Saturday, October 25, 2025

💝جذبوں کی دنیا، ایمان کی سرحد

🌹داستانِ محبت 🌹


عتیق اللہ کلیم ✍️

بابِ چہارم: جذبوں کی دنیا، ایمان کی سرحد

عرش کئی دنوں سے روشی سے ساتھ ناشتہ کرنے کی خواہش دل میں دبائے ہوئے تھا، مگر ہر بار روشی کسی نہ کسی

 بہانے سے انکار کر دیتی۔ وہ نہایت محتاط مزاج کی تھی، جبکہ عرش کا دل چاہتا تھا کہ اس لمحے کو یادگار بنا لے۔

‎بالآخر ایک دن لکھنؤ یونیورسٹی کی لائبریری کے سامنے والے پارک میں، ہلکی ہوا کے جھونکوں کے درمیان، دونوں

 کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ بات ختم ہونے پر عرش نے ایک بار پھر روشی سے کینٹین چلنے کی فرمائش کی۔ روشی

 نے حسبِ عادت انکار کیا اور شوخی سے پلٹ کر بھاگنے لگی۔
‎عرش نے بے خیالی میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔

‎ایک پل کو وقت تھم سا گیا۔۔

‎دونوں کے بدن میں جیسے بجلی سی دوڑ گئی

‎آنکھیں چندھیا گئیں، اور پھر عرش نے گھبرا کر ہاتھ چھوڑ دیا۔
‎کچھ دیر بعد دونوں کینٹین پہنچے۔ عرش نے روشی کے فون پر کھانے کی فہرست بھیجی۔

‎روشی نے فنگر فرینچ منگوائے، اور عرش نے چاٹ۔

‎دونوں بیٹھے، نرم گفتگو میں گم ہو گئے۔

‎روشی نقاب میں تھی — مگر وہ نقاب کیا تھا؟ ایک ریشمی بادل، جو چاند کی شرمیلی مسکراہٹ کو اپنے دامن میں

 چھپائے ہوئے تھا۔

‎روشنی اُس کے گرد یوں پگھل رہی تھی جیسے چاندنی نے ہوا کے ہاتھوں میں خود کو سپرد کر دیا ہو۔

‎عرش نے اُس کی طرف دیکھا، اور دنیا جیسے ٹھہر گئی۔

‎اُس کی مخمور آنکھوں میں ایسا سکوت، ایسا نشہ، ایسا جادو تھا کہ عرش بھی اپنی رفعت بھول جائے۔

‎یوں محسوس ہوا جیسے آسمان اپنی بلندی سے اتر کر اُس کی نگاہوں میں پناہ تلاش کرنے لگا ہو۔
‎نقاب کے پیچھے وہ روشنی، وہ چمک، وہ خاموش مسکراہٹ — سب کچھ کہہ گئی، بغیر کچھ کہے۔

‎اور عرش؟
‎عرش تو بس ایک مسحور سا خواب بن کر اُس کی آنکھوں میں گم ہو گیا۔

: ‎عرش نے بوتل سے پانی لیا، اور مسکرا کر کہا

‎اب تو پانی بھی میٹھا لگنے لگا ہے، شاید تمہارے ہونٹوں کی تاثیر ہے۔

‎روشی شرما گئی، مگر کچھ نہ بولی۔
‎کھانے کے بعد عرش نے جیب سے وہ انگوٹھی نکالی جو کئی دنوں سے وہ اپنے ساتھ لیے پھرتا تھا۔

‎نہ جانے کیوں، ہر ملاقات میں موقع نہیں ملا تھا۔

‎اس نے دھڑکتے دل سے وہ انگوٹھی روشی کے ہاتھ میں رکھ دی۔

‎خود سے پہنا نہ سکا— وہ اتنا شرمیلا تھا۔

‎انگوٹھی ذرا بڑی تھی، مگر روشی کے لبوں پر تبسم تھا۔

‎اتنی مہنگی انگوٹھی کی کیا ضرورت تھی؟ اُس نے کہا۔

‎عرش نے حیرت سے افسوس بھرے لہجے میں جواب دیا: تمہاری اُنگلی اتنی پتلی اور نازک ہے کہ انگوٹھی بھی خود کو

 اجنبی سا محسوس کرے۔

‎ چلو، اگلی بار بالکل مناسب لاؤں گا — تمہارے لیے، تمہاری طرح
‎اُس دن روشی کو گاڑی پر بٹھا کر عرش سائیکل سے لوٹ گیا— دل میں عجب سکون اور بےچینی لیے۔
‎‎🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

‎ایک دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔

‎اردو ڈیپارٹمنٹ کے سامنے عرش روشی کا انتظار کر رہا تھا۔

‎فضا میں نرمی اور ہوا میں وہ مٹھاس تھی جو کسی نغمے کے آغاز سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔
‎چند لمحوں بعد روشی کلاس سے نکلی، اس کی نظر عرش پر پڑی، اور وہ مسکرا دی۔

