Friday, May 30, 2025

تبصرہ : بر مسئلہ قربانی مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ


تبصرہ : بر مسئلہ قربانی
  مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ 
مسئلہ قربانی – ایک فکری و تہذیبی تجزیہ


جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے جلیل القدر مفکر و مصلح کی تحریر سامنے آتی ہے، تو محض ایک مضمون نہیں، بلکہ فکر و نظر کی پوری ایک کائنات ہماری نگاہوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ "مسئلہ قربانی" مولانا کا ایک مختصر مگر نہایت جامع رسالہ ہے، جو صرف تیس صفحات پر مشتمل ہے، لیکن معنویت اور استدلال کے اعتبار سے ایک فکری شاہکار ہے۔

یہ رسالہ اس وقت تحریر کیا گیا جب معاشرے میں قربانی جیسی عظیم عبادت پر مختلف زاویوں سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ کہیں سادگی کے نام پر اس سنت کو ثانوی حیثیت دی جا رہی تھی، تو کہیں معاشی مفادات کی آڑ میں اسے بےمعنی اور دقیانوسی قرار دینے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ایسے میں مولانا مودودیؒ نے دلائل، تاریخ، شریعت، اور تہذیب کے سہارے اس سنت کی اصل روح کو نہ صرف واضح کیا بلکہ مخالفین کی فکری کمزوریوں کو بھی بےنقاب کیا۔

:دلائل کا جادو

مولانا نے ابتدا میں ہی یہ واضح کیا کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک علامتی عبادت ہے، جس میں عبد کا رب کے حضور مکمل تسلیم و رضا کا اظہار شامل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کو مولانا نے نہایت پر اثر انداز میں بیان کرتے ہوئے یہ باور کرایا کہ قربانی کا مفہوم صرف جسمانی یا مالی نہیں، بلکہ روحانی ہے – ایک تزکیہ نفس، ایک تہذیبی شعور، اور ایک اجتماعی وابستگی ہے۔

: سنت کی حفاظت کا جذبہ

رسائل و جرائد میں قربانی کے خلاف پھیلائے گئے مغالطوں کا مدلل جواب دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں کہ اگر قربانی کو "مالی ضیاع" کہہ کر ترک کر دیا جائے، تو دین اسلام کی روحانیات، شعائر اور عبادات پر بھی ایک دن یہی تہمتیں لگیں گی اور انھیں غیر ضروری اور رسمی کہ کر ان کے ترک پر امت مسلمہ کو قائل کیا جائیگا اس مختصر سے رسالے میں وہ نہایت سلیقے اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ اسلامی تہذیب کا ایک ستون ہے۔

 : ادبی و فکری اسلوب

مولانا کا اسلوب ہمیشہ کی طرح متین، سادہ مگر پراثر ہے۔ ان کے جملوں میں دلائل کی کاٹ بھی ہے، اور روح کی حلاوت بھی۔ کہیں وہ قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، تو کہیں احادیث سے۔ کہیں تاریخی تناظر بیان کرتے ہیں، تو کہیں معاشرتی تغیرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا قلم ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم اور حکمت کی مشعل تھامے ہوئے ہو۔

 : مخالفین پر شائستہ تنقید

مولانا کا خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ تنقید برائے تنقید کے قائل نہیں۔ وہ اختلاف رکھنے والوں کو رد کرتے ہیں، مگر عزت و شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان کی زبان میں نہ تلخی ہے، نہ تندی، بلکہ دلائل کی روشنی میں حق کو نمایاں کرنے کا خلوص ہے۔

 : تہذیب کا مقدمہ

قربانی کو اگر تہذیبی مظہر کے طور پر دیکھا جائے، تو مولانا نے نہایت خوبصورتی سے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ اسلامی تہذیب اپنی علامتوں سے پہچانی جاتی ہے، اور اگر ان علامتوں کو مٹانے کی کوشش کی گئی، تو امت کا تشخص مٹ جائے گا، روحانی جوہر ماند پڑ جائے گا، اور دینی شعائر محض رسوم بن کر رہ جائیں گے۔

 : اختتامیہ

یہ رسالہ صرف ایک فقہی یا عقلی بحث نہیں، بلکہ ایک فکری تجزیہ ہے، جو قربانی جیسے عظیم عمل کی حقیقت، اہمیت اور اثرات کو آج کے دور کے تنقیدی مزاج کے سامنے نہایت خوبی سے پیش کرتا ہے۔ مولانا نے سنتِ ابراہیمی کے تقدس کو نئی نسل کے دلوں میں جاگزیں کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کا انداز نہ صرف قاری کو مطمئن کرتا ہے بلکہ اسے جھنجھوڑتا ہے، بیدار کرتا ہے، اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ رسالہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے، جذب کرنے، اور عمل کرنے کے لیے ہے۔ ایک ایسا اثاثہ جو ہر صاحبِ علم و دین کے مطالعے میں ہونا چاہیے۔

