Friday, June 27, 2025

درس من القران الكريم

درس من القران الكريم  


عتیق اللہ کلیم ✍️
“إن هذا القران يهدي للتي هي اقوم”
إن في القران الكريم دروس وعبر وبصائر وهدى  ونور و رحمة للمتقين وفي ذلك نجاح للإنسانية ويهدي الله تعالى الناس إلى هذه البصائر من خلال ما انزل على رسوله المصطفى محمد صلى الله عليه وسلم من الوحي والكتاب العزيز ونور وحياه للناس "هذا بصائر من ربكم وهدى ورحمة لقوم يؤمنون 
كل انسان محتاج إلى النور ليري الطريق الصحيح ويهتدي إلى الصراط المستقيم فالقران هو نور والصراط المستقيم إلى الله فقد رسمه الله للعباد ليصلوا الى الباري عز وجل فهو منظم
حياه لكل عباد الله وهو مسار الفطره ففي هذا الكتاب العزيز صراط قيم ليس فيه ميل. وهو على خط الفطرة السليمة لأن الله تعالى يقول
 الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا قيما لينذر باسا شديدا من لدنه ويبشر المؤمنين
 
فإن القران هو صراط الله المستقيم الذي يخرج الناس من الظلمات إلى النور و برهان في حياة الناس و إن الناس ان حكموا فطرتهم و عقلهم فسوف يسلكون طريق الحق والنور المبين طريق القرآن فان هذا الكتاب لا ريب فيه وهو بيان للناس وإن يتجهوا إلى الظلمة المنصرف عن الصراط المستقيم في الهاوية
 
وإن القران الكريم غزاء العقل والفؤاد والفطرة والإرادة لأن الانسان يحتاج في حركته إلى الله تعالى إلى مصادر كالعقل والفؤاد والفطرة والعزم وإن جميع هذه المصادر يحتاج إلى غذاء والقران هو الغزاء الإلهي وهو الهدي والنور والبصيرة واليقين والعزم الذي يحتاجه الإنسان
. في حركته إلى الله تعالى

 فقد روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال
إنَّ هذا القرآن مأدبةُ اللهِ فتعلموا من مأدبته ما استطعتم، إن هذا القرآن حبلُ الله، وهو النور المبين، والشفاء النافع، عصمةٌ لمن تمسَّك به، ونجاةٌ لمن اتبعه… فاتلوه فإن الله يأجركم على تلاوته بكل حرف عشر حسنات

Saturday, June 14, 2025

سفر نامہ: لکھنؤ سے چھپرہ

سفر نامہ 

٠٤/٠٦/٢٠٢٥

:عید کی آمد اور وطن کی تڑپ

عتیق اللہ کلیم ✍️
عید الاضحٰی کی آمد آمد تھی، مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی چھٹی ہو چکی تھی۔ ہر چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ میں بھی اپنے وطن، گاؤں، والدین، بھائیوں اور بہن سے ملنے کے لیے بیتاب تھا۔
 میں نے  کار بک کیا اور اپنے بھائی اطیع اللہ اور دوستوں کے ساتھ گومتی نگر ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا، ابھی ٹرین روانہ بھی نہ ہوئی تھی کہ انسانوں کا سیلاب آن پہنچا۔ ہر طرف دھکے، آوازیں، پسینہ اور بے بسی کا عالم تھا۔

:ریل گاڑی کی بوگی: گرمی،گھٹن اور بے قراری

مسافروں کا سیلاب 
 
بوگی کے اندر ایک قیامت خیز منظر تھا — جسم در جسم چپکے ہوئے، دھوپ سے جھلستی کھڑکیاں، ٹھنڈی ہوا کا کہیں گزر نہیں،اور مسافروں کے چہروں پر ایک ہی سوال
"کیا منزل ابھی بہت دور ہے؟"

:چنے بیچتا باپ — قربانی کا استعارہ
قربانی کا ایک منظر یہ بھی 


اسی بھیڑ کے درمیان ایک منظر نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باپ، سر پر چنے کی بالٹی لیے، کمر کے گرد کپڑا باندھے، پسینے میں شرابور، زور زور سے آواز لگا رہا تھا
"چنے لے لو، گرم چنے"
"میں نے بےساختہ پوچھا: "اتنی بھیڑ میں چنے بیچ رہے ہو؟
:اس نے مسکرا کر کہا
"اے مہاراج، ہمنی کے ت ایکرا سے زادہ بھیڑ میں چنا بیچ نی"
جناب! یہ کچھ بھی نہیں، ہم تو اس سے بھی زیادہ بھیڑ میں چنے بیچتے ہیں۔

میں نے اُس کے چہرے پر غور کیا۔ وہ تھکا ہوا، دھوپ سے جھلسا ہوا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں عزم کی ایک چمک باقی تھی۔ اُس کی آواز میں محنت کی تھکن بھی تھی اور رزق کی طلب بھی۔ وہ بھیڑ میں دھکیلا بھی جا رہا تھا، مگر گرتے پڑتے، ہر مسافر کو مخاطب کر کے اپنی روزی کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔

:باپ اور اولاد


 باپ وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کی راحت و آرام کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ وہ پسینے میں شرابور، تھکن سے چُور، اپنی خواہشات کو قربان کر کے صرف اس لیے محنت کرتا ہے کہ اُس کی اولاد آرام و راحت کی زندگی بسر کر سکے، اُس کی بیوی خوش رہے، اور گھر میں چین و سکون قائم رہے۔

