Sunday, November 24, 2024

البيان والتبيين للجاحظ

البيان والتبيين للجاحظ 



عتیق اللہ کلیم ✍️

:إسم المصنف

أبو عثمان عمرو بن بحر بن محبوب الكناني والأرجح أنه الكناني بالولاء

:ولادته

ولد في البصرة حول سنة 159ه‍

:التعليم والتعلم

أخذ الجاحظ النحو عن الأخفش والكلام عن النظام والعربيه عن أمثال الأصمعي وأبي زيد وأخذ الثقافة اليونانية عن حنين بن اسحاق وسلمويه وأمثالهما وحذق الثقافة الفارسية من كتب من المقفع وأخذ عن   أبي عبيدة وتوسع في الثقافات كلها
ودرس حياة رجال الطبقات المختلفة ووصفها في كتبه فتتجلى دراسته للحياة ولمسائل الحياة وألوانها ومن شقاء وسعادة ومن فكر وخيال وعاطفة وجد وهزل وقلما اعتنى بهذا الجانب الواقعي من حياة العامة والخاصة،أديب من أدباء العربية كالمبرد والقالي وابن قتيبة ممن عاصرهم الجاحظ
غلبت على الجاحظ النزعة الأدبية في كل ما كتب حتى في الحيوان، فهو يتخير خير الألفاظ وأحسن التعبيرات، ويفر سريعا من التحقيق العلمي إلى رياض الأدب، من شعر أو حكمة أو نادرة، من أهم كتبه’ البيان والتبيين‘ وهو من مصادر الأدب الأربعة

:اسم الكتاب:البيان والتبيين/البيان والتبين

المعروف عامة أن اسم الكتاب ’البيان والتبيين‘ ولكن آثار بعض الكتاب المتأخرين شكوكا حول اسم الكتاب وقالوا أن تسمية الكتاب ’البيان والتبين

:تاريخ التأليف

ألفه الجاحظ في أخريات حياته إلا أنه لا يوجد نص لذلك

:لمن ألفه
المعروف أن الجاحظ أهدى كتاب ’البيان والتبيين‘ إلى القاضي أحمد بن داود وظهر هذا الكتاب بعد قتل ابن الزيات سنة233

:بدء الكتاب

بدأ الجاحظ كتابه بالتعويذ من العي والحصر و السلاطة والهذر والعجب ثم ذكر أشعارا تعوذوا فيها قديما بالله من هذه العيوب، قال النهر ابن تولب أعذني رب من حصر وعي ومن نفس أعجالها علاجا ثم ذكر بعض العيوب التي توجد في كلام الفصحاء والخطباء كواصل ابن عطاء الذي كان غير قادر على نطق الراء ومحمد بن شبيب المتكلم الذي كان غير قادر على نطق الغين
ثم يعود الى عيوب اللسان ويذكر تنافر الحروف و تنافر الألفاظ عند العرب يذكر الاشعار في ذم المتكلمين الذين في كلامهم عيوب

:الخط
ثم يذكر الجاحظ الدلالة بالخط، ويذكر فضائل الخط والكتابة على اللسان

:التكرار في الكلام

مؤيد الجاحظ ترديد الكلام في مواضع وقال ليس بعيب إذا كان له داع،التكرار ورد في القرآن فقال: إني لم أر أحدا يعيب ذلك وما سمعنا بأحد من الخطباء كان يرى إعادة بعض الألفاظ و تردد المعاني عيبا

:باب الصمت 
ذكر الجاحظ في هذا الباب فضل الصمت وما ولد فيه من أحاديث وأقوال الحكماء
ثم ذكر الجاحظ الاشعار في فضل الحلم وقله الكلام وإمساك اللسان وبعد ذكر روايات في فضل الصمت
وينصح الجاحظ الكتاب والأدباء والشعراء يرسلوا كلامهم إرسالا بل يفكروا ويدبروا ويهذبوا وينقحوا كلامهم ويأخذوا ورأي من هو أعلم منه قبل أن يثقفوا بكلامهم

:الجزء الثاني من البيان والتبيين

أراد الجاحظ أن يفتتح الجزء الثاني من كتابه بالرد على الشعوبية في طعنهم على خطباء العرب لكنه آثر قبل الرد على الشعوبية أن يبدأ كتابه بكلام رسول رب العالمين صلى الله عليه وسلم وسلف المتقدمين والجله من التابعين الذين كانوا مصابيح الظلام وقادة هذا الأنام وملح الأرض وحلى الدنيا والنجوم التي لا يظل معها ساري والمنار الذي إليه يرجع الباغ
المأخوذ من كتاب ’مصادر الأدب العربي‘ ألفه الشيخ محمد واضح رشيد الحسني الندوي


مقالہ: مولانا الیاس رحمة اللہ علیہ حیات و خدمات

مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ حیات و خدمات 


✍️عتیق اللہ کلیم 

تقریبا 1876 عیسوی سے پہلے کی بات ہے دہلی کے باہر حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے مرقد کے قریب 64 کھمبے کے نام سے جو تاریخی عمارت ہے اس کے سرخ پھاٹک پر ایک بزرگ رہا کرتے تھے جن کا نام محمد اسماعیل صاحب تھا آپ کی دوسری بیوی سے مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔

ولادت، آپ کا خاندان،ماحول اور بچپن: 

اپ کی ولادت 1303 عیسوی میں ہوئی اختر الیاس اپ کا تاریخی نام ہے آپ کا بچپن اپنے نانہال کاندھلہ اور اپنے والد صاحب مرحوم کے پاس نظام الدین میں گزرا اس وقت کاندھلہ کا یہ خاندان دینداری کا گہوارہ تھا اپ کی نانی بھی امۃ الرحمن جو مولانا مظفر حسین رحمتہ اللہ علیہ کی صاحبزادی تھیں ان کی نماز کا یہ حال تھا کہ مولانا نے ایک مرتبہ فرمایا کہ امی بی کی نماز کا نمونہ میں نے مولانا گنگوہی کے نماز میں دیکھا۔ 

مولانا کی والدہ ماجدہ: 

مولانا کی والدہ محترمہ بی صوفیہ بڑی جید حافظہ تھیں انہوں نے قرآن مجید شادی کے بعد مولانا یحیی صاحب کی شیر خوارگی کے زمانے میں حفظ کیا تھا معمول تھا کہ رمضان میں روزانہ پورا قران اور مزید 10 پارے پڑھ لیا کرتی تھیں اس طرح ہر رمضان میں 40 قرآن مجید ختم کرتی تھیں۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے بچپن میں قرآن شریف حفظ کر لیا اور مکتب کی ابتدائی تعلیم حاصل کی نظام الدین میں والد صاحب کی شفقت اور اپنی عبادات میں مشغولی کی کثرت کی وجہ سے تعلیم جیسی ہونی چاہیے تھی نہیں ہو رہی تھی مولانا محمد یحیی صاحب نے والد صاحب سے عرض کیا کہ بھائی کی تعلیم معقول نہیں ہو رہی ہے میں ان کو اپنے ساتھ گنگوہ لے جاتا ہوں والد صاحب نے اجازت دے دی آپ بھائی کے ہمراہ 1314 ہجری یا شروع 1315 ہجری میں گنگوہ آگئے اور بھائی سے پڑھنا شروع کر دیا۔