برادرم محمد عمران خیرآبادی 

درجہ :عالیہ رابعہ شریعہ

متعلم  :دارالعلوم ندوۃ العلماء ،لکھنؤ 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html

Friday, May 23, 2025

روزنامچہ بتاریخ ۲۰ مئی ۲۰۲۵

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

روزنامچہ 
تاریخ: ۲۰ مئ ۲۰۲۵
دن:        اتوار 

مسجد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ 

عتیق اللہ کلیم ✍️

آج کی صبح کچھ خاص تھی۔ فجر کی اذان نے جب سکوتِ 
شب کو چیر کر بیداری کی ندا دی، تو دل نے خوشی سے کہا
الحمد للہ، آج بھی بیداری کی نعمت نصیب ہوئی
با جماعت نمازِ فجر ادا کی، پھر تلاوتِ کلامِ الٰہی سے دل و دماغ کو منور کیا، اور تن آسانی کی چادر کو جھٹک کر ورزش گاہ گیا، آدھے گھنٹے کی ورزش نے جسم میں توانائی پیدا کر دی۔
ورزش کے بعد میں حسب معمول اپنے محبوب و محترم استاد، مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتهم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ معمول کے مطابق کاپی پیش کی، چند غلطیوں پر تنبیہ فرمائی، جو گویا جنہیں دور کرنے کا اسی وقت عزم کر لیا ۔ پھر آئندہ کے لیے نیا سبق عطا فرمایا، جو میرے علمی سفر کا ایک اور سنگِ میل بنا۔
دارالعلوم واپسی پر ناشتہ کیا، اور ترمذی شریف کا اعادہ و مطالعہ اس ذوق و شوق سے کیا جیسے کوئی پیاسا چشمۂ علم پر جھک جائے۔ وقت سے پہلے درجہ میں حاضری دے دی۔
الحمد للہ، آج تمام اوقاتِ درس پوری توجہ سے گزرے۔ ہر گھنٹہ جیسے علم کا ایک چراغ تھا، جو ذہن کی تاریکیوں کو روشن کرتا رہا۔
نمازِ ظہر کے بعد اپنے رفیقِ درس، برادرم شاہد کے ساتھ "نخبۃ الأدب" کے چند اسباق کا ترجمہ کیا۔ یہ لمحات صرف مطالعے کے نہ تھے، بلکہ ذہن میں فکر اور عمل کا عزم پیدا ہوا۔
کچھ ہی دیر بعد ہمارے قدیم اور عزیز رفیق، عاقب بھائی تشریف لائے، جن کے لیے دل بے اختیار مسکرا اٹھا۔ ضیافت کی، کچھ احوال پرسی ہوئی۔ پھر عصر سے کچھ قبل تھوڑی دیر قیلولہ کیا — جو بدن کی راحت اور ذہن کی تازگی کا سامان بن گیا۔
نمازِ عصر کے بعد تبلیغی مشورے میں شرکت کی، پھر ایک دعا اور چند احادیث حفظ کیا، اور کچھ دیر چہل قدمی کرکے واپس مسجد آیا اور دعا میں مشغول ہو گیا۔
مغرب کے بعد ایک علمی محفل میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ہال "علامہ حیدر حسن ٹونکی" میں ایک باوقار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں دارالعلوم کے ناظم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی، نائب ناظم مولانا عبد القادر ندوی، مہتمم سعید الرحمن اعظمی ندوی نائب مہتمم مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی،اساتذہ کرام اور ممتاز مہمانانِ گرامی موجود تھے۔
تقریب کا آغاز عالیہ رابعہ کےطالب علم، برادرم ثمامہ کی تلاوت سے ہوا۔ ماجد دیوبندی صاحب نے نعتِ رسول پیش کی، اور پھر ترانۂ ندوہ پیش کیا گیا ۔
اس کے بعد وہ لمحہ آیا، جب استاد محترم ڈاکٹر محمد فرمان صاحب ندوی مدظلہ العالی کی تصنیف "الشیخ سعید الاعظمی الندوی: حیاتہ و آثارہ" کا باضابطہ اجرا ہوا۔ آپ نے حضرت مہتمم صاحب کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اور بتایا کہ حضرت نے ۷۱ سالوں میں البعث کے لیے ۷۲۸ اداریے اور الرائد میں ٦٧ سالوں میں ۱١٤۰ مستقل کالم تحریر فرمائے۔

