Wednesday, December 17, 2025

لینین خدا کے حضور میں — تشریح

لینین خدا کے حضور میں — تشریح


  عتیق اللہ کلیم✍️

 یہ علامہ اقبال کی مشہور نظم "لینین خدا کے حضور میں" ہے۔ یہ نظم ان کی کتاب بالِ جبریل میں شامل ہے۔

شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ 


اس نظم میں اقبال نے اشتراکی انقلاب کے رہنما 'لینین' کی زبان سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام، سامراجیت اور منافقت پر شدید تنقید کی ہے۔ لینین مرنے کے بعد خدا کے سامنے پیش ہوتا ہے اور اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔

: یہاں اس نظم کے ایک ایک شعر کی تشریح پیش خدمت ہے

حصہ اول: خدا کے وجود کا اعتراف

اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات

حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات

تشریح: لینین خدا کے حضور کہتا ہے کہ اے خدا! اب مجھے کائنات کی ہر چیز (آفاق) اور خود انسانی جانوں (انفس) میں تیری نشانیاں صاف نظر آ رہی ہیں۔ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ حق اور سچ صرف یہی ہے کہ تیری ذات ہمیشہ رہنے والی اور زندہ ہے۔ (مرنے کے بعد حقیقت کھلنے کا اعتراف)۔

میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے

ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات

تشریح: میں اپنی دنیاوی زندگی میں کیسے یقین کرتا کہ تو موجود ہے یا نہیں؟ کیونکہ میری عقل اور انسانی فلسفے تو ہر لمحہ بدلتے رہتے تھے۔ انسانی عقل محدود تھی اور کسی ایک حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قاصر تھی، اس لیے میں تیری ذات کا ادراک نہ کر سکا۔

محرم نہیں فطرت کے سرودِ ازلی سے

بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

تشریح: چاہے وہ ستاروں کا مشاہدہ کرنے والا ماہرِ فلکیات ہو یا پودوں کا علم رکھنے والا ماہرِ نباتات، یہ سب مادہ پرست ہیں۔ یہ لوگ کائنات کے ظاہری ڈھانچے کو تو دیکھتے ہیں لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے "سرودِ ازلی" (روحانی نغمے یا اصل مقصد) سے ناواقف ہیں۔ سائنسدان ظاہری آنکھ رکھتا ہے مگر باطنی حقیقت سے محروم ہے۔

آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت

میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات

تشریح: آج مرنے کے بعد جب میری آنکھ کھلی اور پردہ ہٹا تو وہ روحانی دنیا سچ ثابت ہو گئی جسے میں چرچ (مذہب) کے قصے، کہانیاں اور خرافات سمجھتا تھا۔ آج غیب کی دنیا مشاہدے میں آ گئی ہے۔

ہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے

تو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات

تشریح: ہم انسان تو دن اور رات (وقت) کی قید میں جکڑے ہوئے مجبور لوگ ہیں، جبکہ تو زمانوں کا پیدا کرنے والا اور لمحوں کو بنانے والا ہے۔ تیری ذات زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔

حصہ دوم: لینین کا سوال اور مغربی تہذیب پر تنقید

اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں

حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

تشریح: اے خدا! اگر مجھے اجازت ہو تو میں تجھ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں اور داناؤں کی کتابوں میں بھی نہیں مل سکا۔

جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے

کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

تشریح: جب تک میں آسمان کے نیچے زندہ رہا، یہ بات میرے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی رہی اور مجھے بے چین رکھتی رہی۔

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

تشریح: (یہاں لینین اپنے لہجے کی معذرت کر رہا ہے) وہ کہتا ہے کہ جب روح کے اندر خیالات کا طوفان برپا ہو تو انسان کے لیے گفتگو کے سلیقے اور آداب پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے اگر گستاخی ہو جائے تو معاف کرنا۔

وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود

وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟

تشریح: اے خدا! وہ کون سا انسان ہے جس کا تو خدا ہے؟ کیا تو واقعی اس "آدمِ خاکی" (غریب انسان) کا بھی خدا ہے جو آسمان کے نیچے بس رہا ہے؟ (طنز یہ ہے کہ دنیا کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ غریب کا کوئی خدا نہیں)۔

مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی

مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات

تشریح: دنیا کا حال تو یہ ہے کہ مشرق (غلام قوموں) کے خدا تو "انگریز" (سفید فام آقا) بنے بیٹھے ہیں، اور خود مغرب والوں کا خدا "چمکتی ہوئی دھاتیں" یعنی سونے چاندی کے سکے (دولت) ہیں۔ یہاں خدا کی نہیں بلکہ طاقت اور دولت کی پوجا ہو رہی ہے۔

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

تشریح: یورپ میں ظاہری طور پر سائنس، ٹیکنالوجی اور علم کی بہت روشنی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سب "اندھیرا" ہے کیونکہ اس میں "چشمۂ حیواں" (آبِ حیات/ روحانیت اور اخلاق) نہیں ہے۔ بغیر اخلاق اور روحانیت کے یہ ترقی محض تباہی ہے۔

رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں

گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

تشریح: مغرب میں بینکوں کی عمارتیں خوبصورتی، صفائی اور شان و شوکت میں گرجوں (عبادت گاہوں) سے کہیں زیادہ بلند اور شاندار ہیں۔ مطلب یہ کہ وہاں مذہب سے زیادہ اہمیت "بینکنگ اور سود" کو دی جاتی ہے۔

حصہ سوم: سرمایہ دارانہ نظام کی ہولناکی

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے

سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

تشریح: مغربی نظام معیشت دیکھنے میں تو تجارت لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ "جوا" ہے۔ یہاں ایک شخص کا منافع (سود کھانے والا سرمایہ دار) لاکھوں غریبوں کی اچانک موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ نظام استحصال پر مبنی ہے۔

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت

پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

تشریح: مغرب کا علم، ان کی فلاسفی، ان کی سیاست اور ان کی حکومتیں سب منافق ہیں۔ یہ منہ سے تو "مساوات" اور انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ کمزوروں اور مزدوروں کا خون چوستے ہیں۔

بیکاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات

تشریح: بے روزگاری، بے حیائی (عریانی)، شراب نوشی اور غربت— کیا یہ سب مغربی تہذیب کی کامیابیاں نہیں ہیں؟ یعنی ان کی نام نہاد ترقی کا نتیجہ صرف اخلاقی اور معاشی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم

حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

تشریح: وہ قوم جو آسمانی ہدایت اور روحانی فیض سے محروم ہو جائے، اس کی ترقی کی انتہا صرف یہ ہے کہ وہ بجلی اور بھاپ (مشینوں) پر قابو پا لے۔ وہ مادے کو تو تسخیر کر لیتی ہے مگر انسانیت کو کھو دیتی ہے۔

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

تشریح: یہ مشینوں کی حکمرانی (مشینی دور) انسانی دل کے لیے موت کا پیغام ہے۔ مشینیں اور اوزار انسان کے اندر سے ہمدردی، محبت اور مروت کے جذبات کو کچل دیتے ہیں، انسان بھی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔

حصہ چہارم: نظام کا زوال اور خدا سے شکوہ

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر

تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

تشریح: اب دنیا میں کچھ ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ انسانی چالوں (سرمایہ دارانہ تدبیروں) کو تقدیر کے شاطر کھلاڑی (خدا/فطرت) نے شکست دے دی ہے۔ یعنی ظلم کا یہ نظام اب اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔

مے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل

بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرابات

تشریح: دنیا کے اس نظام (مے خانہ) کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ اس نظام کے چلانے والے (پیرانِ خرابات/ سرمایہ دار حکمران) اب پریشان بیٹھے ہیں کہ اس گرتی ہوئی عمارت کو کیسے بچائیں۔

چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سرِ شام

یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات

تشریح: مغربی تہذیب کے چہرے پر جو رونق اور سرخی نظر آتی ہے، وہ صحت کی علامت نہیں ہے۔ یا تو وہ میک اپ (غازہ/بناوٹ) ہے یا پھر شراب کے نشے کی وجہ سے عارضی سرخی ہے۔ یعنی یہ تہذیب اندر سے کھوکھلی اور بیمار ہے۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

تشریح: (یہ نظم کا نچوڑ ہے) لینین کہتا ہے: اے خدا! تو ہر چیز پر قادر ہے اور انصاف کرنے والا ہے، مگر تیری خدائی میں مزدور اور محنت کش کی زندگی اتنی تلخ اور مشکل کیوں ہے؟ تیری موجودگی اور عدل کے باوجود غریب کیوں پس رہا ہے؟

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

دنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات

تشریح: یہ سرمایہ پرستی اور ظلم کا جہاز کب ڈوبے گا؟ یہ پوری دنیا تیرے "روزِ مکافات" (جزا و سزا کے دن / انصاف کے دن) کا انتظار کر رہی ہے تاکہ غریب کو اس کا حق مل سکے۔

: خلاصہ

اس نظم میں اقبال نے لینین کے کردار کے ذریعے دراصل اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ اسلام اور انسانیت کا اصل دشمن مغربی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ یہ نظام انسان کو روحانیت سے دور کرتا ہے اور کمزور کا استحصال کرتا ہے۔ لینین کا شکوہ دراصل خدا کے انصاف کو پکار رہا ہے کہ وہ آئے اور اس ظالمانہ نظام کو درہم برہم کر دے۔

: علامہ اقبال نے  اس نظم کا جواب  نظم ” فرمان خدا “ سے دیا ہے ، وہ بھی پیش خدمت ہے 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_18.html

Sunday, December 7, 2025

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر — تشریح

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر — تشریح 


عتیق اللہ کلیم ✍️

یہ اکبر الہ آبادی کی ایک  شاہکار اور انتہائی دلچسپ نظم ہے۔ اس میں انہوں نے مسلمانوں کی کام چوری، محنت سے جی چرانے اور محض جذباتی ہونے کی عادت پر گہرا طنز کیا ہے۔

اس نظم میں "مجنوں" مسلمانوں کی نمائندگی کر رہا ہے اور "لیلیٰ" ترقی یا مقصد کی علامت ہے۔

: آئیے اس کی شعر بہ شعر تشریح کرتے ہیں

: مسلمانوں کی حالت پر مایوسی

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ

مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

: تشریح

شاعر (اکبر) اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اللہ ہی حافظ ہے (یعنی ان کا کچھ نہیں ہو سکتا)۔ مجھے تو ان کی خوشحالی اور ترقی سے "یاس" یعنی مایوسی ہو چکی ہے۔ مجھے امید نہیں کہ یہ سدھریں گے۔

یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں

نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

: تشریح

یہ لوگ (مسلمان) "شاہدِ مقصود" (یعنی اپنی منزل یا کامیابی) کے عاشق تو ہیں، یعنی یہ چاہتے تو ہیں کہ انہیں ترقی مل جائے، لیکن یہ "سعی" (کوشش/محنت) کے پاس بھی نہیں جائیں گے۔ یہ بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

: فرضی لطیفے کا آغاز

سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ

کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

: تشریح

اکبر کہتے ہیں کہ اپنی بات سمجھانے کے لیے میں تمہیں ایک "فرضی لطیفہ" (من گھڑت کہانی) سناتا ہوں، جسے میں نے کاغذ پر لکھا ہے (زیبِ قرطاس کیا ہے)۔ یہ کہانی دراصل مسلمانوں کی ذہنیت کی عکاسی ہے۔

: لیلیٰ کی ماں کی شرط (تعلیم)

کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے

کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس

تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے

بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

: تشریح

لطیفہ یہ ہے کہ ایک دن لیلیٰ کی ماں نے مجنوں (عاشق) سے کہا کہ بیٹا! اگر تم صرف "ایم اے" (M.A) کا امتحان پاس کر لو، یعنی تعلیم حاصل کر لو اور کچھ بن جاؤ، تو میں بغیر کسی رکاوٹ یا دقت کے فوراً تمہاری شادی لیلیٰ سے کر دوں گی اور خوشی خوشی تمہاری ساس بن جاؤں گی۔

(یہاں ایم اے سے مراد جدید تعلیم اور محنت ہے)

: مجنوں (مسلمان نوجوان) کا جواب

کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی

کجا عاشق کجا کالج کی بکواس

: تشریح

مجنوں نے یہ سن کر جواب دیا کہ آپ نے بھی کیا خوب بات کہی! بھلا ایک سچے عاشق کا کالج کی بکواس (پڑھائی لکھائی) سے کیا تعلق؟ ہمارا کام عشق کرنا ہے، کتابیں پڑھنا نہیں۔

