Monday, July 7, 2025

فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں

 فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں



عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

آج کے اس ترقی یافتہ اور تغیر پذیر دور میں مدارس اسلامیہ کی کثرت اور ان کی افادیت کسی سے مخفی نہیں۔ یہ مدارس ملتِ اسلامیہ کے علمی، فکری اور دینی تشخص کے مضبوط قلعے ہیں۔ یہی وہ گہوارۂ علم و عرفان ہے جہاں انسان سازی، کردار پروری، دینی بیداری، اور روحانی تربیت کا کام خاموشی سے انجام پا رہا ہے۔ یہ مدارس علومِ اسلامیہ کے سرچشمے ہیں، جہاں لاکھوں تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھا چکے ہیں اور آج پوری دنیا میں دینِ حق کی ترجمانی اور خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

فارغینِ مدارس کون ہیں؟

فارغینِ مدارس وہ خوش نصیب افراد ہیں جو علومِ دینیہ و اسلامیہ کے جامع نصاب سے فراغت حاصل کرتے ہیں، جنہیں درسِ نظامی، قراءت، تجوید، تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، عقائد، اور دیگر اہم اسلامی علوم میں مہارت دی جاتی ہے۔ ان کی یہ تعلیم محض رسمی نہیں، بلکہ ایک روحانی اور فکری تربیت کے ساتھ جُڑی ہوتی ہے، جو انہیں زندگی بھر کے لیے دین کا خادم اور ملت کا رہنما بناتی ہے۔

فارغینِ مدارس کی اہم ذمہ داریاں

فارغینِ مدارس کی ذمہ داریاں صرف منبر و محراب تک محدود نہیں، بلکہ ان کی خدمات کا دائرہ پوری امت، معاشرہ، اور بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داریاں حسبِ ذیل ہیں

اسلام کا تعارف اور دفاع

دورِ جدید میں جہاں اسلام پر فکری حملے ہو رہے ہیں، وہاں فارغین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کا صحیح تعارف، حکمت و موعظت کے ساتھ پیش کریں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

یعنی: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ"۔

 اصلاحِ معاشرہ اور امر بالمعروف

فارغین کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان پھیلی ہوئی اخلاقی، سماجی اور دینی برائیوں کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ان کی بنیادی دینی ذمہ داری ہے۔

 جدید تعلیمی نظام میں شمولیت

فارغینِ مدارس کو چاہیے کہ وہ عصری تعلیمی اداروں میں اسلامی اصولوں کو داخل کریں، نصاب میں اخلاقیات، سیرت النبی ﷺ، اسلامی افکار و اقدار کو جگہ دلوائیں تاکہ نئی نسل دین سے مربوط رہے۔

 تحریری و ابلاغی صلاحیتوں کا فروغ

تحریر، تقریر، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو دین کی دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کریں۔ آج کا دور تحریر و ابلاغ کا ہے، اس میں خاموش رہنا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔

 اداروں کی بنیاد اور قیادت

فارغین کو چاہیے کہ وہ ایسے ادارے قائم کریں جو دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج پیش کریں۔ جہاں جدید تعلیم کے ساتھ اسلامی نظریات کی تعلیم و تربیت بھی دی جائے، تاکہ مسلمان نوجوان گمراہی سے بچے رہیں۔

ذاتی اصلاح اور روحانی ارتقاء

فارغین کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنی ذات کی اصلاح ہے۔ اخلاص، ایمان، یقین، تعلق مع اللہ، دعا، تضرّع، خشوع، تواضع، اور اعتماد علی اللہ جیسے خصائص کو اپنا کر وہ نبوی اسوہ کو اپنے اندر زندہ کریں تاکہ ان کی دعوت و تبلیغ مؤثر ہو سکے

فتنوں کا علمی و فکری ردّ

یہ دور فتنوں کا ہے  دہریت، الحاد، سیکولرزم، لبرل ازم، قادیانیت، باطنیت، اور دیگر گمراہ کن نظریات نت نئے انداز سے نوجوانوں کے دل و دماغ کو متاثر کر رہے ہیں۔ فارغینِ مدارس کی یہ نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ان فتنوں کو گہرائی سے سمجھیں، ان کے علمی و فکری پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور قرآنی و نبوی روشنی میں دلائل و حکمت کے ساتھ ان کا ردّ کریں۔

