ دعا کر رہے تھے

‎"اے اللہ! مجھے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جلد ملا دے۔"

‎میں جب بھی ان سے ملتا، محسوس کرتا کہ میں دنیا کے کسی انسان سے نہیں بلکہ آخرت کے ایک مسافر سے ہمکلام ہوں۔

‎ان کی مجلس سادگی اور روحانیت سے بھری ہوتی۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی اور دل کی صفائی شامل تھی۔

‎وہ جزا یا تعریف کے خواہاں نہیں تھے، صرف اللہ کی رضا کے متلاشی۔

‎اللہ نے انہیں ایک جامع علمی شخصیت عطا فرمائی تھی۔ وہ چار زبانوں کے ماہر تھے — عربی، فارسی، اردو اور انگریزی۔

‎لیکن اتنی وسعتِ علم کے باوجود ان کے دل میں تکبر کا ذرہ نہ تھا۔

‎وہ ہمیشہ سچائی کے ساتھ علم دیتے، اخلاص کے ساتھ تحقیق کرتے، اور اللہ سے جڑے دل کے ساتھ لکھتے تھے۔

‎میں نے کبھی انہیں کسی کی غیبت کرتے یا کسی انسان کی عزت پر بات کرتے نہیں سنا۔

‎اگر کوئی کمی یا غلطی نظر آتی تو بڑی نرمی اور محبت سے نصیحت کرتے، اور ہمیشہ دوسروں کے لیے بھلائی اور خیر کی دعا کرتے۔

‎ان کے نزدیک تدریس کوئی محض ملازمت یا روزی کا ذریعہ نہ تھی، بلکہ ایک عبادت، ذمہ داری اور امانت تھی۔

‎وہ خود کو اپنے شاگردوں کے ذہنوں اور دلوں کا امین سمجھتے تھے۔

‎ان کی دیانت کا یہ عالم تھا کہ کئی مرتبہ جب انہیں تدریس یا علمی کام کے بدلے کوئی انعام یا اعزازیہ دیا گیا، تو انہوں نے واپس کر دیا —

‎یہ کہہ کر کہ ”میں نے ابھی تک علم کا حق ویسے ادا نہیں کیا جیسے کرنا چاہیے تھا“۔

‎یہی ان کا ورع (تقویٰ) تھا، یہی ان کا حیاء اور خدا ترسی۔

‎وہ تمام اہلِ علم سے محبت کرتے، اپنے ساتھیوں کا احترام کرتے

‎اور شاگردوں کے لیے شفقت و مہربانی کا سراپا نمونہ تھے۔

‎ان کے نزدیک سب شاگرد ایک جیسے تھے — وہ سب میں اپنے 

‎بیٹے اور بھائی دیکھتے تھے۔

‎وہ "ندوة العلماء" کو محض ایک درسگاہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے روحانی تربیت کا مرکز مانتے تھے، ایک ایسی جگہ جو عقل و روح دونوں کو سیراب کرتی ہے۔

‎ان کی سیرت، ندوہ کی اس اصل روح کی زندہ تعبیر تھی سادگی، علم اور اخلاق۔

‎ان نمایاں خصوصیات میں سے ایک ان کی جامعہ الہدایہ سے گہری وابستگی بھی تھی۔

‎اگرچہ وہ وہاں کے باقاعدہ مدرس یا استاد نہیں تھے، لیکن یہ ادارہ ہمیشہ ان کے دل میں بسا رہا۔

‎وہ اکثر اپنی دعاؤں میں جامعہ کا ذکر کرتے، اس کے حالات پوچھتے، اور جہاں تک ممکن ہوتا اس کی مدد کرتے۔

‎ان کے نزدیک جامعہ الہدایہ دراصل ندوة العلماء کی علمی اور فکری روح کا تسلسل تھی ۔

‎ایک ایسا مرکز جو علم و دین کی خدمت کو آگے بڑھا رہا تھا۔

‎انہیں یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی کہ جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ علم و دین کی خدمت میں سرگرم ہیں۔