:تاثرات

:مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی نے کہا کہ

دوسروں کے لئے قربانی دینا اور دوسروں کے لئے جینا بہت بڑی بات ہے  مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا وہ آج تک قائم ہے، ان کے آگے صرف ندوہ ہی تھا،  وہ دار العلوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ نے کہا کہ

 مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ۱۹۹۳ء میں مسلمانوں کی عصری علوم کے فروغ کے لئے انٹیگرل یونیورسٹی کو قائم کیا ، میں اس کا گواہ ہوں کہ مولانا کو دارالعلوم کے ساتھ ساتھ یو نیورسٹی قائم کرنے کی بہت فکر تھی ، آج یونیورسٹی جس شکل میں سامنے ہے، اس میں مولانا اعظمی کی توجہات شامل ہیں۔

تقریب رسم اجراء
 

ناظرین کی سہولت کے لیے ایل سی ڈی اسکرین کا اہتمام 

تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ ہال کے باہر ایک بڑی ایل سی ڈی اسکرین نصب کی گئی تھی تاکہ وہ افراد جو اندر نشست حاصل نہ کر سکے، وہ بھی اس روح پرور لمحے کا مشاہدہ کر سکیں۔ نتیجتاً ہال کے باہر بھی شائقینِ علم کی ایک بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہر طرف علم و ادب کے متوالوں کا ہجوم، اور کتاب سے محبت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔

طلبہ اور ناظرین کا جم غفیر 


بزم کا اختتام حضرت مہتمم صاحب کی دعاؤں سے ہوا۔

عشاء کے بعد کچھ ساتھیوں کے درمیان ہدایہ کا مذاکرہ کرایا، روزنامچہ رقم کیا، اور دل کو رب کے حضور سونپ کر پرسکون نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں بہتر بہتر سے مشغولیت میں مصروف رکھے اور یہ ہماری زندگی کا معمول بن جاۓ۔ آمین 

تحریر کے تئیں اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کریں۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/molana-abul-kalam-azad.html

Wednesday, February 26, 2025

سوشل میڈیا کے منفی اثرات


سوشل میڈیا کے منفی اثرات


عتیق اللہ کلیم ✍️

:تمہید

دورِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کو بے حد سہولتیں فراہم کی ہیں۔ انہی سہولتوں میں سے ایک سوشل میڈیا بھی ہے، جو دنیا کے ہر فرد کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اسلام ہمیں جدید ذرائع کے مثبت استعمال کی ترغیب دیتا ہے، لیکن ہر ایجاد کے ساتھ خیر و شر کا پہلو جُڑا ہوتا ہے۔ یہی معاملہ سوشل میڈیا کا بھی ہے، جو ایک طرف معلومات کی تیز تر ترسیل کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف اس کے غیر محتاط استعمال سے کئی معاشرتی اور اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں

سوشل میڈیا کیا ہے؟

سوشل میڈیا انٹرنیٹ پر مبنی ایسے پلیٹ فارمز کا مجموعہ ہے جہاں لوگ معلومات کا تبادلہ، خیالات کی تشہیر، اور آپس میں گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس میں فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب، اور دیگر ایپلیکیشنز شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز فوری معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر اس کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

: سوشل میڈیا کے منفی اثرات

سوشل میڈیا جہاں معلوماتی اور تفریحی فوائد فراہم کرتا ہے، وہیں اس کے منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں


:١۔غور و فکر کی صلاحیت میں کمی


سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال نے انسانی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ مختصر اور سطحی معلومات پر انحصار کرنے کی وجہ سے لوگ تفکر و تدبر سے محروم ہوتے جا رہے ہیں

:٢.خاندانی تعلقات میں کمزوری


ایک وقت تھا جب خاندان کے افراد آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرتے تھے، مگر آج ہر شخص موبائل میں مصروف ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود لوگ حقیقی دنیا کے بجائے سوشل میڈیا کی دنیا میں مگن ہیں، جس سے خاندانی رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔

.عزتِ نفس کی پامالی اور نفسیاتی مسائل


سوشل میڈیا پر دھوکہ دہی، جعلی پروفائلز اور غلط معلومات کی بھرمار ہے۔ بعض افراد دوسروں کو نیچا دکھانے، ان کا مذاق اُڑانے یا نفرت پھیلانے کے لیے ان پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی نوجوان احساسِ کمتری، ڈپریشن اور یہاں تک کہ خودکشی جیسے خطرناک نتائج کا شکار ہو رہے ہیں۔

:٤.صحت پر منفی اثرات

سوشل میڈیا کا بے جا استعمال نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، اور آنکھوں کی کمزوری جیسی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ خاص طور پر طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارنے سے تعلیم پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔

:٥.وقت کا ضیاع

سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان وقت کا ضیاع ہے۔ لوگ گھنٹوں تک بلاوجہ اسکرولنگ کرتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، اور غیر ضروری مباحث میں مشغول رہتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی، پیشہ ورانہ، اور ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
:٦.بچوں اور نوجوانوں پر غلط اثرات
سوشل میڈیا پر غیر معیاری اور غیر اخلاقی مواد بآسانی دستیاب ہے، جس کا اثر بچوں اور نوجوانوں کی ذہن سازی پر پڑتا ہے۔ وہ نامناسب مواد دیکھ کر غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں اور بچپن میں ہی بالغ موضوعات سے آشنا ہو جاتے ہیں، جو ان کی اخلاقیات کے لیے خطرناک ہے۔
:٧.جعلی خبروں اور پروپیگنڈا کا فروغ
سوشل میڈیا پر غلط معلومات، جعلی خبریں، اور جھوٹے پروپیگنڈا کو بہت تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔ سیاسی، سماجی، اور مذہبی حوالے سے من گھڑت معلومات پھیلائی جاتی ہیں، جو فساد اور انتشار کا سبب بنتی ہیں۔
: پرائیویسی کا مسئلہ
سوشل میڈیا پر صارفین کی ذاتی معلومات اکثر محفوظ نہیں رہتیں۔ ہیکرز، سوشل میڈیا کمپنیاں، اور بعض غیر اخلاقی افراد ان معلومات کو غلط طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ کئی لوگ بلیک میلنگ اور سائبر کرائمز کا شکار ہو چکے ہیں۔

. جرائم میں اضافہ

سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن دھوکہ دہی، ہیکنگ، بلیک میلنگ، اور مالی فراڈ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض لوگ دوسروں کی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر ان سے پیسے بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔
:١٠. جعلی لائف اسٹائل اور حسد
سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کا خوبصورت پہلو دکھاتے ہیں اور اپنی پریشانیاں چھپا لیتے ہیں، جس سے دوسرے لوگ احساسِ کمتری اور حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی مصنوعی چمک دمک کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے اور اپنی حقیقی خوشیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
:۔ڈراموں اور فلموں کے ذریعے پھیلائے جانے والے غلط پیغامات
خاص طور پر ہماری بہنیں ڈرامے دیکھتی ہیں جس میں دکھائے گئے غلط کردار سے متاثر ہو جاتی ہیں اور یہی گھریلو جھگڑے کا سبب بنتا ہے،اور گھر کے گھر اُجڑ جاتے ہیں۔
نہایت ہی افسوس کی بات ہے کہ ہماری مسلم بہنیں کیریکٹر کے غیر شرعی لباس کو پسند کرتی ہیں اور اُسے پہننا قابلِ فخر سمجھتی ہیں، اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم جہنم کے مستحق ہو گئے۔
فلموں کے ذریعے لوگوں میں پھوٹ ڈالی جاتی ہے جیسا کہ اب چھاوا نامی فلم میں دکھایا جارہا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے چھترپتی شیواجی مہاراج پر سنگدلانہ ظلم کیا تھا، 
 اور جذباتی طور پر ایسے اشتعال انگیز انداز میں یہ سب دکھایا جارہا  ہے کہ دیکھنے والے ہندو مسلمانوں کے خلاف نفرت کرنے لگیں اور دنگے و فسادات بڑھنے لگیں۔

 :خاتمہ


حاصل کلام یہ ہے سوشل میڈیا برائی اور اچھائی کا مشترک مجموعہ ہے لہذا اس کا استعمال احتیاط سے کرنا ہماری ذمہ داری ہے یہ فیصلہ صارفین پر منحصر ہے آیا اس کے مثبت استعمال سے ہم دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنوارلیں یا دونوں جہانوں کی ناکامی اپنے سر لے لیں۔