یاد رکھیں! صرف نعرے اور تقاریر کافی نہیں، بلکہ تحقیق، علم اور بصیرت کے ساتھ گفتگو کرنا ہوگی۔

خاتمہ

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مدارس کے یہ فرزند—فارغینِ مدارس—اسلامی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ زمانے کی بدلتی ضروریات کو سمجھ کر اپنی دعوتی، اصلاحی، تعلیمی اور تنظیمی ذمہ داریوں کو شعور اور حکمت کے ساتھ نبھائیں۔ یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ وہ قلم و زبان دونوں سے دینِ اسلام کی حقانیت کو اجاگر کریں، امت کی رہنمائی کریں اور دشمنانِ اسلام کے فکری حملوں کا مدلل جواب دیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام فارغینِ مدارس کو امتِ مسلمہ کی صحیح قیادت و رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے، اور انہیں فتنوں کے اس سیلاب میں چراغِ ہدایت بنائے۔ آمین۔

Thursday, July 3, 2025

درس من السنة

 درس من السنة 



عتیق اللہ کلیم ✍️

  عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أي الصيام أفضل بعد شهر رمضان ؟ قال شهر الله الذي تدعونه المحرم(  رواه أحمد و النسائ في السنن الكبرى وابن مواجه)

شهر محرم الحرام أول الشهور من السنة الهجرية، وكان الناس في الجاهلية يعظمونه و يؤقرونه، و يحرمونه القتال فيه، و في هذا الشهر العظيم يوم عظيم يقال ”يوم العاشوراء“ وله أهمية كبرى أيضا،كما جاء في الحديث الشريف وقال عليه السلام أيضًا
أفضل  الصيام بعد رمضان شهر المحرم (رواه مسلم)

إن يوم العاشوراء يوم كانت تعظمه اليهود والنصارى والعرب كانوا يصومون فيه ويتخذونه عيدا، كما جاء في الحديث عن أبي موسى رضي الله عنه قالكان أهل خيبر يصومون يوم عاشوراء يتخذونه عيدا و يلبسون نساءهم فيه حليهم و شارتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فصوموه أنتم “(رواه مسلم)
و كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم يوم العاشوراء و أمر بصيامه، روى ابن عباس رضي الله عنه قال: حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم و أمر بصيامه، قالوا :  يا رسول الله إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع، قال : فلم يأت العام المقبل حتى توفي  رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم (رواه مسلم)

حين أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصيامه قال الصحابة : يا رسول الله ”إنه يوم تعظمه اليهود و النصارى“ والمراد بهذا القول كأنما تشبهم بالصوم في تعظيمه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع والمراد به أننا صمنا اليوم التاسع في العام المقبل فلا يبقى التشابه و المشابهة بيننا و بينهم بهذا العمل، من أجل ذلك يقول الفقهاء لا يصوم أحد يوم عاشوراء فقط بل يصوم معه اليوم التاسع أو اليوم الحادي عشر و أخيرا أدعو الله أن يؤفقنا إلى أداء حقه۔


Wednesday, July 2, 2025

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کے احوال و آثار

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور 
پوری اور ان کے احوال و آثار 



عتیق اللہ کلیم ✍️

ان کے خاندان کے ایک بزرگ پیر محمد عہد مغلیہ میں دہلی کے منصب قضا پر فائز تھے، اس لیے انہیں قاضی پیر محمد کہا جاتا تھا، اس کے بعد خاندان کے ہر فرد کو قاضی کہا جانے لگا۔

آگے چل کر ان کا سلسلہ نسب حضرت علی سے جا ملتا ہے لیکن کسی نے اپنے نام کے ساتھ ’علوی‘ نہیں لکھا۔