‎عرش نے آگے بڑھ کر خاموشی سے اس کا بیگ تھام لیا۔

‎بارش کی بوندیں ان دونوں کے درمیان کسی ان کہی بات کی مانند جھوم رہی تھیں۔
‎رومی نغمے کی طرح وہ دن بھی یادوں کی دھن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

‎روشی نے شوخی سے پانی کے چھپڑوں پر پاؤں مارے، بوندیں اڑ کر عرش کے کپڑوں تک جا پہنچیں۔

: ‎عرش نے مسکرا کر کہا

‎“میرے کپڑے تو تم بھگا چکی ہو، اب دھوؤ گی بھی تم ہی؟”
‎روشی نے ہونٹوں پر آتی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کی۔

‎اور بارش کے سنگ وہ لمحہ ہمیشہ کے لیے ان دونوں کی یادوں میں بھیگ گیا۔
‎‎🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

‎دن گزرتے گئے، اور عرش نے ایک بار پھر ساتھ کھانے کی خواہش ظاہر کی۔

‎کافی منانے کے بعد روشی تیار ہوئی۔

‎دونوں یونیورسٹی سے باہر نکلے۔

‎عرش نے کہا، “چلو کسی اچھے ریسٹورینٹ میں چلتے ہیں۔”
‎لیکن روشی گھبرا گئی۔

‎“آپ پہلے اندر جاؤ، ویڈیو کال کرو، میں دیکھوں گی پھر آؤں گی۔”

‎آخر روشی کسی وجہ سے اندر آنے کو تیار نہیں ہوئی۔

‎دونوں نے باہر ہی آئس کریم لی۔۔۔ 

‎عرش کے پاس اُس دن پیسے نہ تھے، اس نے پہلے ہی اپنے دوست ساحل سے کہا تھا

جب میں میسج کروں بھیجوں فوراً پیمنٹ کردینا 

‎مگر روشی کو اندازہ ہو گیا، اور اس نے فوراً اپنے ہاتھ سے پیسے دے دیے۔

: ‎عرش کو شرمندگی ہوئی، مگر روشی نے کہا

میں نے دیدیا تو کیا ہوگیا، اب ہر بار تم ہی کھلاؤ گے اچھا نہیں لگتا
‎واپسی میں رکشہ خالی تھا۔

‎عرش نے وہی انگوٹھی، جو چھوٹی کروائی تھی

‎روشی کے ہاتھ میں رکھ دی۔

‎اس بار بالکل مناسب تھی۔

‎روشی نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر ہلکا سا ہاتھ مارا

‎اور کہا، اب یہ بلکل ٹھیک ہے۔

‎عرش کا دل جیسے پگھل گیا۔

‎وہ ضد کر رہا تھا کہ گھر تک چھوڑوں گا

‎مگر روشی نے منع کر دیا۔

‎عرش رکا، دیکھا، اور پھر دھیرے دھیرے لوٹ گیا 

‎ساتھ بس وہ لمحے، وہ ہنسی، وہ احساس

‎جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔

 🌿 ‎حاصلِ سبق 🌿


‎محبت میں جذبہ ہونا فطری ہے، مگر ایمان کی سرحدیں کبھی نہیں بھولنی چاہییں۔


‎جذبات اگر ایمان کے تابع ہوں تو محبت عبادت بن جاتی ہے،


‎اور اگر سرحد سے باہر نکل جائے تو انسان بھٹک جاتا ہے۔

‎عرش اور روشی دونوں نے سچائی اور احساس کا مظاہرہ کیا،


‎مگر اُن سے لغزش بھی ہوئی — کیونکہ جوانی میں دل جلد بہک جاتا ہے۔


‎یہی سبب ہے کہ اسلام نے نگاہ، لمس، اور خلوت کی سختی سے ممانعت کی ہے۔

‎محبت اگر نکاح کے دائرے میں ہو تو رحمت ہے

‎ورنہ آزمائش۔

‎اللہ تعالیٰ ہمیں وہ محبت عطا کرے جو پاکیزگی، صبر، اور عزت کے دائرے میں ہو۔

‎اور معاشرے کے لیے سبق یہ ہے کہ —


‎محبت جرم نہیں، لیکن اس کی حدود متعین ہیں۔


‎ایمان سے بڑی کوئی محبت نہیں۔


‎ایسے معاشرے کی بنیاد تب ہی مضبوط ہو سکتی ہے جب نوجوان اپنی خواہشات پر لگام ڈال کر اپنی محبت کو نکاح

 کے مقدس بندھن تک محفوظ رکھیں۔

‎ 

No comments:

Post a Comment

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...