🌹داستانِ محبت🌹
آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔
اب محبت عرش کے لیے عبادت بن چکی تھی۔
روشی اُس کی دنیا نہیں، اُس کی زندگی بن چکی تھی۔
وہ اب اس کے خیالات میں سانس لیتی تھی، اُس کی یادوں میں بستی تھی۔
عرش کے لیے محبت اب محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک ایمان تھی —
اور اسی یقین کے ساتھ اُس نے چاہا کہ یہ رشتہ اور مضبوط ہو۔
چنانچہ اُس نے اپنی بہن انم سے روشی کی بات چھیڑی
تاکہ یہ تعلق دوستی سے آگے، اپنائیت کی حدوں میں داخل ہو جائے۔
انم اور روشی کی بات چیت شروع ہوئی
دونوں کے درمیان ہنسی مذاق، بھروسہ اور باتوں کی وہ قربت پیدا ہو گئی
جس میں عرش خود کو مطمئن محسوس کرنے لگا۔
ان دنوں روشی اکثر عرش کو اپنی تصویریں بھیجتی تھی۔
لیکن ایک عجیب سا اصول تھا
وہ ہر تصویر صرف ایک لمحے کے لیے کھلتی، اور پھر جیسے ہوا میں تحلیل ہو جاتی۔
عرش صرف اُسی پل میں اُسے دیکھ پاتا
اور وہ لمحہ اُس کے لیے کسی عبادت کی طرح مقدس بن جاتا۔
: پھر ایک دن عرش نے اپنی بہن انم سے نرمی سے کہا
اگر تمھارے پاس روشی کی کوئی تصویر ہو تو دکھا دو
انم نے بے فکری سے وہی تصویر بھیج دی جو روشی نے خود اُس پر اعتماد کر کے دی تھی۔
عرش نے محبت کے جوش میں وہ تصویر اپنی تصویر کے ساتھ جوڑ کرایک خوبصورت یادگار بنائی اور محبت سے روشی کو بھیج دی۔
مگر روشی کے لیے وہ تصویر ایک یادگار نہیں
بلکہ اعتماد کا ٹوٹ جانا تھی۔
اُس نے تصویر پہچان لی
یہ تو وہی تصویر ہے۔۔۔
اور ایک لمحے میں اُس کا لہجہ بدل گیا۔
غصہ، حیرت، دکھ — سب کچھ اُس کے الفاظ میں سمٹ آیا۔
اُس نے انم کو بلاک کر دیا
اور لکھا: میں اُس لڑکی سے بات نہیں کر سکتی، جو میرے اعتماد کے ساتھ دھوکہ کرے۔
انم حیران تھی۔
وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ عرش تو اپنا ہے
کوئی غیر نہیں۔
مگر اب دونوں طرف خاموشی چھا گئی
ایک طرف روشی کا گلہ، دوسری طرف انم کی خفگی
اور بیچ میں عرش، جو خود سے زیادہ دوسروں کے احساسات کا قیدی تھا۔
اگلی صبح جیسے آسمان نے بھی رخ بدل لیا۔
ہوا میں وہی مانوس خوشبو نہیں تھی۔
عرش جب یونیورسٹی پہنچا تو دل بوجھل تھا
نہ باتوں میں مزا، نہ کتابوں میں دھیان۔
کینٹین کی طرف جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر لائبریری کے سامنے والے پارک میں گئی —
اور وہاں، روشی ایک انجان لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی۔
(روشی کے مطابق وہ لڑکا اُسی کا بتایا ہوا” دوست“ تھا
مگر عرش اُسے پہچان نہ پایا۔
بس وہ منظر دیکھنا تھا کہ
عرش کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔
دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
اُس کے اندر سناٹا پھیل گیا
اور دماغ ایک ہی سوچ میں گم ہو گیا — یہ کیا دیکھ لیا میں نے
اُسی لمحے، غصہ اور بے بسی کے ملے جلے جذبے نے
اُسے ویڈیو نکالنے پر مجبور کر دیا۔
