Sunday, October 19, 2025

کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے💓

🌹داستانِ محبت 🌹




عتیق اللہ کلیم ✍️

 بابِ سوم: کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے

اگر آپ نے اس داستان کا پہلا اور دوسرا باب نہیں پڑھا تو توقف کیجیے — کیونکہ یہ باب اُس کے جذباتی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔
: بابِ دوم ملاحظہ ہو 

شام کی ہوا میں ہلکی سی خنکی گھلی ہوئی تھی۔ حسبِ معمول عرش اور روشی واٹس ایپ پر باتوں میں مگن تھے۔ عرش اپنے دوست ساحل کے ساتھ پیزا کھا رہا تھا کہ شرارتاً ایک تصویر کھینچی اور روشی کو بھیج دی۔

روشی نے مسکرا کر کہا، "آپ اکیلے ہی کھا رہے ہیں؟ میں بھی کھاؤں گی

عرش نے بے ساختہ جواب دیا، ٹھہرو، میں آن لائن آرڈر کر دیتا ہوں۔


چند لمحوں میں آرڈر دے دیا گیا، مگر جب ڈیلیوری بوائے پہنچ گیا— تو بس گھر سے دس قدم باہر جانا تھا۔

مگر روشی نے ہچکچاتے ہوئے کہا : نہیں، میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔ آپ آرڈر کینسل کر دو۔

آرڈر تو کینسل نہ ہوا، مگر پیسے ضرور ضائع ہو گئے۔

اگلے دن عرش نے دل میں عزم کیا کہ آج روشی کو پیزا ضرور کھلا کر رہوں گا

نمازِ عصر کے بعد وہ اپنے وفادار دوست ساحل کے ساتھ بائیک پر روانہ ہوا۔

رستہ انجانا تھا، اس لیے گوگل میپ کا سہارا لیا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا — کئی چکر کاٹنے کے بعد آخرکار وہ روشی کے محلے پہنچ ہی گئے۔

قریب ہی سے پیزا پیک کروایا اور مسجد کے سامنے کھڑے ہو کر روشی کو کال کی

تمہارا ڈیلیوری بوائے پہنچ گیا ہے، جا کر پیزا لے لو

روشی کو علم نہ تھا کہ ڈیلیوری بوائے کوئی اجنبی نہیں، بلکہ وہی دیوانہ ہے جو اُس کے لیے دل کا پیزا سینک لایا ہے۔


روشی نے سادگی سے کہا : ٹھیک ہے، میں ابو سے کہتی ہوں وہ لے آئیں گے۔

بس یہ سنتے ہی عرش کے اوسان خطا ہوگئے، اور ساحل تو گھبرا کر فوراً بائیک دوڑا لے گیا

یار، مجھے کال کر لینا، میں پٹنے کے لیے نہیں آیا


.....مگر عرش ٹھہر گیا، محبت کا اسیر، دیوانہ

: اس نے جلدی سے روشی کو میسج کیا

براہ کرم ابو کو نہ بھیجو، وہ ڈیلیوری بوائے کوئی اور نہیں… میں خود ہوں۔ میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔


یہ پڑھتے ہی روشی کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی

آپ خود مار کھائیں گے اور مجھے بھی کھلوائیں گے؟ اچھا رکو، میں ہی آتی ہوں ورنہ آپ مار کھا جاؤ گے


روشی نے دروازے پر بہن کو پہرہ دینے کے لیے کھڑا کیا اور خود بھاگتی ہوئی آئی۔

سلام کیا، تیزی سے پیزا لیا، اور بجلی کی طرح واپس اندر غائب ہو گئی۔

عرش اپنی محبوبہ کو دیکھ بھی نہ سکا جس کے لیے اتنی دور سے آیا تھا۔

ایک لمحے کی دید کے لیے تڑپتا رہ گیا۔


عرش کے دل میں عجب سا سکون اور اداسی دونوں جمع ہو گئے 

سکون، اس بات کا کہ وہ اپنی چاہت کو خوشی دے سکا

اور اداسی اس بات کی کہ اُس کی دیدارِ یار کی حسرت ادھوری رہ گئی۔


رات گہری ہو چکی تھی۔ دونوں دوست واپسی کے سفر پر تھے۔ راستے میں روشی برابر کال کرتی رہی

پہنچ گئے نا؟ ٹھیک ہیں نا؟

اور تب جا کر دلوں کو قرار آیا۔


لیکن اگلی صبح ایک نئی مصیبت انتظار میں تھی 

ساحل کو اپنے بھائی کے دوستوں کی ڈانٹ سننی پڑی۔

گاڑی وہ کسی اور بہانے سے لے گیا تھا، اور جب راز کھلا، تو اعتبار ہی اٹھ گیا۔

جو کل تک ایک کہنے پر گاڑی دے دیتے تھے، اب پوچھ گچھ کرنے لگے۔


ساحل نے سب برداشت کیا، مگر دوستی

 نبھائی۔

: وہ نہ روٹھا، نہ بدلا، بس مسکرا کر کہا

دوست کے لیے تو اس سے قربانیاں دے سکتا ہوں ۔


✨ حاصلِ سبق


محبت کے سفر میں صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا

اس کے لیے حوصلہ، صبر، قربانی اور سب سے بڑھ کر ایمان کی روشنی ضروری ہے۔

سچی محبت وہ نہیں جو زبان سے کہی جائے

بلکہ وہ ہے جو عمل سے، دعا سے، اور دل کی پاک نیت سے ظاہر ہو۔


عرش نے یہ بات ثابت کر دی کہ جب دل میں خلوص ہوتا ہے تو

فاصلہ، تھکن، خطرہ — کچھ بھی انسان کو روک نہیں سکتا۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ دونوں علمِ دین کے طالب ہونے کے باوجود

اس کمزوری میں مبتلا ہوئے جو شیطان کا سب سے پرانا ہتھیار ہے۔


: قرآن نے فرمایا

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ

(شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا۔)

جب آدمؑ جیسے نبی سے لغزش ہو سکتی ہے تو عام انسان کیسے محفوظ رہیں۔

مگر فرق یہ ہے کہ اہلِ ایمان توبہ کر لیتے ہیں

اور یہی توبہ انسان کو گناہ سے بلند کرتی ہے۔


عرش نے ابتدا ہی سے نیت نکاح کی رکھی

اس لیے اس کی محبت میں حیاء اور حد کا احساس باقی رہا

اور یہی احساس اُس کے ایمان کی علامت ہے۔


: جہاں تک ساحل کی بات ہے

تو اُس نے دوستی کی مثال قائم کر دی 

خطا میں شریک بھی ہوا، مگر سنبھالنے والا بھی وہی بنا۔

یہی دوستی کا امتحان ہے۔


: اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا

المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالل

آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ کس کو دوست بنا رہا ہے۔


پس سبق یہی ہے کہ محبت ہو یا دوستی — دونوں میں ایمان، نیت اور ذمہ داری کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔



No comments:

Post a Comment

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...