قاضی محمد سلیمان کے پردادا قاضی محمد باقی باللہ ضلع فیروز پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں بڈھیمال کے رہنے والے تھے حضرت غلام علی شاہ مجددی دہلوی کے حکم سے تبلیغ دین کے لیے منصور پور میں سکونت اختیار کر لیا ہے۔
قاضی باقی باللہ کے بیٹے غازی معز الدین اور ان کے لڑکے  قاضی
 ا حمد شاہ ،قاضی محمد سلیمان کے والد مکرم تھے، وہ ۱۲۵۰ھ (1834) منصور پور میں پیدا ہوئے
آپ ریاست  پٹیالہ کے محکمہ مال میں ملازم تھے۔
قاضی احمد شاہ ۲۸ محرم ۱۳۲۸ھ(19 فروری 1990) کو پٹیالہ میں فوت ہوئے ۔
 قاضی احمد کی نرینہ اولاد تین بیٹے تھے ،جن کے نام یہ ہیں: محمد سلیمان ،عبدالرحمن، اور محمد ،جو کم سنی میں وفات پا گئے تھے۔
عبدالرحمن طویل عرصے تک ریاست پٹیالہ کے منصب وکالت (ریاست میں وکالت ایک نہایت ذمہ دارانہ منصب تھا اس کے معنی تھے سفارت اور نمائندگی) پر فائض رہے، ۳۰ دسمبر ١٩٤٧ کو لاہور میں فوت ہوئے ۔

 قاضی محمد سلیمان


قاضی صاحب۱۸٦٧ (١٢٨٤ھ) کو منصورپور میں پیدا ہوا۔
آپ کی والدہ کا نام ”اللہ جوئی “ تھا اور لوگ انہیں مائ  جی کہہ کر پکار تے تھے ۔

: تعلیم


قاضی صاحب نے قران مجید اور اس دور کی مروجہ تعلیم والد گرامی قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔
مولانا عبدالعزیز فروکش سے علوم متداولہ کی تحصیل کی فارسی کی تعلیم مہندرہ کا لج کے پروفیسر  منشی سکھن لال سے حاصل کی جو آتش یا ناسخ کے شاگرد تھے۔
سترہ برس کی عمر میں وہ علوم عربیہ ،دینیہ اور فارسی کی اعلی مروجہ تعلیم سے فارغ ہو چکے تھے ۔

 : ملازمت
 ۱۸۸۵
 میں ریاست پٹیالہ کے محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ   کے طور پر  تقررہوا۔
اور کم و بیش 1۵ سال اس خدمت کو انجام دیا۔
اس کے بعد قاضی صاحب تمام عمر عدلیہ میں رہے اور تھوڑے عرصے میں اتنی ترقی کی ریاست کے سیشن جج بنا دیے گئے۔

تصانیف 

الجمال و الکمال ( یہ سورہ یوسف کی تفسیر ہے) 
شرح اسماء الحسنٰی 
مہر نبوت ( یہ سیرت پر ان کی مختصر کتاب ہے) 
 اصحاب بدر 
 غایۃ المرام اور تائید الاسلام ( یہ دو کتابیں مرزا غلام احمد قادیانی کے 
(دعوائے مسحیت اور اُن کی کتابوں کے میں لکھیں

: رحمۃ للعالمین 

“اس کا نام قران مجید کی ایت کریمہ” وما أرسلنك إلا رحمة للعالمين سے مستعار لیا گیا ہے ۔
پہلی جلد ۱۹۱۲ء میں شائع ہوئی اور دوسری جلد ۱۹۱۸ء میں ہوئی جب کہ تیسری جلد کی اشاعت وفات کے بعد ۱۹۳۳ء میں ہوئی ۔
رحمۃ للعالمین کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قران و سنت کے دلائل کے ساتھ ساتھ دیگر  مذاہب کی کتب ( تورات، انجیل وغیرہ ) سے آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت بیان کی گئی، رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہود و نصاری کے اعتراضات کے مدلل جوابات دیے گئے ہیں۔


: وفات
 

انہوں نے دوسرے حج سے واپس آتے ہوئے جہاز میں وفات پائی نماز جنازہ مولانا اسماعیل غزنوی نے پڑھائی،بعد ازاں ان کی میت سمندر کی لہروں کے سپرد کر دی گئی یہ ۳۰ مئی ۱۹۳۰ کا واقعہ ہے کہ ارحم الراحمین نے ” رحمۃ للعالمین  “کے مصنف کو اپنی رداۓ رحمت میں لے لیا ۔
تلخیص مقدمہ ” رحمۃ للعالمین“ از قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری 


