ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی غیر
مسلموں کے ساتھ مذہبی رواداری
تمہید) اسلام میں مذہبی رواداری)
اسلام دین رحمت ہے، اس کی مثال اس ابر کرم کی سی ہے جو ہر خطۂ زمین پر برسا، مگر اس سے استفادہ ہر ایک نے اپنے ظرف کے بقدر کیا، اسلام کے پھیلنے میں اس کی مذہبی تعلیمات بالخصوص عدل پروری و گرم گستری، مساوات اور مذہبی رواداری کو بڑا دخل ہے۔
اسلام نے مذہبی رواداری کے سلسلے میں بڑی واضح تعلیمات فراہم کی ہیں اس سلسلے میں جس کشادہ دلی اور فراخ دلی کا اسلام مظاہرہ کرتا ہے اس کی مثال کسی اور مذہب کی تاریخ میں نہیں ملتی، اسلام نے یہ کہتے ہوئے مکمل مذہبی آزادی فراہم کر دی ’ لا إكراه في الدين ‘(دین کے معاملے میں جبر اور زبردستی نہیں۔
(بحوالہ: اسلام میں مذہبی رواداری تاریخ اور ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں،از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی،ص: ٢٣)
ہندوستان میں مختلف مسلم حکمرانوں پر مختلف الزامات لگائے گئے ہیں، جن میں مذہبی، ثقافتی، اور سیاسی بنیادوں پر الزامات شامل ہیں۔ ذیل میں ہم چند مشہور مسلم حکمرانوں اور ان پر لگائے گئے الزامات کے ساتھ ان کے جوابات نقل کریں گے۔
:محمد بن قاسم
712 عیسوی میں سندھ کی فتح کے دوران، محمد بن قاسم نے نہ صرف اپنی جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ غیر مسلمانوں کے ساتھ انصاف اور رواداری کا مثالی رویہ بھی اپنایا۔
محمد بن قاسم نے سندھ میں موجود غیر مسلم عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے سے منع کیا۔ وہ جانتے تھے کہ مذہبی آزادی انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ چنانچہ انہوں نے مندروں کو برقرار رکھنے کی اجازت دی اور انہیں مسلمانوں کے زیرِ استعمال مساجد میں تبدیل نہیں کیا۔
محمد بن قاسم نے غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی۔ ہندو اور بدھ مت کے پیروکاروں کو اپنے عقائد کے مطابق عبادات کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ عمل اُس وقت کی ایک اہم مثال تھی، جب اکثر مفتوح اقوام کے مذہبی حقوق سلب کر لیے جاتے تھے۔
:محمود غزنوی
پروفیسر کیشروی پرشاد لکھتے ہیں:
ایک غیر متعصب محقق اور مؤرخ اس کے زمانے کی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر یہی فیصلہ دینے پر مجبور ہوگا،محمود بلا شبہ اپنے ساتھیوں کا ایک جلیل القدر رہنما،ایک انصاف پسند اور دیانت دار حکمراں،ایک باکمال اور پرجوش سپاہی،عدل و انصاف کا شیدائی،علوم و فنون کا مربی تھا،وہ بلا شک و شبہ دنیا کے بہترین اور عظیم ترین حکمرانوں میں شمار کیے جانے کے لائق ہے‘
غزنوی کے ذریعے سومناتھ کے مندر کو تباہ کیے جانے کی بابت بڑی کہانیاں سنائی جاتی ہیں مگر اس کے حالات زندگی سے یہ حصہ نکال کر نہیں بیان کیا جاتا کہ:
’جب اس نے متھرا کی مندر دیکھا تو اس کی شوکت و حشمت دیکھ کر ششدر رہ گیا،اپنے ایک مکتوب میں لکھتا ہے کہ اگر کوئی ایسی عمارت بنانا چاہے تو لاکھوں سرخ دینار خرچ کر کے بھی نہیں بنا سکتا اور شاید سو برس میں بھی ایسی عمارت نہ بن سکے۔(تاریخ یمینی بحوالہ الیٹ جلد دوم صفحہ 44)
