Thursday, October 16, 2025

ایک سچا اور دلچسپ واقعہ

 🌸 داستانِ محبت


عتیق اللہ کلیم ✍️

‎باب اوّل: سفرِ علم سے عشق تک

یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں ہے — 2024 کی بات ہے۔

‎ایک لڑکا، عرش، علم کے حصول کے لیے اپنے وطن سے بہت 

دور لکھنؤ کے سفر پر نکلا۔
‎دل میں خواب، آنکھوں میں عزم، اور ذہن میں صرف ایک مقصد 

— علم کی طلب۔

‎عرش نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی ایک شاخ میں داخلہ لیا۔

‎بارہویں جماعت مکمل ہو چکی تھی، اور اب وہ بی۔اے کے لیے

 لکھنؤ یونیورسٹی میں انٹرنس امتحان پاس کرکے داخلہ پا چکا تھا۔

عرش نہایت شریف، سادہ دل اور متواضع طبیعت کا مالک تھا۔

‎مدرسہ میں اُس کا دوست ساحل بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ لے چکا تھا۔

‎دونوں اکٹھے کلاسوں میں جانے لگے۔

‎پہلے ہی دن کلاس میں ساحل، جو ذرا شوخ مزاج لڑکا تھا

‎سامنے بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھ کر مسکرا اٹھا۔

: ‎چپکے سے عرش سے کہنے لگا

‎ "اس لڑکی سے بات مت کرنا، یہ مجھے پسند آگئی ہے۔"
‎‎
‎عرش نے مسکرا کر بات کو ٹال دیا 

‎وہ ایسا نہیں تھا جو ان باتوں میں پڑتا۔

‎دوسرے دن جب وہی لڑکی آئی تو اس نے چشمہ لگائی ہوئی تھی۔

: ‎ساحل فوراً بولا

 "اب مجھے چشمے والی لڑکیاں پسند نہیں"
‎‎
: ‎اور چند ہی لمحوں بعد وہی ساحل عرش کو چیلنج دیتا ہے

‎ "تم تین دن میں اس لڑکی سے بات کر کے دکھاؤ"
‎‎
‎عرش کو یہ بات ناپسند تو تھی، مگر اُس کے دل میں کوئی بُرا ارادہ نہیں تھا۔
‎بس ایک تجسس — کہ دیکھیں بات کہاں تک پہنچتی ہے۔

‎کلاس کے واٹس ایپ گروپ میں اُسی لڑکی کا نمبر دیکھا تو

‎عرش نے چپکے سے محفوظ کر لیا۔

‎اُس نمبر پر نام “مرزا” لکھا ہوا تھا۔

‎شام کو جب وہ مدرسے لوٹا، دل میں ایک ہلکی سی دھڑکن کے ساتھ

 اس نے میسج کیا‎

‎ "السلام علیکم، آپ مرزا بھائی؟"

: ‎جواب آیا‎

 "نہیں، میں لڑکی ہوں۔"‎

: ‎عرش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا

‎ اوہ، میں پہچان نہیں پایا۔ ویسے پہچانوں بھی کیسے؟ میں تو دو دن ہی کلاس گیا ہوں۔

: ‎جواب آیا

‎ "میں نقاب میں آتی ہوں۔"

: ‎عرش نے چالاکی سے کہا

‎ "نقاب میں تو بہت سی لڑکیاں آتی ہیں، آپ کو کیسے پہچانوں؟"‎‎
: ‎لڑکی‎
‎"میں چشمے والی ہوں۔"
‎‎
‎عرش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی 

‎دل میں ایک نرم سا احساس جاگا۔

‎ اچھا، میں پہچان گیا۔ سچ کہوں تو آپ کو حسنِ یوسف سے حصہ ملا ہے۔
‎‎
: ‎لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا

‎ "اتنی بھی خوبصورت نہیں ہوں۔"
‎‎
: ‎عرش نے لکھا‎
‎ "ایسی بات نہیں، جو بھی آپ کو دیکھے، ایک نظر میں فدا ہو جائے گا۔
‎ویسے آپ کا نام جان سکتا ہوں؟
‎‎
: ‎لڑکی‎
‎ "جی۔۔۔ روشی۔"
‎‎
: ‎عرش نے شوخی سے لکھا

‎میں نے گوگل پر آپ کو بہت تلاش کیا، آپ کہیں ملی نہیں، کہاں رہتی ہیں آپ؟‎‎

: ‎روشی نے ہنستے ہوئے جواب دیا

‎ "میں آسمان میں۔ 😂"
‎‎
: ‎عرش

‎ "اس تاروں کے شہر کا نام جان سکتا ہوں؟"
‎‎
: روشی ‎
‎"جی، دوبگا۔"
‎‎
‎یوں دونوں میں باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔

‎وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہا۔

‎عرش کو محسوس ہوا کہ یہ لڑکی عام نہیں۔

‎نقاب کے پیچھے چھپی آنکھوں میں ادب، سادگی اور ایک انوکھی

 معصومیت تھی۔

‎چشمے کے شیشوں کے پیچھے خاموش روشنی — جو دیکھنے والے کو اپنی

 طرف کھینچ لیتی تھی۔


: ‎عرش نے دیر نا کرتے ہوئے لکھا‎

‎دیکھو، میں ادھر اُدھر کی باتیں نہیں کرتا، بات صرف اتنی ہے کہ 

تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔

‎کیا تم مجھ سے نکاح کروگی؟‎

‎روشی چونک گئی۔

‎ "اللہ... ابو کاٹ نہیں دیں گے اگر محبت میں شادی کی تو۔"
‎‎
: ‎عرش نے نرمی سے کہا

‎ شادی تو والدین ہی کریں گے، میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں  کیا 

تمہیں میں پسند ہوں یا نہیں؟

: ‎روشی نے دیر بعد جواب دیا

‎تم اچھے لڑکے ہو، لیکن اتنی دور شادی نہیں ہوگی۔

‎میرے گھر والے کاسٹ بھی دیکھتے ہیں۔

: ‎عرش نے دل تھام کر کہا‎

‎میں تو تمہارے کاسٹ کا نہیں، مگر تم تو عالمہ ہو ‎جانتی ہو نا، اسلام 

میں کاسٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔

: ‎روشی ‎
‎ہاں، پر آج کل کے لوگ یہی دیکھتے ہیں۔

‎مجھے معاف کرو، میں مجبور ہوں۔

‎تمہیں جو بھی لڑکی ملےگی، وہ اچھی ہی ہوگی۔

‎ہاں تم مجھ سے فرینڈلی بات کر سکتے ہو

‎لیکن یاد رکھنا — مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوگی۔
‎‎
‎عرش نے خاموشی سے فون بند کر دیا۔

‎اس کے لیے یہ سب خواب جیسا تھا 

کیا کہانی یہیں ختم ہوگئ، کیا وہ دونوں ہمیشہ کے لیے جدا ہوگۓ، آخر 

کیا ہو، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو کمینٹ کریں۔


📖 حاصلِ سبق — بابِ اوّل

کہانی کے اس باب سے چند اہم اسباق اور نکات حاصل ہوتے ہیں

 انسان کو اپنے مقصدِ زندگی سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر وہ دنیوی

 لہو و لعب اور وقتی جذبات میں الجھ جائے تو آہستہ آہستہ اسی کا 

عادی بن جاتا ہے، اور اپنے اصل ہدف — یعنی علم، عمل اور تعمیرِ ذات — سے بھٹک جاتا ہے۔

دین کا صحیح فہم انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ جس طرح عرش 

نے دنیاوی دوستی یا جذباتی تعلق کے بجائے نکاح کی پیش کش کی، یہ
 اس بات کی علامت ہے کہ علمِ دین انسان کے فیصلوں کو پاکیزگی بخشتا ہے۔

 مسلم معاشرے کی ایک بڑی کمزوری “کاسٹ پرستی” ہے۔ نکاح

 کے معاملے میں اکثر والدین دینداری کے بجائے ذات پات 

کوترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اسلام نے اس نظریے کو مکمل طور پر ردکیا

 ہے۔ یہ دراصل ہندو معاشرت سے آیا ہوا اثر ہے، جس نےمسلم

 سوسائٹی کی سادگی کو مسخ کر دیا ہے۔

: نبی کریم ﷺ نے فرمایا

تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا

فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ

(متفق علیہ)
: یعنی عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے

 مال،حسب و نسب، حسن اور دین۔ پس تم دیندار عورت کو

 ترجیح دو، یہی کامیابی کی علامت ہے۔

 اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ کاسٹ کا دینِ اسلام سے کوئی

 تعلق نہیں۔ نکاح کے فیصلے میں دینداری، اخلاق اور خاندان کی

 نیک شہرت کو معیار بنانا چاہیے، نہ کہ سماجی رُتبے یا نسبی تفریق کو۔


:  خلاصۂ کلام

کامیاب زندگی اسی کی ہے جو اپنے مقصد سے غافل نہ ہو، علم کے ساتھ عمل کو جوڑے، اور دین کی روشنی میں اپنے فیصلے کرے۔
: بابِ دوم  ملاحظہ ہو

No comments:

Post a Comment

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...