Friday, June 27, 2025

درس من القران الكريم

درس من القران الكريم  


عتیق اللہ کلیم ✍️
“إن هذا القران يهدي للتي هي اقوم”
إن في القران الكريم دروس وعبر وبصائر وهدى  ونور و رحمة للمتقين وفي ذلك نجاح للإنسانية ويهدي الله تعالى الناس إلى هذه البصائر من خلال ما انزل على رسوله المصطفى محمد صلى الله عليه وسلم من الوحي والكتاب العزيز ونور وحياه للناس "هذا بصائر من ربكم وهدى ورحمة لقوم يؤمنون 
كل انسان محتاج إلى النور ليري الطريق الصحيح ويهتدي إلى الصراط المستقيم فالقران هو نور والصراط المستقيم إلى الله فقد رسمه الله للعباد ليصلوا الى الباري عز وجل فهو منظم
حياه لكل عباد الله وهو مسار الفطره ففي هذا الكتاب العزيز صراط قيم ليس فيه ميل. وهو على خط الفطرة السليمة لأن الله تعالى يقول
 الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا قيما لينذر باسا شديدا من لدنه ويبشر المؤمنين
 
فإن القران هو صراط الله المستقيم الذي يخرج الناس من الظلمات إلى النور و برهان في حياة الناس و إن الناس ان حكموا فطرتهم و عقلهم فسوف يسلكون طريق الحق والنور المبين طريق القرآن فان هذا الكتاب لا ريب فيه وهو بيان للناس وإن يتجهوا إلى الظلمة المنصرف عن الصراط المستقيم في الهاوية
 
وإن القران الكريم غزاء العقل والفؤاد والفطرة والإرادة لأن الانسان يحتاج في حركته إلى الله تعالى إلى مصادر كالعقل والفؤاد والفطرة والعزم وإن جميع هذه المصادر يحتاج إلى غذاء والقران هو الغزاء الإلهي وهو الهدي والنور والبصيرة واليقين والعزم الذي يحتاجه الإنسان
. في حركته إلى الله تعالى

 فقد روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال
إنَّ هذا القرآن مأدبةُ اللهِ فتعلموا من مأدبته ما استطعتم، إن هذا القرآن حبلُ الله، وهو النور المبين، والشفاء النافع، عصمةٌ لمن تمسَّك به، ونجاةٌ لمن اتبعه… فاتلوه فإن الله يأجركم على تلاوته بكل حرف عشر حسنات

Saturday, June 14, 2025

سفر نامہ: لکھنؤ سے چھپرہ

سفر نامہ 

٠٤/٠٦/٢٠٢٥

:عید کی آمد اور وطن کی تڑپ

عتیق اللہ کلیم ✍️
عید الاضحٰی کی آمد آمد تھی، مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی چھٹی ہو چکی تھی۔ ہر چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ میں بھی اپنے وطن، گاؤں، والدین، بھائیوں اور بہن سے ملنے کے لیے بیتاب تھا۔
 میں نے  کار بک کیا اور اپنے بھائی اطیع اللہ اور دوستوں کے ساتھ گومتی نگر ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا، ابھی ٹرین روانہ بھی نہ ہوئی تھی کہ انسانوں کا سیلاب آن پہنچا۔ ہر طرف دھکے، آوازیں، پسینہ اور بے بسی کا عالم تھا۔

:ریل گاڑی کی بوگی: گرمی،گھٹن اور بے قراری

مسافروں کا سیلاب 
 
بوگی کے اندر ایک قیامت خیز منظر تھا — جسم در جسم چپکے ہوئے، دھوپ سے جھلستی کھڑکیاں، ٹھنڈی ہوا کا کہیں گزر نہیں،اور مسافروں کے چہروں پر ایک ہی سوال
"کیا منزل ابھی بہت دور ہے؟"

:چنے بیچتا باپ — قربانی کا استعارہ
قربانی کا ایک منظر یہ بھی 


اسی بھیڑ کے درمیان ایک منظر نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باپ، سر پر چنے کی بالٹی لیے، کمر کے گرد کپڑا باندھے، پسینے میں شرابور، زور زور سے آواز لگا رہا تھا
"چنے لے لو، گرم چنے"
"میں نے بےساختہ پوچھا: "اتنی بھیڑ میں چنے بیچ رہے ہو؟
:اس نے مسکرا کر کہا
"اے مہاراج، ہمنی کے ت ایکرا سے زادہ بھیڑ میں چنا بیچ نی"
جناب! یہ کچھ بھی نہیں، ہم تو اس سے بھی زیادہ بھیڑ میں چنے بیچتے ہیں۔

