لینین خدا کے حضور میں — تشریح
عتیق اللہ کلیم✍️
یہ علامہ اقبال کی مشہور نظم "لینین خدا کے حضور میں" ہے۔ یہ نظم ان کی کتاب بالِ جبریل میں شامل ہے۔
![]() |
| شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ |
اس نظم میں اقبال نے اشتراکی انقلاب کے رہنما 'لینین' کی زبان سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام، سامراجیت اور منافقت پر شدید تنقید کی ہے۔ لینین مرنے کے بعد خدا کے سامنے پیش ہوتا ہے اور اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔
: یہاں اس نظم کے ایک ایک شعر کی تشریح پیش خدمت ہے
حصہ اول: خدا کے وجود کا اعتراف
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات
تشریح: لینین خدا کے حضور کہتا ہے کہ اے خدا! اب مجھے کائنات کی ہر چیز (آفاق) اور خود انسانی جانوں (انفس) میں تیری نشانیاں صاف نظر آ رہی ہیں۔ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ حق اور سچ صرف یہی ہے کہ تیری ذات ہمیشہ رہنے والی اور زندہ ہے۔ (مرنے کے بعد حقیقت کھلنے کا اعتراف)۔
میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات
تشریح: میں اپنی دنیاوی زندگی میں کیسے یقین کرتا کہ تو موجود ہے یا نہیں؟ کیونکہ میری عقل اور انسانی فلسفے تو ہر لمحہ بدلتے رہتے تھے۔ انسانی عقل محدود تھی اور کسی ایک حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قاصر تھی، اس لیے میں تیری ذات کا ادراک نہ کر سکا۔
محرم نہیں فطرت کے سرودِ ازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات
تشریح: چاہے وہ ستاروں کا مشاہدہ کرنے والا ماہرِ فلکیات ہو یا پودوں کا علم رکھنے والا ماہرِ نباتات، یہ سب مادہ پرست ہیں۔ یہ لوگ کائنات کے ظاہری ڈھانچے کو تو دیکھتے ہیں لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے "سرودِ ازلی" (روحانی نغمے یا اصل مقصد) سے ناواقف ہیں۔ سائنسدان ظاہری آنکھ رکھتا ہے مگر باطنی حقیقت سے محروم ہے۔
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
تشریح: آج مرنے کے بعد جب میری آنکھ کھلی اور پردہ ہٹا تو وہ روحانی دنیا سچ ثابت ہو گئی جسے میں چرچ (مذہب) کے قصے، کہانیاں اور خرافات سمجھتا تھا۔ آج غیب کی دنیا مشاہدے میں آ گئی ہے۔
ہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے
تو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات
تشریح: ہم انسان تو دن اور رات (وقت) کی قید میں جکڑے ہوئے مجبور لوگ ہیں، جبکہ تو زمانوں کا پیدا کرنے والا اور لمحوں کو بنانے والا ہے۔ تیری ذات زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔
حصہ دوم: لینین کا سوال اور مغربی تہذیب پر تنقید
اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات
تشریح: اے خدا! اگر مجھے اجازت ہو تو میں تجھ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں اور داناؤں کی کتابوں میں بھی نہیں مل سکا۔
جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات
تشریح: جب تک میں آسمان کے نیچے زندہ رہا، یہ بات میرے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی رہی اور مجھے بے چین رکھتی رہی۔
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
تشریح: (یہاں لینین اپنے لہجے کی معذرت کر رہا ہے) وہ کہتا ہے کہ جب روح کے اندر خیالات کا طوفان برپا ہو تو انسان کے لیے گفتگو کے سلیقے اور آداب پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے اگر گستاخی ہو جائے تو معاف کرنا۔
وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود
وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟
تشریح: اے خدا! وہ کون سا انسان ہے جس کا تو خدا ہے؟ کیا تو واقعی اس "آدمِ خاکی" (غریب انسان) کا بھی خدا ہے جو آسمان کے نیچے بس رہا ہے؟ (طنز یہ ہے کہ دنیا کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ غریب کا کوئی خدا نہیں)۔
مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات
تشریح: دنیا کا حال تو یہ ہے کہ مشرق (غلام قوموں) کے خدا تو "انگریز" (سفید فام آقا) بنے بیٹھے ہیں، اور خود مغرب والوں کا خدا "چمکتی ہوئی دھاتیں" یعنی سونے چاندی کے سکے (دولت) ہیں۔ یہاں خدا کی نہیں بلکہ طاقت اور دولت کی پوجا ہو رہی ہے۔
یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات
تشریح: یورپ میں ظاہری طور پر سائنس، ٹیکنالوجی اور علم کی بہت روشنی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سب "اندھیرا" ہے کیونکہ اس میں "چشمۂ حیواں" (آبِ حیات/ روحانیت اور اخلاق) نہیں ہے۔ بغیر اخلاق اور روحانیت کے یہ ترقی محض تباہی ہے۔
رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات
تشریح: مغرب میں بینکوں کی عمارتیں خوبصورتی، صفائی اور شان و شوکت میں گرجوں (عبادت گاہوں) سے کہیں زیادہ بلند اور شاندار ہیں۔ مطلب یہ کہ وہاں مذہب سے زیادہ اہمیت "بینکنگ اور سود" کو دی جاتی ہے۔
حصہ سوم: سرمایہ دارانہ نظام کی ہولناکی
ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات
تشریح: مغربی نظام معیشت دیکھنے میں تو تجارت لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ "جوا" ہے۔ یہاں ایک شخص کا منافع (سود کھانے والا سرمایہ دار) لاکھوں غریبوں کی اچانک موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ نظام استحصال پر مبنی ہے۔
یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
تشریح: مغرب کا علم، ان کی فلاسفی، ان کی سیاست اور ان کی حکومتیں سب منافق ہیں۔ یہ منہ سے تو "مساوات" اور انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ کمزوروں اور مزدوروں کا خون چوستے ہیں۔
بیکاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات
تشریح: بے روزگاری، بے حیائی (عریانی)، شراب نوشی اور غربت— کیا یہ سب مغربی تہذیب کی کامیابیاں نہیں ہیں؟ یعنی ان کی نام نہاد ترقی کا نتیجہ صرف اخلاقی اور معاشی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
تشریح: وہ قوم جو آسمانی ہدایت اور روحانی فیض سے محروم ہو جائے، اس کی ترقی کی انتہا صرف یہ ہے کہ وہ بجلی اور بھاپ (مشینوں) پر قابو پا لے۔ وہ مادے کو تو تسخیر کر لیتی ہے مگر انسانیت کو کھو دیتی ہے۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
تشریح: یہ مشینوں کی حکمرانی (مشینی دور) انسانی دل کے لیے موت کا پیغام ہے۔ مشینیں اور اوزار انسان کے اندر سے ہمدردی، محبت اور مروت کے جذبات کو کچل دیتے ہیں، انسان بھی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔
حصہ چہارم: نظام کا زوال اور خدا سے شکوہ
آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات
تشریح: اب دنیا میں کچھ ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ انسانی چالوں (سرمایہ دارانہ تدبیروں) کو تقدیر کے شاطر کھلاڑی (خدا/فطرت) نے شکست دے دی ہے۔ یعنی ظلم کا یہ نظام اب اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔
مے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرابات
تشریح: دنیا کے اس نظام (مے خانہ) کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ اس نظام کے چلانے والے (پیرانِ خرابات/ سرمایہ دار حکمران) اب پریشان بیٹھے ہیں کہ اس گرتی ہوئی عمارت کو کیسے بچائیں۔
چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سرِ شام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات
تشریح: مغربی تہذیب کے چہرے پر جو رونق اور سرخی نظر آتی ہے، وہ صحت کی علامت نہیں ہے۔ یا تو وہ میک اپ (غازہ/بناوٹ) ہے یا پھر شراب کے نشے کی وجہ سے عارضی سرخی ہے۔ یعنی یہ تہذیب اندر سے کھوکھلی اور بیمار ہے۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
تشریح: (یہ نظم کا نچوڑ ہے) لینین کہتا ہے: اے خدا! تو ہر چیز پر قادر ہے اور انصاف کرنے والا ہے، مگر تیری خدائی میں مزدور اور محنت کش کی زندگی اتنی تلخ اور مشکل کیوں ہے؟ تیری موجودگی اور عدل کے باوجود غریب کیوں پس رہا ہے؟
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات
تشریح: یہ سرمایہ پرستی اور ظلم کا جہاز کب ڈوبے گا؟ یہ پوری دنیا تیرے "روزِ مکافات" (جزا و سزا کے دن / انصاف کے دن) کا انتظار کر رہی ہے تاکہ غریب کو اس کا حق مل سکے۔
: خلاصہ
اس نظم میں اقبال نے لینین کے کردار کے ذریعے دراصل اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ اسلام اور انسانیت کا اصل دشمن مغربی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ یہ نظام انسان کو روحانیت سے دور کرتا ہے اور کمزور کا استحصال کرتا ہے۔ لینین کا شکوہ دراصل خدا کے انصاف کو پکار رہا ہے کہ وہ آئے اور اس ظالمانہ نظام کو درہم برہم کر دے۔
: علامہ اقبال نے اس نظم کا جواب نظم ” فرمان خدا “ سے دیا ہے ، وہ بھی پیش خدمت ہے
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_18.html


No comments:
Post a Comment