البيان والتبيين للجاحظ
:إسم المصنف
:ولادته
:التعليم والتعلم
:اسم الكتاب:البيان والتبيين/البيان والتبين
المعروف عامة أن اسم الكتاب ’البيان والتبيين‘ ولكن آثار بعض الكتاب المتأخرين شكوكا حول اسم الكتاب وقالوا أن تسمية الكتاب ’البيان والتبين
المعروف عامة أن اسم الكتاب ’البيان والتبيين‘ ولكن آثار بعض الكتاب المتأخرين شكوكا حول اسم الكتاب وقالوا أن تسمية الكتاب ’البيان والتبين
✍️عتیق اللہ کلیم
تقریبا 1876 عیسوی سے پہلے کی بات ہے دہلی کے باہر حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے مرقد کے قریب 64 کھمبے کے نام سے جو تاریخی عمارت ہے اس کے سرخ پھاٹک پر ایک بزرگ رہا کرتے تھے جن کا نام محمد اسماعیل صاحب تھا آپ کی دوسری بیوی سے مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔
اپ کی ولادت 1303 عیسوی میں ہوئی اختر الیاس اپ کا تاریخی نام ہے آپ کا بچپن اپنے نانہال کاندھلہ اور اپنے والد صاحب مرحوم کے پاس نظام الدین میں گزرا اس وقت کاندھلہ کا یہ خاندان دینداری کا گہوارہ تھا اپ کی نانی بھی امۃ الرحمن جو مولانا مظفر حسین رحمتہ اللہ علیہ کی صاحبزادی تھیں ان کی نماز کا یہ حال تھا کہ مولانا نے ایک مرتبہ فرمایا کہ امی بی کی نماز کا نمونہ میں نے مولانا گنگوہی کے نماز میں دیکھا۔
آپ نے بچپن میں قرآن شریف حفظ کر لیا اور مکتب کی ابتدائی تعلیم حاصل کی نظام الدین میں والد صاحب کی شفقت اور اپنی عبادات میں مشغولی کی کثرت کی وجہ سے تعلیم جیسی ہونی چاہیے تھی نہیں ہو رہی تھی مولانا محمد یحیی صاحب نے والد صاحب سے عرض کیا کہ بھائی کی تعلیم معقول نہیں ہو رہی ہے میں ان کو اپنے ساتھ گنگوہ لے جاتا ہوں والد صاحب نے اجازت دے دی آپ بھائی کے ہمراہ 1314 ہجری یا شروع 1315 ہجری میں گنگوہ آگئے اور بھائی سے پڑھنا شروع کر دیا۔
درمیان میں درد سر کا ایک خاص قسم کا دورہ پڑا جس کی وجہ سے سلسلہ تعلیم منقطع ہو گیا مہینوں بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا یہاں تک کہ 1326 ہجری میں شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ درس میں شرکت کے لیے دیوبند تشریف لے گئے اور ترمذی اور بخاری شریف کی سماعت کی۔
شوال 1338 ہجری میں سہارنپور کے مدرسہ مظاہر العلوم میں آپ بحیثیت معلم مقرر ہوئے مظاہر علوم کی تدریس کے زمانے میں اکثر کتابیں ایسی پڑھائی جو پہلے پڑھی نہیں تھی لیکن پڑھانے کے زمانے میں مطالعہ کی طرف بڑی توجہ تھی چنانچہ کنزالدقائق کے لیے بحر الرائق ،شامی اور ہدایہ دیکھتے تھے اور نور الانوار کے لیے حسامی کی شروح و توضیح تلبیہ تک مطالعہ میں رہتی تھیں۔
6 ذیقعدہ 1330 هجری مطابق 17 اکتوبر 1312 عیسوی کو بروز جمعہ بعد نماز عصر آپ کے حقیقی ماموں مولوی رؤف الحسن صاحب کی صاحبزادی سے آپ کا عقد ہوا مولانا محمد صاحب نے نکاح پڑھایا مجلس عقد میں مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری، شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری اور اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہم تینوں حضرات موجود تھے۔
مکاتب کے ذریعے جو معمولی انفرادی اصلاح و تعلیم ہو رہی تھی مولانا رفتہ رفتہ اس سے غیر مطمئن ہوتے گئے آپ نے محسوس کیا کہ ماحول کی بے دینی اور ملک کی عمومی جہالت اور ظلمت کا اثر مکاتب پر بھی ہے اول تو طلباء کی پوری اصلاح اور ان کی دینی تربیت نہیں ہونے پاتی دوسرے جو طلباء ان مکاتب سے دین کی تعلیم اور تھوڑی بہت اسلامی تربیت حاصل کر کے نکلتے بھی ہیں جہالت اور بے دینی کے اس بحر ظلمات میں جو ان کے چاروں طرف سینکڑوں میل تک پھیلا ہوا ہے ایسے غرق ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا پتہ نہیں چلتا آپ مختلف تجربوں سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خاص و افراد کی اصلاح اور دینی ترقی مرض کا علاج نہیں آپ کے اس تاثر کو ایک میواتی نے اپنے سیدھے سادھے الفاظ میں یوں بیان کیا کہ’جب تک عام آدمیوں میں دین نہ آئے کچھ نہیں ہو سکتا‘ مولانا ایک میواتی کو لکھتے ہیں: ” میرے دوست! آدمی کا جاہل اور غافل ہونا اور حق کی کوشش میں سست ہونا یہ ہر فتنے کی کنجی ہے اور تبع اور جذبات کے ان نامبارک اور گندہ صفتوں پر رہنے سے خدا جانے کتنے فتنے اٹھتے ہوئے تم دیکھو گے اور کچھ نہ کر سکو گے اٹھتے ہوئے فتنوں کو مٹنے اور آئندہ کی فتنوں سے روکنے کے لیے تمہارے ملک میں پیش آئی ہوئی اسکیم کی مشق کرنے کے لیے یو پی کے لیے نکلنے پر زور دینے کے سوا اور کوئی علاج نہیں“ چنانچہ 10 آدمیوں پر مشتمل پہلی جماعت کاندھلا کے سفر کے لیے تیار ہو گئی اور حافظ مقبول حسن صاحب کی امارت میں دہلی سے روانہ ہوئی کاندھلہ کے لوگوں نے بڑے اعزاز و اکرام سے امی بی کے گھر میں ان کو ٹھہرایا اور بڑی خاطر کی۔