میں نے اُس کے چہرے پر غور کیا۔ وہ تھکا ہوا، دھوپ سے جھلسا ہوا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں عزم کی ایک چمک باقی تھی۔ اُس کی آواز میں محنت کی تھکن بھی تھی اور رزق کی طلب بھی۔ وہ بھیڑ میں دھکیلا بھی جا رہا تھا، مگر گرتے پڑتے، ہر مسافر کو مخاطب کر کے اپنی روزی کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔

:باپ اور اولاد


 باپ وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کی راحت و آرام کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ وہ پسینے میں شرابور، تھکن سے چُور، اپنی خواہشات کو قربان کر کے صرف اس لیے محنت کرتا ہے کہ اُس کی اولاد آرام و راحت کی زندگی بسر کر سکے، اُس کی بیوی خوش رہے، اور گھر میں چین و سکون قائم رہے۔

وہ کبھی شکوہ نہیں کرتا، بس اولاد کے روشن مستقبل کی امید میں جیتا ہے۔ اُس کی دعائیں، اُس کی راتوں کی جاگ، اُس کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے چھپی قربانی... یہ سب وہی جانتا ہے جو "باپ" کہلانے کا شرف رکھتا ہے۔

لیکن افسوس! وہی اولاد جب جوان ہوتی ہے، جب اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا وقت آتا ہے، تو اکثر اُن قدموں کے نیچے وہی باپ آ جاتا ہے۔ وہ احسانات جو کبھی گنے نہیں جا سکتے، نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ جس شخص نے تمام عمر سہارا دیا، اُسی کے لیے سہارا بننے سے کترایا جاتا ہے۔ باپ اُس عمر میں، جب اُسے محبت، توجہ اور سکون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے۔

اے نوجوانو! ذرا ایک لمحے کو رک کر سوچو... جن پیسوں پر تم عیش کرتے ہو، وہ کتنی محنت، کتنی قربانی اور کتنی دعاؤں کا حاصل ہیں؟ اُن پیسوں کے پیچھے ایک باپ کی جوانی، اُس کا وقت، اُس کی نیندیں اور اُس کی خوشیاں دفن ہیں۔

اگر آج تم نے اُس کا ہاتھ تھام لیا، تو کل تمہارے بچے تمہارا ہاتھ تھامیں گے۔ ورنہ زمانہ وہی سلوک تمہارے ساتھ کرے گا جو تم نے اپنے باپ کے ساتھ کیا۔

:سبق آموز منظر


لیکن اُسی بھیڑ میں ایک اور منظر مجھے چونکا گیا 
میرے پہلو میں ایک غیر مسلم نوجوان بیٹھا تھا۔ کپڑے پسینے سے تر، مگر چہرے پر سکون کی ایک عجیب سی جھلک۔ اُس کے کانوں میں ہینڈفری تھے، اور وہ پوری توجہ سے اپنے فون پر آن لائن تعلیم حاصل کر رہا تھا، جیسے وہ اس شور، گرمی اور بھیڑ سے مکمل طور پر بے نیاز ہو۔

:میرے دل میں سوال پیدا ہوا
یہ نوجوان اتنا مطمئن کیوں ہے؟

:جواب سادہ تھا مگر نہایت گہرا
اس کی منزل محض یہ اسٹیشن نہ تھی، وہ وقتی آرام کا متلاشی نہ تھا، بلکہ وہ ایک روشن مستقبل کی تلاش میں سفر کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل کامیابی اُن لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جب دوسرے تھک ہار کر رک جاتے ہیں۔

!اے نوجوانِ مسلم
یہ منظر تیرے لیے ایک خاموش پیغام ہے۔ کیا تُو قرآن کا وارث ہو کر بھی صرف عارضی منزلوں پر نظر رکھے گا؟
کیا تیرے لیے صرف ظاہری کامیابی کافی ہے، جب کہ تیرا دین تجھ سے دنیا و آخرت دونوں کی بلندی کا طالب ہے؟

اگر غیر مسلم نوجوان تنگی، گرمی، اور بے آرامی میں بھی اپنی اصل منزل کی طرف رواں ہے، تو تُو جو "اقْرَأْ" کا اُمتی ہے، تیرے پاس کیا عذر ہے؟
تجھے تو سب سے پہلے حکم ہی پڑھنے کا ملا تھا۔ پھر کیوں تُو موبائل پر وقت ضائع کرتا ہے، اور محنت کو بھول بیٹھا ہے؟

