🌸 داستانِ محبت
عتیق اللہ کلیم ✍️باب اوّل: سفرِ علم سے عشق تک
ایک لڑکا، عرش، علم کے حصول کے لیے اپنے وطن سے بہت
دور لکھنؤ کے سفر پر نکلا۔
دل میں خواب، آنکھوں میں عزم، اور ذہن میں صرف ایک مقصد
— علم کی طلب۔
عرش نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی ایک شاخ میں داخلہ لیا۔
بارہویں جماعت مکمل ہو چکی تھی، اور اب وہ بی۔اے کے لیے
لکھنؤ یونیورسٹی میں انٹرنس امتحان پاس کرکے داخلہ پا چکا تھا۔
عرش نہایت شریف، سادہ دل اور متواضع طبیعت کا مالک تھا۔
مدرسہ میں اُس کا دوست ساحل بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ لے چکا تھا۔
دونوں اکٹھے کلاسوں میں جانے لگے۔
پہلے ہی دن کلاس میں ساحل، جو ذرا شوخ مزاج لڑکا تھا
سامنے بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھ کر مسکرا اٹھا۔
: چپکے سے عرش سے کہنے لگا
"اس لڑکی سے بات مت کرنا، یہ مجھے پسند آگئی ہے۔"
عرش نے مسکرا کر بات کو ٹال دیا
وہ ایسا نہیں تھا جو ان باتوں میں پڑتا۔
دوسرے دن جب وہی لڑکی آئی تو اس نے چشمہ لگائی ہوئی تھی۔
: ساحل فوراً بولا
"اب مجھے چشمے والی لڑکیاں پسند نہیں"
: اور چند ہی لمحوں بعد وہی ساحل عرش کو چیلنج دیتا ہے
"تم تین دن میں اس لڑکی سے بات کر کے دکھاؤ"
عرش کو یہ بات ناپسند تو تھی، مگر اُس کے دل میں کوئی بُرا ارادہ نہیں تھا۔
بس ایک تجسس — کہ دیکھیں بات کہاں تک پہنچتی ہے۔
کلاس کے واٹس ایپ گروپ میں اُسی لڑکی کا نمبر دیکھا تو
عرش نے چپکے سے محفوظ کر لیا۔
اُس نمبر پر نام “مرزا” لکھا ہوا تھا۔
شام کو جب وہ مدرسے لوٹا، دل میں ایک ہلکی سی دھڑکن کے ساتھ
اس نے میسج کیا
"السلام علیکم، آپ مرزا بھائی؟"
: جواب آیا
"نہیں، میں لڑکی ہوں۔"
: عرش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
اوہ، میں پہچان نہیں پایا۔ ویسے پہچانوں بھی کیسے؟ میں تو دو دن ہی کلاس گیا ہوں۔
: جواب آیا
"میں نقاب میں آتی ہوں۔"
: عرش نے چالاکی سے کہا
"نقاب میں تو بہت سی لڑکیاں آتی ہیں، آپ کو کیسے پہچانوں؟"
: لڑکی
"میں چشمے والی ہوں۔"
عرش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی
دل میں ایک نرم سا احساس جاگا۔
اچھا، میں پہچان گیا۔ سچ کہوں تو آپ کو حسنِ یوسف سے حصہ ملا ہے۔
: لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا
"اتنی بھی خوبصورت نہیں ہوں۔"
: عرش نے لکھا
"ایسی بات نہیں، جو بھی آپ کو دیکھے، ایک نظر میں فدا ہو جائے گا۔
ویسے آپ کا نام جان سکتا ہوں؟
: لڑکی
"جی۔۔۔ روشی۔"
: عرش نے شوخی سے لکھا
میں نے گوگل پر آپ کو بہت تلاش کیا، آپ کہیں ملی نہیں، کہاں رہتی ہیں آپ؟
: روشی نے ہنستے ہوئے جواب دیا
"میں آسمان میں۔ 😂"
: عرش
"اس تاروں کے شہر کا نام جان سکتا ہوں؟"
: روشی
"جی، دوبگا۔"
یوں دونوں میں باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔
وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہا۔
عرش کو محسوس ہوا کہ یہ لڑکی عام نہیں۔
نقاب کے پیچھے چھپی آنکھوں میں ادب، سادگی اور ایک انوکھی
معصومیت تھی۔
چشمے کے شیشوں کے پیچھے خاموش روشنی — جو دیکھنے والے کو اپنی
طرف کھینچ لیتی تھی۔
: عرش نے دیر نا کرتے ہوئے لکھا
دیکھو، میں ادھر اُدھر کی باتیں نہیں کرتا، بات صرف اتنی ہے کہ
تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔
کیا تم مجھ سے نکاح کروگی؟
روشی چونک گئی۔
"اللہ... ابو کاٹ نہیں دیں گے اگر محبت میں شادی کی تو۔"
: عرش نے نرمی سے کہا
شادی تو والدین ہی کریں گے، میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں کیا
تمہیں میں پسند ہوں یا نہیں؟
: روشی نے دیر بعد جواب دیا
تم اچھے لڑکے ہو، لیکن اتنی دور شادی نہیں ہوگی۔
میرے گھر والے کاسٹ بھی دیکھتے ہیں۔
: عرش نے دل تھام کر کہا
میں تو تمہارے کاسٹ کا نہیں، مگر تم تو عالمہ ہو جانتی ہو نا، اسلام
میں کاسٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔
: روشی
ہاں، پر آج کل کے لوگ یہی دیکھتے ہیں۔
مجھے معاف کرو، میں مجبور ہوں۔
تمہیں جو بھی لڑکی ملےگی، وہ اچھی ہی ہوگی۔
ہاں تم مجھ سے فرینڈلی بات کر سکتے ہو
لیکن یاد رکھنا — مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوگی۔
عرش نے خاموشی سے فون بند کر دیا۔
اس کے لیے یہ سب خواب جیسا تھا
کیا کہانی یہیں ختم ہوگئ، کیا وہ دونوں ہمیشہ کے لیے جدا ہوگۓ، آخر
کیا ہو، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو کمینٹ کریں۔

No comments:
Post a Comment