‎جب کبھی جامعہ یا اس کے طلبہ کا تذکرہ ہوتا، تو وہ محبت سے دعا دیتے

‎اللہ ان کی محنتوں میں برکت دے، اور ان کی کوششوں کو ثمر آور بنائے۔

‎ان کی یہ محبت، سچی، خالص اور قلبی تھی

‎اور جب تک وہ زندہ رہے، ان کی دعائیں اس ادارے اور اس کے لوگوں کے ساتھ رہیں۔

‎اللہ نے ان کی زندگی کے آخری ایام میں آزمائشیں بھی دیں، لیکن انہوں نے ہر تکلیف کو صبر و رضا سے قبول کیا۔

‎وہ بیماری میں بھی مطمئن، دل کے سکون اور چہرے کے نور سے معمور رہتے۔

‎ان کے نزدیک مصیبتیں اللہ کے قرب کا ذریعہ تھیں، نہ کہ شکوے کا سبب۔

: ‎قرآن کہتا ہے

‎"اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ"

‎بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

‎ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ یقیناً ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جنہیں یہ وعدہ نصیب ہوا۔

‎ان کا اثر و فیض آج بھی زندہ ہے، اور ان کے نقوش دلوں میں تازہ ہیں۔

‎میرے فرزند استاذ حبیب الرحیم ندوی اور میرے داماد استاذ حذیفہ ندوی —

‎دونوں ہی خالص طلبۂ علم میں سے ہیں —

‎انہوں نے شیخ نذیر احمد ندوی رحمہ اللہ سے بہت کچھ سیکھا، فیض پایا، ان کے اخلاق، ان کے انکسار، اور ان کے علمی طریقے سے گہرا اثر قبول کیا۔

‎علماء دراصل کبھی رخصت نہیں ہوتے

‎کیونکہ ان کے آثار باقی رہتے ہیں

‎ان کے اسباق ان کے شاگردوں کی زبانوں پر دہراتے رہتے ہیں

‎اور ان کے لیے دعائیں ان کے چاہنے والوں کے لبوں سے رات کے سناٹے میں آسمان کی طرف بلند ہوتی رہتی ہیں۔

: ‎رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا

‎ "جب ابنِ آدم وفات پاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے

‎ایک صدقۂ جاریہ

‎یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے

‎یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

‎اور بے شک شیخ نذیر احمد ندویؒ نے یہ تینوں نعمتیں اپنے دامن میں سمیٹ لی تھیں

‎ان کا نفع بخش علم

‎ان کے نیک شاگرد

‎اور ان کا باعزت، باایمان اور صالح خاندان۔

‎اللہ ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔

‎وہ صبر کے پیکر، زہد کی مثال، اور نبی ﷺ کے اس ارشاد کے مظہر تھے

‎سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع رساں ہو۔

‎انہوں نے اپنی زبان سے تعلیم دی، اپنے اخلاق سے تربیت کی، اور اپنی سیرت سے دعوت کا فریضہ ادا کیا

‎یوں وہ ان خوش نصیبوں میں شامل ہو گئے جن کا نام علم اور وفا کے ساتھ ہمیشہ خیر سے لیا جاتا ہے۔

!‎اے اللہ! اے بے پایاں رحمت والے

!‎اے علماء و اولیاء کے ربّ

‎ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ اپنے بندے، شیخ نذیر احمد ندویؒ کو بخش دے

‎اور انہیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ وہ عزت و کرامت عطا فرما جو تُو نے اپنے صالحین سے وعدہ کی ہے۔

‎اے اللہ! ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے

‎اس میں نور بھر دے 

‎اسے سکون، رحمت اور رضا سے منور فرما۔

‎اے اللہ! انہیں امت کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرما

‎اور ان کے شاگردوں، اہلِ خانہ اور محبوں کی جانب سے احسن الجزاء مرحمت فرما۔

‎اے اللہ! ان کا علم صدقۂ جاریہ بنا دے

‎اور ان کے شاگردوں اور اہلِ خاندان کو ان کے علم و عمل کے سچے امین بنا۔

‎اے اللہ! ان کے اہل و محبین کے دلوں پر صبرِ جمیل نازل فرما

‎اور انہیں اپنے فیصلے پر راضی رہنے والا بنا دے۔

‎اور ہمیں سب کو ان عملی علماء کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنا دے

‎تاکہ ہم بھی ان کے نقشِ حیات پر چلتے ہوئے دارِ ابدی تک پہنچ جائیں۔

‎اور ہمارا آخری کلمہ یہ ہے کہ

‎تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں،

‎اور درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ، ان کے اہلِ بیت اور تمام صحابہؓ پر۔ 