یاد رکھ
جو نوجوان آج پسینے میں پڑھتا ہے، وہ کل کامیابی کے سائے میں جیتا ہے۔
اور جو آج صرف آرام ڈھونڈتا ہے، کل صرف افسوس پالے گا۔

پس، اے مسلم نوجوان
منزل کو عارضی نہ بنا
اپنا مقصد بلند رکھ
اور ہر حال میں کوشش جاری رکھ
کیونکہ اصل کامیابی اُنہی کو ملتی ہے جو گرمی، بھیڑ، تھکن اور وقت کی سختیوں کے باوجود ہمت نہیں ہارتے۔

:اختتامیہ

گھنٹوں بعد جب ٹرین بہار کی سرزمین میں داخل ہوئی، تو میرے دل کی زمین بھی کچھ بدل چکی تھی۔ میں صرف گھر نہیں جا رہا تھا، میں اپنے اندر ایک نیا شعور لے کر جا رہا تھا،

مدرسے کی تعلیم نے علم دیا، مگر یہ سفر زندگی کا سبق دے گیا۔ ٹرین کی کھڑکی سے میں نے جو مناظر دیکھے، وہ صرف فاصلہ طے کرنے کا ذریعہ نہ تھے، بلکہ روح کی وسعت کا سبب بھی بنے۔
چنے بیچنے والا وہ باپ میرے لیے عیدالاضحٰی کی سب سے بڑی 
قربانی کی علامت بن گیا۔













Friday, May 30, 2025

تبصرہ : بر مسئلہ قربانی مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ


تبصرہ : بر مسئلہ قربانی
  مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ 
مسئلہ قربانی – ایک فکری و تہذیبی تجزیہ


جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے جلیل القدر مفکر و مصلح کی تحریر سامنے آتی ہے، تو محض ایک مضمون نہیں، بلکہ فکر و نظر کی پوری ایک کائنات ہماری نگاہوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ "مسئلہ قربانی" مولانا کا ایک مختصر مگر نہایت جامع رسالہ ہے، جو صرف تیس صفحات پر مشتمل ہے، لیکن معنویت اور استدلال کے اعتبار سے ایک فکری شاہکار ہے۔

یہ رسالہ اس وقت تحریر کیا گیا جب معاشرے میں قربانی جیسی عظیم عبادت پر مختلف زاویوں سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ کہیں سادگی کے نام پر اس سنت کو ثانوی حیثیت دی جا رہی تھی، تو کہیں معاشی مفادات کی آڑ میں اسے بےمعنی اور دقیانوسی قرار دینے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ایسے میں مولانا مودودیؒ نے دلائل، تاریخ، شریعت، اور تہذیب کے سہارے اس سنت کی اصل روح کو نہ صرف واضح کیا بلکہ مخالفین کی فکری کمزوریوں کو بھی بےنقاب کیا۔

:دلائل کا جادو

مولانا نے ابتدا میں ہی یہ واضح کیا کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک علامتی عبادت ہے، جس میں عبد کا رب کے حضور مکمل تسلیم و رضا کا اظہار شامل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کو مولانا نے نہایت پر اثر انداز میں بیان کرتے ہوئے یہ باور کرایا کہ قربانی کا مفہوم صرف جسمانی یا مالی نہیں، بلکہ روحانی ہے – ایک تزکیہ نفس، ایک تہذیبی شعور، اور ایک اجتماعی وابستگی ہے۔

: سنت کی حفاظت کا جذبہ

رسائل و جرائد میں قربانی کے خلاف پھیلائے گئے مغالطوں کا مدلل جواب دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں کہ اگر قربانی کو "مالی ضیاع" کہہ کر ترک کر دیا جائے، تو دین اسلام کی روحانیات، شعائر اور عبادات پر بھی ایک دن یہی تہمتیں لگیں گی اور انھیں غیر ضروری اور رسمی کہ کر ان کے ترک پر امت مسلمہ کو قائل کیا جائیگا اس مختصر سے رسالے میں وہ نہایت سلیقے اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ اسلامی تہذیب کا ایک ستون ہے۔

