اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟
عتیق اللہ کلیم ✍️
مغرب کی درس گاہوں، تحقیقاتی اداروں اور علمی مرکزوں سے مسلسل ایک آواز ہم سے مخاطب ہے مگر افسوس کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا، کسی کا خون جوش نہیں مارتا اور کسی کی غیرت نہیں جاگتی۔
: یہ آواز کہتی ہے
اے مسلمانو! اے ہمارے غلامو! سنو تمہارے علم کے کنویں سوکھ گئے اور تمہارے اقتدار کا سورج ڈوب گیا، اب تمہیں حکمرانی اور سلطانی سے کیا واسطہ تمہارے بازو اب شل ہو گۓ اور تمہاری تلواریں زنک آلود، اب ہم تمہارے آقا ہیں اور تم سب ہمارے غلام ہو، دیکھو ہم نے سر سے پاؤں تک کیسا تمہیں اپنی غلامی کے سانچے میں ڈھالا ہے ،ہمارا لباس پہن کر اور ہماری زبان بول کر اور ہمارے طور طریقے اختیار کر کے تمہارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں ۔
ہم بے وقوف نہیں تھے ہم تمہارے دل و دماغ کو اپنا غلام بنا چکے تھے ،اب تم ہماری آنکھوں سے دیکھتے ہو ، ہمارے کانوں سے سنتے ہو اور ہمارے دماغ سے سوچتے ہو اب تمہارے وجود میں تمہارا اپنا کچھ نہیں اب تم ہر شعبۂ زندگی میں ہمارے محتاج ہو، تمہارے سکولوں اور کالجوں میں ہمارا مرتب کیا ہوا نصاب، تمہارے بازاروں میں ہمارا سامان ہے، تمہارے جیبوں میں ہمارا سکہ ہے، تمہارے سکے کو ہم پہلے مٹی کر چکے ہیں ،تم ہمارے حکم سے کیسے سرتابی کر سکتے ہو، تم اربوں اور کھربوں روپے کے ہمارے قرضدار ہو، تمہاری معیشت ہمارے قبضے میں ہے تمہاری منڈیاں ہمارے رحم و کرم پر ہیں اور تمہارے سارے تجارتی ادارے صبح اٹھتے ہی ہمارے سکے کو سلام کرتے ہیں ،تمہیں اپنے جوانوں پر بڑا ناز تھا ، تم کہتے تھے ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی “ تو سنو اس زرخیز زمین کو ہم نے ہیروئن بھرے سگریٹ، شہوت انگیز تصویروں ، ہیجان خیز ، زنا کے مناظر سے لبریز فلموں اور ہوس زر کا آب شور شامل کر کے بنجر کر دیا ہے۔
تمہیں اپنی افواج پر بھی بڑا گھمنڈ تھا؟
: تو دیکھو
تمہاری افواج اب ہمارے ہتھیاروں کی محتاج ہیں
ان کے ہاتھ میں ہماری بندوقیں
ان کے نقشے ہمارے کمروں میں بنتے ہیں
اور ان کے فیصلے ہمارے مشوروں پر ہوتے ہیں۔
تمہارے جنرلوں کی وردیاں تو چمکتی ہیں
مگر ان کے دل غلامی کے جال میں گرفتار ہیں۔
اور تمہیں اپنی آزادی پر فخر ہے؟
: تو سوچو
یہ کیسی آزادی ہے
جس میں تمہارا نصاب ہم بناتے ہیں؟
تمہارا میڈیا ہم چلاتے ہیں؟
تمہارے نغمے، تمہاری فلمیں، تمہاری سوچ
سب کچھ ہم طے کرتے ہیں۔
تمہاری مسجدیں تو آباد ہیں، مگر دل ویران
تمہارے آذانیں تو گونجتی ہیں، مگر عمل ساکت
تمہارے قرآن کے حافظ تو ہزاروں میں ہیں، مگر فکرِ قرآنی ناپید۔
تو اے امت! اب جاگ جا
یہ وقت ہے کہ تم اپنے گریبان میں جھانکو
اپنے وجود کو پہچانو
اپنے خالق سے تعلق جوڑو
اور غیر کے فکری شکنجوں کو توڑ دو۔
کیوں کہ اگر تم نے اب بھی خودی کو نہ پہچانا
تو کل تم اپنے نام سے بھی ناواقف ہو گے
اور تاریخ میں تمہارا ذکر فقط ایک مثالِ عبرت بن کر رہ جائے گا۔
: اختتامیہ
غلامی کے طوق جسم سے نکل سکتے ہیں
مگر جب روح غلام ہو جائے
تو وہی سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔
ان ہی درد و کرب کا اظہار شاعر مشرق علامہ اقبال نے یوں کیا تھا
ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/02/blog-post.html
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post.html
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

No comments:
Post a Comment