درمیان میں درد سر کا ایک خاص قسم کا دورہ پڑا جس کی وجہ سے سلسلہ تعلیم منقطع ہو گیا مہینوں بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا یہاں تک کہ 1326 ہجری میں شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ درس میں شرکت کے لیے دیوبند تشریف لے گئے اور ترمذی اور بخاری شریف کی سماعت کی۔

مظاہر العلوم میں خدمت تدریس:

        شوال 1338 ہجری میں سہارنپور کے مدرسہ مظاہر العلوم میں آپ بحیثیت معلم مقرر ہوئے مظاہر علوم کی تدریس کے زمانے میں اکثر کتابیں ایسی پڑھائی جو پہلے پڑھی نہیں تھی لیکن پڑھانے کے زمانے میں مطالعہ کی طرف بڑی توجہ تھی چنانچہ کنزالدقائق کے لیے بحر الرائق ،شامی اور ہدایہ دیکھتے تھے اور نور الانوار کے لیے حسامی کی شروح و توضیح تلبیہ تک مطالعہ میں رہتی تھیں۔

نکاح: 

6 ذیقعدہ 1330 هجری مطابق 17 اکتوبر 1312 عیسوی کو بروز جمعہ بعد نماز عصر آپ کے حقیقی ماموں مولوی رؤف الحسن صاحب کی صاحبزادی سے آپ کا عقد ہوا مولانا محمد صاحب نے نکاح پڑھایا مجلس عقد میں مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری، شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری اور اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہم تینوں حضرات موجود تھے۔

مکاتب اور جزئی اصلاح سے نا امیدی: 

مکاتب کے ذریعے جو معمولی انفرادی اصلاح و تعلیم ہو رہی تھی مولانا رفتہ رفتہ اس سے غیر مطمئن ہوتے گئے آپ نے محسوس کیا کہ ماحول کی بے دینی اور ملک کی عمومی جہالت اور ظلمت کا اثر مکاتب پر بھی ہے اول تو طلباء کی پوری اصلاح اور ان کی دینی تربیت نہیں ہونے پاتی دوسرے جو طلباء ان مکاتب سے دین کی تعلیم اور تھوڑی بہت اسلامی تربیت حاصل کر کے نکلتے بھی ہیں جہالت اور بے دینی کے اس بحر ظلمات میں جو ان کے چاروں طرف سینکڑوں میل تک پھیلا ہوا ہے ایسے غرق ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا پتہ نہیں چلتا آپ مختلف تجربوں سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خاص و افراد کی اصلاح اور دینی ترقی مرض کا علاج نہیں آپ کے اس تاثر کو ایک میواتی نے اپنے سیدھے سادھے الفاظ میں یوں بیان کیا کہ’جب تک عام آدمیوں میں دین نہ آئے کچھ نہیں ہو سکتا‘ مولانا ایک میواتی کو لکھتے ہیں: ” میرے دوست! آدمی کا جاہل اور غافل ہونا اور حق کی کوشش میں سست ہونا یہ ہر فتنے کی کنجی ہے اور تبع اور جذبات کے ان نامبارک اور گندہ صفتوں پر رہنے سے خدا جانے کتنے فتنے اٹھتے ہوئے تم دیکھو گے اور کچھ نہ کر سکو گے اٹھتے ہوئے فتنوں کو مٹنے اور آئندہ کی فتنوں سے روکنے کے لیے تمہارے ملک میں پیش آئی ہوئی اسکیم کی مشق کرنے کے لیے یو پی کے لیے نکلنے پر زور دینے کے سوا اور کوئی علاج نہیں“ چنانچہ 10 آدمیوں پر مشتمل پہلی جماعت کاندھلا کے سفر کے لیے تیار ہو گئی اور حافظ مقبول حسن صاحب کی امارت میں دہلی سے روانہ ہوئی کاندھلہ کے لوگوں نے بڑے اعزاز و اکرام سے امی بی کے گھر میں ان کو ٹھہرایا اور بڑی خاطر کی۔

وفات اور تجہیز و تکفین: 

12 جولائی پنج شنبہ کی رات 12 بجے گھبراہٹ کا ایک دورہ پڑا جس پر ڈاکٹر کو فون کیا گیا ڈاکٹر آئے اور گولی دی رات کو بار بار اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز آتی رہی مولوی یوسف صاحب سے فرمایا یوسف! آمل لے ہم تو چلے اور صبح کی اذان سے پہلے جان جاں آفریں کے سپرد کی اور عمر بھر کا تھکا مسافر جو شاید کبھی اطمینان کی نیند سویا ہو،منزل پر پہنچ کر میٹھی نیند سویا۔

اس کے بعد غسل ہوا علماء و فقہا نے اپنے ہاتھوں سے غسل دیا اور تمام سنن مستحبات کا التزام کیا گیا شیخ الحدیث صاحب نے نماز پڑھائی مسجد کی جنوبی مشرقی گوشے میں باپ اور بھائی کے پہلو میں سپرد لحد کر دیا گیا۔

اخلاق و تواضع: 

مولانا سید سلیمان ندوی مولانا کے تذکرے معارف اعظم گڑھ بابت ماہ نومبر 1944 عیسوی میں تحریر فرماتے ہیں:” لکھنو کے قیام میں ایک دفعہ دوست کے یہاں عصر کے وقت چائے کی دعوت تھی خاص کوئی مزید نہ تھی ان کی کوٹھی ہی میں نماز باجماعت کا سامان ہوا خود کھڑے ہو کر اذان دی اذان کے بعد مجھے ارشاد ہوا کہ نماز پڑھاؤ میں نے معذرت کی تو نماز پڑھائی نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف رخ کر کے فرمایا بھائیو میں ایک ابتلاء میں گرفتار ہوں دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے اس سے نکالے جب میں یہ دعوت لے کر کھڑا ہوا ہوں لوگ مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں مجھے یہ خطرہ ہونے لگا ہے کہ مجھ میں کیا اعجاب نفس نہ پیدا ہو جائے، میں بھی اپنے کو بزرگ نہ سمجھنے لگوں میں ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس ابتلاء سے بسلامت نکالے آپ بھی میرے حق میں دعا فرمائیں۔

بحوالہ: (”مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی دینی دعوت“ مصنف: حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ)


Wednesday, September 18, 2024

قرآن ایک تعارف مقالہ

قرآن ایک تعارف 


✍️عتیق اللہ کلیم 

فضائل قرآن:

                            قرآن عظیم ایک لافانی اور دائمی کتاب ہے قرآن کا مختصر تعارف خود قرآن کی زبانی یہ ہے 'ذلك الكتاب لا ريب فيه هدي للمتقين‘یہ وہ کتاب ہے جس کے بارے میں کسی شک کی گنجائش نہیں یہ ہدایت اور رہنمائ کرنے والی ہے ان لوگوں کیلیے جو اپنے رب کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں اور احتیاط کی زندگی اختیار کرتے ہیں- 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تلاوت' اس کے معانی کا علم حاصل کرنے 'اس پر عمل کرنے اسکی تبلیغ کے جو فضائل بیان فرماۓ وہ اپنی مثال آپ ہیں اور حدیث کے مجموعے اس قسم کی احادیث سے پُر ہیں- رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: 'خیرکم من تعلم القرآن علمه‘ 