Sunday, November 9, 2025

رحمۃ اللعالمین کے منتخب اقتباسات

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 
رحمۃ اللعالمین (از : قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری) کے منتخب اقتباسا ت

(  قسط اول:( ص: 1 تا 80 


تمہید


قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف "رحمۃ للعالمین" کا مطالعہ میں نے اپنے مربی و محسن استاد مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتہم کی نگرانی اور رہنمائی میں کیا۔ یہ مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کی معرفت، محبت اور حقیقتِ رسالت کی تجدید کے جذبے کے ساتھ تھا۔ کتاب کے ابواب، دلائل اور تحقیقی اسلوب نے میری فکر و بصیرت کو ایک نئی سمت عطا کی، اور مجھے یہ احساس دلایا کہ سیرت کا مطالعہ صرف ایک علمی مشق نہیں بلکہ روحانی تربیت اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔
اس مطالعے کے دوران میں نے اہم مباحث، دلائل، واقعات اور گہرے نکات کو نہایت احتیاط سے نوٹ کیا۔ اب میں ان منتخب نقاط اور اقتباسات کو ایک سلسلہ وار شکل میں اپنے بلاگ اور قارئین کے درمیان پیش کر رہا ہوں، تاکہ یہ روشنی صرف میرے دل تک محدود نہ رہے، بلکہ دوسرے دلوں اور ذہنوں تک بھی پہنچے۔ میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ سیرتِ پاک ﷺ کی عظمت، جامعیت اور آفاقیت کے شعور کو مزید مستحکم کرنے کا سبب بنے۔


رحمۃ للعالمینؐ کے مطالعے سے حاصل شدہ نکات


1. قرآن و حدیث اور دیگر مذاہب کی کتابوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نبی برحق ہیں۔

2. آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب مصنفؒ نے نہایت مدلل انداز میں خود معترضین کی مذہبی کتب کی روشنی میں دیا ہے۔

3. اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کے اوصافِ حسنہ حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ میں کامل صورت میں جمع تھے۔

4. مصنفؒ نے تقابلی انداز میں دیگر انبیاء کے مقابلے میں نبی اکرم ﷺ کی جامع اور برتر فضیلت کو ثابت کیا ہے۔

5. آپ ﷺ کے نسبِ پاک، آباء و اجداد اور خاندانِ بنی ہاشم کی سیرت و تاریخ نہایت جامع، واضح اور معتبر سند کے ساتھ مذکور ہے۔

6. غزواتِ نبوی کے واقعات، حکمتیں، نتائج اور ان میں شہید ہونے والے صحابہؓ کے حالات تحقیقی رنگ میں پیش کیے گئے ہیں۔

7. کتاب میں شامل جداول (چارٹس) فہمِ مضامین میں نہایت سہولت اور ترتیب پیدا کرتے ہیں، جیسے غزوات کے ساتھ شہداء کے اسماء، امہات المؤمنینؓ کے انساب وغیرہ۔

8. پہلی اور دوسری جلد میں اسلوب سہل، روان اور عام فہم ہے، جبکہ تیسری جلد میں اسلوب علمی و ادبی طور پر اعلیٰ درجے کا ہے۔

9. مصنف نے کئی مقامات پر اپنے ذاتی علمی و فکری نقطۂ نظر کو بھی وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

10. تاریخ کے مباحث میں مصنفؒ کی گہری تحقیق اور مضبوط علمی گرفت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

11. تیسری جلد کے آخر میں خاص فقہی و اعتقادی مباحث نہایت دقیق اور محققانہ انداز میں سامنے آتے ہیں۔

