🌹داستان محبت🌹
عتیق اللہ کلیم ✍️
💞 بابِ پنجم — شادی
یونہی دن گزرتے گئے اور دلوں کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ اب عرش کے لیے یونیورسٹی جانا محض تعلیم نہیں،
بلکہ روشی سے ملنے کا بہانہ بن چکا تھا۔
مدرسے میں رفقائے درس اکثر ٹوکتے
یار عرش، یہ تُو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے کیسا نیک، سنجیدہ، مطالعہ پسند لڑکا تھا، اور اب دیکھ۔۔۔
یہ جملے سن کر وہ مسکرا دیتا، مگر دل میں کوئی ایسی ضد جاگتی جسے وہ خود بھی سمجھ نہ پاتا۔
اب عرش صرف عاشق نہیں رہا تھا، روشی اُس کی زندگی کی عبادت بن چکی تھی۔
: ایک دن گفتگو کے دوران روشی نے اچانک کہا
“شادی میں آؤ گے نا؟”
عرش چونک گیا۔ کس کی شادی؟
روشی ہنس پڑی، میری۔
عرش کے چہرے کا رنگ اڑ گیا — کیا کہہ رہی ہو یار؟
روشی ہنسی، کیسا لگا مذاق؟ پریشان ہو گئے کیا؟
پھر فوراً کارڈ بھیجا اور کہا، ایسی بات نہیں، میری بہن کی شادی ہے۔ آپ ضرور آئیے، اپنے دونوں دوست ساحل
اور مرشد کو بھی ساتھ لانا۔
عرش نے سکون کی سانس لی، ارے تو یہ بات تھی… میں تو دل ہی ہار بیٹھا تھا۔
پھر مسکرا کر بولا، خیر سنو، یونیورسٹی کا اسائنمنٹ آیا ہے، تم شادی کی تیاری کرو، میں لکھ دیتا ہوں تمہارا بھی۔
روشی نے انکار کیا، نہیں، بعد میں احسان جتلاؤ گے۔
عرش نے نرمی سے کہا، ایسا کچھ نہیں… تمہارا لکھنا میرے دل کی خوشی ہے۔
آخر روشی مان گئی، اور بیچارا عرش محبت کے جذبے میں ڈوبا ہوا، اپنا اور اُس کا دونوں اسائنمنٹ لکھ کر جمع کر
آیا۔
انہی دنوں میں عرش نے روشی کے لیے لائبریری کارڈ بنوانے کے بہانے تصویر مانگی — ایک زیادہ مانگ کر اپنے
پاس بھی رکھ لی۔
روشی جب اپنی بہن کے ساتھ شادی کے جوڑے لینے گئی تو عرش کو کال کی۔
عرش نے اس کی پسند میں اپنی پسند بتائی ۔
اب شادی کا دن قریب آ گیا۔
عرش پہلی بار روشی کے گھر والوں سے ملنے جا رہا تھا۔ اس نے سوچا، کیا پہنوں؟
آخر فیصلہ کیا — سفید کرتا، پاجامہ، ٹوپی، اوپر سے کالی صدری، ہاتھ میں عمدہ گھڑی اور جوتی ۔
عرش جب آئینے کے سامنے آیا تو یوں لگا جیسے سادگی نے خود کو وقار میں ڈھال لیا ہو — سفید کرتا، کالی صدری،
سرمگیں آ نکھیں اور چہرے پر وہی معصوم تبسم۔
یوں لگتا تھا جیسے شرافت اور عشق نے ایک ہی پیکر میں جنم لے لیا ہو۔
اُس کی سادہ وجاہت میں ایسی دلکشی تھی کہ دیکھنے والا پہلی نظر میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔
اُدھر میریج ہال کی بالکنی میں روشی اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھڑی اُس کا انتظار کر رہی تھی۔
جب عرش کی گاڑی رکی، تو وہ پوری شان سے اندر داخل ہوا۔
روشی نے جیسے ہی اُسے دیکھا، دوڑتی ہوئی قریب آئی۔
عرش نے مسکراتے ہوئے سلام کیا اور گفٹ پیش کیا۔
آج تو روشی سرخ کپڑے میں حسن کی ملکہ لگ رہی تھی ﴿اسکی