ساحل نے روکا — مت کر، یہ مناسب نہیں۔
مگر عرش کے اندر کا عاشق اب دلیل نہیں سنتا تھا۔
وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ بعد میں جب سوال کرے
تو سچ اُس کے پاس موجود ہو۔
روشی اُسے دیکھ کر گھبرا گئی
اُٹھی، پیچھے مڑ کر دیکھا، اور بھاگتی چلی گئی۔
اور عرش؟
وہ تھم گیا — جیسے وقت رک گیا ہو۔
: مدرسے پہنچ کر اُس نے لرزتے ہاتھوں سے میسج لکھا
اگر تم نے وضاحت نہیں دی، تو میں یہ ویڈیو تمھارے گھر بھیج دوں گا۔
یہ وہ الفاظ تھے جو اُس نے محبت میں نہیں
غصے اور زخم میں کہے تھے۔
اور شاید وہ خود بھی جانتا تھا کہ
وہ ایسا کبھی نہیں کر پائے گا۔
مگر محبت کا دل نازک ہوتا ہے —
روشی کے دل پر یہ دھمکی تیر کی طرح لگی۔
: اُس نے جواب دیا
تم مجھے دھمکی دیتے ہو؟
اور پھر اُس نے ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا۔
اب عرش کی دنیا اجڑ گئی تھی۔
روشی نے کبھی الفاظ میں نہیں کہا تھا کہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے
لیکن اُس کے رویے، اُس کی باتیں —
وہ سب کچھ کہہ جاتی تھیں۔
عرش نے بار بار معافی مانگی
نئے نمبر سے کوشش کی، نئی آئڈز بنائی
مگر ہر بار روشی پہچان لیتی —
“یہ وہی دیوانہ ہے”
یہ ایک مہینے کی کہانی تھی —
مگر اُس ایک مہینے میں زندگی کے سارے موسم گزر گئے۔
اب جب بھی وہ یونیورسٹی جاتا
“دل کہتا — ”شاید آج وہ مل جائے
اور جب ملتی
تو نگاہیں ملنے سے پہلے ہی جھک جاتیں۔
عرش آج بھی اُس کے لیے ویسا ہی ہے
جیسے پہلے دن تھا۔
اُس نے خود سے وعدہ کر لیا ہے —
“روشی کے نکاح تک میں کسی لڑکی سے بات نہیں کروں گا”
وہ جانتا ہے کہ شاید وہ کبھی واپس نہ آئے
مگر اُسے اب محبت سے گلہ نہیں۔
وہ اب صرف دعا کرتا ہے —
“اللہ، وہ خوش رہے، چاہے میرے بغیر ہی کیوں نہ ہو۔”
کبھی کبھی وہ رات کے سکوت میں اپنی تحریر دیکھتا ہے
پھر سوچتا ہے —
کیا یہ تحریر روشی کی نگاہوں سے گزری ہوگی؟
اگر گزری ہو —
تو کیا اُس کے دل میں کوئی لرزش پیدا ہوئی ہوگی؟
اور یہیں داستان ختم نہیں ہوتی
یہ تو وہ خاموش سوال ہے
جو عرش کے دل سے آج بھی گونجتا ہے —
“کیا وہ لوٹ آئے گی…؟”
✨حاصلِ سبق ✨
محبت جب اعتماد کھو دے تو رشتے کی روح مر جاتی ہے۔
اعتماد، وفا، اور ادب — یہ تین ستون ہیں جن پر محبت قائم رہتی ہے۔
عرش اور روشی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کے لمحاتی فیصلے ہمیشہ نقصان دیتے ہیں۔
محبت اگر صبر، شعور، اور پاکیزگی کے ساتھ نبھائی جائے تو عبادت بن جاتی ہے۔
ورنہ یہی محبت، ایک آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔
اور سچا عاشق وہ نہیں جو وصل پائے —
بلکہ وہ ہے جو بچھڑ کر بھی دعا دینا نہ چھوڑے۔

یہ کہانی پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں ایک شعر آگیا :
ReplyDeleteیہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے
ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
بالکل
Delete