سوشل میڈیا کے منفی اثرات
عتیق اللہ کلیم ✍️
:تمہید
دورِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کو بے حد سہولتیں فراہم کی ہیں۔ انہی سہولتوں میں سے ایک سوشل میڈیا بھی ہے، جو دنیا کے ہر فرد کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اسلام ہمیں جدید ذرائع کے مثبت استعمال کی ترغیب دیتا ہے، لیکن ہر ایجاد کے ساتھ خیر و شر کا پہلو جُڑا ہوتا ہے۔ یہی معاملہ سوشل میڈیا کا بھی ہے، جو ایک طرف معلومات کی تیز تر ترسیل کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف اس کے غیر محتاط استعمال سے کئی معاشرتی اور اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں
سوشل میڈیا کیا ہے؟
سوشل میڈیا انٹرنیٹ پر مبنی ایسے پلیٹ فارمز کا مجموعہ ہے جہاں لوگ معلومات کا تبادلہ، خیالات کی تشہیر، اور آپس میں گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس میں فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب، اور دیگر ایپلیکیشنز شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز فوری معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر اس کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
: سوشل میڈیا کے منفی اثرات
سوشل میڈیا جہاں معلوماتی اور تفریحی فوائد فراہم کرتا ہے، وہیں اس کے منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں
:١۔غور و فکر کی صلاحیت میں کمی
سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال نے انسانی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ مختصر اور سطحی معلومات پر انحصار کرنے کی وجہ سے لوگ تفکر و تدبر سے محروم ہوتے جا رہے ہیں
:٢.خاندانی تعلقات میں کمزوری
ایک وقت تھا جب خاندان کے افراد آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرتے تھے، مگر آج ہر شخص موبائل میں مصروف ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود لوگ حقیقی دنیا کے بجائے سوشل میڈیا کی دنیا میں مگن ہیں، جس سے خاندانی رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔
:٣.عزتِ نفس کی پامالی اور نفسیاتی مسائل
سوشل میڈیا پر دھوکہ دہی، جعلی پروفائلز اور غلط معلومات کی بھرمار ہے۔ بعض افراد دوسروں کو نیچا دکھانے، ان کا مذاق اُڑانے یا نفرت پھیلانے کے لیے ان پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی نوجوان احساسِ کمتری، ڈپریشن اور یہاں تک کہ خودکشی جیسے خطرناک نتائج کا شکار ہو رہے ہیں۔
:٤.صحت پر منفی اثرات
سوشل میڈیا کا بے جا استعمال نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، اور آنکھوں کی کمزوری جیسی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ خاص طور پر طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارنے سے تعلیم پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔
:٥.وقت کا ضیاع
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان وقت کا ضیاع ہے۔ لوگ گھنٹوں تک بلاوجہ اسکرولنگ کرتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، اور غیر ضروری مباحث میں مشغول رہتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی، پیشہ ورانہ، اور ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
:٦.بچوں اور نوجوانوں پر غلط اثرات
سوشل میڈیا پر غیر معیاری اور غیر اخلاقی مواد بآسانی دستیاب ہے، جس کا اثر بچوں اور نوجوانوں کی ذہن سازی پر پڑتا ہے۔ وہ نامناسب مواد دیکھ کر غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں اور بچپن میں ہی بالغ موضوعات سے آشنا ہو جاتے ہیں، جو ان کی اخلاقیات کے لیے خطرناک ہے۔
:٧.جعلی خبروں اور پروپیگنڈا کا فروغ
سوشل میڈیا پر غلط معلومات، جعلی خبریں، اور جھوٹے پروپیگنڈا کو بہت تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔ سیاسی، سماجی، اور مذہبی حوالے سے من گھڑت معلومات پھیلائی جاتی ہیں، جو فساد اور انتشار کا سبب بنتی ہیں۔
: پرائیویسی کا مسئلہ
سوشل میڈیا پر صارفین کی ذاتی معلومات اکثر محفوظ نہیں رہتیں۔ ہیکرز، سوشل میڈیا کمپنیاں، اور بعض غیر اخلاقی افراد ان معلومات کو غلط طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ کئی لوگ بلیک میلنگ اور سائبر کرائمز کا شکار ہو چکے ہیں۔
:٩. جرائم میں اضافہ
سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن دھوکہ دہی، ہیکنگ، بلیک میلنگ، اور مالی فراڈ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض لوگ دوسروں کی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر ان سے پیسے بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔
:١٠. جعلی لائف اسٹائل اور حسد
سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کا خوبصورت پہلو دکھاتے ہیں اور اپنی پریشانیاں چھپا لیتے ہیں، جس سے دوسرے لوگ احساسِ کمتری اور حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی مصنوعی چمک دمک کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے اور اپنی حقیقی خوشیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
:۔ڈراموں اور فلموں کے ذریعے پھیلائے جانے والے غلط پیغامات
خاص طور پر ہماری بہنیں ڈرامے دیکھتی ہیں جس میں دکھائے گئے غلط کردار سے متاثر ہو جاتی ہیں اور یہی گھریلو جھگڑے کا سبب بنتا ہے،اور گھر کے گھر اُجڑ جاتے ہیں۔
نہایت ہی افسوس کی بات ہے کہ ہماری مسلم بہنیں کیریکٹر کے غیر شرعی لباس کو پسند کرتی ہیں اور اُسے پہننا قابلِ فخر سمجھتی ہیں، اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم جہنم کے مستحق ہو گئے۔
فلموں کے ذریعے لوگوں میں پھوٹ ڈالی جاتی ہے جیسا کہ اب چھاوا نامی فلم میں دکھایا جارہا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے چھترپتی شیواجی مہاراج پر سنگدلانہ ظلم کیا تھا،
اور جذباتی طور پر ایسے اشتعال انگیز انداز میں یہ سب دکھایا جارہا ہے کہ دیکھنے والے ہندو مسلمانوں کے خلاف نفرت کرنے لگیں اور دنگے و فسادات بڑھنے لگیں۔
:خاتمہ
حاصل کلام یہ ہے سوشل میڈیا برائی اور اچھائی کا مشترک مجموعہ ہے لہذا اس کا استعمال احتیاط سے کرنا ہماری ذمہ داری ہے یہ فیصلہ صارفین پر منحصر ہے آیا اس کے مثبت استعمال سے ہم دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنوارلیں یا دونوں جہانوں کی ناکامی اپنے سر لے لیں۔
No comments:
Post a Comment