کجا یہ فطرتی جوش طبیعت

کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس

: تشریح

مجنوں دلیل دیتا ہے کہ کہاں میرے اندر کا یہ قدرتی جوش اور جذبہِ عشق، اور کہاں وہ کالج کی نصابی کتابیں جن میں زبردستی چیزیں دماغ میں ٹھونسی جاتی ہیں۔ مجنوں کے خیال میں پڑھائی اس کی "فطرت" کے خلاف ہے۔

: اپنی "نام نہاد" عظمت کا اظہار

بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے

ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس

: تشریح

مجنوں لیلیٰ کی ماں (بڑی بی) سے کہتا ہے کہ آپ کا دماغ تو نہیں چل گیا؟ کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ "ہرن" (جو کہ ایک نفیس اور خوبصورت جانور ہے) پر گھاس لادی جائے؟

مطلب یہ کہ مجنوں خود کو ہرن کی طرح نفیس اور نازک سمجھتا ہے اور پڑھائی/محنت کو گھاس لادنے جیسا گھٹیا کام سمجھتا ہے

یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی

مجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس

: تشریح

مجنوں غصے میں کہتا ہے کہ آپ نے میری خوب قدر دانی کی! کیا آپ نے مجھے کوئی "ہرچرن داس" (اس دور میں عام محنت کش یا منشیوں کا نام) سمجھ رکھا ہے؟ میں تو عالی نسب مسلمان ہوں، محنت مزدوری یا پڑھائی کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ محض کام چوری کے لیے ایک بہانہ ہے۔

: دماغی محنت سے انکار اور استعفیٰ

دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود

نہیں منظور مغز سر کا آماس

: تشریح

یہ شعر اس نظم کی جان ہے۔ مجنوں کہتا ہے کہ میں عشق میں اپنا دل جلانے، آہیں بھرنے اور خون کرنے کو تو تیار ہوں (کیونکہ جذباتی کام آسان ہیں)، لیکن مجھے "مغز سر کا آماس" (یعنی دماغ کا سوج جانا / دماغی محنت کرنا) منظور نہیں ہے۔ میں جذباتی قربانی دے سکتا ہوں لیکن ذہنی مشقت نہیں کر سکتا۔

یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ

تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

: تشریح

اگر لیلیٰ سے ملنے کی شرط یہی ہے کہ مجھے پڑھنا پڑے گا اور محنت کرنی پڑے گی، تو پھر میرا "استعفیٰ" قبول کریں۔ میں مایوسی اور حسرت کے ساتھ اس عشق سے دستبردار ہوتا ہوں۔

: نظم کا مرکزی خیال (Summary)

اکبر الہ آبادی نے اس لطیفے کے پردے میں مسلمانوں کی اس وقت کی حالتِ زار بیان کی ہے۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ

قوم ترقی (لیلیٰ) تو چاہتی ہے لیکن اس کے لیے جدید تعلیم اور محنت (ایم اے) کرنے کو تیار نہیں۔

وہ اپنی کاہلی کو "عظمت" اور "عشق" کا نام دیتے ہیں۔

وہ جذباتی نعرے لگانے اور جان دینے کو تیار ہیں (دل خون کرنا) لیکن ٹھنڈے دل و دماغ سے علم حاصل کرنے اور محنت کرنے (مغز کا آماس) سے گھبراتے ہیں۔

: یہ بھی پڑھیں 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_7.html 

Saturday, December 6, 2025

ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد

ایک  مس سیمیں بدن - تشریح 

اکبر الہ آبادی 

عتیق اللہ کلیم ✍️

یہ اکبر الہ آبادی کی بہت مشہور اور طنزیہ نظم ہے۔ اکبر الہ آبادی اپنی ظرافت اور طنز کے ذریعے مغربی تہذیب کی اندھا دھند تقلید پر تنقید کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

اس نظم میں شاعر نے ایک ایسے نوجوان کی زبانی بات کی ہے جسے اس کے بزرگوں (خاص طور پر سر سید احمد خان کی تحریک کی طرف اشارہ ہے) نے تعلیم کے لیے لندن بھیجا، لیکن وہاں جا کر وہ مغربی رنگ میں رنگ گیا اور ایک انگریز خاتون سے شادی کر لی۔

: یہاں اس نظم کی بند بہ بند (شعر بہ شعر) تشریح پیش ہے

 : ابتدائی اشعار: جرم اور الزام

ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد

اس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش

کوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قوم

کوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بد خصال و بد معاش

: تشریح

شاعر ایک نوجوان کا قصہ بیان کرتے ہیں جس نے لندن جا کر ایک "مس سیمیں بدن" (چاندی جیسے جسم والی، مراد گوری انگریز خاتون) سے شادی (عقد) کر لی ہے۔ اس شادی کی وجہ سے اسے اپنے ہم وطنوں اور بزرگوں کی طرف سے دل دکھانے والے طعنے سننے پڑ رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس نے غیر قوم میں شادی کر کے اپنی قوم کی نسل بگاڑ دی ہے، تو کوئی اسے بدچلن اور بدمعاش کہہ رہا ہے۔

: صفائی اور الزام کی واپسی

دل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگ

ہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش

: تشریح

نوجوان کہتا ہے کہ مجھ پر تنقید کرنے والے بزرگ انصاف سے کام نہیں لے رہے اور اصل حقیقت کو نہیں دیکھ رہے۔ اس لیے اب میں مجبور ہو کر اس راز کو کھولتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔

: مغربی تعلیم کی تاکید اور ترغیب

ہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھو

قوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع تراش

جگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کرو

سوپ و کری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آش

: تشریح

نوجوان یاد دلاتا ہے کہ یہ وہی بزرگ ہیں جو مجھے صبح و شام تاکید کرتے تھے کہ ترقی کرنی ہے تو لندن جاؤ، انگریزی پڑھو، انگریزوں سے ملو اور انہی کے طور طریقے (وضع تراش) سیکھو۔ مجھے کہا جاتا تھا کہ دیسی کھانے (یخنی اور آش) چھوڑو اور انگریزی ہوٹلوں میں جا کر سوپ اور کری کے مزے لو۔

: مغربی معاشرت میں گھلنے ملنے کا مشورہ

لیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے انداز و طریق

ہال میں ناچو کلب میں جاکے کھیلو ان سے تاش

بادۂ تہذیب یورپ کے چڑھاؤ خم کے خم

ایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاش

: تشریح

مجھے سکھایا گیا کہ انگریز خواتین (لیڈیوں) سے ملو، ان کے انداز اپناؤ، کلبوں میں جا کر ڈانس کرو اور تاش کھیلو۔ مجھے ترغیب دی گئی کہ میں یورپی تہذیب کی شراب (استعاراتی طور پر) جی بھر کے پیوں اور اپنے مشرقی اور ایشیائی پرہیزگاری (تقویٰ) کے شیشے کو توڑ دوں۔ یعنی مجھے پوری طرح مغرب زدہ ہونے کا درس دیا گیا۔