وہ کبھی شکوہ نہیں کرتا، بس اولاد کے روشن مستقبل کی امید میں جیتا ہے۔ اُس کی دعائیں، اُس کی راتوں کی جاگ، اُس کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے چھپی قربانی... یہ سب وہی جانتا ہے جو "باپ" کہلانے کا شرف رکھتا ہے۔

لیکن افسوس! وہی اولاد جب جوان ہوتی ہے، جب اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا وقت آتا ہے، تو اکثر اُن قدموں کے نیچے وہی باپ آ جاتا ہے۔ وہ احسانات جو کبھی گنے نہیں جا سکتے، نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ جس شخص نے تمام عمر سہارا دیا، اُسی کے لیے سہارا بننے سے کترایا جاتا ہے۔ باپ اُس عمر میں، جب اُسے محبت، توجہ اور سکون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے۔

اے نوجوانو! ذرا ایک لمحے کو رک کر سوچو... جن پیسوں پر تم عیش کرتے ہو، وہ کتنی محنت، کتنی قربانی اور کتنی دعاؤں کا حاصل ہیں؟ اُن پیسوں کے پیچھے ایک باپ کی جوانی، اُس کا وقت، اُس کی نیندیں اور اُس کی خوشیاں دفن ہیں۔

اگر آج تم نے اُس کا ہاتھ تھام لیا، تو کل تمہارے بچے تمہارا ہاتھ تھامیں گے۔ ورنہ زمانہ وہی سلوک تمہارے ساتھ کرے گا جو تم نے اپنے باپ کے ساتھ کیا۔

:سبق آموز منظر


لیکن اُسی بھیڑ میں ایک اور منظر مجھے چونکا گیا 
میرے پہلو میں ایک غیر مسلم نوجوان بیٹھا تھا۔ کپڑے پسینے سے تر، مگر چہرے پر سکون کی ایک عجیب سی جھلک۔ اُس کے کانوں میں ہینڈفری تھے، اور وہ پوری توجہ سے اپنے فون پر آن لائن تعلیم حاصل کر رہا تھا، جیسے وہ اس شور، گرمی اور بھیڑ سے مکمل طور پر بے نیاز ہو۔

:میرے دل میں سوال پیدا ہوا
یہ نوجوان اتنا مطمئن کیوں ہے؟

:جواب سادہ تھا مگر نہایت گہرا
اس کی منزل محض یہ اسٹیشن نہ تھی، وہ وقتی آرام کا متلاشی نہ تھا، بلکہ وہ ایک روشن مستقبل کی تلاش میں سفر کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل کامیابی اُن لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جب دوسرے تھک ہار کر رک جاتے ہیں۔

!اے نوجوانِ مسلم
یہ منظر تیرے لیے ایک خاموش پیغام ہے۔ کیا تُو قرآن کا وارث ہو کر بھی صرف عارضی منزلوں پر نظر رکھے گا؟
کیا تیرے لیے صرف ظاہری کامیابی کافی ہے، جب کہ تیرا دین تجھ سے دنیا و آخرت دونوں کی بلندی کا طالب ہے؟

اگر غیر مسلم نوجوان تنگی، گرمی، اور بے آرامی میں بھی اپنی اصل منزل کی طرف رواں ہے، تو تُو جو "اقْرَأْ" کا اُمتی ہے، تیرے پاس کیا عذر ہے؟
تجھے تو سب سے پہلے حکم ہی پڑھنے کا ملا تھا۔ پھر کیوں تُو موبائل پر وقت ضائع کرتا ہے، اور محنت کو بھول بیٹھا ہے؟

یاد رکھ
جو نوجوان آج پسینے میں پڑھتا ہے، وہ کل کامیابی کے سائے میں جیتا ہے۔
اور جو آج صرف آرام ڈھونڈتا ہے، کل صرف افسوس پالے گا۔

پس، اے مسلم نوجوان
منزل کو عارضی نہ بنا
اپنا مقصد بلند رکھ
اور ہر حال میں کوشش جاری رکھ
کیونکہ اصل کامیابی اُنہی کو ملتی ہے جو گرمی، بھیڑ، تھکن اور وقت کی سختیوں کے باوجود ہمت نہیں ہارتے۔

:اختتامیہ

گھنٹوں بعد جب ٹرین بہار کی سرزمین میں داخل ہوئی، تو میرے دل کی زمین بھی کچھ بدل چکی تھی۔ میں صرف گھر نہیں جا رہا تھا، میں اپنے اندر ایک نیا شعور لے کر جا رہا تھا،

مدرسے کی تعلیم نے علم دیا، مگر یہ سفر زندگی کا سبق دے گیا۔ ٹرین کی کھڑکی سے میں نے جو مناظر دیکھے، وہ صرف فاصلہ طے کرنے کا ذریعہ نہ تھے، بلکہ روح کی وسعت کا سبب بھی بنے۔
چنے بیچنے والا وہ باپ میرے لیے عیدالاضحٰی کی سب سے بڑی 
قربانی کی علامت بن گیا۔













Friday, May 30, 2025

تبصرہ : بر مسئلہ قربانی مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ


تبصرہ : بر مسئلہ قربانی
  مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ 
مسئلہ قربانی – ایک فکری و تہذیبی تجزیہ


جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے جلیل القدر مفکر و مصلح کی تحریر سامنے آتی ہے، تو محض ایک مضمون نہیں، بلکہ فکر و نظر کی پوری ایک کائنات ہماری نگاہوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ "مسئلہ قربانی" مولانا کا ایک مختصر مگر نہایت جامع رسالہ ہے، جو صرف تیس صفحات پر مشتمل ہے، لیکن معنویت اور استدلال کے اعتبار سے ایک فکری شاہکار ہے۔