 : ادبی و فکری اسلوب

مولانا کا اسلوب ہمیشہ کی طرح متین، سادہ مگر پراثر ہے۔ ان کے جملوں میں دلائل کی کاٹ بھی ہے، اور روح کی حلاوت بھی۔ کہیں وہ قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، تو کہیں احادیث سے۔ کہیں تاریخی تناظر بیان کرتے ہیں، تو کہیں معاشرتی تغیرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا قلم ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم اور حکمت کی مشعل تھامے ہوئے ہو۔

 : مخالفین پر شائستہ تنقید

مولانا کا خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ تنقید برائے تنقید کے قائل نہیں۔ وہ اختلاف رکھنے والوں کو رد کرتے ہیں، مگر عزت و شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان کی زبان میں نہ تلخی ہے، نہ تندی، بلکہ دلائل کی روشنی میں حق کو نمایاں کرنے کا خلوص ہے۔

 : تہذیب کا مقدمہ

قربانی کو اگر تہذیبی مظہر کے طور پر دیکھا جائے، تو مولانا نے نہایت خوبصورتی سے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ اسلامی تہذیب اپنی علامتوں سے پہچانی جاتی ہے، اور اگر ان علامتوں کو مٹانے کی کوشش کی گئی، تو امت کا تشخص مٹ جائے گا، روحانی جوہر ماند پڑ جائے گا، اور دینی شعائر محض رسوم بن کر رہ جائیں گے۔

 : اختتامیہ

یہ رسالہ صرف ایک فقہی یا عقلی بحث نہیں، بلکہ ایک فکری تجزیہ ہے، جو قربانی جیسے عظیم عمل کی حقیقت، اہمیت اور اثرات کو آج کے دور کے تنقیدی مزاج کے سامنے نہایت خوبی سے پیش کرتا ہے۔ مولانا نے سنتِ ابراہیمی کے تقدس کو نئی نسل کے دلوں میں جاگزیں کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کا انداز نہ صرف قاری کو مطمئن کرتا ہے بلکہ اسے جھنجھوڑتا ہے، بیدار کرتا ہے، اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ رسالہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے، جذب کرنے، اور عمل کرنے کے لیے ہے۔ ایک ایسا اثاثہ جو ہر صاحبِ علم و دین کے مطالعے میں ہونا چاہیے۔

برادرم محمد عمران خیرآبادی 

درجہ :عالیہ رابعہ شریعہ

متعلم  :دارالعلوم ندوۃ العلماء ،لکھنؤ 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html

