فرمان خدا — تشریح
عتیق اللہ کلیم ✍️
جیسا کہ پچھلی نظم ("لینین خدا کے حضور میں") میں لینین نے شکوہ کیا تھا، یہ نظم اس کا جواب ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو مخاطب کر کے حکم دیتا ہے کہ جاؤ اور زمین پر قائم ظالمانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کو الٹ دو۔ یہ اقبال کی انقلابی شاعری کا شاہکار ہے۔
: اس کی تشریح شعر بہ شعر پیش خدمت ہے
حصہ اول: انقلاب کا حکم
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو
تشریح: اللہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جاؤ اور میری دنیا کے سوئے ہوئے اور پسے ہوئے غریبوں کو بیدار کر دو (ان میں شعور پیدا کرو)۔ امیروں اور بادشاہوں کے محلات (کاخِ امرا) کی بنیادیں ہلا دو۔ یعنی امیر طبقے کے رعب اور طاقت کو ختم کر دو۔
گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے
کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو
تشریح: غلاموں کے دلوں میں "یقین کی آگ" (ایمان اور خود اعتماد) بھر دو تاکہ ان کا خون جوش مارے۔ ایک کمزور چڑیا (کنجشکِ فرومایہ/غریب) کو تیار کرو کہ وہ طاقتور شاہین (ظالم حکمران) سے ٹکرا جائے۔ یعنی کمزور کو اتنی ہمت دو کہ وہ طاقتور کا مقابلہ کر سکے۔
سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
تشریح: اب عوام کی حکمرانی (جمہوریت/خلافتِ ارضی) کا دور آنے والا ہے۔ اس لیے پرانے اور ظالمانہ نظام کے جتنے بھی نشانات (نقشِ کہن) نظر آئیں، انہیں مٹا دو۔ بادشاہت اور آمریت کے دور کو ختم کر دو۔
حصہ دوم: معاشی اور مذہبی اصلاح
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
تشریح: (یہ اقبال کا بہت مشہور انقلابی شعر ہے)۔ وہ کھیت جس میں محنت تو کسان (دہقان) کرے لیکن اس کی کمائی سے اسے اپنی روٹی (روزی) بھی نہ ملے اور سارا نفع جاگیردار لے جائے، ایسے کھیت میں گندم کی بالیوں کو اگنے کا کوئی حق نہیں، اسے جلا کر راکھ کر دو۔ (مراد یہ ہے کہ ایسے استحصالی معاشی نظام کو تباہ کر دو جو مزدور کو اس کا حق نہیں دیتا)۔
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو
تشریح: بندے اور خدا کے درمیان کسی رکاوٹ یا پردے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ چرچ کے پادری (پیرانِ کلیسا) جو خدا کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں اور مذہب کے نام پر لوگوں کو لوٹتے ہیں، انہیں عبادت گاہوں سے نکال باہر کرو۔ (یہاں اشارہ مذہبی پیشواؤں کی طرف ہے جو ظالم حکمرانوں کا ساتھ دیتے ہیں)۔
حق را بسجودے، صنماں را بطوافے
بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو
تشریح: یہ لوگ عجیب منافق ہیں، سجدہ تو خدا (حق) کو کرتے ہیں لیکن طواف (چکر) بتوں کا لگاتے ہیں (یعنی دل میں دولت اور طاقت کے بت بسے ہیں)۔ ایسی منافقانہ عبادت کا کیا فائدہ؟ اس سے بہتر ہے کہ مسجد (حرم) اور مندر (دیر) کے چراغ بجھا دیے جائیں کیونکہ وہاں اب روح باقی نہیں رہی، صرف دکھاوا ہے۔
میں ناخوش و بے زار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو
تشریح: مجھے یہ سنگِ مرمر کی عالی شان مسجدیں اور عبادت گاہیں پسند نہیں ہیں جو غریبوں کا خون چوس کر بنائی گئی ہیں۔ میں ان سے بیزار ہوں۔ میرے لیے کچی مٹی کا سادہ سا گھر بنا دو (جیسا مسجد نبوی کا ابتدائی دور تھا)، جہاں خلوص اور سچی بندگی ہو۔
حصہ سوم: شاعر (اقبال) کے لیے دعا
تہذیبِ نوی کارگہِ شیشہ گراں ہے
آدابِ جنوں شاعرِ مشرق کو سکھا دو
تشریح: یہ نئی مغربی تہذیب شیشے کے برتن بنانے والے کے کارخانے کی طرح ہے (یعنی بہت نازک ہے، ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جائے گی)۔ اے فرشتو! "شاعرِ مشرق" (خود علامہ اقبال) کو وہ دیوانگی اور جنون کے آداب سکھا دو جس سے وہ اپنی شاعری کے ذریعے قوم میں انقلاب کی روح پھونک سکے۔
: خلاصہ
یہ نظم دراصل "اسلامی سوشلزم" یا اسلام کے نظامِ عدل کا اعلان ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ وہ غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ظلم، سرمایہ داری اور مذہبی اجارہ داری کا نظام ختم ہو کر عدل و انصاف کا نظام قائم ہو۔
یہ نظم علامہ اقبال نے اپنی نظم ” لینین خدا کے حضور میں “ کے
:جواب میں لکھا تھا ، لہذا اس نظم کی بھی تشریح پیش خدمت ہے
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_17.html

No comments:
Post a Comment