12. پوری کتاب میں ہر مقام پر رسولِ اکرم ﷺ سے مصنفؒ کی بے پناہ محبت اور والہانہ عقیدت جھلکتی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ میری یہ کتاب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حامد و محاسن کا اظہار اسی قدر کر سکتی ہے ،جس قدر ذرۂ بے مقدار آفتاب عالم تاب کے انوار کو آشکارا کر سکتا ہے۔ (مصنف علیہ الرحمہ)
عبد مناف کا نام مغیرہ تھا،  پیدائش کے بعد ان کو مناف کے مندر میں لے گئے تھے اس لئے عبد مناف مشہور ہو گئے تھے ۔
ہاشم کا نام عمر تھا، یہ شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر غریبوں کو کھلایا کرتے تھے ہاشم نام پڑ گیا۔
عبدالمطلب کا نام شیبہ تھا، پیدائش کے وقت چند بال سفید تھے اس لیے ماں نے ان کا نام شیبہ ( بوڑھا )رکھا اپنے چچا المطلب کی شکر گزاری میں یہ تمام عمر عبدالمطلب کہلاۓ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم الشان معجزہ دکھایا کہ دلوں کو بدل دیا اور روح کو پاکیزہ بنا دیا انسان اور لاٹھی، انسان اور سانپ، انسان اور پتھر میں جتنا تفاوت ہے وہی تفاوت اس معجزہ اور دیگر معجزات میں بھی ہے۔
حجر اسود کے  نصب کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ جب مختلف اغراض اور مختلف مقاصد کے لوگ ایک جگہ فراہم ہو جائیں تو ان کو کیوں کر مرکز واحد پر لا سکتے ہیں، نیز ثابت فرما دیا کہ خدشہ جنگ کے ٹال دینے اور امن کو مستحکم رکھنے کے لیے جنگی طاقت کی نہیں بلکہ اعلی دماغی قابلیت کی ضرورت ہے۔


ذات مبارک صلی اللہ علیہ وسلم میں نوح کی سی گرمی، ابراہیم جیسی نرم دلی، یوسف کی سی درگزر، داؤد کی سی فتوحات، یعقوب کا سا صبر ،سلیمان کی سی سطوت، عیسی کی سی خاکساری، یحیی کا سا زہد ،اسماعیل کی سی سبک روحی کامل ظہور بخش تھی۔
خورشید رسالت میں اگرچہ تمام مقدس رنگ موجود تھے لیکن ” رحمتہ اللعالمینی“ کا وہ نور تھا جس نے تمام رنگتوں کو اپنے اندر لے کر دنیا کو ایک برگزیدہ و چیدہ روشنی سے منور کر دیا ہے، ذرہ بے مقدار کی کیا تاب کہ خورشید عالم افروز کی جلوہ نمائی میں آئینہ داری کرے  ۔
: حسان بن ثابت کا شعر ہے
وشق له من اسمه ليجله 
 فذو العرش محمود وهذا محمد
،واضح ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد سے خاص مناسبت ہے حضور کا نام محمد و احمد ہے، اور حضور کے مقام شفاعت کا نام محمود ہے، امت محمدیہ کا نام حمادون ہے۔
ہمارے نبیﷺ موسمِ بہار میں دو شنبہ ( پیر) کے دن 9 ربیع الاول 1 عام الفیل مطابق 122 اپریل 571 ہے مُطابق یکم جیٹھ  628 بکرمی کو مکّہ معظمہ میں بعد از صبح صادق و قبل از طلوع نير عالم تاب پیدا ہوئے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں دوشنبہ کا دن خصوصیت رکھتا ہے، ولادت ،نبوت، ہجرت، وفات سب اسی دن ہوئی ہیں ۔
،سب کا اتفاق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دوشنبہ کو ہوا چونکہ دو شنبہ کا دن نو ربیع الاول کے سوا کسی اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے نو ربیع الاول ہی صحیح ہے، تاریخ دول العرب والاسلام  میں  محمد طلعت بک نے بھی نو ربیع الاول ہی کو صحیح قرار دیا ہے۔
بحیرہ راہب کی ملاقات کی داستان ناقابل اعتبار ہے ۔
پادری صاحبان نے اتنی بات پر کہ بحیرہ نصرانی ملا تھا یہ شاخ و برگ اور بھی  لگا دیے کہ 40 سال کی عمر کے بعد جو تعلیم آپ نے ظاہر کی تھی، وہ اس راہب کی تعلیم کا اثر تھا ،میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے تثلیث اور کفارہ کا رد مسیح کے سلیب پر جان دینے کا بطلان، اس راہب کی تعلیمی سے کیا تھا، تو اب عیسائی اپنے اس بزرگ کی تعلیم کو قبول کیوں نہیں کرتے۔
غار حرا کا طول چار گز ،عرض پونے دو گز تھا ۔
امام طبری نے نزول قران کی تاریخ 17 یا 18 رمضان روایت کی ہے چونکہ 18 رمضان ایک نبوت کو یوم جمعہ تھا ( بمطابق ١٧اگست ٦١٠ء) اس لیے نزول قران مجید شب جمعہ 18 رمضان کو تھا۔
انسانی آزادی وہ ہے جو قانون اور مذہب کی پابندی کے تحت میں ہر شخص کو حاصل ہے اور حیوانی آزادی وہ ہیں جو قانون اور مذہب کے اثر کو باطل ٹھہرا کر حاصل ہوئی ہو۔
یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔۔۔
نوٹ: یہاں ان اقتباسات کو ارسال کیا جا رہا ہے جو عام طور پر دوسری کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں ۔



