Friday, June 27, 2025

درس من القران الكريم

درس من القران الكريم  


عتیق اللہ کلیم ✍️
“إن هذا القران يهدي للتي هي اقوم”
إن في القران الكريم دروس وعبر وبصائر وهدى  ونور و رحمة للمتقين وفي ذلك نجاح للإنسانية ويهدي الله تعالى الناس إلى هذه البصائر من خلال ما انزل على رسوله المصطفى محمد صلى الله عليه وسلم من الوحي والكتاب العزيز ونور وحياه للناس "هذا بصائر من ربكم وهدى ورحمة لقوم يؤمنون 
كل انسان محتاج إلى النور ليري الطريق الصحيح ويهتدي إلى الصراط المستقيم فالقران هو نور والصراط المستقيم إلى الله فقد رسمه الله للعباد ليصلوا الى الباري عز وجل فهو منظم
حياه لكل عباد الله وهو مسار الفطره ففي هذا الكتاب العزيز صراط قيم ليس فيه ميل. وهو على خط الفطرة السليمة لأن الله تعالى يقول
 الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا قيما لينذر باسا شديدا من لدنه ويبشر المؤمنين
 
فإن القران هو صراط الله المستقيم الذي يخرج الناس من الظلمات إلى النور و برهان في حياة الناس و إن الناس ان حكموا فطرتهم و عقلهم فسوف يسلكون طريق الحق والنور المبين طريق القرآن فان هذا الكتاب لا ريب فيه وهو بيان للناس وإن يتجهوا إلى الظلمة المنصرف عن الصراط المستقيم في الهاوية
 
وإن القران الكريم غزاء العقل والفؤاد والفطرة والإرادة لأن الانسان يحتاج في حركته إلى الله تعالى إلى مصادر كالعقل والفؤاد والفطرة والعزم وإن جميع هذه المصادر يحتاج إلى غذاء والقران هو الغزاء الإلهي وهو الهدي والنور والبصيرة واليقين والعزم الذي يحتاجه الإنسان
. في حركته إلى الله تعالى

 فقد روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال
إنَّ هذا القرآن مأدبةُ اللهِ فتعلموا من مأدبته ما استطعتم، إن هذا القرآن حبلُ الله، وهو النور المبين، والشفاء النافع، عصمةٌ لمن تمسَّك به، ونجاةٌ لمن اتبعه… فاتلوه فإن الله يأجركم على تلاوته بكل حرف عشر حسنات

Saturday, June 14, 2025

سفر نامہ: لکھنؤ سے چھپرہ

سفر نامہ 

٠٤/٠٦/٢٠٢٥

:عید کی آمد اور وطن کی تڑپ

عتیق اللہ کلیم ✍️
عید الاضحٰی کی آمد آمد تھی، مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی چھٹی ہو چکی تھی۔ ہر چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ میں بھی اپنے وطن، گاؤں، والدین، بھائیوں اور بہن سے ملنے کے لیے بیتاب تھا۔
 میں نے  کار بک کیا اور اپنے بھائی اطیع اللہ اور دوستوں کے ساتھ گومتی نگر ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا، ابھی ٹرین روانہ بھی نہ ہوئی تھی کہ انسانوں کا سیلاب آن پہنچا۔ ہر طرف دھکے، آوازیں، پسینہ اور بے بسی کا عالم تھا۔

:ریل گاڑی کی بوگی: گرمی،گھٹن اور بے قراری

مسافروں کا سیلاب 
 
بوگی کے اندر ایک قیامت خیز منظر تھا — جسم در جسم چپکے ہوئے، دھوپ سے جھلستی کھڑکیاں، ٹھنڈی ہوا کا کہیں گزر نہیں،اور مسافروں کے چہروں پر ایک ہی سوال
"کیا منزل ابھی بہت دور ہے؟"

:چنے بیچتا باپ — قربانی کا استعارہ
قربانی کا ایک منظر یہ بھی 


اسی بھیڑ کے درمیان ایک منظر نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باپ، سر پر چنے کی بالٹی لیے، کمر کے گرد کپڑا باندھے، پسینے میں شرابور، زور زور سے آواز لگا رہا تھا
"چنے لے لو، گرم چنے"
"میں نے بےساختہ پوچھا: "اتنی بھیڑ میں چنے بیچ رہے ہو؟
:اس نے مسکرا کر کہا
"اے مہاراج، ہمنی کے ت ایکرا سے زادہ بھیڑ میں چنا بیچ نی"
جناب! یہ کچھ بھی نہیں، ہم تو اس سے بھی زیادہ بھیڑ میں چنے بیچتے ہیں۔

میں نے اُس کے چہرے پر غور کیا۔ وہ تھکا ہوا، دھوپ سے جھلسا ہوا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں عزم کی ایک چمک باقی تھی۔ اُس کی آواز میں محنت کی تھکن بھی تھی اور رزق کی طلب بھی۔ وہ بھیڑ میں دھکیلا بھی جا رہا تھا، مگر گرتے پڑتے، ہر مسافر کو مخاطب کر کے اپنی روزی کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔

:باپ اور اولاد


 باپ وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کی راحت و آرام کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ وہ پسینے میں شرابور، تھکن سے چُور، اپنی خواہشات کو قربان کر کے صرف اس لیے محنت کرتا ہے کہ اُس کی اولاد آرام و راحت کی زندگی بسر کر سکے، اُس کی بیوی خوش رہے، اور گھر میں چین و سکون قائم رہے۔

وہ کبھی شکوہ نہیں کرتا، بس اولاد کے روشن مستقبل کی امید میں جیتا ہے۔ اُس کی دعائیں، اُس کی راتوں کی جاگ، اُس کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے چھپی قربانی... یہ سب وہی جانتا ہے جو "باپ" کہلانے کا شرف رکھتا ہے۔

لیکن افسوس! وہی اولاد جب جوان ہوتی ہے، جب اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا وقت آتا ہے، تو اکثر اُن قدموں کے نیچے وہی باپ آ جاتا ہے۔ وہ احسانات جو کبھی گنے نہیں جا سکتے، نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ جس شخص نے تمام عمر سہارا دیا، اُسی کے لیے سہارا بننے سے کترایا جاتا ہے۔ باپ اُس عمر میں، جب اُسے محبت، توجہ اور سکون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے۔

اے نوجوانو! ذرا ایک لمحے کو رک کر سوچو... جن پیسوں پر تم عیش کرتے ہو، وہ کتنی محنت، کتنی قربانی اور کتنی دعاؤں کا حاصل ہیں؟ اُن پیسوں کے پیچھے ایک باپ کی جوانی، اُس کا وقت، اُس کی نیندیں اور اُس کی خوشیاں دفن ہیں۔

اگر آج تم نے اُس کا ہاتھ تھام لیا، تو کل تمہارے بچے تمہارا ہاتھ تھامیں گے۔ ورنہ زمانہ وہی سلوک تمہارے ساتھ کرے گا جو تم نے اپنے باپ کے ساتھ کیا۔

:سبق آموز منظر


لیکن اُسی بھیڑ میں ایک اور منظر مجھے چونکا گیا 
میرے پہلو میں ایک غیر مسلم نوجوان بیٹھا تھا۔ کپڑے پسینے سے تر، مگر چہرے پر سکون کی ایک عجیب سی جھلک۔ اُس کے کانوں میں ہینڈفری تھے، اور وہ پوری توجہ سے اپنے فون پر آن لائن تعلیم حاصل کر رہا تھا، جیسے وہ اس شور، گرمی اور بھیڑ سے مکمل طور پر بے نیاز ہو۔

:میرے دل میں سوال پیدا ہوا
یہ نوجوان اتنا مطمئن کیوں ہے؟

:جواب سادہ تھا مگر نہایت گہرا
اس کی منزل محض یہ اسٹیشن نہ تھی، وہ وقتی آرام کا متلاشی نہ تھا، بلکہ وہ ایک روشن مستقبل کی تلاش میں سفر کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل کامیابی اُن لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جب دوسرے تھک ہار کر رک جاتے ہیں۔

!اے نوجوانِ مسلم
یہ منظر تیرے لیے ایک خاموش پیغام ہے۔ کیا تُو قرآن کا وارث ہو کر بھی صرف عارضی منزلوں پر نظر رکھے گا؟
کیا تیرے لیے صرف ظاہری کامیابی کافی ہے، جب کہ تیرا دین تجھ سے دنیا و آخرت دونوں کی بلندی کا طالب ہے؟

اگر غیر مسلم نوجوان تنگی، گرمی، اور بے آرامی میں بھی اپنی اصل منزل کی طرف رواں ہے، تو تُو جو "اقْرَأْ" کا اُمتی ہے، تیرے پاس کیا عذر ہے؟
تجھے تو سب سے پہلے حکم ہی پڑھنے کا ملا تھا۔ پھر کیوں تُو موبائل پر وقت ضائع کرتا ہے، اور محنت کو بھول بیٹھا ہے؟

یاد رکھ
جو نوجوان آج پسینے میں پڑھتا ہے، وہ کل کامیابی کے سائے میں جیتا ہے۔
اور جو آج صرف آرام ڈھونڈتا ہے، کل صرف افسوس پالے گا۔

پس، اے مسلم نوجوان
منزل کو عارضی نہ بنا
اپنا مقصد بلند رکھ
اور ہر حال میں کوشش جاری رکھ
کیونکہ اصل کامیابی اُنہی کو ملتی ہے جو گرمی، بھیڑ، تھکن اور وقت کی سختیوں کے باوجود ہمت نہیں ہارتے۔

:اختتامیہ

گھنٹوں بعد جب ٹرین بہار کی سرزمین میں داخل ہوئی، تو میرے دل کی زمین بھی کچھ بدل چکی تھی۔ میں صرف گھر نہیں جا رہا تھا، میں اپنے اندر ایک نیا شعور لے کر جا رہا تھا،

مدرسے کی تعلیم نے علم دیا، مگر یہ سفر زندگی کا سبق دے گیا۔ ٹرین کی کھڑکی سے میں نے جو مناظر دیکھے، وہ صرف فاصلہ طے کرنے کا ذریعہ نہ تھے، بلکہ روح کی وسعت کا سبب بھی بنے۔
چنے بیچنے والا وہ باپ میرے لیے عیدالاضحٰی کی سب سے بڑی 
قربانی کی علامت بن گیا۔













پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...