اللہ تعالی نے قرآن کو 'موعظت' شفا 'ہدایت 'خیر'رحمت' اور اپنا فضل قرار دیا ارشاد ہے:يا أيها الناس قد جاءتكم موعظة من ربكم و شفاء لما في الصدور و هدي و رحمة للمؤمنين - قل بفضل الله ورحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون (سورہ یونس 58,57)

 قرآن لوگوں کو ایسی عملی اور  فکری راہ پر گامزن کرتا ہے جو ہر اعتبار سے سیدھی اور استوار ہے-

قران کی فضیلت و عظمت تقدس و کبریائ اور انقلاب و معجزے کی بنا پر غیروں کی زبانیں  بھی اس کی تعریف میں بول اٹھیں اور ان کے قلم اس کی مدح و ثنا کے گیت گانے لگے-

مسٹر کونٹ کہتے ہیں: عقل حیران ہے کہ اس قسم کا کلام ایسے شخص کی زبان سے کیوں کر ادا ہوا جو کہ امی تھا' سارے مشرق نے اقرار کر لیا ہے کہ نوع انسانی لفظا ومعنا اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے(شہادۃ الاقوام ص:14)

ڈاکٹر گبن لکھتے ہیں: قران کی نسبت بحر انٹلانٹلک سے لے کر دریائے گنگا تک نے مان لیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کی روح ہے قانون اساسی ہے اور صرف اصول مذہب ہی کے لیے نہیں بلکہ احکام تعزیرات کے لیے اور ان قوانین کے لیے بھی ہے جن پر نظام کا مدار ہے جس سے نوع انسانی کی زندگی وابستہ ہے جن کو حیات انسانی کی ترتیب و تنسیخ سے گہرا تعلق ہے( قران مجید انسانی زندگی کا رہبر کا مل ص:165سے166)

قرآن کا نام اور وجہ تسمیہ:

         قران کریم کے نام کل پانچ ہیں' القرآن' 'الفرقان‘ 'الکتاب‘ 'التنزیل‘ 'الذکر‘ خود قران کریم نے اپنے لیے یہ پانچوں الفاظ اسم علم کے طور پر ذکر فرمائے ہیں ان میں سب سے زیادہ مشہور نام قرآن ہے چنانچہ خود اللہ تعالی نے کم از کم 61 مقامات پر اپنے کلام کو اسی نام سے یاد کیا ہے-

        قرآن دراصل قرأ یقرأ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں' جمع کرنا‘ پھر یہ لفظ پڑھنے کے معنی میں اس لیے استعمال ہونے لگا کہ اس میں حروف اور کلمات کو جمع کیا جاتا ہے قرأ یقرأ کا مصدر قرا کے علاوہ قرآن بھی آتا ہے اور عربی زبان میں کبھی کبھی مصدر کو اسم مفعول کے معنی میں استعمال کر لیا جاتا ہے کلام اللہ کو قرآن اسی معنی میں کہا جاتا ہے 'یعنی پڑھی ہوئی کتاب‘

قران کی بہت سی وجوہ تسمیہ بیان کی گئی ہے زیادہ راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ کا یہ نام کفار عرب کی تردید میں رکھا گیا ہے وہ کہا کرتے تھے:لاتسمعوالھذا القرآن وألغوا فیه(حم السجدہ 26) ان کفار کے علی الرغم قران نام رکھ کر اشارہ فرما دیا گیا کہ قرآن کریم کی دعوت کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جا سکتا یہ کتاب پڑھنے کے لیے نازل ہوئی ہے اور قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی-

اصطلاحی تعریف: 

               المنزل علي الرسول المكتوب في المصاحف المنقول إلينا نقلا متواترا بلا شبھة یہ تعریف تمام اہل علم کے درمیان متفق علیہ ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں-

تاریخ نزول قرآن:

         قران کریم دراصل کلام الہی ہے اس لیے ازل سے لوح محفوظ میں موجود ہے قران کریم کا ارشاد ہے: 'بل هو قرآن مجيد في لوح محفوظ‘

    پھر قران مجید کا  نزول دو مرتبہ ہوا ہے ایک مرتبہ یہ پورا قرآن آسمان دنیا کے 'بیت عزت‘ میں نازل کر دیا گیا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت نازل کیا جاتا رہا یہاں تک کہ 23 سال میں اس کی تکمیل ہوئی-

نزول قران کی یہ دو صورتیں خود قرآن کریم کے انداز بیان سے بھی واضح ہے اس کے علاوہ نسائی حاکم بہیقی ابن ابی شیبہ طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے متعدد روایت نقل کی ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ قران کا پہلا نزول یکبارگی آسمان دنیا پر ہوا اور دوسرا نزول بتدریج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر-

نزول قران کے آغاز کے بارے میں مندرجہ زیل باتیں تو خود قران عظیم سے ثابت ہیں:

1- اس کی ابتدا رمضان کے مہینے میں ہوئی

2- جس رات نزول قران کا آغاز ہوا وہ شب قدر تھی-

3- یہ وہی تاریخ تھی جس میں بات کو غزوہ بدر  پیش آیا-

سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت:

          صحیح قول یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قران کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں اتری ہیں وہ سورہ علق کی ابتدائی آیات ہیں صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اس کا واقعہ یہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی ابتدا تو سچے خوابوں سے ہوئی تھی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوت میں عبادت کرنے کا شوق پیدا ہوا اور اس دوران آپ غار حرا میں کئی کئی راتیں گزارتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے یہاں تک کہ ایک دن اسی غار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالی کی جانب سے فرشتہ آیا اور اس نے سب سے پہلی بات یہ کہی کہ اقرأ (یعنی پڑھو) حضور نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس کے بعد خود حضور نے واقعہ بیان کیا کہ میرے اس جواب پر فرشتے نے مجھے پکڑا اور مجھے اس زور سے بھینچا کہ مجھ پر مشقت کی انتہا ہو گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور دوبارہ کہا کہ اقرأ میں نے جواب دیا کہ میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں فرشتے نے مجھے پھر پکڑا اور دوبارہ اس زور سے بھیجا کہ مجھ پر مشقت کی انتہا ہو گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ کر کہا اقرأ میں نے جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس پر اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑا اور بھیج کر چھوڑ دیا پھر کہا:'إقرأ باسم ربك الذي خلق، خلق الإنسان من علق، إقرأ وربك الأكرم‘

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کو لے کر واپس گھر کی طرف چلے تو اپ کا مبارک دل دھڑک رہا تھا آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور فرمایا:زملونی زملونی( مجھے کمبل اڑھاؤ مجھے کمبل اڑھاؤ) گھر والوں نے آپ کو کمبل اڑھایا یہاں تک کہ اپ سے خوف جاتا رہا-

یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ تقریبا تمام کتب احادیث میں صحیح سندوں کے ساتھ منقول ہے اسی لیے جمہور علماء کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ قران کریم کی سب سے پہلی آیت جو آپ پر نازل ہوئی سورہ علق کی ابتدائی آیات ہیں ان کے بعد سورہ مدثر کی ایتیں نازل ہوئیں- 

حفاظت قرآن کے مراحل

 پہلا دور عہد رسالت:

                                      قران کریم چونکہ ایک ہی دفعہ پورا کا پورا نازل نہیں ہوا بلکہ اس کی مختلف آیات ضرورت اور حالات کی مناسبت سے نازل کی جاتی رہی ہے اس لیے آدھے رسالت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ شروع ہی سے اسے کتابی شکل میں لکھ کر محفوظ کر لیا جائے بلکہ اللہ تعالی نے اپ سے فرمایا "ومنزل عليك كتابا لا يغيب له الماء“(رواه مسلم) یعنی میں تم پر ایک ایسی کتاب نازل کرنے والا ہوں جسے پانی نہیں دھو سکے گا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تمام کتابوں کا حال یہ ہے کہ وہ دنیاوی آفات کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں لیکن قران کریم کو سینوں میں اس طرح محفوظ کر دیا جائے گا کہ اس کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے چنانچہ ابتدائی اسلام میں جب وحی نازل ہوتی تو اپ اس کے الفاظ کو اسی وقت دہرانے لگتے تھے تاکہ واہ اچھی طرح یاد ہو جائیں اس پر یہ ایت نازل ہوئی: لا تحرک بلسانک لتعجل به إن علينا جمعه وقرآنه 

      اس کے بعد ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیات قرانی نازل ہوتیں اور ادھر وہ آپ کو یاد ہو جاتیں اس طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک قران کریم کا سب سے زیادہ محفوظ گنجینہ تھا- 

                             غرض ابتدائے اسلام میں قرآن کریم کی حفاظت کے لیے بنیادی طریقہ یہی اختیار کیا گیا کہ وہ زیادہ صحابہ کو یاد کرا دیا گیا اس دور کے حالات کے پیش نظر یہی طریقہ سب سے زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد تھا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی کتابت کا خاص اہتمام فرمایا چنانچہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث میں یہ بیان فرمایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت کرتا تھا جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو میں مونڈے کی کوئی ہڈی یا کسی اور چیز کا ٹکڑا لے کر خدمت میں حاضر ہوتا آپ لکھواتے رہتے اور میں لکھتا رہتا جب میں لکھ کر فارغ ہوتا تو اپ فرماتے پڑھو میں پڑھ کر سناتا اگر اس میں کوئی فروگزاشت ہوتی تو اپ اس کی اصلاح فرما دیتے اور پھر اسے لوگوں کے سامنے لے آتے 

حضرت ابو بکر کے عہد میں جمع قرآن: 

                   حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قران کریم کے جتنے نسخے لکھے گئے تھے ان کی کیفیت یہ تھی کہ یا تو وہ متفرق اشیاء پر لکھے ہوئے تھے کوئی آیت چمرے پر کوئی درخت کے پتے پر کوئی ہڈی پر زیادہ مکمل نسخے نہیں تھے کسی صحابی کے پاس ایک صورت لکھی ہوئی تھی کسی کے پاس دس پانچ سورتیں اور بعض صحابہ کے پاس آیات کے ساتھ تفسیری جملے بھی لکھے ہوئے تھے-

       اس بنا پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ضروری سمجھا کہ قران کریم کے ان منتشر حصوں کو یکجا کر کے محفوظ کر دیا جائے, حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جنگ یمامہ کے فوراً بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک روز مجھے پیغام بھیج کر بلوایا میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر نے ابھی آکرمجھ سے یہ بات کہی ہے کہ جنگ یمامہ میں قرآن کریم کے حفاظ کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی اور اگر مختلف مقامات پر قرآن کریم کے حافظ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ ناپید نہ ہو جائے لہذا میری رائے یہی ہے کہ آپ اپنے حکم سے قران کریم کو جمع کروانے کا کام شروع کر دیں میں نے حضرت عمر سے کہا کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ ہم کیسے کریں عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ  خدا کی قسم یہ کام بہترہی بہتر ہے اس کے بعد عمر رضی اللہ تعالی عنہ مجھ سے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ مجھے بھی اس پر شرح صدر ہو گیا اور اب میری رائے بھی وہی ہے جو عمر کی ہے اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ تم نوجوان اور سمجھدار آدمی ہو ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتابت وحی کا کام بھی کرتے رہے ہو لہذا تم قران کریم کی آیتوں کو تلاش کر کے انہیں جمع کرو- 

       حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم اگر یہ حضرات مجھے کوئی پہاڑ دھونے کا حکم دیتے تو مجھ پر اس کا اتنا بوجھ نہ ہوتا جتنا جمع قران کے کام کا ہوا میں نے ان سے کہا کہ اپ وہ کام کیسے کر رہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ خدائی قسم یہ کام بہتر ہی بہتر ہے اس کے بعد ہے ابوبکر مجھ سے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا سینہ اسی رائے کے لیے کھول دیا جو حضرت ابوبکر وہ عمر کی رائے تھی چنانچہ میں نے قرآنی آیات کو تلاش کرنا شروع کیا اور کھجور کی شاخوں پتھر کی تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن کریم کو جمع کیا-

     جب کوئی شخص ان کے پاس قرآن کریم کی کوئی لکھی ہوئی آیت لے کر آتا تو وہ مندرجہ زیل چار طریقوں سے اس کی تصدیق کرتے تھے:

1- سب سے پہلے اپنی یادداشت سے اس کی توثیق کرتے تھے-

2- اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ  بھی اپنے حافظے سے اس کی توثیق فرماتےتھے-

3- کوئی لکھی ہوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک دو قابل اعتبار گواہوں نے اس بات کی گواہی نہ دے دی ہو کہ یہ ایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی-

4- اس کے بعد لکھی ہوئی آیتوں کا ان مجموعوں کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا تھا جو مختلف صحابہ نے تیار کر رکھے تھے-

بہرحال حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے اس زبردست احتیاط کے ساتھ آیت قرانی کو جمع کر کے ہر صورت کو الگ الگ کاغذ کے صحیفوں پر مرتب شکل میں تحریر فرمایا اصطلاح میں اس نسخے کو ام کہا جاتا ہے اور اس کی خصوصیات یہ تھیں:

1- اس نسخے میں آیات قرانی تو انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق مرتب تھی لیکن صورت مرتب نہ تھی ہر صورت الگ الگ لکھی ہوئی تھی

2- اس نسخے میں ساتوں حروف جمع تھے

3- یہ نسخہ خط حیری میں لکھا گیا تھا

4- اس میں صرف وہ آیت درج کی گئی تھی جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی

5-اس کو لکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتب نسخہ تمام امت کی اجماعی تصدیق کے ساتھ تیار ہو جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی طرف رجوع کیا جا سکے- 

       حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے لکھوائے ہوئے یہ صحیفے آپ کی حیات میں آپ کے پاس رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس رہے ان کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کے مطابق انہیں ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس منتقل کر دیا گیا حضرت حفصہ کی وفات کے بعد مروان نے وہ صحیفے منگوائے اور انہیں اس خیال سے نظرآتش کر دیا کہ اب اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا تھا کہ رسم الخط اور ترتیب سور کے لحاظ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی تیار کرائے ہوئے مصاحف کی اتباع لازمی ہے اور کوئی ایسا نسخہ باقی نہ رہنا چاہیے جو ان کے رسم الخط اور ترتیب کے خلاف ہو-

حضرت عثمان کےعہد میں جمع قرآن:

روایات حدیث کے ذریعے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آرمینیا اور آذربائیجان کے محاذ پر جہاد میں مشغول تھے وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگوں میں قران کریم کی قرأتوں کے بارے میں اختلاف ہو رہا ہے چنانچہ مدینہ طیبہ واپس آتے ہی وہ سیدھے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور جا کر عرض کیا کہ امیر المومنین قبل اس کے کہ یہ امت اللہ کی کتاب کے بارے میں یہود و نصاری کی طرح اختلافات کا شکار ہو اپ اس کا علاج کیجئے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا بات کیا ہے حضرت حذیفہ نے جواب میں کہا کہ میں آرمینیا کے محاذ پر جہاد میں شامل تھا وہاں میں دیکھا کہ شام کے لوگ ابی بن کعب کی قرأت پڑھتے ہیں جو اہل عراق نے نہیں سنی اور اہل عراق عبداللہ بن مسعود کی قرأت پڑھتے ہیں جو اہل شام نے نہیں سنی ہوتی اس کے نتیجے میں ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں  تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے جلیل القدر صحابہ کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا اور فرمایا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بعض لوگ ایک دوسرے سے اس قسم کی باتیں کہتے ہیں کہ میری قرأت تمہاری قرأت سے بہتر ہے اور یہ بات کفر کی حد تک پہنچ سکتی ہے لہذا آپ لوگوں کیاس بارے میں کیا رائے ہے صحابہ نے خود حضرت عثمان سے پوچھا کہ آپ نے کیا سوچا ہے حضرت عثمان نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیں تاکہ کوئی اختلاف اور افتراق پیش نہ ائے صحابہ نے اس رائے کو پسند کر کے حضرت عثمان کی تائید فرمائی-

           اس غرض کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ کے پاس پیغام بھیجا کہ اپ کے پاس حضرت ابوبکر کے زمانے کے جو صحیفے موجود ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے ہم ان کو مصاحف میں نقل کر کے اپ کو واپس کر دیں گے حضرت حفصہ نے وہ صحیفے حضرت عثمان کے پاس بھیج دیے حضرت عثمان نے چار صحابہ کی ایک جماعت بنائی جو حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام پر مشتمل تھی اس جماعت کو اس کام پر معمور کیا گیا کہ وہ  حضرت ابوبکر کے صحیفوں سے نقل کر کے کئی ایسے مصاحف تیار کرے جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں اور ان صحابہ میں سے چار حضرت زید انصاری تھے اور باقی تینوں حضرات قریشی تھے اس لیے حضرت عثمان نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا اور زید کا قرآن کے کسی حصے میں اختلاف ہو یعنی اس میں اختلاف ہو کہ کون سا لفظ کس طرح لکھا جائے تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا اس لیے کہ قران کریم انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے ان حضرات نے کتابت قران کے سلسلے میں مندرجہ ذیل کام انجام دیے:

1- تمام سورتوں کو ترتیب کے ساتھ ایک ہی مصحف میں لکھا-

2- قران کریم کی آیات اس طرح لکھیں کہ ان کے رسم الخط میں تمام متواتر قرأتیں سما  جائیں اس لیے ان پرنہ نقطے لگائے گئے اور نہ حرکات تاکہ اسے تمام متواتر قرأتوں کے مطابق پڑھا جا سکے-

3- اب تک قران کریم کا مکمل معیاری نسخہ جو پوری امت کی اجتماعی تصدیق سے مرتب کیا گیا ہو صرف ایک تھا ابو حاتم سجستانی رحمت اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ ان حضرات نے کل سات نسخے تیار کیے جن میں سے ایک مکہ مکرمہ ایک شام ایک یمن ایک بحرین ایک بصرہ اور ایک کوفہ بھیج دیا گیا اور ایک مدینہ طیبہ میں محفوظ رکھا گیا۔

4- مذکورہ بالا کام کرنے کے لیے ان حضرات نے بنیادی طور پر تو انہی صحیفوں کو سامنے رکھا جو حضرت ابوبکر کے زمانے میں لکھے گئے تھے اس کے ساتھ ہی مزید احتیاط کے لۓ  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زمانے کی جو متفرق تحریریں مختلف صحابہ کے پاس محفوظ تھی انہیں دوبارہ طلب کیا گیا اور ان کے ساتھ ازسرنو مقابلہ کر کے یہ نئے نسخے تیار کیے گۓ۔

5- قران کریم کی یہ متعدد معیاری نسخے تیار فرمانے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تمام انفرادی نسخے نزر آتش کر دیے جو مختلف صحابہ کے پاس موجود تھے تاکہ رسم الخط مسلمہ قرأتوں کے اجتماع اور سورۃ کی ترتیب کے اعتبار سے تمام مصاحف یکساں ہو جائیں اور ان میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے.

سبعۃ احرف کا مطلب:

1- امت کی آسانی کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے یہ فرمائش کی کہ قران کریم کی تلاوت کو صرف ایک ہی طریقے میں منحصر نہ رکھا جائے بلکہ اسے مختلف طریقوں سے پڑھنے کی اجازت دی جائے چنانچہ قرآن کریم سات حروف پر نازل کر دیا گیا

2- سات حروف پر نازل کرنے کا راجح ترین مطلب یہ ہے کہ اس کی قرأت میں سات نوعیتوں کے اختلافات رکھے گئے جن کے تحت بہت سی قرأتوں وجود میں آگئیں-

3- شروع شروع میں ان سات وجوہ اختلاف میں سے اختلاف الفاظ و مرادفات کی قسم بہت عام تھی یعنی ایسا بکثرت تھا کہ ایک قرأت میں ایک لفظ ہوتا تھا اور دوسری قرأت میں اس کا ہم معنی کوئی دوسرا لفظ لیکن رفتہ رفتہ جب اہل عرب قرآنی زبان سے پوری طرح مانوس ہو گئے تو یہ قسم کم ہو گئی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا آخری دور کیا جسے اصطلاح میں عرضہ اخیره کہتے ہیں تو اس میں اس قسم کے اختلافات بہت کم کر دیے کر دیے گئے اور زیادہ تر صیغوں کی بناوٹ تذکیر و تانیث افراد و جمع معروف و مجہول اور لہجے کے اختلافات باقی رہے. 

4- جتنے اختلافات عرضہ اخیرہ کے وقت باقی رہ گئے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سب کو اپنے مصاحف میں اس  طرح   جمع فرما دیا کہ ان کو نقطوں اور حرکات سے خالی رکھا لہذا قراتوں کے بیشتر اختلافات  اس  میں سما گئے اور جو قراتیں اس طرح ایک مصحف میں نہیں سما سکیں انہیں دوسرے مصاحف میں ظاہر کر دیا اسی بنا پر عثمانی مصا حف  میں کہیں کہیں ایک ایک دو دو لفظ کا اختلاف پیدا ہوا.

5- حضرت عثمان نے اس طرح سات مصاحف لکھوائے اور ان میں سورتوں کو بھی مرتب فرما دیا جبکہ حضرت ابوبکر کے صحیفوں میں سورتیں غیر مرتب تھیں نیز قران کریم کے لیے ایک رسم الخط متعین کر دیا اور جو مصاحف اس ترتیب اور اس رسم الخط کے خلاف تھے انہیں نزرآتش کر دیا.

6- حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف کی ترتیب عثمانی مصاحف سے مختلف تھی اور وہ اس ترتیب کو باقی رکھنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اپنا مصحف نذر آتش کرنے کے لیے حضرت عثمان کے حوالے نہیں کیا. 

چنانچہ جب اسلام عجمی ممالک میں اور زیادہ پھیلا تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس میں نقطوں اور حرکات کا اضافہ کیا جائے تاکہ تمام لوگ آسانی سے اس کی تلاوت کر سکے اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے جن کی مختصر تاریخ درجہ ذیل ہے:

نقطے:

             اس میں روایات مختلف ہیں کہ قران کریم کے نسخے پر سب سے پہلے کس نے نقطے ڈالے؟ 

            بعض روایتیں یہ کہتی ہیں کہ یہ کارنامہ سب سے پہلے ابوالاسود دؤلی نے انجام دیا. بعض کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلقین کے تحت کیا. اور بعض نے کہا ہے کہ کوفہ کے گورنر زیاد بن ابی سفیان نے ان سے یہ کام کروایا اور بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے عبدالملک بن مروان کی فرمائش پر یہ کام کیا ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ کارنامہ حجاج بن یوسف نے حسن بصری یحیی بن یعمر اور نصربن عاصم لیثی کے ذریعے انجام دیا.

حرکات:

              اس سلسلے میں تمام روایات کو پیش نظر رکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حرکات سب سے پہلے ابو الاسود دؤلی رحمۃ اللہ علیہ نے وضع کیں لیکن اس وقت حرکات لکھنے کا طریقہ الگ تھا بعد میں خلیل بن احمد نے حمزہ اور تشدید کی علامت وضع کی اس کے بعد حجاج بن یوسف نے یحیی بن یعمر نصر بن عاصم اور حسن بصری رحمہ اللہ سے بیک وقت قران کریم پر نقطے اور حرکات دونوں لگانے کی فرمائش کی اس موقع پر حرکات کے اظہار کے لیے زیر زبر پیش کی موجودہ صورتیں مقرر کی گئیں-

احزاب یا منزلیں:

                                صحابہ اور تابعین کا معمول تھا کہ وہ  ہر ہفتے ایک قران کریم ختم کر لیتے تھے اس مقصد کے لیے انہوں نے روزانہ تلاوت کی ایک مقدار مقرر کی ہوئی تھی جسے حزب یا منزل کہا جاتا ہے اس طرح قرآن کریم کو کل سات احزاب پر تقسیم کیا گیا-

 اجزاء یا پارے:

             بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف نقل کراتے وقت انہیں تیس مختلف صحیفوں میں لکھوایا تھا لہذا یہ تقسیم آپ ہی کے زمانے کی ہے لیکن متقدمین کی کتابوں میں اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی البتہ علامہ بدرالدین زرکشی نے لکھا ہے کہ قران کے 30 پارے مشہور چلے آتے ہیں اور مدارس کے قرآنی نسخوں میں ان کا رواج ہے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ   تقسیم عہد صحابہ کے بعد تعلیم کی سہولت کے لیے کی گئی ہے-

رکوع:

          ایک اور علامت جس کا رواج بعد میں ہوا اور آج تک جاری ہے رکوع کی علامت ہے اور اس کی تعیین معنی کے لحاظ سے کی گئی ہے یعنی جہاں ایک سلسلہ کلام ختم ہوا  وہاں رکوع کی علامت بنا دی گئ-

        بعض حضرات کا خیال ہے کہ ان رکوعات کی تعین بھی حضرت عثمان ہی کے زمانے میں ہو چکی تھی لیکن روایات سے اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں ملتی البتہ اعتبار تقریبا یقینی ہے کہ اس علامت کا مقصد آیات کی ایسی متوسط مقدار کی تعین ہے جو ایک رکعت میں پڑھی جا سکے اور اس کو کو اسی لیے کہتے ہیں کہ نماز میں اس جگہ پہنچ کر رکوع کیا جائے چنانچہ فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

           مشائخ نے قرآن کریم کو پانچ سو چالیس  رکوعوں پر تقسیم کیا ہے اور مصاحف میں  اس  کی علامتیں بنا دی ہیں تاکہ تراویح میں قرآن کا ختم ستاءیسویں شب میں ہو سکے-

رموز اوقاف:

                         تلاوت اور تجوید کی سہولت کے لیے ایک اور کام یہ کیا گیا کہ مختلف قرآنی جملوں پر ایسے اشارات لکھ دیے گئے جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ اس جگہ وقف کرنا کیسا ہے ان اشارات کو رموز اوقاف کہتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ ایک غیر عربی داں انسان بھی جب تلاوت کرے تو صحیح مقام پر وقف کر سکے اور غلط جگہ سانس توڑنے سے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو ان میں اکثر رموز سب سے پہلے علامہ ابو عبداللہ محمد طیفور سجاوندی رحمت اللہ علیہ نے وضع فرمائے ہیں۔




Sunday, September 15, 2024

ارض فلسطین کا اصل حقدار کون؟

ارض فلسطین کا اصل حقدار کون؟




عتیق اللہ کلیم ✍️
حامدا ومصلیا اما بعد أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ﴿ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ 
!معزز قارئین کرام

:تمہید

          ڈاکٹر محسن صالح لکھتے ہیں : " فلسطین کی سرزمین کے لئے ہر مسلمان کے دل میں ایک عظیم مقام ہے، وہ قرآن کریم کے واضح نصوص کی بنیاد پر مقدس اور مبارک سر زمین ہے، اسی میں مسجد اقصی ہے جو مسلمانوں کا قبلہ اولیٰ اور روئے زمین پر بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے ، اسلام میں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے تیسری مسجد ہے، وہ اسراء و معراج کی سر زمین ہے، اسی کی جانب محمد صلى اللہ عليه وسلم کو معراج میں پہلے مرحلے میں سفر کرایا گیا، وہ انبیاء کی سر زمین ہے ، اسی سر زمین پر قرآن میں مذکور بہت سے انبیاء کی ولادت ہوئی، وہیں انہوں نے زندگی بسر کی، اور وہیں مدفون ہیں، وہ محشر (حساب و کتاب ) اور منشر ( دوبارہ اٹھائے جانے ) کی سرزمین ہے ، احتساب کی نیت سے وہاں رہنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے، وہی سر زمین اس گروہ کا مرکز ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےپیشن گوئی فرمائی ہے کہ وہ غالب رہے گا اور قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا۔
(بحوالہ 'بیت المقدس اور مسئلہ فلسطین' ص:22)از:فتحی عبدالقادر)

:جاۓوقوع

 فلسطین ملک شام کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ہے فلسطین براعظم ایشیا کے مغرب میں بحر ابیض متوسط کے ساحل پر واقع ہے فلسطین کے شمال میں لبنان شمال مشرق میں شام مشرق میں اردن جنوب میں مغرب میں مصر اور مغرب میں بحریہ متوسط ہے-
 بحوالہ: ب”یت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں ص:16از:عنایت اللہ وانی ندوی