: ماحول کا اثر اور جذبات

جب عمل اس پر کیا پریوں کا سایہ ہو گیا

جس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاش

سامنے تھیں لیڈیاں زہرہ وش و جادو نظر

یاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش

: تشریح

نوجوان کہتا ہے کہ جب میں نے آپ کے مشوروں پر عمل کیا اور اس ماحول میں گیا تو مجھ پر وہاں کی حسیناؤں (پریوں) کا جادو چل گیا۔ میرا دل مچلنے لگا۔ میرے سامنے زہرہ (خوبصورتی کی دیوی) جیسی حسین اور جادوئی نظروں والی لڑکیاں تھیں، ادھر میں جوان تھا اور میرے دل میں امنگیں تھیں، اور ادھر انہیں بھی عاشقوں کی تلاش تھی۔

: حسن کی کشش اور نوجوان کی بے بسی

اس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل ربا

چال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاش

وہ فروغ آتش رخ جس کے آگے آفتاب

اس طرح جیسے کہ پیش شمع پروانے کی لاش

: تشریح

یہاں اس انگریز خاتون کے حسن کی تعریف کی گئی ہے کہ اس کی نظریں جادو کرنے والی اور باتیں دل موہ لینے والی تھیں۔ اس کی چال میں قیامت تھی اور نگاہوں میں بجلیاں۔ اس کے چہرے کی چمک ایسی تھی کہ سورج بھی شرما جائے اور میری حالت ایسی تھی جیسے شمع کے سامنے پروانہ جل کر راکھ ہونے کو تیار ہوتا ہے۔

: مجبوری اور فطرت

جب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برق بلا

دست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش؟

دونوں جانب تھا رگوں میں جوش خون فتنہ زا

دل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاش

: تشریح

نوجوان دلیل دیتا ہے کہ جب حالات ایسے تھے، ماحول اتنا رومانوی تھا، تو کیا یہ ممکن تھا کہ ایک بجلی گرانے والی حسینہ اپنا گورا ہاتھ میری طرف بڑھاتی اور میں اسے دھتکار دیتا یا کہتا کہ "دور رہو" (دور باش)؟ دونوں طرف جوانی کا خون جوش مار رہا تھا اور میرے سینے میں بھی انسان کا دل تھا، کوئی برف کا ٹکڑا (قاش) نہیں تھا جو پگھلتا نہیں۔

اختتامیہ: حضرت سید (سر سید) سے شکوہ

بار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیال

حضرت سید سے جاکر عرض کرتا کوئی کاش

'درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای

'باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش'

: تشریح

یہ نظم کا سب سے اہم حصہ اور "حاصلِ کلام" ہے۔ اکبر الہ آبادی کہتے ہیں کہ کاش کوئی جا کر "حضرت سید" (مراد سر سید احمد خان، جو علی گڑھ تحریک کے بانی تھے اور مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کرتے تھے) سے یہ فارسی کا شعر عرض کرے:

فارسی شعر کا ترجمہ: تم نے مجھے دریا کے بیچ میں ایک لکڑی کے تختے پر باندھ کر پھینک دیا ہے، اور پھر مجھے حکم دیتے ہو کہ خبردار! تمہارا دامن پانی سے گیلا نہیں ہونا چاہیے۔

مطلب: یعنی آپ نے خود ہی تو نوجوانوں کو مغرب بھیجا، انہیں وہاں کے کلچر میں گھلنے ملنے کو کہا، اور جب وہ وہاں جا کر ویسے ہی بن گئے تو اب آپ اعتراض کرتے ہیں؟ یہ ممکن نہیں کہ آپ آگ میں کودیں اور جلیں نہیں۔

: خلاصہ

یہ نظم دراصل ان لوگوں پر طنز ہے جو چاہتے تھے کہ ہندوستانی نوجوان مغربی تعلیم اور اطوار تو سیکھیں لیکن اپنی مذہبی اور مشرقی اقدار بھی نہ کھویں۔ اکبر الہ آبادی کا موقف یہ تھا کہ جب آپ کسی تہذیب کو اپناتے ہیں تو اس کے اچھے اور برے دونوں اثرات قبول کرنے پڑتے ہیں۔

: یہ بھی پڑھیں 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_7.html 

Wednesday, November 26, 2025

‎ ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ — ایک ایسی یاد جو کبھی مٹ نہیں سکتی

سيرة الشيخ الدكتور نذير أحمد الندوي لا تنسى أبدا 

بقلم: الشيخ محمد فضل الرحيم المجددي ( رئيس جامعة الهداية ، جي فور ، الأمين العام لهيئة قانون الأحوال الشخصية للمسلمين لعموم الهند)

 مترجّم:  عتیق اللہ كليم 

ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ — ایک ایسی یاد جو کبھی مٹ نہیں سکتی

تحریر: شیخ محمد فضل الرحیم المجددی

‎صدر جامعہ الہدایہ، جے پور، اور جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

‎آج ہم ایک ایسے مردِ علم و فضل کو یاد کر رہے ہیں، جو "ندوة العلماء" کے ان روشن چراغوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے علم، اخلاق اور خدمات سے ایسی روشنی پھیلائی جو کبھی مدھم نہیں پڑ سکتی۔

‎وہ عظیم المرتبت شخصیت شیخ ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ تھے۔

‎ان کی یاد محض ایک رسمِ تعزیت نہیں، بلکہ ان سے کیے گئے عہدِ محبت و وفا کی تجدید ہے۔

‎ان کی زندگی خلوص، زہد، صبر، اور خدمتِ دین و علم کی پیکر تھی۔ میں نے ان سے وفات سے چند دن قبل ملاقات کی تھی، "ندوة العلماء" میں ایک فقہی نشست کے موقع پر۔

‎ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نور تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھنے سے دل کو عجب اطمینان نصیب ہوتا۔ وہ بات میں نرمی رکھتے، لہجے میں شفقت، اور گفتگو میں علم و وقار کی خوشبو ہوتی۔

: ‎جب میں نے ان کی بیماری کا حال پوچھا تو وہ مسکرا کر بولے

‎یہ کمزوری نہیں، عبدیت کی نشانی ہے۔ میں اللہ سے عافیت مانگتا ہوں تاکہ دین کی خدمت جاری رکھ سکوں۔