یہاں وہ نہ بت شکن بنا اور نہ بت فروش بلکہ اس مندر کی حسن و شوکت سے متاثر رہا،اس کی کوئی مثال نہیں کہ اس نے امن کی حالت میں کسی منزل کو منہدم کیا یا اس نے کسی ہندو کو ترک مذہب کرنے پر مجبور کیا،بلکہ غزنہ میں تو اس نے ہندوؤں کی بودباش کے لیے ایک محلہ بھی آباد کر دیا تھا‘
:ظہیر الدین بابر
بابر پر ہندوستان میں حملہ آور ہونے اور منادر توڑنے، ہندوؤں کو بزور شمشیر مسلمان بنانے کے الزامات لگائے جاتے ہیں جبکہ ان کے پوتے جلال الدین محمد اکبر کو ’صلح کل‘ کہا جاتا ہے اور مذہبی رواداری انھیں کا حصہ تصور کی جاتی ہے۔
اس نے ہمایون کے لیے جو وصیت لکھی اس سے اس کی انصاف پسندی اور مدبرانہ قابلیت کا پتہ چلتا ہے۔‘
بابر نے لکها: 'فرزند من، اول یہ کہ مذہب کے نام پر سیاست مت کرو، کہ تم مذہبی تعصب کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہ دو اور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے سب لوگوں کے ساتھ پورا انصاف کرنا۔‘ سیف الدین احمد نے کہا کہ بابر کا یہی نظریہ تو آج سیکولرزم کہلاتا ہے۔
تمہیں کسی قوم کی عبادت گاہ مسمار نہیں کرنا چاہیے اور ہمیشہ پورا انصاف کرنا تاکہ بادشاہ اور رعایا کے تعلقات دوستانہ ہون اور ملک میں امن و امان ہو۔‘
( بحوالہ: اسلام میں مذہبی رواداری تاریخ اور ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں، از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی، ص: ١١٩تا ١٢٣)
:اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ
اورنگزیب پر دو الزام سب سے بڑے لگائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ اس نے مندروں کو تباہ کیا،دوسرا یہ کہ اس نے ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنایا،ان دونوں الزامات کی حقیقت سوائے جھوٹ پر مبنی تاریخ سازی،من گھڑت اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں،دونوں الزامات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو عجیب و غریب حقائق سامنے آتے ہیں۔
ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنانے کی بابت ایک عجیب و حیرت انگیز واقعہ نقل کیا گیا ہے
’ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ڈرا دھمکا کر ہندوؤں کو مسلمان بنایا لیکن ہم یہاں ایک ایسی حیرت ناک بات کا بیان کرتے ہیں جس سے اورنگزیب کے انداز فکر اور ذہنیت کا بخوبی علم ہو جائے گا شاہجہاں نے بندھرا کے راجہ اندرامن کو تعمیل حکم نہ کرنے پر قید کر لیا،جب اورنگ زیب اس علاقے یعنی دکن کا صوبہ دار ہوا تو اس نے اندرامن کی رہائی کے لیے شاہجہاں سے التماس کیا،شاہجہان اورنگزیب کو لکھ بھیجا کہ اندرامن نے پے در پے تکلیف پہنچائی ہے،وہ صرف اس شرط پر رہا ہو سکتا ہے کہ اسلام قبول کر لے،اورنگ زیب نے اس بات کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ اس شرط کی تعمیل نہیں کی جا سکتی،ایسا کرنا ناجائز اور تنگ نظری کا کام ہوگا،راجہ کی رہائی اسی کے شرائط کے مطابق ہونی چاہیے،اورنگزیب کا یہ خط آداب عالمگیری (خدا بخش لائبریری کا قلمی نسخہ) میں موجود ہے‘
’ بی اینڈ پانڈے کے بقول اس کی حکومت کی پالیسی ٹھیک ہے اس نے ہندو مندروں اور مٹھوں کے لیے وظیفے مقرر کیے،الہ آباد میں واقع سومیشور ناتھ مہادیو کے مندر،بنارس میں کاشی ویشو ناتھ کے مندر،چھترکوٹ کے بالا جی مندر،گوہاٹی میں واقع،شترونجی میں جین مندر اور شمالی ہند میں واقع بے شمار مندروں اور گردواروں کے لیے اورنگزیب نے جاگیریں وقف کیں‘