Wednesday, November 5, 2025

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

🌹داستانِ محبت🌹

عتیق اللہ کلیم ✍️

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

اب محبت عرش کے لیے عبادت بن چکی تھی۔

روشی اُس کی دنیا نہیں، اُس کی زندگی بن چکی تھی۔

وہ اب اس کے خیالات میں سانس لیتی تھی، اُس کی یادوں میں بستی تھی۔

عرش کے لیے محبت اب محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک ایمان تھی —

اور اسی یقین کے ساتھ اُس نے چاہا کہ یہ رشتہ اور مضبوط ہو۔


چنانچہ اُس نے اپنی بہن انم سے روشی کی بات چھیڑی

تاکہ یہ تعلق دوستی سے آگے، اپنائیت کی حدوں میں داخل ہو جائے۔

انم اور روشی کی بات چیت شروع ہوئی

دونوں کے درمیان ہنسی مذاق، بھروسہ اور باتوں کی وہ قربت پیدا ہو گئی

جس میں عرش خود کو مطمئن محسوس کرنے لگا۔


ان دنوں روشی اکثر عرش کو اپنی تصویریں بھیجتی تھی۔

لیکن ایک عجیب سا اصول تھا 

وہ ہر تصویر صرف ایک لمحے کے لیے کھلتی، اور پھر جیسے ہوا میں تحلیل ہو جاتی۔

عرش صرف اُسی پل میں اُسے دیکھ پاتا

اور وہ لمحہ اُس کے لیے کسی عبادت کی طرح مقدس بن جاتا۔


: پھر ایک دن عرش نے اپنی بہن انم سے نرمی سے کہا

اگر تمھارے پاس روشی کی کوئی تصویر ہو تو دکھا دو

انم نے بے فکری سے وہی تصویر بھیج دی جو روشی نے خود اُس پر اعتماد کر کے دی تھی۔

عرش نے محبت کے جوش میں وہ تصویر اپنی تصویر کے ساتھ جوڑ کرایک خوبصورت یادگار بنائی اور  محبت سے روشی کو بھیج دی۔

مگر روشی کے لیے وہ تصویر ایک یادگار نہیں

بلکہ اعتماد کا ٹوٹ جانا تھی۔

اُس نے تصویر پہچان لی 

یہ تو وہی تصویر ہے۔۔۔

اور ایک لمحے میں اُس کا لہجہ بدل گیا۔

غصہ، حیرت، دکھ — سب کچھ اُس کے الفاظ میں سمٹ آیا۔

اُس نے انم کو بلاک کر دیا

اور لکھا: میں اُس لڑکی سے بات نہیں کر سکتی، جو میرے اعتماد کے ساتھ دھوکہ کرے۔


انم حیران تھی۔

وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ عرش تو اپنا ہے

کوئی غیر نہیں۔

مگر اب دونوں طرف خاموشی چھا گئی 

ایک طرف روشی کا گلہ، دوسری طرف انم کی خفگی 

اور بیچ میں عرش، جو خود سے زیادہ دوسروں کے احساسات کا قیدی تھا۔


اگلی صبح جیسے آسمان نے بھی رخ بدل لیا۔

ہوا میں وہی مانوس خوشبو نہیں تھی۔

عرش جب یونیورسٹی پہنچا تو دل بوجھل تھا

نہ باتوں میں مزا، نہ کتابوں میں دھیان۔


کینٹین کی طرف جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر لائبریری کے سامنے والے پارک میں گئی —

اور وہاں، روشی ایک انجان لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی۔