‎میں نے کبھی ان کے لبوں سے شکایت نہیں سنی۔ ان کی آنکھوں میں صبر و رضا کی چمک تھی۔ وہ گویا خاموش زبان میں یہ دعا کر رہے تھے

‎"اے اللہ! مجھے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جلد ملا دے۔"

‎میں جب بھی ان سے ملتا، محسوس کرتا کہ میں دنیا کے کسی انسان سے نہیں بلکہ آخرت کے ایک مسافر سے ہمکلام ہوں۔

‎ان کی مجلس سادگی اور روحانیت سے بھری ہوتی۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی اور دل کی صفائی شامل تھی۔

‎وہ جزا یا تعریف کے خواہاں نہیں تھے، صرف اللہ کی رضا کے متلاشی۔

‎اللہ نے انہیں ایک جامع علمی شخصیت عطا فرمائی تھی۔ وہ چار زبانوں کے ماہر تھے — عربی، فارسی، اردو اور انگریزی۔

‎لیکن اتنی وسعتِ علم کے باوجود ان کے دل میں تکبر کا ذرہ نہ تھا۔

‎وہ ہمیشہ سچائی کے ساتھ علم دیتے، اخلاص کے ساتھ تحقیق کرتے، اور اللہ سے جڑے دل کے ساتھ لکھتے تھے۔

‎میں نے کبھی انہیں کسی کی غیبت کرتے یا کسی انسان کی عزت پر بات کرتے نہیں سنا۔

‎اگر کوئی کمی یا غلطی نظر آتی تو بڑی نرمی اور محبت سے نصیحت کرتے، اور ہمیشہ دوسروں کے لیے بھلائی اور خیر کی دعا کرتے۔

‎ان کے نزدیک تدریس کوئی محض ملازمت یا روزی کا ذریعہ نہ تھی، بلکہ ایک عبادت، ذمہ داری اور امانت تھی۔

‎وہ خود کو اپنے شاگردوں کے ذہنوں اور دلوں کا امین سمجھتے تھے۔

‎ان کی دیانت کا یہ عالم تھا کہ کئی مرتبہ جب انہیں تدریس یا علمی کام کے بدلے کوئی انعام یا اعزازیہ دیا گیا، تو انہوں نے واپس کر دیا —

‎یہ کہہ کر کہ ”میں نے ابھی تک علم کا حق ویسے ادا نہیں کیا جیسے کرنا چاہیے تھا“۔

‎یہی ان کا ورع (تقویٰ) تھا، یہی ان کا حیاء اور خدا ترسی۔

‎وہ تمام اہلِ علم سے محبت کرتے، اپنے ساتھیوں کا احترام کرتے

‎اور شاگردوں کے لیے شفقت و مہربانی کا سراپا نمونہ تھے۔

‎ان کے نزدیک سب شاگرد ایک جیسے تھے — وہ سب میں اپنے 

‎بیٹے اور بھائی دیکھتے تھے۔

‎وہ "ندوة العلماء" کو محض ایک درسگاہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے روحانی تربیت کا مرکز مانتے تھے، ایک ایسی جگہ جو عقل و روح دونوں کو سیراب کرتی ہے۔

‎ان کی سیرت، ندوہ کی اس اصل روح کی زندہ تعبیر تھی سادگی، علم اور اخلاق۔

‎ان نمایاں خصوصیات میں سے ایک ان کی جامعہ الہدایہ سے گہری وابستگی بھی تھی۔

‎اگرچہ وہ وہاں کے باقاعدہ مدرس یا استاد نہیں تھے، لیکن یہ ادارہ ہمیشہ ان کے دل میں بسا رہا۔

‎وہ اکثر اپنی دعاؤں میں جامعہ کا ذکر کرتے، اس کے حالات پوچھتے، اور جہاں تک ممکن ہوتا اس کی مدد کرتے۔

‎ان کے نزدیک جامعہ الہدایہ دراصل ندوة العلماء کی علمی اور فکری روح کا تسلسل تھی ۔

‎ایک ایسا مرکز جو علم و دین کی خدمت کو آگے بڑھا رہا تھا۔

‎انہیں یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی کہ جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ علم و دین کی خدمت میں سرگرم ہیں۔

‎جب کبھی جامعہ یا اس کے طلبہ کا تذکرہ ہوتا، تو وہ محبت سے دعا دیتے

‎اللہ ان کی محنتوں میں برکت دے، اور ان کی کوششوں کو ثمر آور بنائے۔

‎ان کی یہ محبت، سچی، خالص اور قلبی تھی

‎اور جب تک وہ زندہ رہے، ان کی دعائیں اس ادارے اور اس کے لوگوں کے ساتھ رہیں۔

‎اللہ نے ان کی زندگی کے آخری ایام میں آزمائشیں بھی دیں، لیکن انہوں نے ہر تکلیف کو صبر و رضا سے قبول کیا۔

‎وہ بیماری میں بھی مطمئن، دل کے سکون اور چہرے کے نور سے معمور رہتے۔

‎ان کے نزدیک مصیبتیں اللہ کے قرب کا ذریعہ تھیں، نہ کہ شکوے کا سبب۔

: ‎قرآن کہتا ہے

‎"اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ"

‎بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

‎ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ یقیناً ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جنہیں یہ وعدہ نصیب ہوا۔

‎ان کا اثر و فیض آج بھی زندہ ہے، اور ان کے نقوش دلوں میں تازہ ہیں۔

‎میرے فرزند استاذ حبیب الرحیم ندوی اور میرے داماد استاذ حذیفہ ندوی —

‎دونوں ہی خالص طلبۂ علم میں سے ہیں —

‎انہوں نے شیخ نذیر احمد ندوی رحمہ اللہ سے بہت کچھ سیکھا، فیض پایا، ان کے اخلاق، ان کے انکسار، اور ان کے علمی طریقے سے گہرا اثر قبول کیا۔

‎علماء دراصل کبھی رخصت نہیں ہوتے

‎کیونکہ ان کے آثار باقی رہتے ہیں

‎ان کے اسباق ان کے شاگردوں کی زبانوں پر دہراتے رہتے ہیں

‎اور ان کے لیے دعائیں ان کے چاہنے والوں کے لبوں سے رات کے سناٹے میں آسمان کی طرف بلند ہوتی رہتی ہیں۔