12 جولائی پنج شنبہ کی رات 12 بجے گھبراہٹ کا ایک دورہ پڑا جس پر ڈاکٹر کو فون کیا گیا ڈاکٹر آئے اور گولی دی رات کو بار بار اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز آتی رہی مولوی یوسف صاحب سے فرمایا یوسف! آمل لے ہم تو چلے اور صبح کی اذان سے پہلے جان جاں آفریں کے سپرد کی اور عمر بھر کا تھکا مسافر جو شاید کبھی اطمینان کی نیند سویا ہو،منزل پر پہنچ کر میٹھی نیند سویا۔
اس کے بعد غسل ہوا علماء و فقہا نے اپنے ہاتھوں سے غسل دیا اور تمام سنن مستحبات کا التزام کیا گیا شیخ الحدیث صاحب نے نماز پڑھائی مسجد کی جنوبی مشرقی گوشے میں باپ اور بھائی کے پہلو میں سپرد لحد کر دیا گیا۔
مولانا سید سلیمان ندوی مولانا کے تذکرے معارف اعظم گڑھ بابت ماہ نومبر 1944 عیسوی میں تحریر فرماتے ہیں:” لکھنو کے قیام میں ایک دفعہ دوست کے یہاں عصر کے وقت چائے کی دعوت تھی خاص کوئی مزید نہ تھی ان کی کوٹھی ہی میں نماز باجماعت کا سامان ہوا خود کھڑے ہو کر اذان دی اذان کے بعد مجھے ارشاد ہوا کہ نماز پڑھاؤ میں نے معذرت کی تو نماز پڑھائی نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف رخ کر کے فرمایا بھائیو میں ایک ابتلاء میں گرفتار ہوں دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے اس سے نکالے جب میں یہ دعوت لے کر کھڑا ہوا ہوں لوگ مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں مجھے یہ خطرہ ہونے لگا ہے کہ مجھ میں کیا اعجاب نفس نہ پیدا ہو جائے، میں بھی اپنے کو بزرگ نہ سمجھنے لگوں میں ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس ابتلاء سے بسلامت نکالے آپ بھی میرے حق میں دعا فرمائیں۔
بحوالہ: (”مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی دینی دعوت“ مصنف: حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ)
قرآن عظیم ایک لافانی اور دائمی کتاب ہے قرآن کا مختصر تعارف خود قرآن کی زبانی یہ ہے 'ذلك الكتاب لا ريب فيه هدي للمتقين‘یہ وہ کتاب ہے جس کے بارے میں کسی شک کی گنجائش نہیں یہ ہدایت اور رہنمائ کرنے والی ہے ان لوگوں کیلیے جو اپنے رب کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں اور احتیاط کی زندگی اختیار کرتے ہیں-
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تلاوت' اس کے معانی کا علم حاصل کرنے 'اس پر عمل کرنے اسکی تبلیغ کے جو فضائل بیان فرماۓ وہ اپنی مثال آپ ہیں اور حدیث کے مجموعے اس قسم کی احادیث سے پُر ہیں- رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: 'خیرکم من تعلم القرآن علمه‘
اللہ تعالی نے قرآن کو 'موعظت' شفا 'ہدایت 'خیر'رحمت' اور اپنا فضل قرار دیا ارشاد ہے:يا أيها الناس قد جاءتكم موعظة من ربكم و شفاء لما في الصدور و هدي و رحمة للمؤمنين - قل بفضل الله ورحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون (سورہ یونس 58,57)
قرآن لوگوں کو ایسی عملی اور فکری راہ پر گامزن کرتا ہے جو ہر اعتبار سے سیدھی اور استوار ہے-
قران کی فضیلت و عظمت تقدس و کبریائ اور انقلاب و معجزے کی بنا پر غیروں کی زبانیں بھی اس کی تعریف میں بول اٹھیں اور ان کے قلم اس کی مدح و ثنا کے گیت گانے لگے-
مسٹر کونٹ کہتے ہیں: عقل حیران ہے کہ اس قسم کا کلام ایسے شخص کی زبان سے کیوں کر ادا ہوا جو کہ امی تھا' سارے مشرق نے اقرار کر لیا ہے کہ نوع انسانی لفظا ومعنا اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے(شہادۃ الاقوام ص:14)