یہ رسالہ اس وقت تحریر کیا گیا جب معاشرے میں قربانی جیسی عظیم عبادت پر مختلف زاویوں سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ کہیں سادگی کے نام پر اس سنت کو ثانوی حیثیت دی جا رہی تھی، تو کہیں معاشی مفادات کی آڑ میں اسے بےمعنی اور دقیانوسی قرار دینے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ایسے میں مولانا مودودیؒ نے دلائل، تاریخ، شریعت، اور تہذیب کے سہارے اس سنت کی اصل روح کو نہ صرف واضح کیا بلکہ مخالفین کی فکری کمزوریوں کو بھی بےنقاب کیا۔

:دلائل کا جادو

مولانا نے ابتدا میں ہی یہ واضح کیا کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک علامتی عبادت ہے، جس میں عبد کا رب کے حضور مکمل تسلیم و رضا کا اظہار شامل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کو مولانا نے نہایت پر اثر انداز میں بیان کرتے ہوئے یہ باور کرایا کہ قربانی کا مفہوم صرف جسمانی یا مالی نہیں، بلکہ روحانی ہے – ایک تزکیہ نفس، ایک تہذیبی شعور، اور ایک اجتماعی وابستگی ہے۔

: سنت کی حفاظت کا جذبہ

رسائل و جرائد میں قربانی کے خلاف پھیلائے گئے مغالطوں کا مدلل جواب دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں کہ اگر قربانی کو "مالی ضیاع" کہہ کر ترک کر دیا جائے، تو دین اسلام کی روحانیات، شعائر اور عبادات پر بھی ایک دن یہی تہمتیں لگیں گی اور انھیں غیر ضروری اور رسمی کہ کر ان کے ترک پر امت مسلمہ کو قائل کیا جائیگا اس مختصر سے رسالے میں وہ نہایت سلیقے اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ اسلامی تہذیب کا ایک ستون ہے۔

 : ادبی و فکری اسلوب

مولانا کا اسلوب ہمیشہ کی طرح متین، سادہ مگر پراثر ہے۔ ان کے جملوں میں دلائل کی کاٹ بھی ہے، اور روح کی حلاوت بھی۔ کہیں وہ قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، تو کہیں احادیث سے۔ کہیں تاریخی تناظر بیان کرتے ہیں، تو کہیں معاشرتی تغیرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا قلم ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم اور حکمت کی مشعل تھامے ہوئے ہو۔

 : مخالفین پر شائستہ تنقید

مولانا کا خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ تنقید برائے تنقید کے قائل نہیں۔ وہ اختلاف رکھنے والوں کو رد کرتے ہیں، مگر عزت و شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان کی زبان میں نہ تلخی ہے، نہ تندی، بلکہ دلائل کی روشنی میں حق کو نمایاں کرنے کا خلوص ہے۔

 : تہذیب کا مقدمہ

قربانی کو اگر تہذیبی مظہر کے طور پر دیکھا جائے، تو مولانا نے نہایت خوبصورتی سے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ اسلامی تہذیب اپنی علامتوں سے پہچانی جاتی ہے، اور اگر ان علامتوں کو مٹانے کی کوشش کی گئی، تو امت کا تشخص مٹ جائے گا، روحانی جوہر ماند پڑ جائے گا، اور دینی شعائر محض رسوم بن کر رہ جائیں گے۔

 : اختتامیہ

یہ رسالہ صرف ایک فقہی یا عقلی بحث نہیں، بلکہ ایک فکری تجزیہ ہے، جو قربانی جیسے عظیم عمل کی حقیقت، اہمیت اور اثرات کو آج کے دور کے تنقیدی مزاج کے سامنے نہایت خوبی سے پیش کرتا ہے۔ مولانا نے سنتِ ابراہیمی کے تقدس کو نئی نسل کے دلوں میں جاگزیں کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کا انداز نہ صرف قاری کو مطمئن کرتا ہے بلکہ اسے جھنجھوڑتا ہے، بیدار کرتا ہے، اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ رسالہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے، جذب کرنے، اور عمل کرنے کے لیے ہے۔ ایک ایسا اثاثہ جو ہر صاحبِ علم و دین کے مطالعے میں ہونا چاہیے۔

برادرم محمد عمران خیرآبادی 

درجہ :عالیہ رابعہ شریعہ

متعلم  :دارالعلوم ندوۃ العلماء ،لکھنؤ 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html