پیشانی کشادہ اسکی رنگت میں دودھ اور گلاب کی آمیزش تھی بال
کالے تھے اور ذرا اُبھرے ہوئے پپوٹوں اور لمبی پلکوں کے نیچے
کالے رنگ کی بڑی بڑی آنکھیں بلور کی طرح شفاف اور چمکدار تھیں
ناک خوبصورت اور ذرا اوپر کی طرف اٹھتی ہوئی نوک اُسکے حسن
کی دلکشی میں غیر معمولی اضافہ کر رہی تھی، اُسکے ہونٹوں میں ایک
نیم واغنچے کی تازگی اور لطافت تھی اور دانت جو صرف بات کرتے
وقت دکھائی دیتے تھے، موتیوں کی طرح چمکتے تھے لیکن مسکرانے
کے لئے اسے چمکتے ہوئے موتیوں کی نمائش کرنے کی ضرورت نہ
تھی، صرف ہونٹوں کی ایک ہلکی سی جنبش کے ساتھ اُسکے گالوں پر
گڑھے پڑ جاتے آنکھیں چمک اٹھتی اور اُسکا چہرہ مسکراہٹوں سے
لبریز ہو جاتا اور اُسکی آواز جسکی مٹھاس روح میں محسوس کی جا سکتی
تھی﴾۔
عرش کے دل نے جیسے کہا — یہ لمحہ، یہ منظر، یہ چہرہ — سب کچھ زندگی
کے برابر ہے۔
روشی نے عرش کو اپنی بہنوں سے ملوایا، سب بہت خوش ہوئیں۔
دوستوں کے گمان کے برعکس، روشی نے عرش اور اس کے دوستوں کا بہت خیال رکھا۔
وقفہ وقفہ سے آتی، پوچھتی، کچھ چاہیے تو نہیں؟
عرش نے مسکرا کر کہا، تمہاری مسکراہٹ سے بڑھ کر اور کیا چاہیے۔۔۔
کھانے کے وقت روشی کے بھائی نے خود کھانا کھلایا۔ کھانا نہایت لذیذ تھا۔
کھانے کے بعد روشی کے والد نے عرش کو اشارہ کیا۔
عرش آگے بڑھا، بات چیت ہوئی، مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ روشی کے والد ہیں۔
جب پتہ چلا تو ایک دم سنبھل کر رہ گیا، کاش پہلے معلوم ہوتا۔۔۔
رخصتی کا وقت آیا۔
مرشد نے اپنا کلام سنایا۔
عرش سٹیج کے سامنے بیٹھا روشی کو دیکھ رہا تھا — اور روشی بھی نظریں چرا نہ سکی۔
وہ ایک لمحہ ایسا تھا کہ دونوں کی خاموشیاں ہی ان کے دلوں کی گواہی دے رہی تھیں۔
آخر میں روشی کی والدہ سے ملاقات ہوئی۔
انہوں نے محبت سے کہا: بیٹا، آپ لوگ بہت اچھے لگے، پھر کبھی ضرور آئیے گا۔
عرش نے ادب سے سر جھکایا۔
اب رخصتی ہو چکی تھی۔
گاڑی چلی، اور عرش کی نظریں شیشے کے پار تکتی رہ گئیں
یہاں تک کہ وہ منظر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا
مگر دل میں ایک تصویر ہمیشہ کے لیے نقش کر گیا۔
🌷حاصلِ سبق🌷
محبت اگر پاکیزہ نیت اور حلال جذبے سے ہو تو وہ انسان کو بگاڑتی نہیں، سنوار دیتی ہے۔
عرش اور روشی کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ تعلقات کی بنیاد صرف جذبات نہیں بلکہ احترام، دیانت، اور حیا پر ہونی
چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب دل کا رشتہ ایمان کی روشنی میں پرویا جائے تو وہ کبھی گمراہی نہیں لاتا، بلکہ انسان کو خود
اُس کے رب کے قریب کر دیتا ہے۔
محبت کا سفر خوبصورت ہے، مگر صرف اُس وقت جب اس کی رہنمائی دل نہیں، ضمیر اور ایمان کر رہے ہوں۔
: بابِ اول
: بابِ دوم
: بابِ سوم
: بابِ چہارم
No comments:
Post a Comment