:اوم پرکاش صاحب لکھتے ہیں
” مندروں کو لوٹنے کا کام مسلمانوں سے زیادہ ہندو حکمرانوں نے کیا ہے کسی بھی مسلمان حکمراہ کے عہد حکومت میں مندروں کو لوٹنے والا محکمہ قائم تھا،اس سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملتا،لیکن 12ویں صدی میں کشمیر کے ہرش نامی حکمران نے”مندر لوٹ“ محکمہ ہی قائم کر دیا تھا جس کا کام مندروں کو لوٹنا تھا
مذکورہ بالا ماحول کی روشنی میں ہمیں اورنگزیب کی عہد حکومت اور اس کے مذہبی نظریات کو سمجھنا ہوگا،بنارس کے کاشی وشونات مندر کو توڑنے کے سلسلے میں پی سیتارام ناتھ نے نہایت اہم ثبوت پیش کیا ہے جسے بی اینڈ پانڈے نے بھی اپنے مضمون میں بطور حوالہ تحریر کیا ہے،لکھتے ہیں کہ” کچھ کی آٹھ مہرانیہ کاشی وشوناتھ میں درشن کرنے گئیں،ان میں سے ایک حسین رانی کو مہنتوں نے اغوا کر لیا،کچھ کے راجہ نے اس واقعے کی اطلاع اورنگزیب کو پہنچائی،پہلے تو اورنگزیب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ ہندوؤں کا آپسی معاملہ ہے اور اس میں اس کی طرف کوئی بھی قدم اٹھانا ٹھیک نہیں ہوگا،لیکن جب کچھ کے راجہ نے کافی منت سماجت کی تو اورنگزیب نے کچھ ہندو سپاہیوں کو واقعے کی چھان بین اور حقیقت معلوم کرنے کے لیے بھیجا،سپاہیوں کو مہنت کے آدمیوں نے ڈاٹا ڈپٹا اور مارپیٹ کر بھگا دیا،اورنگزیب کو سپاہیوں کے ساتھ کیے گئے اس برتاؤ پر ناگواری ہوئی،اس نے دوبارہ کچھ اہل اور بہتر فوجی جوانوں کو اصل واقعات معلوم کرنے کی غرض سے بھیجا،لیکن مندر کے پجاریوں نے اس مرتبہ بھی ڈٹ کر مخالفت کی،مغل فوجیوں نے مقابلہ کیا،مندر کے اندر فوجیوں اور پجاریوں کے درمیان ہوئی لڑائی کے نتیجے میں مندر تباہ ہوا،اور لڑائی کی صورت میں ایسا ہونا امکانی بات ہے،فوجی جب مندر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تو انہوں نے گمشدہ رانی کی تلاش شروع کر دی،تلاش کے دوران خاص دیوتا کے پیچھے ایک سرنگ کا پتہ چلا جس سے انتہائی ناگوار قسم کی بدبو نکل رہی تھی،دو دن تک دوا چھڑک کر اس بدبو کو ختم کیا گیا،اور فوجی برابر پہرا دیتے رہے،تیسرے دن فوجیوں نے سرنگ میں گھس کر کئی گلی سڑی لاشیں جو عورتوں کی تھی وہاں سے برآمد کیں ،کچ کی لاپت رانی کی لاش بھی ملی جو برہنہ تھی،اجتماعی آبروریزی کی وجہ سے وہ ختم ہو گئی تھی،بڑا پجاری گرفتار کیا گیا اور اسے سخت سزا دی گئی۔“
(بحوالہ: اسلام میں مذہبی رواداری تاریخ اور ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں، از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی)
:خاتمہ
اس مقالے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمان حکمرانوں کے زمانے میں ہندوستان میں جتنی جنگیں ہوئیں وہ سب سیاسی نوعیت کی تھی،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے نظام رحمت کو پوری قوت سے پیش کیا جائے، اس کے عادلانہ نظام کا تعارف کرایا جائے۔
وطن عزیز کے تناظر میں ہر ذمہ دار شہری کو اس کا ماضی سامنے رکھتے ہوئے حال کے حالات کی ناہمواری اور مستقبل کی خطرات کے پیش نظر اب یہ سوچنا ضروری ہے
لکھی ہوئی تھی جہاں داستان رشتوں کی
بس ایک پل میں وہ چہرہ بدل گیا کیوں ہے


No comments:
Post a Comment