ڈاکٹر گبن لکھتے ہیں: قران کی نسبت بحر انٹلانٹلک سے لے کر دریائے گنگا تک نے مان لیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کی روح ہے قانون اساسی ہے اور صرف اصول مذہب ہی کے لیے نہیں بلکہ احکام تعزیرات کے لیے اور ان قوانین کے لیے بھی ہے جن پر نظام کا مدار ہے جس سے نوع انسانی کی زندگی وابستہ ہے جن کو حیات انسانی کی ترتیب و تنسیخ سے گہرا تعلق ہے( قران مجید انسانی زندگی کا رہبر کا مل ص:165سے166)
قران کریم کے نام کل پانچ ہیں' القرآن' 'الفرقان‘ 'الکتاب‘ 'التنزیل‘ 'الذکر‘ خود قران کریم نے اپنے لیے یہ پانچوں الفاظ اسم علم کے طور پر ذکر فرمائے ہیں ان میں سب سے زیادہ مشہور نام قرآن ہے چنانچہ خود اللہ تعالی نے کم از کم 61 مقامات پر اپنے کلام کو اسی نام سے یاد کیا ہے-
قرآن دراصل قرأ یقرأ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں' جمع کرنا‘ پھر یہ لفظ پڑھنے کے معنی میں اس لیے استعمال ہونے لگا کہ اس میں حروف اور کلمات کو جمع کیا جاتا ہے قرأ یقرأ کا مصدر قرا کے علاوہ قرآن بھی آتا ہے اور عربی زبان میں کبھی کبھی مصدر کو اسم مفعول کے معنی میں استعمال کر لیا جاتا ہے کلام اللہ کو قرآن اسی معنی میں کہا جاتا ہے 'یعنی پڑھی ہوئی کتاب‘
قران کی بہت سی وجوہ تسمیہ بیان کی گئی ہے زیادہ راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ کا یہ نام کفار عرب کی تردید میں رکھا گیا ہے وہ کہا کرتے تھے:لاتسمعوالھذا القرآن وألغوا فیه(حم السجدہ 26) ان کفار کے علی الرغم قران نام رکھ کر اشارہ فرما دیا گیا کہ قرآن کریم کی دعوت کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جا سکتا یہ کتاب پڑھنے کے لیے نازل ہوئی ہے اور قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی-
قران کریم دراصل کلام الہی ہے اس لیے ازل سے لوح محفوظ میں موجود ہے قران کریم کا ارشاد ہے: 'بل هو قرآن مجيد في لوح محفوظ‘
پھر قران مجید کا نزول دو مرتبہ ہوا ہے ایک مرتبہ یہ پورا قرآن آسمان دنیا کے 'بیت عزت‘ میں نازل کر دیا گیا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت نازل کیا جاتا رہا یہاں تک کہ 23 سال میں اس کی تکمیل ہوئی-
نزول قران کی یہ دو صورتیں خود قرآن کریم کے انداز بیان سے بھی واضح ہے اس کے علاوہ نسائی حاکم بہیقی ابن ابی شیبہ طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے متعدد روایت نقل کی ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ قران کا پہلا نزول یکبارگی آسمان دنیا پر ہوا اور دوسرا نزول بتدریج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر-
نزول قران کے آغاز کے بارے میں مندرجہ زیل باتیں تو خود قران عظیم سے ثابت ہیں:
1- اس کی ابتدا رمضان کے مہینے میں ہوئی
2- جس رات نزول قران کا آغاز ہوا وہ شب قدر تھی-
3- یہ وہی تاریخ تھی جس میں بات کو غزوہ بدر پیش آیا-
صحیح قول یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قران کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں اتری ہیں وہ سورہ علق کی ابتدائی آیات ہیں صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اس کا واقعہ یہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی ابتدا تو سچے خوابوں سے ہوئی تھی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوت میں عبادت کرنے کا شوق پیدا ہوا اور اس دوران آپ غار حرا میں کئی کئی راتیں گزارتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے یہاں تک کہ ایک دن اسی غار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالی کی جانب سے فرشتہ آیا اور اس نے سب سے پہلی بات یہ کہی کہ اقرأ (یعنی پڑھو) حضور نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس کے بعد خود حضور نے واقعہ بیان کیا کہ میرے اس جواب پر فرشتے نے مجھے پکڑا اور مجھے اس زور سے بھینچا کہ مجھ پر مشقت کی انتہا ہو گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور دوبارہ کہا کہ اقرأ میں نے جواب دیا کہ میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں فرشتے نے مجھے پھر پکڑا اور دوبارہ اس زور سے بھیجا کہ مجھ پر مشقت کی انتہا ہو گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ کر کہا اقرأ میں نے جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس پر اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑا اور بھیج کر چھوڑ دیا پھر کہا:'إقرأ باسم ربك الذي خلق، خلق الإنسان من علق، إقرأ وربك الأكرم‘