:فلسطین کی وجہ تسمیہ 


 تاریخ میں فلسطین کا قدیم ترین نام ارض کنعان ہے، جو بلا د عرب سے 2500 قبل مسیح کے زمانہ میں عرب سے آنے والے کنعانیوں کی نسبت سے رکھا گیا 
 یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ فلسطین پر چڑھائی کرنے کے بعد یہود اس سرزمین کو اپنی زبان میں ارضِ اسرائیل کےنام سے یاد کرتے تھے۔
 بلستین: عربوں نے اس نام کو عربی میں استعمال کر کے فلسطین (Palestine) کر دیا، یہ اس قوم کے نام سے ماخوذ ہے جو فلسطین کے شمالی اورجنوبی علاقوں میں آباد تھی۔
بعض مورخین کا خیال یہ ہے کہ " بلستین " کا نام اس قوم کی جانب منسوب ہے جو بحر ابیض متوسط میں موجود جزیرے "کریت" سے قحط سالی کی وجہ سے آئی تھی ، جن کومصریوں نے سمندر سے آنے کی وجہ سے سمندری قوم کا نام دیا۔

:فلسطین کی وجہ تسمیہ 


فلسطین کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں : یہ لفظ دو کلمات کا مجموعہ ہے : "فلس" جس کے معنی چھلکے کے ہیں اور ”طین " جس کے معنی مٹی کے ہیں ؛ اس میں اس جانب اشارہ ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کا پیشہ زراعت تھا۔بعض کا کہنا یہ ہے کہ لفظ فلسطین فلشت " یا " فلست" سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں : کسان یا زمین کو پھاڑنے والا۔
یہ فلستیا " قبیلے کی جانب نسبت ہے جس نے قحط سالی کی وجہ سے جزیرۃ العرب سے ہجرت کی اور شام کے جنوبی حصے " فلسطین" میں سکونت اختیار کی ۔ اگر چہ بعض کا کہنا یہ ہے کہ یہ نام فلستیا قبیلے ہی کی وجہ سے پڑا جس نے جزیرۃ العرب سے "کریت " جزیرے کی جانب ہجرت کی اور فلسطین کے جنوب میں قیام کیا۔
انگریزی ڈکشنریوں میں لفظ فلست Philist سخت مزاج شخص کے لئے استعمال ہوا ہے۔ 
( بحوالہ: ب”یت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں“ ص:17از:عنایت اللہ وانی ندوی)


فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ 

          مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء اور صلحاء کی حقیقی اور مستحق وارث ہیں کیونکہ وہی انبیاء کے اصل راستے پر چلنے والے ہیں اور یہود راہ حق سے ہٹ گۓ انہوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کی اور اللہ کی ناراضگی کے مستحق ہوئے اس لیے پوری سرزمین فلسطین کے حقیقی شرعی اور قانونی حقدار مسلمان ہی ہیں
 ( بحوالہ: بیت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں“ ص:52از:عنایت اللہ وانی ندوی)

:یہود کے نزدیک
یہود فلسطین کو اپنی تاریخ کا مرکز و محور اپنے انبیاء کا جائے مدفن اور یہودی مذہب کا مرکز سمجھتے ہیں ان کے عقائد کے مطابق وہی ان کے مقدمات کا بھی مرکز ہے خاص طور پر القدس اورالخلیل شہر-
( بحوالہ: بیت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں “ ص:53از:عنایت اللہ وانی ندوی)

:عیسائوں کے نزدیک
عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح معود اس وقت تک نہیں آئیں گے جب کہ سارے یہودی فلسطین میں واپس نہیں آجا تے اور ہیئکل سلیمانی کی تعمیر نہیں کر لیتے اور جب تک ان کا ”مسیح منتظر“ دنیا میں فساد تباہی پھیلانے کے لیے نہیں نکلتا پہلے یہ سب کچھ ہونا ہے پھر عیسی علیہ السلام آئیں گے جو یہودیوں کے مسیح کو قتل کر دیں گے اور دو تہائی یہودیوں کو مار دیں گے ایک تہائی یہودی باقی رہ جائیں گے جن کو عیسائی بنایا جائے گا اور یہی وہ عقیدہ ہے جس کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ عیسائی بھی کندھے سے کندھا ملا کر اپنے دور عظمت کی طرف لوٹنے کا راستہ ہموار کرنے اور مسلمانوں کے خلاف صف میں مصروف ہیں۔
( "صلیبی صهیونی سازشیں اور مسجد اقصی کی بازیابی“
ص:31 از:تبریزبخاری ندوی)


:یہودیوں کا بے بنیاد دعویٰ
فلسطین کے بارے میں یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ وہ ان کا تاریخی حق ہے 'وہاں کے اصل عرب باشندوں کے حق کے سامنے بے بنیاد قرار پاتا ہے 'کیونکہ فلسطینی باشندوں نے اس سرزمین کو بنی اسراءیل کی "مملکت داود “کے قیام سے 1500سال پہلے سے آباد رکھا اور وہ مملکت داود کے درمیان بھی وہاں آباد رہے'اور پھر اس وقت بھی جب کہ یہود کا اس سرزمین سے رابطہ منقطع ہوا 'اور آج تک فلسطینی مسلمان وہاں آباد رہیں
        عملی طور پر یہودیوں کا تعلق فلسطین کے ساتھ تقریباً 1800 سال (135م سے بیسویں صدی تک) بالکل منقطع رہا 'ان کا وہاں سیاسی'تہذیبی اور کسی طرح کا بھی کوئ اثر ونفوذ نہیں رہا'ان کا وہاں واپسی کو حرام قرار دیا پھر یہودیوں کا یہ دعوی کہ ان کا فلسطین سے ہمیشہ سے گہرا ربط و تعلق رہا ہے یہ دعوی بھی اصل حقیقت کے سامنے بے بنیاد قرار پاتا ہے اس لیے کہ بنی اسرائیل کی اکثریت نے موسی علیہ السلام کے ساتھ ارض مقدسہ کی جانب جانے سے ان کا انکار کر دیا تھا اسی طرح جب ایرانی بادشاہ 'قورس ثانی' نے انہیں دوبارہ فلسطین میں بسانے کی پیشکش کی تھی تو ان کی اکثریت نے بابل (عراق)سے واپس جانے سے انکار کر دیا تھا آج تک پوری تاریخ میں فلسطین میں یہودیوں کی تعداد ان کے عروج کے وقت بھی دنیا کے تمام یہودیوں کی آبادی میں سے 40 فیصد سے زیادہ نہیں رہی ہے-
( بحوالہ: بیت المقدس اور فلسطین حقائق و سازشوں آئینہ میں “ ص:55از:عنایت اللہ وانی ندوی)