(روشی کے مطابق وہ لڑکا اُسی کا بتایا ہوا” دوست“ تھا

مگر عرش اُسے پہچان نہ پایا۔

بس وہ منظر دیکھنا تھا کہ

عرش کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔

دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

اُس کے اندر سناٹا پھیل گیا

اور دماغ ایک ہی سوچ میں گم ہو گیا — یہ کیا دیکھ لیا میں نے


اُسی لمحے، غصہ اور بے بسی کے ملے جلے جذبے نے

اُسے ویڈیو نکالنے پر مجبور کر دیا۔

ساحل نے روکا — مت کر، یہ مناسب نہیں۔

مگر عرش کے اندر کا عاشق اب دلیل نہیں سنتا تھا۔

وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ بعد میں جب سوال کرے

تو سچ اُس کے پاس موجود ہو۔


روشی اُسے دیکھ کر گھبرا گئی 

اُٹھی، پیچھے مڑ کر دیکھا، اور بھاگتی چلی گئی۔

اور عرش؟

وہ تھم گیا — جیسے وقت رک گیا ہو۔


: مدرسے پہنچ کر اُس نے لرزتے ہاتھوں سے میسج لکھا

اگر تم نے وضاحت نہیں دی، تو میں یہ ویڈیو تمھارے گھر بھیج دوں گا۔


یہ وہ الفاظ تھے جو اُس نے محبت میں نہیں

غصے اور زخم میں کہے تھے۔

اور شاید وہ خود بھی جانتا تھا کہ

وہ ایسا کبھی نہیں کر پائے گا۔


مگر محبت کا دل نازک ہوتا ہے —

روشی کے دل پر یہ دھمکی تیر کی طرح لگی۔

: اُس نے جواب دیا

تم مجھے دھمکی دیتے ہو؟ 

اور پھر اُس نے ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا۔


اب عرش کی دنیا اجڑ گئی تھی۔

روشی نے کبھی الفاظ میں نہیں کہا تھا کہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے

لیکن اُس کے رویے، اُس کی باتیں —

وہ سب کچھ کہہ جاتی تھیں۔


عرش نے بار بار معافی مانگی

نئے نمبر سے کوشش کی، نئی آئڈز بنائی 

مگر ہر بار روشی پہچان لیتی —

“یہ وہی دیوانہ ہے”


یہ ایک مہینے کی کہانی تھی —

مگر اُس ایک مہینے میں زندگی کے سارے موسم گزر گئے۔

اب جب بھی وہ یونیورسٹی جاتا

“دل کہتا — ”شاید آج وہ مل جائے

اور جب ملتی

تو نگاہیں ملنے سے پہلے ہی جھک جاتیں۔


عرش آج بھی اُس کے لیے ویسا ہی ہے

جیسے پہلے دن تھا۔

اُس نے خود سے وعدہ کر لیا ہے —

“روشی کے نکاح تک میں کسی لڑکی سے بات نہیں کروں گا”


وہ جانتا ہے کہ شاید وہ کبھی واپس نہ آئے

مگر اُسے اب محبت سے گلہ نہیں۔

وہ اب صرف دعا کرتا ہے —

“اللہ، وہ خوش رہے، چاہے میرے بغیر ہی کیوں نہ ہو۔”


کبھی کبھی وہ رات کے سکوت میں اپنی تحریر دیکھتا ہے

پھر سوچتا ہے —

کیا یہ تحریر روشی کی نگاہوں سے گزری ہوگی؟

اگر گزری ہو —

تو کیا اُس کے دل میں کوئی لرزش پیدا ہوئی ہوگی؟


اور یہیں داستان ختم نہیں ہوتی

یہ تو وہ خاموش سوال ہے

جو عرش کے دل سے آج بھی گونجتا ہے —

“کیا وہ لوٹ آئے گی…؟” 


✨حاصلِ سبق ✨

محبت جب اعتماد کھو دے تو رشتے کی روح مر جاتی ہے۔

اعتماد، وفا، اور ادب — یہ تین ستون ہیں جن پر محبت قائم رہتی ہے۔

عرش اور روشی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کے لمحاتی فیصلے ہمیشہ نقصان دیتے ہیں۔

محبت اگر صبر، شعور، اور پاکیزگی کے ساتھ نبھائی جائے تو عبادت بن جاتی ہے۔

ورنہ یہی محبت، ایک آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔

اور سچا عاشق وہ نہیں جو وصل پائے —

بلکہ وہ ہے جو بچھڑ کر بھی دعا دینا نہ چھوڑے۔


پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...