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کو لے کر واپس گھر کی طرف چلے تو اپ کا مبارک دل دھڑک رہا تھا آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور فرمایا:زملونی زملونی( مجھے کمبل اڑھاؤ مجھے کمبل اڑھاؤ) گھر والوں نے آپ کو کمبل اڑھایا یہاں تک کہ اپ سے خوف جاتا رہا-
یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ تقریبا تمام کتب احادیث میں صحیح سندوں کے ساتھ منقول ہے اسی لیے جمہور علماء کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ قران کریم کی سب سے پہلی آیت جو آپ پر نازل ہوئی سورہ علق کی ابتدائی آیات ہیں ان کے بعد سورہ مدثر کی ایتیں نازل ہوئیں-
قران کریم چونکہ ایک ہی دفعہ پورا کا پورا نازل نہیں ہوا بلکہ اس کی مختلف آیات ضرورت اور حالات کی مناسبت سے نازل کی جاتی رہی ہے اس لیے آدھے رسالت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ شروع ہی سے اسے کتابی شکل میں لکھ کر محفوظ کر لیا جائے بلکہ اللہ تعالی نے اپ سے فرمایا "ومنزل عليك كتابا لا يغيب له الماء“(رواه مسلم) یعنی میں تم پر ایک ایسی کتاب نازل کرنے والا ہوں جسے پانی نہیں دھو سکے گا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تمام کتابوں کا حال یہ ہے کہ وہ دنیاوی آفات کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں لیکن قران کریم کو سینوں میں اس طرح محفوظ کر دیا جائے گا کہ اس کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے چنانچہ ابتدائی اسلام میں جب وحی نازل ہوتی تو اپ اس کے الفاظ کو اسی وقت دہرانے لگتے تھے تاکہ واہ اچھی طرح یاد ہو جائیں اس پر یہ ایت نازل ہوئی: لا تحرک بلسانک لتعجل به إن علينا جمعه وقرآنه
اس کے بعد ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیات قرانی نازل ہوتیں اور ادھر وہ آپ کو یاد ہو جاتیں اس طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک قران کریم کا سب سے زیادہ محفوظ گنجینہ تھا-
غرض ابتدائے اسلام میں قرآن کریم کی حفاظت کے لیے بنیادی طریقہ یہی اختیار کیا گیا کہ وہ زیادہ صحابہ کو یاد کرا دیا گیا اس دور کے حالات کے پیش نظر یہی طریقہ سب سے زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد تھا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی کتابت کا خاص اہتمام فرمایا چنانچہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث میں یہ بیان فرمایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت کرتا تھا جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو میں مونڈے کی کوئی ہڈی یا کسی اور چیز کا ٹکڑا لے کر خدمت میں حاضر ہوتا آپ لکھواتے رہتے اور میں لکھتا رہتا جب میں لکھ کر فارغ ہوتا تو اپ فرماتے پڑھو میں پڑھ کر سناتا اگر اس میں کوئی فروگزاشت ہوتی تو اپ اس کی اصلاح فرما دیتے اور پھر اسے لوگوں کے سامنے لے آتے
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قران کریم کے جتنے نسخے لکھے گئے تھے ان کی کیفیت یہ تھی کہ یا تو وہ متفرق اشیاء پر لکھے ہوئے تھے کوئی آیت چمرے پر کوئی درخت کے پتے پر کوئی ہڈی پر زیادہ مکمل نسخے نہیں تھے کسی صحابی کے پاس ایک صورت لکھی ہوئی تھی کسی کے پاس دس پانچ سورتیں اور بعض صحابہ کے پاس آیات کے ساتھ تفسیری جملے بھی لکھے ہوئے تھے-