: ‎رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا

‎ "جب ابنِ آدم وفات پاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے

‎ایک صدقۂ جاریہ

‎یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے

‎یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

‎اور بے شک شیخ نذیر احمد ندویؒ نے یہ تینوں نعمتیں اپنے دامن میں سمیٹ لی تھیں

‎ان کا نفع بخش علم

‎ان کے نیک شاگرد

‎اور ان کا باعزت، باایمان اور صالح خاندان۔

‎اللہ ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔

‎وہ صبر کے پیکر، زہد کی مثال، اور نبی ﷺ کے اس ارشاد کے مظہر تھے

‎سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع رساں ہو۔

‎انہوں نے اپنی زبان سے تعلیم دی، اپنے اخلاق سے تربیت کی، اور اپنی سیرت سے دعوت کا فریضہ ادا کیا

‎یوں وہ ان خوش نصیبوں میں شامل ہو گئے جن کا نام علم اور وفا کے ساتھ ہمیشہ خیر سے لیا جاتا ہے۔

!‎اے اللہ! اے بے پایاں رحمت والے

!‎اے علماء و اولیاء کے ربّ

‎ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ اپنے بندے، شیخ نذیر احمد ندویؒ کو بخش دے

‎اور انہیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ وہ عزت و کرامت عطا فرما جو تُو نے اپنے صالحین سے وعدہ کی ہے۔

‎اے اللہ! ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے

‎اس میں نور بھر دے 

‎اسے سکون، رحمت اور رضا سے منور فرما۔

‎اے اللہ! انہیں امت کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرما

‎اور ان کے شاگردوں، اہلِ خانہ اور محبوں کی جانب سے احسن الجزاء مرحمت فرما۔

‎اے اللہ! ان کا علم صدقۂ جاریہ بنا دے

‎اور ان کے شاگردوں اور اہلِ خاندان کو ان کے علم و عمل کے سچے امین بنا۔

‎اے اللہ! ان کے اہل و محبین کے دلوں پر صبرِ جمیل نازل فرما

‎اور انہیں اپنے فیصلے پر راضی رہنے والا بنا دے۔

‎اور ہمیں سب کو ان عملی علماء کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنا دے

‎تاکہ ہم بھی ان کے نقشِ حیات پر چلتے ہوئے دارِ ابدی تک پہنچ جائیں۔

‎اور ہمارا آخری کلمہ یہ ہے کہ

‎تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں،

‎اور درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ، ان کے اہلِ بیت اور تمام صحابہؓ پر۔ 

Sunday, November 9, 2025

رحمۃ اللعالمین کے منتخب اقتباسات

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 
رحمۃ اللعالمین (از : قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری) کے منتخب اقتباسا ت

(  قسط اول:( ص: 1 تا 80 


تمہید


قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف "رحمۃ للعالمین" کا مطالعہ میں نے اپنے مربی و محسن استاد مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتہم کی نگرانی اور رہنمائی میں کیا۔ یہ مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کی معرفت، محبت اور حقیقتِ رسالت کی تجدید کے جذبے کے ساتھ تھا۔ کتاب کے ابواب، دلائل اور تحقیقی اسلوب نے میری فکر و بصیرت کو ایک نئی سمت عطا کی، اور مجھے یہ احساس دلایا کہ سیرت کا مطالعہ صرف ایک علمی مشق نہیں بلکہ روحانی تربیت اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔
اس مطالعے کے دوران میں نے اہم مباحث، دلائل، واقعات اور گہرے نکات کو نہایت احتیاط سے نوٹ کیا۔ اب میں ان منتخب نقاط اور اقتباسات کو ایک سلسلہ وار شکل میں اپنے بلاگ اور قارئین کے درمیان پیش کر رہا ہوں، تاکہ یہ روشنی صرف میرے دل تک محدود نہ رہے، بلکہ دوسرے دلوں اور ذہنوں تک بھی پہنچے۔ میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ سیرتِ پاک ﷺ کی عظمت، جامعیت اور آفاقیت کے شعور کو مزید مستحکم کرنے کا سبب بنے۔


رحمۃ للعالمینؐ کے مطالعے سے حاصل شدہ نکات


1. قرآن و حدیث اور دیگر مذاہب کی کتابوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نبی برحق ہیں۔

2. آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب مصنفؒ نے نہایت مدلل انداز میں خود معترضین کی مذہبی کتب کی روشنی میں دیا ہے۔

3. اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کے اوصافِ حسنہ حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ میں کامل صورت میں جمع تھے۔

4. مصنفؒ نے تقابلی انداز میں دیگر انبیاء کے مقابلے میں نبی اکرم ﷺ کی جامع اور برتر فضیلت کو ثابت کیا ہے۔

5. آپ ﷺ کے نسبِ پاک، آباء و اجداد اور خاندانِ بنی ہاشم کی سیرت و تاریخ نہایت جامع، واضح اور معتبر سند کے ساتھ مذکور ہے۔

6. غزواتِ نبوی کے واقعات، حکمتیں، نتائج اور ان میں شہید ہونے والے صحابہؓ کے حالات تحقیقی رنگ میں پیش کیے گئے ہیں۔

7. کتاب میں شامل جداول (چارٹس) فہمِ مضامین میں نہایت سہولت اور ترتیب پیدا کرتے ہیں، جیسے غزوات کے ساتھ شہداء کے اسماء، امہات المؤمنینؓ کے انساب وغیرہ۔

8. پہلی اور دوسری جلد میں اسلوب سہل، روان اور عام فہم ہے، جبکہ تیسری جلد میں اسلوب علمی و ادبی طور پر اعلیٰ درجے کا ہے۔

9. مصنف نے کئی مقامات پر اپنے ذاتی علمی و فکری نقطۂ نظر کو بھی وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

10. تاریخ کے مباحث میں مصنفؒ کی گہری تحقیق اور مضبوط علمی گرفت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

11. تیسری جلد کے آخر میں خاص فقہی و اعتقادی مباحث نہایت دقیق اور محققانہ انداز میں سامنے آتے ہیں۔

