ارض فلسطین کا اصل حقدار کون؟
حامدا ومصلیا اما بعد أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ﴿ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾
!معزز قارئین کرام
:تمہید
ڈاکٹر محسن صالح لکھتے ہیں : " فلسطین کی سرزمین کے لئے ہر مسلمان کے دل میں ایک عظیم مقام ہے، وہ قرآن کریم کے واضح نصوص کی بنیاد پر مقدس اور مبارک سر زمین ہے، اسی میں مسجد اقصی ہے جو مسلمانوں کا قبلہ اولیٰ اور روئے زمین پر بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے ، اسلام میں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے تیسری مسجد ہے، وہ اسراء و معراج کی سر زمین ہے، اسی کی جانب محمد صلى اللہ عليه وسلم کو معراج میں پہلے مرحلے میں سفر کرایا گیا، وہ انبیاء کی سر زمین ہے ، اسی سر زمین پر قرآن میں مذکور بہت سے انبیاء کی ولادت ہوئی، وہیں انہوں نے زندگی بسر کی، اور وہیں مدفون ہیں، وہ محشر (حساب و کتاب ) اور منشر ( دوبارہ اٹھائے جانے ) کی سرزمین ہے ، احتساب کی نیت سے وہاں رہنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے، وہی سر زمین اس گروہ کا مرکز ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےپیشن گوئی فرمائی ہے کہ وہ غالب رہے گا اور قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا۔
(بحوالہ 'بیت المقدس اور مسئلہ فلسطین' ص:22)از:فتحی عبدالقادر)
:جاۓوقوع
فلسطین ملک شام کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ہے فلسطین براعظم ایشیا کے مغرب میں بحر ابیض متوسط کے ساحل پر واقع ہے فلسطین کے شمال میں لبنان شمال مشرق میں شام مشرق میں اردن جنوب میں مغرب میں مصر اور مغرب میں بحریہ متوسط ہے-
بحوالہ: ب”یت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں ص:16از:عنایت اللہ وانی ندوی
:فلسطین کی وجہ تسمیہ
تاریخ میں فلسطین کا قدیم ترین نام ارض کنعان ہے، جو بلا د عرب سے 2500 قبل مسیح کے زمانہ میں عرب سے آنے والے کنعانیوں کی نسبت سے رکھا گیا
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ فلسطین پر چڑھائی کرنے کے بعد یہود اس سرزمین کو اپنی زبان میں ارضِ اسرائیل کےنام سے یاد کرتے تھے۔
بلستین: عربوں نے اس نام کو عربی میں استعمال کر کے فلسطین (Palestine) کر دیا، یہ اس قوم کے نام سے ماخوذ ہے جو فلسطین کے شمالی اورجنوبی علاقوں میں آباد تھی۔
بعض مورخین کا خیال یہ ہے کہ " بلستین " کا نام اس قوم کی جانب منسوب ہے جو بحر ابیض متوسط میں موجود جزیرے "کریت" سے قحط سالی کی وجہ سے آئی تھی ، جن کومصریوں نے سمندر سے آنے کی وجہ سے سمندری قوم کا نام دیا۔
:فلسطین کی وجہ تسمیہ
فلسطین کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں : یہ لفظ دو کلمات کا مجموعہ ہے : "فلس" جس کے معنی چھلکے کے ہیں اور ”طین " جس کے معنی مٹی کے ہیں ؛ اس میں اس جانب اشارہ ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کا پیشہ زراعت تھا۔بعض کا کہنا یہ ہے کہ لفظ فلسطین فلشت " یا " فلست" سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں : کسان یا زمین کو پھاڑنے والا۔