اس بنا پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ضروری سمجھا کہ قران کریم کے ان منتشر حصوں کو یکجا کر کے محفوظ کر دیا جائے, حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جنگ یمامہ کے فوراً بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک روز مجھے پیغام بھیج کر بلوایا میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر نے ابھی آکرمجھ سے یہ بات کہی ہے کہ جنگ یمامہ میں قرآن کریم کے حفاظ کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی اور اگر مختلف مقامات پر قرآن کریم کے حافظ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ ناپید نہ ہو جائے لہذا میری رائے یہی ہے کہ آپ اپنے حکم سے قران کریم کو جمع کروانے کا کام شروع کر دیں میں نے حضرت عمر سے کہا کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ ہم کیسے کریں عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم یہ کام بہترہی بہتر ہے اس کے بعد عمر رضی اللہ تعالی عنہ مجھ سے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ مجھے بھی اس پر شرح صدر ہو گیا اور اب میری رائے بھی وہی ہے جو عمر کی ہے اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ تم نوجوان اور سمجھدار آدمی ہو ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتابت وحی کا کام بھی کرتے رہے ہو لہذا تم قران کریم کی آیتوں کو تلاش کر کے انہیں جمع کرو-
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم اگر یہ حضرات مجھے کوئی پہاڑ دھونے کا حکم دیتے تو مجھ پر اس کا اتنا بوجھ نہ ہوتا جتنا جمع قران کے کام کا ہوا میں نے ان سے کہا کہ اپ وہ کام کیسے کر رہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ خدائی قسم یہ کام بہتر ہی بہتر ہے اس کے بعد ہے ابوبکر مجھ سے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا سینہ اسی رائے کے لیے کھول دیا جو حضرت ابوبکر وہ عمر کی رائے تھی چنانچہ میں نے قرآنی آیات کو تلاش کرنا شروع کیا اور کھجور کی شاخوں پتھر کی تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن کریم کو جمع کیا-
جب کوئی شخص ان کے پاس قرآن کریم کی کوئی لکھی ہوئی آیت لے کر آتا تو وہ مندرجہ زیل چار طریقوں سے اس کی تصدیق کرتے تھے:
1- سب سے پہلے اپنی یادداشت سے اس کی توثیق کرتے تھے-
2- اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی اپنے حافظے سے اس کی توثیق فرماتےتھے-
3- کوئی لکھی ہوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک دو قابل اعتبار گواہوں نے اس بات کی گواہی نہ دے دی ہو کہ یہ ایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی-
4- اس کے بعد لکھی ہوئی آیتوں کا ان مجموعوں کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا تھا جو مختلف صحابہ نے تیار کر رکھے تھے-
بہرحال حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے اس زبردست احتیاط کے ساتھ آیت قرانی کو جمع کر کے ہر صورت کو الگ الگ کاغذ کے صحیفوں پر مرتب شکل میں تحریر فرمایا اصطلاح میں اس نسخے کو ام کہا جاتا ہے اور اس کی خصوصیات یہ تھیں:
1- اس نسخے میں آیات قرانی تو انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق مرتب تھی لیکن صورت مرتب نہ تھی ہر صورت الگ الگ لکھی ہوئی تھی
2- اس نسخے میں ساتوں حروف جمع تھے
3- یہ نسخہ خط حیری میں لکھا گیا تھا
4- اس میں صرف وہ آیت درج کی گئی تھی جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی
5-اس کو لکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتب نسخہ تمام امت کی اجماعی تصدیق کے ساتھ تیار ہو جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی طرف رجوع کیا جا سکے-
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے لکھوائے ہوئے یہ صحیفے آپ کی حیات میں آپ کے پاس رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس رہے ان کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کے مطابق انہیں ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس منتقل کر دیا گیا حضرت حفصہ کی وفات کے بعد مروان نے وہ صحیفے منگوائے اور انہیں اس خیال سے نظرآتش کر دیا کہ اب اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا تھا کہ رسم الخط اور ترتیب سور کے لحاظ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی تیار کرائے ہوئے مصاحف کی اتباع لازمی ہے اور کوئی ایسا نسخہ باقی نہ رہنا چاہیے جو ان کے رسم الخط اور ترتیب کے خلاف ہو-