12. پوری کتاب میں ہر مقام پر رسولِ اکرم ﷺ سے مصنفؒ کی بے پناہ محبت اور والہانہ عقیدت جھلکتی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ میری یہ کتاب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حامد و محاسن کا اظہار اسی قدر کر سکتی ہے ،جس قدر ذرۂ بے مقدار آفتاب عالم تاب کے انوار کو آشکارا کر سکتا ہے۔ (مصنف علیہ الرحمہ)
عبد مناف کا نام مغیرہ تھا،  پیدائش کے بعد ان کو مناف کے مندر میں لے گئے تھے اس لئے عبد مناف مشہور ہو گئے تھے ۔
ہاشم کا نام عمر تھا، یہ شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر غریبوں کو کھلایا کرتے تھے ہاشم نام پڑ گیا۔
عبدالمطلب کا نام شیبہ تھا، پیدائش کے وقت چند بال سفید تھے اس لیے ماں نے ان کا نام شیبہ ( بوڑھا )رکھا اپنے چچا المطلب کی شکر گزاری میں یہ تمام عمر عبدالمطلب کہلاۓ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم الشان معجزہ دکھایا کہ دلوں کو بدل دیا اور روح کو پاکیزہ بنا دیا انسان اور لاٹھی، انسان اور سانپ، انسان اور پتھر میں جتنا تفاوت ہے وہی تفاوت اس معجزہ اور دیگر معجزات میں بھی ہے۔
حجر اسود کے  نصب کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ جب مختلف اغراض اور مختلف مقاصد کے لوگ ایک جگہ فراہم ہو جائیں تو ان کو کیوں کر مرکز واحد پر لا سکتے ہیں، نیز ثابت فرما دیا کہ خدشہ جنگ کے ٹال دینے اور امن کو مستحکم رکھنے کے لیے جنگی طاقت کی نہیں بلکہ اعلی دماغی قابلیت کی ضرورت ہے۔


ذات مبارک صلی اللہ علیہ وسلم میں نوح کی سی گرمی، ابراہیم جیسی نرم دلی، یوسف کی سی درگزر، داؤد کی سی فتوحات، یعقوب کا سا صبر ،سلیمان کی سی سطوت، عیسی کی سی خاکساری، یحیی کا سا زہد ،اسماعیل کی سی سبک روحی کامل ظہور بخش تھی۔
خورشید رسالت میں اگرچہ تمام مقدس رنگ موجود تھے لیکن ” رحمتہ اللعالمینی“ کا وہ نور تھا جس نے تمام رنگتوں کو اپنے اندر لے کر دنیا کو ایک برگزیدہ و چیدہ روشنی سے منور کر دیا ہے، ذرہ بے مقدار کی کیا تاب کہ خورشید عالم افروز کی جلوہ نمائی میں آئینہ داری کرے  ۔
: حسان بن ثابت کا شعر ہے
وشق له من اسمه ليجله 
 فذو العرش محمود وهذا محمد
،واضح ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد سے خاص مناسبت ہے حضور کا نام محمد و احمد ہے، اور حضور کے مقام شفاعت کا نام محمود ہے، امت محمدیہ کا نام حمادون ہے۔
ہمارے نبیﷺ موسمِ بہار میں دو شنبہ ( پیر) کے دن 9 ربیع الاول 1 عام الفیل مطابق 122 اپریل 571 ہے مُطابق یکم جیٹھ  628 بکرمی کو مکّہ معظمہ میں بعد از صبح صادق و قبل از طلوع نير عالم تاب پیدا ہوئے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں دوشنبہ کا دن خصوصیت رکھتا ہے، ولادت ،نبوت، ہجرت، وفات سب اسی دن ہوئی ہیں ۔
،سب کا اتفاق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دوشنبہ کو ہوا چونکہ دو شنبہ کا دن نو ربیع الاول کے سوا کسی اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے نو ربیع الاول ہی صحیح ہے، تاریخ دول العرب والاسلام  میں  محمد طلعت بک نے بھی نو ربیع الاول ہی کو صحیح قرار دیا ہے۔
بحیرہ راہب کی ملاقات کی داستان ناقابل اعتبار ہے ۔
پادری صاحبان نے اتنی بات پر کہ بحیرہ نصرانی ملا تھا یہ شاخ و برگ اور بھی  لگا دیے کہ 40 سال کی عمر کے بعد جو تعلیم آپ نے ظاہر کی تھی، وہ اس راہب کی تعلیم کا اثر تھا ،میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے تثلیث اور کفارہ کا رد مسیح کے سلیب پر جان دینے کا بطلان، اس راہب کی تعلیمی سے کیا تھا، تو اب عیسائی اپنے اس بزرگ کی تعلیم کو قبول کیوں نہیں کرتے۔
غار حرا کا طول چار گز ،عرض پونے دو گز تھا ۔
امام طبری نے نزول قران کی تاریخ 17 یا 18 رمضان روایت کی ہے چونکہ 18 رمضان ایک نبوت کو یوم جمعہ تھا ( بمطابق ١٧اگست ٦١٠ء) اس لیے نزول قران مجید شب جمعہ 18 رمضان کو تھا۔
انسانی آزادی وہ ہے جو قانون اور مذہب کی پابندی کے تحت میں ہر شخص کو حاصل ہے اور حیوانی آزادی وہ ہیں جو قانون اور مذہب کے اثر کو باطل ٹھہرا کر حاصل ہوئی ہو۔
یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔۔۔
نوٹ: یہاں ان اقتباسات کو ارسال کیا جا رہا ہے جو عام طور پر دوسری کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں ۔



Wednesday, November 5, 2025

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

🌹داستانِ محبت🌹

عتیق اللہ کلیم ✍️

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

اب محبت عرش کے لیے عبادت بن چکی تھی۔

روشی اُس کی دنیا نہیں، اُس کی زندگی بن چکی تھی۔

وہ اب اس کے خیالات میں سانس لیتی تھی، اُس کی یادوں میں بستی تھی۔

عرش کے لیے محبت اب محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک ایمان تھی —

اور اسی یقین کے ساتھ اُس نے چاہا کہ یہ رشتہ اور مضبوط ہو۔


چنانچہ اُس نے اپنی بہن انم سے روشی کی بات چھیڑی

تاکہ یہ تعلق دوستی سے آگے، اپنائیت کی حدوں میں داخل ہو جائے۔

انم اور روشی کی بات چیت شروع ہوئی

دونوں کے درمیان ہنسی مذاق، بھروسہ اور باتوں کی وہ قربت پیدا ہو گئی

جس میں عرش خود کو مطمئن محسوس کرنے لگا۔


ان دنوں روشی اکثر عرش کو اپنی تصویریں بھیجتی تھی۔

لیکن ایک عجیب سا اصول تھا 

وہ ہر تصویر صرف ایک لمحے کے لیے کھلتی، اور پھر جیسے ہوا میں تحلیل ہو جاتی۔

عرش صرف اُسی پل میں اُسے دیکھ پاتا

اور وہ لمحہ اُس کے لیے کسی عبادت کی طرح مقدس بن جاتا۔


: پھر ایک دن عرش نے اپنی بہن انم سے نرمی سے کہا

اگر تمھارے پاس روشی کی کوئی تصویر ہو تو دکھا دو

انم نے بے فکری سے وہی تصویر بھیج دی جو روشی نے خود اُس پر اعتماد کر کے دی تھی۔

عرش نے محبت کے جوش میں وہ تصویر اپنی تصویر کے ساتھ جوڑ کرایک خوبصورت یادگار بنائی اور  محبت سے روشی کو بھیج دی۔

