Friday, August 15, 2025

یومِ آزادئ ہند

یومِ آزادئ  ہند 


عتیق اللہ کلیم ✍️
تاریخ ہند میں دو دن 15 اگست اور 26 جنوری کو وہ غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جو کسی دوسرے دنوں کو حاصل نہیں ہے، 15 اگست 1947 کو ہمارا ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا تھا اور 26 جنوری 1950 کو اس ملک کا اپنا جمہوری قانون نافذ کیا گیا تھا ،آج کی اس تاریخ میں ہندوستان کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں باشندگان ہند نے جشن جمہوریت منایا ہوگا اور مجاہدین آزادی کے کارناموں کو یاد کیا ہوگا اور جمہوری ترانہ گنگنایا ہوگا اور یہ دعوی کیا جا رہا ہوگا کہ ہندوستان میں جمہوری حکومت قائم ہے اور ہر ایک کو چاہے وہ مسلم ہو کہ ہندو ،سکھ ہو یا عیسائی، مذہبی و ملی اور شخصی آزادی حاصل ہے اور اور ایسا بتایا بھی جاتا ہے کہ سب کے حقوق برابر ہیں اور سب کے لیے رعایات یکساں ہیں ہر ایک کے مفاد کے متعلق سوچ و فکر ہو رہی ہے سب کے حقوق یکساں طور پر دیے جا رہے ہیں اور یہ یاد کرایا جاتا ہے کہ ہر شخص ہر شہری کو مکمل آزادی حاصل ہے کسی کو کسی سے کوئی شکوہ نہیں آج کی اس تاریخ میں اس وقت بڑا ادنی سے ادنی سیاسی لیڈر یہی گفتگو کرتا ملے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے جھوٹے سیاست دانوں نے جمہوریت کے نام پر اس کی دھجیاں اڑائی ہیں اور جمہوریت کے نام پر اقلیت کا ہر میدان میں استیصال کیا ہے، کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ اقلیت پر اور بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا جائے؟
 کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ ماؤں اور بہنوں کی عزت و آبرو کو سر بازار کیا جائے؟ 
۔۔۔۔۔۔۔کسانوں اور کاشتکاروں کے حقوق سلب کیے جائیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔مساجد اور مدارس پر پابندیاں لگائی جائیں؟
۔۔۔۔۔۔۔ این آر سی اور سی اے اے کے نام پر شہریت ختم کیا جائے؟
۔۔۔۔۔۔ ملک میں دنگائی اور فسادیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے؟ ۔۔۔۔۔۔ملک میں کسانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا جائے ؟
اللہ اکبر !کیا فساد ،کیا ہنگامہ ،کیسا بھیانک منظر، کیسی درد آمیز کراہیں اور چیخ و پکار جس کے محض تصور سے ہی جسم کا رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے، کتنی آنکھیں اشکوں کے سمندر میں تیرنے لگتی ہیں  اور کتنی ہی زبانیں بلبلانے لگتی ہیں۔
 اے قائدین ملک بتاؤ کہ یہ کس وجہ سے ہوا اور اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟آج تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا محسوس منظر ہے، تو اگر اسی کا نام جمہوریت اور اسی کا نام آزادی ہے تو ایسی آزادی اور ایسی جمہوریت پر ہم کل بھی لات مارتے تھے اور آج بھی مارتے ہیں۔
!سن لو اے دانشورانِ ملت
ہمیں آزادی چاہیے دین اسلام کے تحفظ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب و ملت کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عزت و ابرو کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔خانہ خدا کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدارس و مکاتب کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔مساجد و معاہد کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم و زیادتی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالم حکومت وہ مہنگائی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنگا و فساد اور کالے قانون سے
 اب اگر ان چیزوں کی آزادی ہمیں نہیں ملتی جیسا کہ آج مشاہدات وہ واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں تو یاد رکھو کہ یہ آزادی اور جمہوریت کی بدنامی ہے اور ان دونوں لفظوں کو بےکار استعمال کیا جا رہا ہے ۔

محترم قارئین! آئیے ہم اپنے قول و فعل سے نشست و برخاست،  طور طریق سے آزادی کا صحیح مفہوم واضح کریں اور نفرت  عداوت ، تعصب و منافرت ،لاقانونیت و بربریت ،فرقہ پرستی و دہشت گردی کو ہوا دینے والی جماعتوں سے جم کر مقابلہ کریں ۔
اور امن و اشتی کا ہندوستان                           خوشحالی و پرامن ہندوستان 
گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ....    ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہندوستان
شیخ الہند اور مولانا قاسم کا.....                مولانا آزاد و مولانا جعفر کا
مہاتمہ گاندھی اور نہرو کا ......                 علامہ اقبال اور ٹیگور کا.........     ایمبیڈکر اور فضل حق خیرآبادی کا...  ٹیپو سلطان اور بھگت سنگھ کا سھباس چندر بوس واشفاق اللہ خان کا......    نارنک اور چشتی کا ہندوستان اور جیسا پرامن ہندوستان تھا ویسا ہی ہندوستان بن جائے اور آنکھوں کے سامنے آ جائے ۔
مذہب نہیں سکھاتا اپس میں بیر رکھنا
ہندی ہے ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا 

No comments:

Post a Comment

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...