روایات حدیث کے ذریعے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آرمینیا اور آذربائیجان کے محاذ پر جہاد میں مشغول تھے وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگوں میں قران کریم کی قرأتوں کے بارے میں اختلاف ہو رہا ہے چنانچہ مدینہ طیبہ واپس آتے ہی وہ سیدھے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور جا کر عرض کیا کہ امیر المومنین قبل اس کے کہ یہ امت اللہ کی کتاب کے بارے میں یہود و نصاری کی طرح اختلافات کا شکار ہو اپ اس کا علاج کیجئے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا بات کیا ہے حضرت حذیفہ نے جواب میں کہا کہ میں آرمینیا کے محاذ پر جہاد میں شامل تھا وہاں میں دیکھا کہ شام کے لوگ ابی بن کعب کی قرأت پڑھتے ہیں جو اہل عراق نے نہیں سنی اور اہل عراق عبداللہ بن مسعود کی قرأت پڑھتے ہیں جو اہل شام نے نہیں سنی ہوتی اس کے نتیجے میں ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے جلیل القدر صحابہ کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا اور فرمایا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بعض لوگ ایک دوسرے سے اس قسم کی باتیں کہتے ہیں کہ میری قرأت تمہاری قرأت سے بہتر ہے اور یہ بات کفر کی حد تک پہنچ سکتی ہے لہذا آپ لوگوں کیاس بارے میں کیا رائے ہے صحابہ نے خود حضرت عثمان سے پوچھا کہ آپ نے کیا سوچا ہے حضرت عثمان نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیں تاکہ کوئی اختلاف اور افتراق پیش نہ ائے صحابہ نے اس رائے کو پسند کر کے حضرت عثمان کی تائید فرمائی-
اس غرض کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ کے پاس پیغام بھیجا کہ اپ کے پاس حضرت ابوبکر کے زمانے کے جو صحیفے موجود ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے ہم ان کو مصاحف میں نقل کر کے اپ کو واپس کر دیں گے حضرت حفصہ نے وہ صحیفے حضرت عثمان کے پاس بھیج دیے حضرت عثمان نے چار صحابہ کی ایک جماعت بنائی جو حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام پر مشتمل تھی اس جماعت کو اس کام پر معمور کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکر کے صحیفوں سے نقل کر کے کئی ایسے مصاحف تیار کرے جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں اور ان صحابہ میں سے چار حضرت زید انصاری تھے اور باقی تینوں حضرات قریشی تھے اس لیے حضرت عثمان نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا اور زید کا قرآن کے کسی حصے میں اختلاف ہو یعنی اس میں اختلاف ہو کہ کون سا لفظ کس طرح لکھا جائے تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا اس لیے کہ قران کریم انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے ان حضرات نے کتابت قران کے سلسلے میں مندرجہ ذیل کام انجام دیے:
1- تمام سورتوں کو ترتیب کے ساتھ ایک ہی مصحف میں لکھا-
2- قران کریم کی آیات اس طرح لکھیں کہ ان کے رسم الخط میں تمام متواتر قرأتیں سما جائیں اس لیے ان پرنہ نقطے لگائے گئے اور نہ حرکات تاکہ اسے تمام متواتر قرأتوں کے مطابق پڑھا جا سکے-
3- اب تک قران کریم کا مکمل معیاری نسخہ جو پوری امت کی اجتماعی تصدیق سے مرتب کیا گیا ہو صرف ایک تھا ابو حاتم سجستانی رحمت اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ ان حضرات نے کل سات نسخے تیار کیے جن میں سے ایک مکہ مکرمہ ایک شام ایک یمن ایک بحرین ایک بصرہ اور ایک کوفہ بھیج دیا گیا اور ایک مدینہ طیبہ میں محفوظ رکھا گیا۔
4- مذکورہ بالا کام کرنے کے لیے ان حضرات نے بنیادی طور پر تو انہی صحیفوں کو سامنے رکھا جو حضرت ابوبکر کے زمانے میں لکھے گئے تھے اس کے ساتھ ہی مزید احتیاط کے لۓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زمانے کی جو متفرق تحریریں مختلف صحابہ کے پاس محفوظ تھی انہیں دوبارہ طلب کیا گیا اور ان کے ساتھ ازسرنو مقابلہ کر کے یہ نئے نسخے تیار کیے گۓ۔
5- قران کریم کی یہ متعدد معیاری نسخے تیار فرمانے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تمام انفرادی نسخے نزر آتش کر دیے جو مختلف صحابہ کے پاس موجود تھے تاکہ رسم الخط مسلمہ قرأتوں کے اجتماع اور سورۃ کی ترتیب کے اعتبار سے تمام مصاحف یکساں ہو جائیں اور ان میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے.