Friday, May 23, 2025

روزنامچہ بتاریخ ۲۰ مئی ۲۰۲۵

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

روزنامچہ 
تاریخ: ۲۰ مئ ۲۰۲۵
دن:        اتوار 

مسجد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ 

عتیق اللہ کلیم ✍️

آج کی صبح کچھ خاص تھی۔ فجر کی اذان نے جب سکوتِ 
شب کو چیر کر بیداری کی ندا دی، تو دل نے خوشی سے کہا
الحمد للہ، آج بھی بیداری کی نعمت نصیب ہوئی
با جماعت نمازِ فجر ادا کی، پھر تلاوتِ کلامِ الٰہی سے دل و دماغ کو منور کیا، اور تن آسانی کی چادر کو جھٹک کر ورزش گاہ گیا، آدھے گھنٹے کی ورزش نے جسم میں توانائی پیدا کر دی۔
ورزش کے بعد میں حسب معمول اپنے محبوب و محترم استاد، مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتهم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ معمول کے مطابق کاپی پیش کی، چند غلطیوں پر تنبیہ فرمائی، جو گویا جنہیں دور کرنے کا اسی وقت عزم کر لیا ۔ پھر آئندہ کے لیے نیا سبق عطا فرمایا، جو میرے علمی سفر کا ایک اور سنگِ میل بنا۔
دارالعلوم واپسی پر ناشتہ کیا، اور ترمذی شریف کا اعادہ و مطالعہ اس ذوق و شوق سے کیا جیسے کوئی پیاسا چشمۂ علم پر جھک جائے۔ وقت سے پہلے درجہ میں حاضری دے دی۔
الحمد للہ، آج تمام اوقاتِ درس پوری توجہ سے گزرے۔ ہر گھنٹہ جیسے علم کا ایک چراغ تھا، جو ذہن کی تاریکیوں کو روشن کرتا رہا۔
نمازِ ظہر کے بعد اپنے رفیقِ درس، برادرم شاہد کے ساتھ "نخبۃ الأدب" کے چند اسباق کا ترجمہ کیا۔ یہ لمحات صرف مطالعے کے نہ تھے، بلکہ ذہن میں فکر اور عمل کا عزم پیدا ہوا۔
کچھ ہی دیر بعد ہمارے قدیم اور عزیز رفیق، عاقب بھائی تشریف لائے، جن کے لیے دل بے اختیار مسکرا اٹھا۔ ضیافت کی، کچھ احوال پرسی ہوئی۔ پھر عصر سے کچھ قبل تھوڑی دیر قیلولہ کیا — جو بدن کی راحت اور ذہن کی تازگی کا سامان بن گیا۔
نمازِ عصر کے بعد تبلیغی مشورے میں شرکت کی، پھر ایک دعا اور چند احادیث حفظ کیا، اور کچھ دیر چہل قدمی کرکے واپس مسجد آیا اور دعا میں مشغول ہو گیا۔
مغرب کے بعد ایک علمی محفل میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ہال "علامہ حیدر حسن ٹونکی" میں ایک باوقار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں دارالعلوم کے ناظم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی، نائب ناظم مولانا عبد القادر ندوی، مہتمم سعید الرحمن اعظمی ندوی نائب مہتمم مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی،اساتذہ کرام اور ممتاز مہمانانِ گرامی موجود تھے۔
تقریب کا آغاز عالیہ رابعہ کےطالب علم، برادرم ثمامہ کی تلاوت سے ہوا۔ ماجد دیوبندی صاحب نے نعتِ رسول پیش کی، اور پھر ترانۂ ندوہ پیش کیا گیا ۔
اس کے بعد وہ لمحہ آیا، جب استاد محترم ڈاکٹر محمد فرمان صاحب ندوی مدظلہ العالی کی تصنیف "الشیخ سعید الاعظمی الندوی: حیاتہ و آثارہ" کا باضابطہ اجرا ہوا۔ آپ نے حضرت مہتمم صاحب کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اور بتایا کہ حضرت نے ۷۱ سالوں میں البعث کے لیے ۷۲۸ اداریے اور الرائد میں ٦٧ سالوں میں ۱١٤۰ مستقل کالم تحریر فرمائے۔

:تاثرات

:مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی نے کہا کہ

دوسروں کے لئے قربانی دینا اور دوسروں کے لئے جینا بہت بڑی بات ہے  مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا وہ آج تک قائم ہے، ان کے آگے صرف ندوہ ہی تھا،  وہ دار العلوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ نے کہا کہ

 مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ۱۹۹۳ء میں مسلمانوں کی عصری علوم کے فروغ کے لئے انٹیگرل یونیورسٹی کو قائم کیا ، میں اس کا گواہ ہوں کہ مولانا کو دارالعلوم کے ساتھ ساتھ یو نیورسٹی قائم کرنے کی بہت فکر تھی ، آج یونیورسٹی جس شکل میں سامنے ہے، اس میں مولانا اعظمی کی توجہات شامل ہیں۔

تقریب رسم اجراء
 

ناظرین کی سہولت کے لیے ایل سی ڈی اسکرین کا اہتمام 

تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ ہال کے باہر ایک بڑی ایل سی ڈی اسکرین نصب کی گئی تھی تاکہ وہ افراد جو اندر نشست حاصل نہ کر سکے، وہ بھی اس روح پرور لمحے کا مشاہدہ کر سکیں۔ نتیجتاً ہال کے باہر بھی شائقینِ علم کی ایک بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہر طرف علم و ادب کے متوالوں کا ہجوم، اور کتاب سے محبت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔

طلبہ اور ناظرین کا جم غفیر 


بزم کا اختتام حضرت مہتمم صاحب کی دعاؤں سے ہوا۔

عشاء کے بعد کچھ ساتھیوں کے درمیان ہدایہ کا مذاکرہ کرایا، روزنامچہ رقم کیا، اور دل کو رب کے حضور سونپ کر پرسکون نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں بہتر بہتر سے مشغولیت میں مصروف رکھے اور یہ ہماری زندگی کا معمول بن جاۓ۔ آمین 

تحریر کے تئیں اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کریں۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/molana-abul-kalam-azad.html