مگر روشی کے لیے وہ تصویر ایک یادگار نہیں

بلکہ اعتماد کا ٹوٹ جانا تھی۔

اُس نے تصویر پہچان لی 

یہ تو وہی تصویر ہے۔۔۔

اور ایک لمحے میں اُس کا لہجہ بدل گیا۔

غصہ، حیرت، دکھ — سب کچھ اُس کے الفاظ میں سمٹ آیا۔

اُس نے انم کو بلاک کر دیا

اور لکھا: میں اُس لڑکی سے بات نہیں کر سکتی، جو میرے اعتماد کے ساتھ دھوکہ کرے۔


انم حیران تھی۔

وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ عرش تو اپنا ہے

کوئی غیر نہیں۔

مگر اب دونوں طرف خاموشی چھا گئی 

ایک طرف روشی کا گلہ، دوسری طرف انم کی خفگی 

اور بیچ میں عرش، جو خود سے زیادہ دوسروں کے احساسات کا قیدی تھا۔


اگلی صبح جیسے آسمان نے بھی رخ بدل لیا۔

ہوا میں وہی مانوس خوشبو نہیں تھی۔

عرش جب یونیورسٹی پہنچا تو دل بوجھل تھا

نہ باتوں میں مزا، نہ کتابوں میں دھیان۔


کینٹین کی طرف جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر لائبریری کے سامنے والے پارک میں گئی —

اور وہاں، روشی ایک انجان لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی۔

(روشی کے مطابق وہ لڑکا اُسی کا بتایا ہوا” دوست“ تھا

مگر عرش اُسے پہچان نہ پایا۔

بس وہ منظر دیکھنا تھا کہ

عرش کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔

دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

اُس کے اندر سناٹا پھیل گیا

اور دماغ ایک ہی سوچ میں گم ہو گیا — یہ کیا دیکھ لیا میں نے


اُسی لمحے، غصہ اور بے بسی کے ملے جلے جذبے نے

اُسے ویڈیو نکالنے پر مجبور کر دیا۔

ساحل نے روکا — مت کر، یہ مناسب نہیں۔

مگر عرش کے اندر کا عاشق اب دلیل نہیں سنتا تھا۔

وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ بعد میں جب سوال کرے

تو سچ اُس کے پاس موجود ہو۔


روشی اُسے دیکھ کر گھبرا گئی 

اُٹھی، پیچھے مڑ کر دیکھا، اور بھاگتی چلی گئی۔

اور عرش؟

وہ تھم گیا — جیسے وقت رک گیا ہو۔


: مدرسے پہنچ کر اُس نے لرزتے ہاتھوں سے میسج لکھا

اگر تم نے وضاحت نہیں دی، تو میں یہ ویڈیو تمھارے گھر بھیج دوں گا۔


یہ وہ الفاظ تھے جو اُس نے محبت میں نہیں

غصے اور زخم میں کہے تھے۔

اور شاید وہ خود بھی جانتا تھا کہ

وہ ایسا کبھی نہیں کر پائے گا۔


مگر محبت کا دل نازک ہوتا ہے —

روشی کے دل پر یہ دھمکی تیر کی طرح لگی۔

: اُس نے جواب دیا

تم مجھے دھمکی دیتے ہو؟ 

اور پھر اُس نے ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا۔


اب عرش کی دنیا اجڑ گئی تھی۔

روشی نے کبھی الفاظ میں نہیں کہا تھا کہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے

لیکن اُس کے رویے، اُس کی باتیں —

وہ سب کچھ کہہ جاتی تھیں۔


عرش نے بار بار معافی مانگی

نئے نمبر سے کوشش کی، نئی آئڈز بنائی 

مگر ہر بار روشی پہچان لیتی —

“یہ وہی دیوانہ ہے”


یہ ایک مہینے کی کہانی تھی —

مگر اُس ایک مہینے میں زندگی کے سارے موسم گزر گئے۔

اب جب بھی وہ یونیورسٹی جاتا

“دل کہتا — ”شاید آج وہ مل جائے

اور جب ملتی

تو نگاہیں ملنے سے پہلے ہی جھک جاتیں۔


عرش آج بھی اُس کے لیے ویسا ہی ہے

جیسے پہلے دن تھا۔

اُس نے خود سے وعدہ کر لیا ہے —

“روشی کے نکاح تک میں کسی لڑکی سے بات نہیں کروں گا”


وہ جانتا ہے کہ شاید وہ کبھی واپس نہ آئے

مگر اُسے اب محبت سے گلہ نہیں۔

وہ اب صرف دعا کرتا ہے —

“اللہ، وہ خوش رہے، چاہے میرے بغیر ہی کیوں نہ ہو۔”


کبھی کبھی وہ رات کے سکوت میں اپنی تحریر دیکھتا ہے

پھر سوچتا ہے —

کیا یہ تحریر روشی کی نگاہوں سے گزری ہوگی؟

اگر گزری ہو —

تو کیا اُس کے دل میں کوئی لرزش پیدا ہوئی ہوگی؟


اور یہیں داستان ختم نہیں ہوتی

یہ تو وہ خاموش سوال ہے

جو عرش کے دل سے آج بھی گونجتا ہے —

“کیا وہ لوٹ آئے گی…؟” 


✨حاصلِ سبق ✨

محبت جب اعتماد کھو دے تو رشتے کی روح مر جاتی ہے۔

اعتماد، وفا، اور ادب — یہ تین ستون ہیں جن پر محبت قائم رہتی ہے۔

عرش اور روشی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کے لمحاتی فیصلے ہمیشہ نقصان دیتے ہیں۔

محبت اگر صبر، شعور، اور پاکیزگی کے ساتھ نبھائی جائے تو عبادت بن جاتی ہے۔

ورنہ یہی محبت، ایک آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔

اور سچا عاشق وہ نہیں جو وصل پائے —

بلکہ وہ ہے جو بچھڑ کر بھی دعا دینا نہ چھوڑے۔


پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...