1- امت کی آسانی کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے یہ فرمائش کی کہ قران کریم کی تلاوت کو صرف ایک ہی طریقے میں منحصر نہ رکھا جائے بلکہ اسے مختلف طریقوں سے پڑھنے کی اجازت دی جائے چنانچہ قرآن کریم سات حروف پر نازل کر دیا گیا
2- سات حروف پر نازل کرنے کا راجح ترین مطلب یہ ہے کہ اس کی قرأت میں سات نوعیتوں کے اختلافات رکھے گئے جن کے تحت بہت سی قرأتوں وجود میں آگئیں-
3- شروع شروع میں ان سات وجوہ اختلاف میں سے اختلاف الفاظ و مرادفات کی قسم بہت عام تھی یعنی ایسا بکثرت تھا کہ ایک قرأت میں ایک لفظ ہوتا تھا اور دوسری قرأت میں اس کا ہم معنی کوئی دوسرا لفظ لیکن رفتہ رفتہ جب اہل عرب قرآنی زبان سے پوری طرح مانوس ہو گئے تو یہ قسم کم ہو گئی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا آخری دور کیا جسے اصطلاح میں عرضہ اخیره کہتے ہیں تو اس میں اس قسم کے اختلافات بہت کم کر دیے کر دیے گئے اور زیادہ تر صیغوں کی بناوٹ تذکیر و تانیث افراد و جمع معروف و مجہول اور لہجے کے اختلافات باقی رہے.
4- جتنے اختلافات عرضہ اخیرہ کے وقت باقی رہ گئے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سب کو اپنے مصاحف میں اس طرح جمع فرما دیا کہ ان کو نقطوں اور حرکات سے خالی رکھا لہذا قراتوں کے بیشتر اختلافات اس میں سما گئے اور جو قراتیں اس طرح ایک مصحف میں نہیں سما سکیں انہیں دوسرے مصاحف میں ظاہر کر دیا اسی بنا پر عثمانی مصا حف میں کہیں کہیں ایک ایک دو دو لفظ کا اختلاف پیدا ہوا.
5- حضرت عثمان نے اس طرح سات مصاحف لکھوائے اور ان میں سورتوں کو بھی مرتب فرما دیا جبکہ حضرت ابوبکر کے صحیفوں میں سورتیں غیر مرتب تھیں نیز قران کریم کے لیے ایک رسم الخط متعین کر دیا اور جو مصاحف اس ترتیب اور اس رسم الخط کے خلاف تھے انہیں نزرآتش کر دیا.
6- حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف کی ترتیب عثمانی مصاحف سے مختلف تھی اور وہ اس ترتیب کو باقی رکھنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اپنا مصحف نذر آتش کرنے کے لیے حضرت عثمان کے حوالے نہیں کیا.
چنانچہ جب اسلام عجمی ممالک میں اور زیادہ پھیلا تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس میں نقطوں اور حرکات کا اضافہ کیا جائے تاکہ تمام لوگ آسانی سے اس کی تلاوت کر سکے اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے جن کی مختصر تاریخ درجہ ذیل ہے:
اس میں روایات مختلف ہیں کہ قران کریم کے نسخے پر سب سے پہلے کس نے نقطے ڈالے؟
بعض روایتیں یہ کہتی ہیں کہ یہ کارنامہ سب سے پہلے ابوالاسود دؤلی نے انجام دیا. بعض کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلقین کے تحت کیا. اور بعض نے کہا ہے کہ کوفہ کے گورنر زیاد بن ابی سفیان نے ان سے یہ کام کروایا اور بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے عبدالملک بن مروان کی فرمائش پر یہ کام کیا ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ کارنامہ حجاج بن یوسف نے حسن بصری یحیی بن یعمر اور نصربن عاصم لیثی کے ذریعے انجام دیا.
بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف نقل کراتے وقت انہیں تیس مختلف صحیفوں میں لکھوایا تھا لہذا یہ تقسیم آپ ہی کے زمانے کی ہے لیکن متقدمین کی کتابوں میں اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی البتہ علامہ بدرالدین زرکشی نے لکھا ہے کہ قران کے 30 پارے مشہور چلے آتے ہیں اور مدارس کے قرآنی نسخوں میں ان کا رواج ہے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم عہد صحابہ کے بعد تعلیم کی سہولت کے لیے کی گئی ہے-
ایک اور علامت جس کا رواج بعد میں ہوا اور آج تک جاری ہے رکوع کی علامت ہے اور اس کی تعیین معنی کے لحاظ سے کی گئی ہے یعنی جہاں ایک سلسلہ کلام ختم ہوا وہاں رکوع کی علامت بنا دی گئ-
بعض حضرات کا خیال ہے کہ ان رکوعات کی تعین بھی حضرت عثمان ہی کے زمانے میں ہو چکی تھی لیکن روایات سے اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں ملتی البتہ اعتبار تقریبا یقینی ہے کہ اس علامت کا مقصد آیات کی ایسی متوسط مقدار کی تعین ہے جو ایک رکعت میں پڑھی جا سکے اور اس کو کو اسی لیے کہتے ہیں کہ نماز میں اس جگہ پہنچ کر رکوع کیا جائے چنانچہ فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
مشائخ نے قرآن کریم کو پانچ سو چالیس رکوعوں پر تقسیم کیا ہے اور مصاحف میں اس کی علامتیں بنا دی ہیں تاکہ تراویح میں قرآن کا ختم ستاءیسویں شب میں ہو سکے-
تلاوت اور تجوید کی سہولت کے لیے ایک اور کام یہ کیا گیا کہ مختلف قرآنی جملوں پر ایسے اشارات لکھ دیے گئے جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ اس جگہ وقف کرنا کیسا ہے ان اشارات کو رموز اوقاف کہتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ ایک غیر عربی داں انسان بھی جب تلاوت کرے تو صحیح مقام پر وقف کر سکے اور غلط جگہ سانس توڑنے سے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو ان میں اکثر رموز سب سے پہلے علامہ ابو عبداللہ محمد طیفور سجاوندی رحمت اللہ علیہ نے وضع فرمائے ہیں۔
صحافت انسان کے اندر پیدا ہونے والے احساسات جذبات اور خیالات کو پیش کرنے کا اہم ذریعہ ہے صحافت با مقصد تنقید کے ذریعے غلطی سے روکتی ہے خبروں اور اہم معاملات سے پردہ ہٹاتی ہے اس سے ہمیشہ ہر امت اور ہر معاشرے کی تعلیم و ثقافت میں اضافہ ہوتا ہے لہذا جب سے یہ فن وجود میں آیا لاکھوں صحافیوں نے قلم آزماءے انہی میں سے بیسویں صدی کے آغاز میں ایک انقلابی صحافی کے روپ میں مولانا ابوالکلام ازاد رحمۃ اللہ علیہ اردو صحافت کے افق پر ظاہر ہوئے
مولانا ازاد کا نام محی الدین احمد تھا وہ اپنی کنیت ابو الکلام سے مشہور ہوۓ آپ کے والد محترم کا نام مولانا خیر الدین تھا آپ دہلی کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ کی پیدائش 1305 ہجری مطابق 1888 عیسوی میں مکہ کے محلہ ”قدوہ“ میں ہوئی اور آپ نے عمر کی ابتدائی دن وہیں گزارے آپ ایک صاحب طرز ادیب شعلہ بیاں خطیب کامیاب شاعر بالغ نظر اور ایک جری انشاء پرداز تھے
بقول مولانا آزاد پانچ سال کی عمر میں بسم اللہ کی تقریب حرم شریف میں ہوئی اپنی خالہ سے قران پڑھا عربی و منطق مولوی محمد یعقوب اور فارسی اپنے والد سے سیکھا اور دیگر تین اساتذہ مولوی محمد عمر مولوی محمد ابراہیم اور مولوی نظر الحسن سے تعلیم حاصل کی 1902 کے اوائل میں مولانا نے درس نظامی مکمل کر لیا اور خود درس دینے لگے تعلیم ختم کرنے کے بعد مولاناآزاد نے امیر مینائی اور مولانا ظہیر احسن شوق منیومی سے شعر گوئی سیکھی
مولانا آزاد نے صحافت میں ایک نیا معیار قائم کیا اور صحافت میں ادب کی شان پیدا کر دی انہوں نے غالبا 1899 میں ”نیرنگ عالم“ اور بعد میں ”المصباح“ ماہانہ گلدستہ جاری کیا لیکن دونوں ہی ایک سال بھی نہ چل سکا اس کے بعد ”لسان الصدق“ جاری کیا اس کا پہلا شمارہ 20 نومبر 1903 کو نکلا تھا لیکن تقریبا یہ بھی 18 مہینے بعد بند ہو گیا 13 جولائی 1912 میں پھر الہلال جاری کیا جو کہ حکومت بنگال کی وجہ سے مجبورا بند کر نہ پڑا اس کی جگہ ”البلاغ“ جاری کیا دونوں پرچوں میں محض نام کا فرق تھا تحریر اور انداز تحریر یکساں تھا الحلال کا ذکر کرتے ہوئے ایس اے انصاری نے لکھا ہے الہلال کے دو مقصد تھے پہلا مقصد تھا مسلمانوں میں ایک دفعہ پھر مذہب کی صحیح روح کو پیدا کرنا اور ان کی مذہبی اور سماجی زندگی میں تنظیم نو کرنا اور دوسرا مقصد تھا ان میں آزادی کا وہ جذبہ پیدا کرنا جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے
پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️ وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...