Wednesday, February 26, 2025

سوشل میڈیا کے منفی اثرات


سوشل میڈیا کے منفی اثرات


عتیق اللہ کلیم ✍️

:تمہید

دورِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کو بے حد سہولتیں فراہم کی ہیں۔ انہی سہولتوں میں سے ایک سوشل میڈیا بھی ہے، جو دنیا کے ہر فرد کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اسلام ہمیں جدید ذرائع کے مثبت استعمال کی ترغیب دیتا ہے، لیکن ہر ایجاد کے ساتھ خیر و شر کا پہلو جُڑا ہوتا ہے۔ یہی معاملہ سوشل میڈیا کا بھی ہے، جو ایک طرف معلومات کی تیز تر ترسیل کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف اس کے غیر محتاط استعمال سے کئی معاشرتی اور اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں

سوشل میڈیا کیا ہے؟

سوشل میڈیا انٹرنیٹ پر مبنی ایسے پلیٹ فارمز کا مجموعہ ہے جہاں لوگ معلومات کا تبادلہ، خیالات کی تشہیر، اور آپس میں گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس میں فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب، اور دیگر ایپلیکیشنز شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز فوری معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر اس کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

: سوشل میڈیا کے منفی اثرات

سوشل میڈیا جہاں معلوماتی اور تفریحی فوائد فراہم کرتا ہے، وہیں اس کے منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں


:١۔غور و فکر کی صلاحیت میں کمی


سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال نے انسانی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ مختصر اور سطحی معلومات پر انحصار کرنے کی وجہ سے لوگ تفکر و تدبر سے محروم ہوتے جا رہے ہیں

:٢.خاندانی تعلقات میں کمزوری


ایک وقت تھا جب خاندان کے افراد آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرتے تھے، مگر آج ہر شخص موبائل میں مصروف ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود لوگ حقیقی دنیا کے بجائے سوشل میڈیا کی دنیا میں مگن ہیں، جس سے خاندانی رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔

.عزتِ نفس کی پامالی اور نفسیاتی مسائل


سوشل میڈیا پر دھوکہ دہی، جعلی پروفائلز اور غلط معلومات کی بھرمار ہے۔ بعض افراد دوسروں کو نیچا دکھانے، ان کا مذاق اُڑانے یا نفرت پھیلانے کے لیے ان پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی نوجوان احساسِ کمتری، ڈپریشن اور یہاں تک کہ خودکشی جیسے خطرناک نتائج کا شکار ہو رہے ہیں۔

:٤.صحت پر منفی اثرات

سوشل میڈیا کا بے جا استعمال نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، اور آنکھوں کی کمزوری جیسی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ خاص طور پر طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارنے سے تعلیم پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔

:٥.وقت کا ضیاع

سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان وقت کا ضیاع ہے۔ لوگ گھنٹوں تک بلاوجہ اسکرولنگ کرتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، اور غیر ضروری مباحث میں مشغول رہتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی، پیشہ ورانہ، اور ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
:٦.بچوں اور نوجوانوں پر غلط اثرات
سوشل میڈیا پر غیر معیاری اور غیر اخلاقی مواد بآسانی دستیاب ہے، جس کا اثر بچوں اور نوجوانوں کی ذہن سازی پر پڑتا ہے۔ وہ نامناسب مواد دیکھ کر غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں اور بچپن میں ہی بالغ موضوعات سے آشنا ہو جاتے ہیں، جو ان کی اخلاقیات کے لیے خطرناک ہے۔
:٧.جعلی خبروں اور پروپیگنڈا کا فروغ
سوشل میڈیا پر غلط معلومات، جعلی خبریں، اور جھوٹے پروپیگنڈا کو بہت تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔ سیاسی، سماجی، اور مذہبی حوالے سے من گھڑت معلومات پھیلائی جاتی ہیں، جو فساد اور انتشار کا سبب بنتی ہیں۔
: پرائیویسی کا مسئلہ
سوشل میڈیا پر صارفین کی ذاتی معلومات اکثر محفوظ نہیں رہتیں۔ ہیکرز، سوشل میڈیا کمپنیاں، اور بعض غیر اخلاقی افراد ان معلومات کو غلط طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ کئی لوگ بلیک میلنگ اور سائبر کرائمز کا شکار ہو چکے ہیں۔

. جرائم میں اضافہ

سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن دھوکہ دہی، ہیکنگ، بلیک میلنگ، اور مالی فراڈ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض لوگ دوسروں کی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر ان سے پیسے بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔
:١٠. جعلی لائف اسٹائل اور حسد
سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کا خوبصورت پہلو دکھاتے ہیں اور اپنی پریشانیاں چھپا لیتے ہیں، جس سے دوسرے لوگ احساسِ کمتری اور حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی مصنوعی چمک دمک کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے اور اپنی حقیقی خوشیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
:۔ڈراموں اور فلموں کے ذریعے پھیلائے جانے والے غلط پیغامات
خاص طور پر ہماری بہنیں ڈرامے دیکھتی ہیں جس میں دکھائے گئے غلط کردار سے متاثر ہو جاتی ہیں اور یہی گھریلو جھگڑے کا سبب بنتا ہے،اور گھر کے گھر اُجڑ جاتے ہیں۔
نہایت ہی افسوس کی بات ہے کہ ہماری مسلم بہنیں کیریکٹر کے غیر شرعی لباس کو پسند کرتی ہیں اور اُسے پہننا قابلِ فخر سمجھتی ہیں، اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم جہنم کے مستحق ہو گئے۔
فلموں کے ذریعے لوگوں میں پھوٹ ڈالی جاتی ہے جیسا کہ اب چھاوا نامی فلم میں دکھایا جارہا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے چھترپتی شیواجی مہاراج پر سنگدلانہ ظلم کیا تھا، 
 اور جذباتی طور پر ایسے اشتعال انگیز انداز میں یہ سب دکھایا جارہا  ہے کہ دیکھنے والے ہندو مسلمانوں کے خلاف نفرت کرنے لگیں اور دنگے و فسادات بڑھنے لگیں۔

