Saturday, September 20, 2025

سیرت کوئز کمپٹیشن کا کامیاب انعقاد

جامع مسجد مستی چک میں سیرت کوئز کمپٹیشن کا کامیاب انعقاد




عتیق اللہ کلیم ✍️

میرا سفر – سیرت کوئز کمپٹیشن تک

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
میرے علاقے کے حالات ایسے ہیں کہ دینی کاموں کے لئے لوگوں کی بے رغبتی حد سے بڑھ چکی ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا تھا کہ یہاں کسی علمی یا دینی پروگرام کا انعقاد ناممکن ہے۔ مگر میرے دل میں ایک عزم تھا، ایک خواب تھا کہ میں اپنے علاقے کے بچوں کو سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑنے کا کوئی ذریعہ بنا کر رہوں گا۔ اسی خواب نے مجھے ہمت دی اور میں نے طے کر لیا کہ سیرت کوئز کمپٹیشن ہر حال میں ہوگا، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
جب میں 7؍ ستمبر 2025ء کو تعطیل ششماہی کے موقع پر گھر پہنچا تو میرے ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا۔ میں نے اسی دن محنت شروع کر دی۔ وسائل میرے پاس نہ تھے، رقم بھی نہیں تھی، اور نہ ہی کوئی بڑا انتظامی ڈھانچہ تھا۔ لیکن دل میں جو تڑپ تھی وہ سب پر بھاری تھی۔
میں نے سب سے پہلے اپنے موبائل پر دونوں طبقوں کے لئے پچاس سوالات تیار کئے اور انہی کے ساتھ پوسٹر بھی ڈیزائن کیا۔ پرنٹ نکالنے کے لئے اپنے مخلص رفیق آصف بھائی کے پاس گیا۔ میرے پاس نقد رقم نہ ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت محبت سے مدد کی۔ یہ پہلا قدم تھا اور اللہ نے اسے آسان فرما دیا۔
پھر میں نے گاؤں گاؤں جا کر محنت شروع کی۔
سب سے پہلے اپنے گاؤں بساہی میں بات کی۔ وہاں سے 15 بچوں نے رجسٹریشن کیا۔
پھر میں مستی چک گیا، وہاں سے 17 بچوں کے نام آئے۔
اس کے بعد اپنے گاؤں سے تین کلومیٹر دور سائیکل پر گیا۔ ایک بار رجسٹریشن مکمل نہ ہو سکا، تو دوبارہ جانا پڑا۔ وہاں سے 24 بچوں نے حصہ لیا۔
آخر میں میں پوجھی گیا، جہاں سے 7 بچوں کے نام درج ہوئے۔
یعنی میرا ہر دن دوڑ دھوپ اور محنت میں گزرا۔ کبھی سائیکل پر سفر، کبھی رجسٹریشن فارم بانٹنا، کبھی والدین کو سمجھانا، کبھی بچوں کو تیار کرنا۔
جمعہ میں 12 تاریخ کو مجھے موقع ملا کہ لوگوں کے سامنے  
 پروگرام کی اہمیت بیان کروں۔ اس بیان کے بعد دلوں میں کچھ چراغ روشن ہوئے اور مزید حوصلہ ملا۔
میں نے رجسٹریشن فیس صرف 20 روپیہ رکھی تھی، لیکن یہ رقم بھی مکمل نہ ہو سکی۔ اس قلیل وسائل میں اتنا بڑا پروگرام کیسے ہوتا؟ ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ سب کچھ ناممکن سا لگنے لگا۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے اپنے ہی تعلقات میں مخلص احباب سے تعاون کی اپیل کی اور اللہ نے ان کے ذریعے انتظام فرما دیا۔
یہ سب لمحے میرے لئے محض ایک تیاری نہیں تھے بلکہ ایمان، محنت اور صبر کا امتحان تھے۔ 

سیرت کوئز کمپٹیشن کی ضرورت و اہمیت

الحمد للہ  اب میری محنت رنگ لائی اور    جامع مسجد مستی چک، پرسا بازار، چھپرا میں بروز منگل 16؍ ستمبر 2025ء کو سیرت کوئز کمپٹیشن نہایت کامیابی اور حسنِ انتظام کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ پروگرام خالص دینی و تعلیمی فضا میں ہوا، جس میں بچوں اور بچیوں نے غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

