Sunday, December 7, 2025

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر — تشریح

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر — تشریح 


عتیق اللہ کلیم ✍️

یہ اکبر الہ آبادی کی ایک  شاہکار اور انتہائی دلچسپ نظم ہے۔ اس میں انہوں نے مسلمانوں کی کام چوری، محنت سے جی چرانے اور محض جذباتی ہونے کی عادت پر گہرا طنز کیا ہے۔

اس نظم میں "مجنوں" مسلمانوں کی نمائندگی کر رہا ہے اور "لیلیٰ" ترقی یا مقصد کی علامت ہے۔

: آئیے اس کی شعر بہ شعر تشریح کرتے ہیں

: مسلمانوں کی حالت پر مایوسی

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ

مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

: تشریح

شاعر (اکبر) اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اللہ ہی حافظ ہے (یعنی ان کا کچھ نہیں ہو سکتا)۔ مجھے تو ان کی خوشحالی اور ترقی سے "یاس" یعنی مایوسی ہو چکی ہے۔ مجھے امید نہیں کہ یہ سدھریں گے۔

یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں

نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

: تشریح

یہ لوگ (مسلمان) "شاہدِ مقصود" (یعنی اپنی منزل یا کامیابی) کے عاشق تو ہیں، یعنی یہ چاہتے تو ہیں کہ انہیں ترقی مل جائے، لیکن یہ "سعی" (کوشش/محنت) کے پاس بھی نہیں جائیں گے۔ یہ بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

: فرضی لطیفے کا آغاز

سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ

کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

: تشریح

اکبر کہتے ہیں کہ اپنی بات سمجھانے کے لیے میں تمہیں ایک "فرضی لطیفہ" (من گھڑت کہانی) سناتا ہوں، جسے میں نے کاغذ پر لکھا ہے (زیبِ قرطاس کیا ہے)۔ یہ کہانی دراصل مسلمانوں کی ذہنیت کی عکاسی ہے۔

: لیلیٰ کی ماں کی شرط (تعلیم)

کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے

کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس

تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے

بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

: تشریح

لطیفہ یہ ہے کہ ایک دن لیلیٰ کی ماں نے مجنوں (عاشق) سے کہا کہ بیٹا! اگر تم صرف "ایم اے" (M.A) کا امتحان پاس کر لو، یعنی تعلیم حاصل کر لو اور کچھ بن جاؤ، تو میں بغیر کسی رکاوٹ یا دقت کے فوراً تمہاری شادی لیلیٰ سے کر دوں گی اور خوشی خوشی تمہاری ساس بن جاؤں گی۔

(یہاں ایم اے سے مراد جدید تعلیم اور محنت ہے)

: مجنوں (مسلمان نوجوان) کا جواب

کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی

کجا عاشق کجا کالج کی بکواس

: تشریح

مجنوں نے یہ سن کر جواب دیا کہ آپ نے بھی کیا خوب بات کہی! بھلا ایک سچے عاشق کا کالج کی بکواس (پڑھائی لکھائی) سے کیا تعلق؟ ہمارا کام عشق کرنا ہے، کتابیں پڑھنا نہیں۔

کجا یہ فطرتی جوش طبیعت

کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس

: تشریح

مجنوں دلیل دیتا ہے کہ کہاں میرے اندر کا یہ قدرتی جوش اور جذبہِ عشق، اور کہاں وہ کالج کی نصابی کتابیں جن میں زبردستی چیزیں دماغ میں ٹھونسی جاتی ہیں۔ مجنوں کے خیال میں پڑھائی اس کی "فطرت" کے خلاف ہے۔

: اپنی "نام نہاد" عظمت کا اظہار

بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے

ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس

: تشریح

مجنوں لیلیٰ کی ماں (بڑی بی) سے کہتا ہے کہ آپ کا دماغ تو نہیں چل گیا؟ کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ "ہرن" (جو کہ ایک نفیس اور خوبصورت جانور ہے) پر گھاس لادی جائے؟

مطلب یہ کہ مجنوں خود کو ہرن کی طرح نفیس اور نازک سمجھتا ہے اور پڑھائی/محنت کو گھاس لادنے جیسا گھٹیا کام سمجھتا ہے

یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی

مجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس

: تشریح

مجنوں غصے میں کہتا ہے کہ آپ نے میری خوب قدر دانی کی! کیا آپ نے مجھے کوئی "ہرچرن داس" (اس دور میں عام محنت کش یا منشیوں کا نام) سمجھ رکھا ہے؟ میں تو عالی نسب مسلمان ہوں، محنت مزدوری یا پڑھائی کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ محض کام چوری کے لیے ایک بہانہ ہے۔

: دماغی محنت سے انکار اور استعفیٰ

دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود

نہیں منظور مغز سر کا آماس

: تشریح

یہ شعر اس نظم کی جان ہے۔ مجنوں کہتا ہے کہ میں عشق میں اپنا دل جلانے، آہیں بھرنے اور خون کرنے کو تو تیار ہوں (کیونکہ جذباتی کام آسان ہیں)، لیکن مجھے "مغز سر کا آماس" (یعنی دماغ کا سوج جانا / دماغی محنت کرنا) منظور نہیں ہے۔ میں جذباتی قربانی دے سکتا ہوں لیکن ذہنی مشقت نہیں کر سکتا۔

یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ

تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

: تشریح

اگر لیلیٰ سے ملنے کی شرط یہی ہے کہ مجھے پڑھنا پڑے گا اور محنت کرنی پڑے گی، تو پھر میرا "استعفیٰ" قبول کریں۔ میں مایوسی اور حسرت کے ساتھ اس عشق سے دستبردار ہوتا ہوں۔

: نظم کا مرکزی خیال (Summary)

اکبر الہ آبادی نے اس لطیفے کے پردے میں مسلمانوں کی اس وقت کی حالتِ زار بیان کی ہے۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ

قوم ترقی (لیلیٰ) تو چاہتی ہے لیکن اس کے لیے جدید تعلیم اور محنت (ایم اے) کرنے کو تیار نہیں۔

وہ اپنی کاہلی کو "عظمت" اور "عشق" کا نام دیتے ہیں۔

وہ جذباتی نعرے لگانے اور جان دینے کو تیار ہیں (دل خون کرنا) لیکن ٹھنڈے دل و دماغ سے علم حاصل کرنے اور محنت کرنے (مغز کا آماس) سے گھبراتے ہیں۔

: یہ بھی پڑھیں 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_7.html 

No comments:

Post a Comment

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...