 :خاتمہ


حاصل کلام یہ ہے سوشل میڈیا برائی اور اچھائی کا مشترک مجموعہ ہے لہذا اس کا استعمال احتیاط سے کرنا ہماری ذمہ داری ہے یہ فیصلہ صارفین پر منحصر ہے آیا اس کے مثبت استعمال سے ہم دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنوارلیں یا دونوں جہانوں کی ناکامی اپنے سر لے لیں۔



Saturday, February 22, 2025

الخطبة الوداعية عند مفارقة الاصدقاء

الخطبة الوداعية 

الحمد لله الذي جعل لكل شيء قدرا و جعل لكل شيء فراقا و الصلاة و السلام على نبيه المختار و على آله و أصحابه الأخيار أما بعد

 

عتیق اللہ کلیم ✍️

قدِمتُ إلى مدرسة سيدنا بلال في عام ثلاثة و عشرين و ألفين من المسيح، و التحقت بالسنة السادسة من الثانوية، فوجدتُ المدرسة أفضل بكثير مما كنتُ قد سمعتُ عنها لكن يا مدرستي الحبيبة يا منبع العلم ويا موطن الذكريات الجميلة، أقف اليوم مودعًا وأنا أشعر بمزيج من الفرح والحزن، الفرح لأني أكملت هذه المرحلة من حياتي، والحزن لأنني سأفارق هذا المكان الذي كان لي بيتًا ثانيًا كم تعلمت منكِ يا مدرستي! تعلمت العلم النافع، والأخلاق السامية، والقيم التي ستبقى رفيقي في درب الحياة. لقد كانت لحظاتنا هنا مليئة بالتعب والجهد، لكنها كانت ممتعة ومليئة بالفائدة

مدرستي يا روضتي يا جنتي

فيكِ عشتُ أجملَ اللحظاتِ

!أساتذتي الكرام

يقف قلمي عاجزًا عن التعبير، وتختلط مشاعري بين الفرح والحزن، فرحٌ بما تعلمته على أيديكم، وحزنٌ لفراقكم، فكيف لي أن أودع من كان لهم الفضل بعد الله في تنوير عقلي، وتربية روحي، وتهذيب أخلاقي؟ لم تعطونا علما فقط، بل زينتمونا بالثقافة و الأخلاق أنتم المعرفة و أنتم الجامعة. أعطيتمونا خريطة الكنز و رسمتم عليها الطريق و دونتم لنا الغنيمة تعبتم و وقفتم في سبيلنا فنبقى شاكرين لكم ما دامت الحياة فينا

وَنَحْنُ شَاكِرُونَ جِدًّا لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ كَاشِفِ الصِّدِّيقِيِّ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى تَعْلِيمِهِ لَنَا مَادَّةَ اللُّغَةِ الإِنْجِلِيزِيَّةِ بِكُلِّ شَفَقَةٍ وَلُطْفٍ، وَعَلَى بَذْلِ جُهْدِهِ فِي إِيضَاحِ الدُّرُوسِ كَامِلَةً

جزَاهُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ

نَحْنُ شَاكِرُونَ لِنَاظِرِ مَدْرَسَتِنَا، أُسْتَاذِنَا الْمُخْلِصِ، الشَّيْخِ أَبَا طَلْحَةَ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ العَظِيمَةِ وَإِخْلَاصِهِ فِي خِدْمَةِ الطُّلَّابِ فَقَدْ كُنْت تَمُرُّ عَلَى كُلِّ غُرْفَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ لِتَتَأَكَّد مِنْ حُضُورِنَا، وَكُنْت تَهْتَمُّ أَيْضًا بِتَرْبِيَتِنَا وَنَظَافَةِ المَدْرَسَةِ بِكُلِّ إِخْلَاصٍ وَاجْتِهَادٍ إِنْ كَانَ قَدْ صَدَرَ مِنْ أَحَدِ إِخْوَانِنَا أَيُّ إِيذَاءٍ أَوْ تَقْصِيرٍ، فَنَرْجُو مِنْكُمْ أَنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا.

جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ، وَبَارَكَ فِي جُهُودِكُمْ وَعَمَلِكُمْ، وَجَعَلَ ذَلِكَ فِي مِيزَانِ حَسَنَاتِكُمْ

نَحْنُ شَاكِرُونَ لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ خبِيبٍ القاسمي - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ وَإِخْلَاصِهِ، فَلَمْ يَكْتَفِ بِتَدْرِيسِنَا فِي الصَّفِّ فَقَطْ، بَلْ كَانَ يَتَخَلَّى عَنْ رَاحَتِهِ وَسُكُونِهِ بَعْدَ صَلَاةِ الفَجْرِ لِيُعَلِّمَنَا وَيُوَجِّهَنَا وَلَكِنَّنَا لَمْ نُقَدِّرْكُمْ حَقَّ التَّقْدِيرِ.

نلتمسُ العذرَ من أستاذِنا المُحترمِ، فقد حدثَ مرارًا أنْ كنت تدخل الصفَّ، ونكونُ غائبين، ثمَّ تبحث عنَّا، وتنصحنا وترشدنا.