فلسطین پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟

        یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فلسطین سے یہودیوں کا تعلق تقریبا 1800 سال منقطع رہا (135م سے بیسویں صدی تک) ان کا اس میں کوئی سیاسی تہذیبی یا تمدنی وجود نہیں تھا بلکہ ان کی مذہبی تعلیمات نے ان کے لیے اس کی طرف لوٹنے کو ممنوع قرار دیا تھا
      بلا شبہ معاصر یہودیوں میں سے 80 فیصد یہودی مشہورمؤلف ”آرتھر کوسٹلر“ جیسے یہودی محققین کے مطابق تاریخی اعتبار سے فلسطین سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ہیں اسی طرح وہ نسلی اور قومی اعتبار سے بھی بنی اسرائیل سے تعلق نہیں رکھتے ہیں آج کے یہود کی کا اکثریت سلسلہ حزر ”اشکناز“ سے جا ملتا ہے جو کہ اصلا تاتاری قدیم ترکی قبائل ہے وہ قوقاز کے شمال میں مقیم تھے اور آٹھویں صدی عیسوی میں انہوں نے یہودیت اختیار کی لہذا اگر ان یہود کو واپس انے کا کوئی حق ہے تو وہ فلسطین کی جانب نہیں بلکہ جنوبی روس کی جانب واپس جا سکتے ہیں
         جبکہ عرض فلسطین میں مسلمانوں کا زمانہ طویل ترین اور مسلسل تاریخی زمانہ رہا ہے 15 ہجری 636 م میں فلسطین کو فتح کرنے کے بعد اج تک اس سے اسلامی تاریخ وابستہ ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ 1948 عیسوی سے صہیونی قبضے کے بعد سے وہاں کے باشندوں کو اس کے ایک حصے سے بزور نکالا گیا-

:خاتمہ

فلسطین کے اس پیچیدہ مسئلہ کے جائزہ کا اختتام کرتے ہوئے کچھ ٹھوس حل تلاش کرنا ہے۔ اس مسئلہ کے حل میں پہلا قدم اس دھویں کی چادر کو ہٹانا ہو گا جو صہیونی اور اسرائیلی پر ویگنڈہ بازوں نے مسئلہ فلسطین پرڈھانک دی ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ کی گئی عظیم نا انصافی کو جو مسلہ کی جڑ بنیاد ہے، دنیا کے سامنے آشکارا کرنا ہے مشرق وسطی میں مستقل اس کی امید کرنے سے قبل دو شرائط کی تکمیل ضروری ہوگی : ایک تبدیلی صہیونی نصب العین میں لانی ہوگی جو اسرائیل کو ایک بالکلیہ یہودی مملکت سے بدل کر ایک کثرت الوجود (PLURALISTIC) جمهوری اور غیر مذہبی ملکت اسرائیل بنائے جہاں نسل یا مذہب، شہریت کا معیار نہ ہوگا۔ دوسری تبدیلی اس برتری اور لفوق کے رجحان کو ترک کروانا ہو گا جسے اسرائیل نے  جو یورپ کا لگایا ہوا پودا ہے مشرقی عربوں کے تعلق سے اختیار کیا ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین کے صدر نشین یا سر عرفات کے ہمیشہ یاد رکھےجانے والے الفاظ میں فلسطین ہی میں جنگ بھڑ کا بھی ہے پھر بھی فلسطین میں ہی امن کا سورج طلوع ہوگا 
جہاں عزم محکم ہو وہاں راہیں خود بخود وا ہو جاتی ہیں ۔ آیئے ہم سب مسئلہ فلسطین کے پر امن حل کے لئے دعا کریں انشاء اللہ 
(بحوالہ "فلسطین" ص:159 از: صفدر حسین)
ہے خاک فلسطین یہ یہودی کا اگر حق
 ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا 
           مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور 
قصہ نہیں تاریخ کا یا شہر رطب کا     

Saturday, September 14, 2024

مولانا ابوالکام آزاد رحمۃ اللّٰہ علیہ میرے پسندیدہ صحافی

مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃاللہ علیہ میرے پسندیدہ صحافی 



عتیق اللہ کلیم ✍️

:تمہید

صحافت انسان کے اندر پیدا ہونے والے احساسات جذبات اور خیالات کو پیش کرنے کا اہم ذریعہ ہے صحافت با مقصد تنقید کے ذریعے غلطی سے روکتی ہے خبروں اور اہم معاملات سے پردہ ہٹاتی ہے اس سے ہمیشہ ہر امت اور ہر معاشرے کی تعلیم و ثقافت میں اضافہ ہوتا ہے لہذا جب سے یہ فن وجود میں آیا لاکھوں صحافیوں نے قلم آزماءے انہی میں سے بیسویں صدی کے آغاز میں ایک انقلابی صحافی کے روپ میں مولانا ابوالکلام ازاد رحمۃ اللہ علیہ اردو صحافت کے افق پر ظاہر ہوئے

:تعارف

مولانا ازاد کا نام محی الدین احمد تھا وہ اپنی کنیت ابو الکلام سے مشہور ہوۓ آپ کے والد محترم کا نام مولانا خیر الدین تھا آپ دہلی کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ کی پیدائش 1305 ہجری مطابق 1888 عیسوی میں مکہ کے محلہ ”قدوہ“ میں ہوئی اور آپ نے عمر کی ابتدائی دن وہیں گزارے آپ ایک صاحب طرز ادیب شعلہ بیاں خطیب کامیاب شاعر بالغ نظر اور ایک جری انشاء پرداز تھے

:تعلیم و تعلم

بقول مولانا آزاد پانچ سال کی عمر میں بسم اللہ کی تقریب حرم شریف میں ہوئی اپنی خالہ سے قران پڑھا عربی و منطق مولوی محمد یعقوب اور فارسی اپنے والد سے سیکھا اور دیگر تین اساتذہ مولوی محمد عمر مولوی محمد ابراہیم اور مولوی نظر الحسن سے تعلیم حاصل کی 1902 کے اوائل میں مولانا نے درس نظامی مکمل کر لیا اور خود درس دینے لگے تعلیم ختم کرنے کے بعد مولاناآزاد نے امیر مینائی اور مولانا ظہیر احسن شوق منیومی سے شعر گوئی سیکھی

:بحیثیت صحافی 

مولانا آزاد نے صحافت میں ایک نیا معیار قائم کیا اور صحافت میں ادب کی شان پیدا کر دی انہوں نے غالبا 1899 میں ”نیرنگ عالم“ اور بعد میں ”المصباح“ ماہانہ گلدستہ جاری کیا لیکن دونوں ہی ایک سال بھی نہ چل سکا اس کے بعد ”لسان الصدق“ جاری کیا اس کا پہلا شمارہ 20 نومبر 1903 کو نکلا تھا لیکن تقریبا یہ بھی 18 مہینے بعد بند ہو گیا 13 جولائی 1912 میں پھر الہلال جاری کیا جو کہ حکومت بنگال کی وجہ سے مجبورا بند کر نہ پڑا اس کی جگہ ”البلاغ“ جاری کیا دونوں پرچوں میں محض نام کا فرق تھا تحریر اور انداز تحریر یکساں تھا الحلال کا ذکر کرتے ہوئے ایس اے انصاری نے لکھا ہے الہلال کے دو مقصد تھے پہلا مقصد تھا مسلمانوں میں ایک دفعہ پھر مذہب کی صحیح روح کو پیدا کرنا اور ان کی مذہبی اور سماجی زندگی میں تنظیم نو کرنا اور دوسرا مقصد تھا ان میں آزادی کا وہ جذبہ پیدا کرنا جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے

:وفات

19 فروری 1995کو آپ دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے

:خاتمہ
مولانا کی شخصیت کے بہت سے پہلو تھے وہ مذہبی رہنما‘ مقرر‘ عالم‘ صاحب طرزادیب‘ اور سیاستدان تھے اب مولانا ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن ان کی زندگی سے ہمیں روشنی ملتی ہے اورآئندہ نسلوں کو بھی ملتی رہے گی 
 : بقول علامہ اقبال

ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے
 بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا





پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...