Friday, May 23, 2025

روزنامچہ بتاریخ ۲۰ مئی ۲۰۲۵

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

روزنامچہ 
تاریخ: ۲۰ مئ ۲۰۲۵
دن:        اتوار 

مسجد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ 

عتیق اللہ کلیم ✍️

آج کی صبح کچھ خاص تھی۔ فجر کی اذان نے جب سکوتِ 
شب کو چیر کر بیداری کی ندا دی، تو دل نے خوشی سے کہا
الحمد للہ، آج بھی بیداری کی نعمت نصیب ہوئی
با جماعت نمازِ فجر ادا کی، پھر تلاوتِ کلامِ الٰہی سے دل و دماغ کو منور کیا، اور تن آسانی کی چادر کو جھٹک کر ورزش گاہ گیا، آدھے گھنٹے کی ورزش نے جسم میں توانائی پیدا کر دی۔
ورزش کے بعد میں حسب معمول اپنے محبوب و محترم استاد، مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتهم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ معمول کے مطابق کاپی پیش کی، چند غلطیوں پر تنبیہ فرمائی، جو گویا جنہیں دور کرنے کا اسی وقت عزم کر لیا ۔ پھر آئندہ کے لیے نیا سبق عطا فرمایا، جو میرے علمی سفر کا ایک اور سنگِ میل بنا۔
دارالعلوم واپسی پر ناشتہ کیا، اور ترمذی شریف کا اعادہ و مطالعہ اس ذوق و شوق سے کیا جیسے کوئی پیاسا چشمۂ علم پر جھک جائے۔ وقت سے پہلے درجہ میں حاضری دے دی۔
الحمد للہ، آج تمام اوقاتِ درس پوری توجہ سے گزرے۔ ہر گھنٹہ جیسے علم کا ایک چراغ تھا، جو ذہن کی تاریکیوں کو روشن کرتا رہا۔
نمازِ ظہر کے بعد اپنے رفیقِ درس، برادرم شاہد کے ساتھ "نخبۃ الأدب" کے چند اسباق کا ترجمہ کیا۔ یہ لمحات صرف مطالعے کے نہ تھے، بلکہ ذہن میں فکر اور عمل کا عزم پیدا ہوا۔
کچھ ہی دیر بعد ہمارے قدیم اور عزیز رفیق، عاقب بھائی تشریف لائے، جن کے لیے دل بے اختیار مسکرا اٹھا۔ ضیافت کی، کچھ احوال پرسی ہوئی۔ پھر عصر سے کچھ قبل تھوڑی دیر قیلولہ کیا — جو بدن کی راحت اور ذہن کی تازگی کا سامان بن گیا۔
نمازِ عصر کے بعد تبلیغی مشورے میں شرکت کی، پھر ایک دعا اور چند احادیث حفظ کیا، اور کچھ دیر چہل قدمی کرکے واپس مسجد آیا اور دعا میں مشغول ہو گیا۔
مغرب کے بعد ایک علمی محفل میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ہال "علامہ حیدر حسن ٹونکی" میں ایک باوقار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں دارالعلوم کے ناظم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی، نائب ناظم مولانا عبد القادر ندوی، مہتمم سعید الرحمن اعظمی ندوی نائب مہتمم مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی،اساتذہ کرام اور ممتاز مہمانانِ گرامی موجود تھے۔
تقریب کا آغاز عالیہ رابعہ کےطالب علم، برادرم ثمامہ کی تلاوت سے ہوا۔ ماجد دیوبندی صاحب نے نعتِ رسول پیش کی، اور پھر ترانۂ ندوہ پیش کیا گیا ۔
اس کے بعد وہ لمحہ آیا، جب استاد محترم ڈاکٹر محمد فرمان صاحب ندوی مدظلہ العالی کی تصنیف "الشیخ سعید الاعظمی الندوی: حیاتہ و آثارہ" کا باضابطہ اجرا ہوا۔ آپ نے حضرت مہتمم صاحب کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اور بتایا کہ حضرت نے ۷۱ سالوں میں البعث کے لیے ۷۲۸ اداریے اور الرائد میں ٦٧ سالوں میں ۱١٤۰ مستقل کالم تحریر فرمائے۔

:تاثرات

:مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی نے کہا کہ

دوسروں کے لئے قربانی دینا اور دوسروں کے لئے جینا بہت بڑی بات ہے  مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا وہ آج تک قائم ہے، ان کے آگے صرف ندوہ ہی تھا،  وہ دار العلوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ نے کہا کہ

 مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ۱۹۹۳ء میں مسلمانوں کی عصری علوم کے فروغ کے لئے انٹیگرل یونیورسٹی کو قائم کیا ، میں اس کا گواہ ہوں کہ مولانا کو دارالعلوم کے ساتھ ساتھ یو نیورسٹی قائم کرنے کی بہت فکر تھی ، آج یونیورسٹی جس شکل میں سامنے ہے، اس میں مولانا اعظمی کی توجہات شامل ہیں۔

تقریب رسم اجراء
 

ناظرین کی سہولت کے لیے ایل سی ڈی اسکرین کا اہتمام 

تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ ہال کے باہر ایک بڑی ایل سی ڈی اسکرین نصب کی گئی تھی تاکہ وہ افراد جو اندر نشست حاصل نہ کر سکے، وہ بھی اس روح پرور لمحے کا مشاہدہ کر سکیں۔ نتیجتاً ہال کے باہر بھی شائقینِ علم کی ایک بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہر طرف علم و ادب کے متوالوں کا ہجوم، اور کتاب سے محبت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔

طلبہ اور ناظرین کا جم غفیر 


بزم کا اختتام حضرت مہتمم صاحب کی دعاؤں سے ہوا۔

عشاء کے بعد کچھ ساتھیوں کے درمیان ہدایہ کا مذاکرہ کرایا، روزنامچہ رقم کیا، اور دل کو رب کے حضور سونپ کر پرسکون نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں بہتر بہتر سے مشغولیت میں مصروف رکھے اور یہ ہماری زندگی کا معمول بن جاۓ۔ آمین 

تحریر کے تئیں اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کریں۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/molana-abul-kalam-azad.html

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...