إنَّها لَمِنْ شفقتِك ورحمتِك بِنَا، ومنْ فضلِك علينا، فنرفعَ إليك طلبَ العفوِ والسماحِ، أن تعفوعَنْ زَلَّاتِنَا وَأَخْطَائِنَا، جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، وَأَطَالَ اللَّهُ فِي عُمُرِك فِي طَاعَتِهِ وَبَارَكَ فِيك

نَحْنُ شَدِيدُو الشُّكْرِ وَالِامْتِنَانِ لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشيخِ أبي الجيش - حَفِظَهُ اللهُ -، فَقَدْ كُنْت تُوَضِّحُ لَنَا كُتُبَ الأَدَبِ الْعَرَبِيِّ بِأُسْلُوبٍ سَهْلٍ وَوَاضِحٍ، وَلَمْ تَبْخَل عَلَيْنَا بِعِلْمِك حَتَّى فِي الأَوْقَاتِ غَيْرِ الدِّرَاسِيَّةِ، كُنْت تَرْشِدُنَا وَتُوَجِّهُنَا لِكُلِّ خَيْرٍ.

وَلَكِنَّنَا أَسَفًا قَدْ أَتْعَبْنَاك وَكُنَّا نُقَصِّرُ فِي أَدَاءِ المَسْؤُولِيَّاتِ الَّتِي كُنْت تُوَكِّلُهَا إِلَيْنَا، فَلَا نُتِمُّهَا فِي الْوَقْتِ الْمُحَدَّدِ

وَنَحْنُ شَاكِرُونَ جِدًّا لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ المَوْلَانَا أَسَدُ اللَّهِ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ فِي تَدْرِيسِ النَّحْوِ وَالصَّرْفِ، فَقَدْ جَعَلَهُمَا سَهْلَيْنِ وَرَاسِخَيْنِ فِي قُلُوبِنَا.

جَزَاهُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ

ونحنُ نَشْكُرُ مِنْ أَعْمَاقِ قُلُوبِنَا أُسْتَاذَنَا الْمُشْفِقَ وَالْمُرَبِّيَ الْفَاضِلَ، الشيخَ أحمد إلياس الندوي- حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ الْمُبَارَكَةِ، فَقَدْ دَرَّسَ الهداية لَنَا بِطَرِيقَةٍ رَسَخَتْ فِي قُلُوبِنَا، حَتَّى صَارَتْ نَقْشًا فِيهَا، وَفَهِمْنَا الْمَسَائِلَ بِصُورَةٍ أَفْضَلَ وَأَوْضَحَ.

وَلَكِنَّنَا نَشْعُرُ بِالْخِزْيِ وَالْأَسَفِ،للْغَفْلَة وَالنَّوْم تَغْلِبُ عَلَيْنَا في الصف، فَكُنْت تَتَأَلَّمُ وكُنْت تَغْضَب أَحْيَانًا، لَكِنَّك لَمْ تَسْتَعْمِل قَطُّ أَلْفَاظًا غَيْرَ لَائِقَةٍ، وَكُلَّمَا لَمْ نَفْهَمْ أَمْرًا، كُنْت تَبْذُلُ كُلَّ جُهْدِك فِي تَوْضِيحِهِ لَنَا بِكُلِّ صَبْرٍ وَحِلْمٍ.


فَنَسْأَلُكُمْ بِكُلِّ تَوَاضُعٍ أَنْ تَعْفُوا عَنْ زلتنا و غفلتنا، وَأَنْ تَدْعُو لَنَا بِالْخَيْرِ، لِيَجْعَلَنَا اللَّهُ مِنْ خِيَرَةِ الرَّاحِلِينَ فِي طَرِيقِ الْعِلْمِ، وَمِنْ أَفْضَلِ الْمُرْشِدِينَ وَالْهَادِينَ.

جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، وَبَارَكَ فِيكُمْ، وَنَفَعَنَا بِعِلْمِكُمْ.

فَنَلْتَمِسُ مِنْكُمْ الْعُذْرَ، وَنَرْجُو مِنْكُمْ الْعَفْوَ عَنْ تَقْصِيرِنَا وَإِهْمَالِنَا.جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الْجَزَاءِ

نَحْنُ شَاكِرُونَ لِفَضِيلَةِ نَائِبِ المُدير، أُسْتَاذِنَا المُشْفِقِ وَالمُرَبِّي، الشَّيْخِ سَلْمَانَ القَاسِمِيِّ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ الْمُبَارَكَةِ فِي تَعْلِيمِنَا، فَقَدْ كُنْت تُدَرِّسُنَا بِطَرِيقَةٍ مُمْتِعَةٍ، تَجْعَلُنَا نَفْرَحُ وَنَبْتَسِمُ، وَمَا شَعَرْنَا قَطُّ بِالْمَلَلِ فِي دُرُوسِك

وَمَعَ ذَلِكَ نَلْتَمِسُ مِنْكُمُ الْعُذْرَ، وَنَرْجُو مِنْك أَنْ تَعْفُوا عَنْ أَيِّ خَطَأٍ صَدَرَ مِنَّا بِسَبَبِ تَقْصِيرِنَا أَوْ إِهْمَالِنَا.

جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرَ الجَزَاءِ

وَكَيْفَ نَنْسَى مُديرنا الْكَرِيمَ، الَّذِي كَانَ يُوَجِّهُنَا فِي كُلِّ وَقْتٍ، وَيَبْذُلُ كُلَّ مَا فِي وُسْعِهِ لِرَاحَتِنَا وَسُكُونِنَا؟!

فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَةِ العَمُودِ الرَّئِيسِيِّ لِهَذِهِ المَدْرَسَةِ، الَّذِي تَقُومُ عَلَيْهِ نَجَاحَاتُهَا وَإِنْجَازَاتُهَا

نَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَ كُلَّ مَدْرَسَةٍ مِثْلَكُمْ فِي الإِخْلَاصِ وَالمَسْؤُولِيَّةِ، وَسامحنا يا سيدنا فَقَدْ شَغَلْنَاكُمْ وَأَتْعَبْنَاكُمْ كَثِيرًافَاعْفُوا عَنَّا، وَادْعُوا لَنَا بِالخَيْرِ وَالتَّوْفِيقِ

سأغادر الدارَ لكنْ لستُ أنساكمُ

يا منبعَ العلمِ يا أنوارَ أفلاكي

ما زالَ حبُّكمُ في القلبِ يسكنُهُ

كأنكم بينَ أضلاعي وأشراكي

لقد تلقيت منكم، أساتذتي الكرام، علماً نافعًا، وأدبًا راقيًا، ونصحًا مخلصًا، فجزاكم الله عني خير الجزاء، وجعل ما قدمتموه لنا نورًا في صحائف أعمالكم، وشاهداً لكم يوم لا ينفع مال ولا بنون

إخواني الأحبة، لقد كنا هنا كأسرة واحدة، جمعتنا المحبة، ووحدتنا الأهداف النبيلة، وعشنا معًا لحظات لا تُنسى، فكيف للقلب أن ينسى من كان لهم فيه مكان!؟

باللهِ يا صحبَتي لا تنسَوا مودّتنا

واذكُروا أخًا قد مضى والشوقُ يُحييـه

إنْ غِبتُ عنكم فإنّ الروحَ متّصلـةٌ

والودُّ يبقى وإن غابتْ لياليه

أوصيكم أيها الأحبة، بتقوى الله، والجد والاجتهاد في طلب العلم، والتمسك بالأخلاق الفاضلة، فهذه الدنيا قصيرة، ولن يبقى منها إلا العمل الصالح والعلم النافع.

وها أنا أودعكم بدمع العين، وخفقات القلب، وأسأل الله أن يجمعنا بكم في الدنيا على الخير، وفي الآخرة في مستقر رحمته، في جنات عدن عند مليك مقتدر

سلامٌ على الدارِ التي قد أحبَّها

وسلامٌ على الإخوانِ في كلِّ وادي

فإنْ فرَّقَتْنا الدهرُ لا بدَّ من لِقا

ففي جنةِ الفردوسِ أبهى المعادِ

 محمد عتيق الله ( الطالب في السنة الثانية من العالية) في مدرسة سيدنا بلال ،دالى غنج لكناؤ






Saturday, February 8, 2025

عطلة يوم الاستقلال

 عطلة يوم الاستقلال



عتیق اللہ کلیم ✍️
قد كنت سئمت في يوم الاستقلال وأصدقائي قد ذهبوا إلى عيش باغ وكانوا يتجولون وينتزهون من مكان إلى مكان آخر وصدري يتضايق علي فنمت حزينا ولم أستيقظ إلا قبل العصر والآن عزمت على أن أذهب إلى أي منتزه من منتزهات مدينة لكناؤ فحملت رفيقاي سيد أمين الدين وأبا الحيات على ان يذهبا معي فاكترينا سيارة بمأة و خمسين روبية و توجهنا إلى منتزه أمبيدكر۔

رأينا جانبي الطريق بيوتا مكسورة هدمتها حكومة بى جے بي الظالمة في أثناء السفر وما زلنا نتذاكر ونتجاذب أطراف الحديث بهذا الموضوع حتى وصلنا إلى المنتزه وهناك لاقينا أصدقائي معراج احسان معتصم وراشد فاصطحبنا معهم وذهبنا إلى مكتب التذاكر وتموج الأرض بالرجال والنساء من مختلفة الطبقات اشترينا التذاكر بعشرين روبية ودخلنا فيها فرأينا مبان مختلفة شامخة توسعت في ساحة واسعة وكانت آية في البناء والهندسة نتعجب من حسن بنائها وبهجتها ثم صعدنا فوق إحدى عماراته فما إن سرحنا النظر أسفلها بدا كل شيء يرى أصغر من حجمه وأولعنا بذلك المنظر البهيج و التقطنا صورا۔

وقد لبس كثير من الناس ثيابا ملونة باللون الأحمر والأبيض والأخضر وهذه هي الالوان التي صبغت بها راية بلادنا الحبيبة الهند وهم كانوا يظاهرون حب البطن بثيابهم وليسوا محبي الوطن لأنهم ليسوا فرحين مسرورين في هذه الحكومة التي وصلت إلى سدة الحكم باسم إلهي راما التي فرقت بين المسلمين والهنادس۔
حديقة أمبيدكر ابتدا بناؤها في سنة خمس و تسعين و تسع مأة و ألف من الميلاد خلال فترة ولاية رئيسة وزراء اترا براديش وتم افتتاحها في سنة ثمانية و ألفين من الهجرة بلغ بناء الحديقة حول سبع مليون روبية هندية ۔

هناك تمثال كبير للدكتور به‍يمراؤ أمبيدكر وينصب فيهاأربعون فيلا ضخيما كبير الجثة۔

جميع التماثل واله‍ياكل الموجودة في المنتزه مصنوعة من الرخام الأبيض وتعتبر حديقة أمبيدكر آية ليس فقط لهندسته الفريدة وهياكله المصنوعة من الرخام وحجر دولبور ولكنها أيضا شهيرة للسياحة في مدينة لكناؤ۔
 




پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...