یہ فلستیا " قبیلے کی جانب نسبت ہے جس نے قحط سالی کی وجہ سے جزیرۃ العرب سے ہجرت کی اور شام کے جنوبی حصے " فلسطین" میں سکونت اختیار کی ۔ اگر چہ بعض کا کہنا یہ ہے کہ یہ نام فلستیا قبیلے ہی کی وجہ سے پڑا جس نے جزیرۃ العرب سے "کریت " جزیرے کی جانب ہجرت کی اور فلسطین کے جنوب میں قیام کیا۔
انگریزی ڈکشنریوں میں لفظ فلست Philist سخت مزاج شخص کے لئے استعمال ہوا ہے۔
( بحوالہ: ب”یت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں“ ص:17از:عنایت اللہ وانی ندوی)
فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ
مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء اور صلحاء کی حقیقی اور مستحق وارث ہیں کیونکہ وہی انبیاء کے اصل راستے پر چلنے والے ہیں اور یہود راہ حق سے ہٹ گۓ انہوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کی اور اللہ کی ناراضگی کے مستحق ہوئے اس لیے پوری سرزمین فلسطین کے حقیقی شرعی اور قانونی حقدار مسلمان ہی ہیں
( بحوالہ: بیت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں“ ص:52از:عنایت اللہ وانی ندوی)
:یہود کے نزدیک
یہود فلسطین کو اپنی تاریخ کا مرکز و محور اپنے انبیاء کا جائے مدفن اور یہودی مذہب کا مرکز سمجھتے ہیں ان کے عقائد کے مطابق وہی ان کے مقدمات کا بھی مرکز ہے خاص طور پر القدس اورالخلیل شہر-
( بحوالہ: بیت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں “ ص:53از:عنایت اللہ وانی ندوی)
:عیسائوں کے نزدیک
عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح معود اس وقت تک نہیں آئیں گے جب کہ سارے یہودی فلسطین میں واپس نہیں آجا تے اور ہیئکل سلیمانی کی تعمیر نہیں کر لیتے اور جب تک ان کا ”مسیح منتظر“ دنیا میں فساد تباہی پھیلانے کے لیے نہیں نکلتا پہلے یہ سب کچھ ہونا ہے پھر عیسی علیہ السلام آئیں گے جو یہودیوں کے مسیح کو قتل کر دیں گے اور دو تہائی یہودیوں کو مار دیں گے ایک تہائی یہودی باقی رہ جائیں گے جن کو عیسائی بنایا جائے گا اور یہی وہ عقیدہ ہے جس کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ عیسائی بھی کندھے سے کندھا ملا کر اپنے دور عظمت کی طرف لوٹنے کا راستہ ہموار کرنے اور مسلمانوں کے خلاف صف میں مصروف ہیں۔
( "صلیبی صهیونی سازشیں اور مسجد اقصی کی بازیابی“
ص:31 از:تبریزبخاری ندوی)
:یہودیوں کا بے بنیاد دعویٰ
فلسطین کے بارے میں یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ وہ ان کا تاریخی حق ہے 'وہاں کے اصل عرب باشندوں کے حق کے سامنے بے بنیاد قرار پاتا ہے 'کیونکہ فلسطینی باشندوں نے اس سرزمین کو بنی اسراءیل کی "مملکت داود “کے قیام سے 1500سال پہلے سے آباد رکھا اور وہ مملکت داود کے درمیان بھی وہاں آباد رہے'اور پھر اس وقت بھی جب کہ یہود کا اس سرزمین سے رابطہ منقطع ہوا 'اور آج تک فلسطینی مسلمان وہاں آباد رہیں
عملی طور پر یہودیوں کا تعلق فلسطین کے ساتھ تقریباً 1800 سال (135م سے بیسویں صدی تک) بالکل منقطع رہا 'ان کا وہاں سیاسی'تہذیبی اور کسی طرح کا بھی کوئ اثر ونفوذ نہیں رہا'ان کا وہاں واپسی کو حرام قرار دیا پھر یہودیوں کا یہ دعوی کہ ان کا فلسطین سے ہمیشہ سے گہرا ربط و تعلق رہا ہے یہ دعوی بھی اصل حقیقت کے سامنے بے بنیاد قرار پاتا ہے اس لیے کہ بنی اسرائیل کی اکثریت نے موسی علیہ السلام کے ساتھ ارض مقدسہ کی جانب جانے سے ان کا انکار کر دیا تھا اسی طرح جب ایرانی بادشاہ 'قورس ثانی' نے انہیں دوبارہ فلسطین میں بسانے کی پیشکش کی تھی تو ان کی اکثریت نے بابل (عراق)سے واپس جانے سے انکار کر دیا تھا آج تک پوری تاریخ میں فلسطین میں یہودیوں کی تعداد ان کے عروج کے وقت بھی دنیا کے تمام یہودیوں کی آبادی میں سے 40 فیصد سے زیادہ نہیں رہی ہے-