: مسابقہ دو طبقوں میں تقسیم کیا گیا تھا

سفلی: 8 سے 12 برس کی عمر تک
علیا: 13 سے 16 برس کی عمر تک


دونوں طبقوں کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی تعلیمات پر مشتمل پچاس سوالات تیار کیے گئے تھے۔ بچوں نے نہایت اعتماد، شوق اور دلچسپی کے ساتھ جوابات دیے۔

پروگرام کا آغاز محمد داوٗد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور برادرم حافظ محمد عبد اللہ نے رسول اکرم ﷺ کی مدح میں نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کیا۔

مسابقے کے لئے پچاس سوالات کی پرچیاں تیار کی گئی تھیں، جن میں سے ہر شریک دس پرچیاں منتخب کرتا اور انہی سوالات سے اس کا امتحان لیا جاتا۔

سب سے پہلے طبقہ سفلی کا مقابلہ ہوا، اس کے بعد طبقہ علیا کا۔

طبقہ سفلی سے: سعد عزیز بن ڈاکٹر سعید، عاصیہ پروین بنت مطیع اللہ اور محمد داوٗد بن ڈاکٹر علی شیر نے بالترتیب پوزیشن حاصل کی۔

طبقہ علیا سے: حورعین فاطمہ بنت سمیع اللہ، محمد انیس الرحمن بن محمد کلیم اور ایان بن ریاض نے بالترتیب پوزیشن حاصل کی۔


یہ مقابلہ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بامقصد جدوجہد ہے۔ آج کے دور میں جب بچے موبائل، کھیل اور فضول مشاغل میں وقت ضائع کرتے ہیں، ایسے مواقع ان کو دین و سیرت سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

کوئز کمپٹیشن کے ذریعے نہ صرف بچوں میں مطالعہ اور یادداشت کی عادت پروان چڑھتی ہے بلکہ وہ سیرتِ رسول ﷺ سے ایسے جواہر حاصل کرتے ہیں جو ان کی شخصیت اور اخلاق کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

یہ مقابلے دراصل نئی نسل کے دلوں میں ایمان کی تازگی، رسول اللہ ﷺ کی محبت اور نیکی میں سبقت کا جذبہ پیدا کرنے کی بہترین تدبیر ہیں۔

اس موقع پر علما و ائمہ کرام نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقابلہ نسلِ نو کو سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑنے کی ایک مؤثر اور کامیاب کوشش ہے۔

نتائج کے اعلان کے بعد کامیاب طلبہ و طالبات کو شیلڈ، کپ اور میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ تمام شرکا کی حوصلہ افزائی کے لئے میڈلز اور کتابیں بھی پیش کی گئیں۔ اس سے بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کے اندر مزید پڑھنے اور سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔

واضح رہے کہ حکم کے فرائض رفیق درس محمد شاہد اور محمد معراج نے انجام دیے، جبکہ بزم کی نظامت خود کنوینر محمد عتیق اللہ نے کی۔


: صدارتی خطاب میں مولانا ظفر عالم قاسمی مدظلہ العالی نے فرمایا

 جب میں یہاں آیا تھا تو مجھے لگا تھا کہ اس علاقے میں دینی ترقی کے آثار ظاہر ہونے میں کم از کم پچاس سال لگیں گے، لیکن ایسے پروگرامز کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ اب ان شاء اللہ بہت جلد تبدیلی آئے گی۔


: اسی موقع پر اقبالؔ کا یہ شعر پڑھا گیا

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی


: مولانا نے مزید فرمایا کہ


تعلیمی بیداری نہایت ضروری ہے، لہٰذا اسے عبادت سمجھ کر انجام دیا جائے۔


: راقم الحروف نے اپنے خطاب میں کہا

 یہ علمی مسابقہ دراصل ہمارے بچوں کے ذہن و دل میں علم و ایمان کی شمع روشن کرنے کی کوشش ہے، اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمارے معاشرے کی فکری و اخلاقی بیداری کا ذریعہ بنائے۔


آخر میں صدر محترم، حکم حضرات اور مہمانانِ کرام کو بھی میڈل پیش کیے گئے اور خوبصورت فوٹو سیشن کے بعد یہ نورانی محفل دعا پر ختم ہوئی۔

 بقلم: محمد عتیق اللہ بن محمد کلیم 

متعلم: دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ 

No comments:

Post a Comment

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...