( بحوالہ: بیت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں “ ص:55از:عنایت اللہ وانی ندوی)
فلسطین پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فلسطین سے یہودیوں کا تعلق تقریبا 1800 سال منقطع رہا (135م سے بیسویں صدی تک) ان کا اس میں کوئی سیاسی تہذیبی یا تمدنی وجود نہیں تھا بلکہ ان کی مذہبی تعلیمات نے ان کے لیے اس کی طرف لوٹنے کو ممنوع قرار دیا تھا
بلا شبہ معاصر یہودیوں میں سے 80 فیصد یہودی مشہورمؤلف ”آرتھر کوسٹلر“ جیسے یہودی محققین کے مطابق تاریخی اعتبار سے فلسطین سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ہیں اسی طرح وہ نسلی اور قومی اعتبار سے بھی بنی اسرائیل سے تعلق نہیں رکھتے ہیں آج کے یہود کی کا اکثریت سلسلہ حزر ”اشکناز“ سے جا ملتا ہے جو کہ اصلا تاتاری قدیم ترکی قبائل ہے وہ قوقاز کے شمال میں مقیم تھے اور آٹھویں صدی عیسوی میں انہوں نے یہودیت اختیار کی لہذا اگر ان یہود کو واپس انے کا کوئی حق ہے تو وہ فلسطین کی جانب نہیں بلکہ جنوبی روس کی جانب واپس جا سکتے ہیں
جبکہ عرض فلسطین میں مسلمانوں کا زمانہ طویل ترین اور مسلسل تاریخی زمانہ رہا ہے 15 ہجری 636 م میں فلسطین کو فتح کرنے کے بعد اج تک اس سے اسلامی تاریخ وابستہ ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ 1948 عیسوی سے صہیونی قبضے کے بعد سے وہاں کے باشندوں کو اس کے ایک حصے سے بزور نکالا گیا-
:خاتمہ
فلسطین کے اس پیچیدہ مسئلہ کے جائزہ کا اختتام کرتے ہوئے کچھ ٹھوس حل تلاش کرنا ہے۔ اس مسئلہ کے حل میں پہلا قدم اس دھویں کی چادر کو ہٹانا ہو گا جو صہیونی اور اسرائیلی پر ویگنڈہ بازوں نے مسئلہ فلسطین پرڈھانک دی ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ کی گئی عظیم نا انصافی کو جو مسلہ کی جڑ بنیاد ہے، دنیا کے سامنے آشکارا کرنا ہے مشرق وسطی میں مستقل اس کی امید کرنے سے قبل دو شرائط کی تکمیل ضروری ہوگی : ایک تبدیلی صہیونی نصب العین میں لانی ہوگی جو اسرائیل کو ایک بالکلیہ یہودی مملکت سے بدل کر ایک کثرت الوجود (PLURALISTIC) جمهوری اور غیر مذہبی ملکت اسرائیل بنائے جہاں نسل یا مذہب، شہریت کا معیار نہ ہوگا۔ دوسری تبدیلی اس برتری اور لفوق کے رجحان کو ترک کروانا ہو گا جسے اسرائیل نے جو یورپ کا لگایا ہوا پودا ہے مشرقی عربوں کے تعلق سے اختیار کیا ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین کے صدر نشین یا سر عرفات کے ہمیشہ یاد رکھےجانے والے الفاظ میں فلسطین ہی میں جنگ بھڑ کا بھی ہے پھر بھی فلسطین میں ہی امن کا سورج طلوع ہوگا
جہاں عزم محکم ہو وہاں راہیں خود بخود وا ہو جاتی ہیں ۔ آیئے ہم سب مسئلہ فلسطین کے پر امن حل کے لئے دعا کریں انشاء اللہ
(بحوالہ "فلسطین" ص:159 از: صفدر حسین)
ہے خاک فلسطین یہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا
مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں تاریخ کا یا شہر رطب کا

No comments:
Post a Comment