Saturday, February 22, 2025

الخطبة الوداعية عند مفارقة الاصدقاء

الخطبة الوداعية 

الحمد لله الذي جعل لكل شيء قدرا و جعل لكل شيء فراقا و الصلاة و السلام على نبيه المختار و على آله و أصحابه الأخيار أما بعد

 

عتیق اللہ کلیم ✍️

قدِمتُ إلى مدرسة سيدنا بلال في عام ثلاثة و عشرين و ألفين من المسيح، و التحقت بالسنة السادسة من الثانوية، فوجدتُ المدرسة أفضل بكثير مما كنتُ قد سمعتُ عنها لكن يا مدرستي الحبيبة يا منبع العلم ويا موطن الذكريات الجميلة، أقف اليوم مودعًا وأنا أشعر بمزيج من الفرح والحزن، الفرح لأني أكملت هذه المرحلة من حياتي، والحزن لأنني سأفارق هذا المكان الذي كان لي بيتًا ثانيًا كم تعلمت منكِ يا مدرستي! تعلمت العلم النافع، والأخلاق السامية، والقيم التي ستبقى رفيقي في درب الحياة. لقد كانت لحظاتنا هنا مليئة بالتعب والجهد، لكنها كانت ممتعة ومليئة بالفائدة

مدرستي يا روضتي يا جنتي

فيكِ عشتُ أجملَ اللحظاتِ

!أساتذتي الكرام

يقف قلمي عاجزًا عن التعبير، وتختلط مشاعري بين الفرح والحزن، فرحٌ بما تعلمته على أيديكم، وحزنٌ لفراقكم، فكيف لي أن أودع من كان لهم الفضل بعد الله في تنوير عقلي، وتربية روحي، وتهذيب أخلاقي؟ لم تعطونا علما فقط، بل زينتمونا بالثقافة و الأخلاق أنتم المعرفة و أنتم الجامعة. أعطيتمونا خريطة الكنز و رسمتم عليها الطريق و دونتم لنا الغنيمة تعبتم و وقفتم في سبيلنا فنبقى شاكرين لكم ما دامت الحياة فينا

وَنَحْنُ شَاكِرُونَ جِدًّا لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ كَاشِفِ الصِّدِّيقِيِّ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى تَعْلِيمِهِ لَنَا مَادَّةَ اللُّغَةِ الإِنْجِلِيزِيَّةِ بِكُلِّ شَفَقَةٍ وَلُطْفٍ، وَعَلَى بَذْلِ جُهْدِهِ فِي إِيضَاحِ الدُّرُوسِ كَامِلَةً

جزَاهُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ

نَحْنُ شَاكِرُونَ لِنَاظِرِ مَدْرَسَتِنَا، أُسْتَاذِنَا الْمُخْلِصِ، الشَّيْخِ أَبَا طَلْحَةَ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ العَظِيمَةِ وَإِخْلَاصِهِ فِي خِدْمَةِ الطُّلَّابِ فَقَدْ كُنْت تَمُرُّ عَلَى كُلِّ غُرْفَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ لِتَتَأَكَّد مِنْ حُضُورِنَا، وَكُنْت تَهْتَمُّ أَيْضًا بِتَرْبِيَتِنَا وَنَظَافَةِ المَدْرَسَةِ بِكُلِّ إِخْلَاصٍ وَاجْتِهَادٍ إِنْ كَانَ قَدْ صَدَرَ مِنْ أَحَدِ إِخْوَانِنَا أَيُّ إِيذَاءٍ أَوْ تَقْصِيرٍ، فَنَرْجُو مِنْكُمْ أَنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا.

جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ، وَبَارَكَ فِي جُهُودِكُمْ وَعَمَلِكُمْ، وَجَعَلَ ذَلِكَ فِي مِيزَانِ حَسَنَاتِكُمْ

نَحْنُ شَاكِرُونَ لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ خبِيبٍ القاسمي - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ وَإِخْلَاصِهِ، فَلَمْ يَكْتَفِ بِتَدْرِيسِنَا فِي الصَّفِّ فَقَطْ، بَلْ كَانَ يَتَخَلَّى عَنْ رَاحَتِهِ وَسُكُونِهِ بَعْدَ صَلَاةِ الفَجْرِ لِيُعَلِّمَنَا وَيُوَجِّهَنَا وَلَكِنَّنَا لَمْ نُقَدِّرْكُمْ حَقَّ التَّقْدِيرِ.

نلتمسُ العذرَ من أستاذِنا المُحترمِ، فقد حدثَ مرارًا أنْ كنت تدخل الصفَّ، ونكونُ غائبين، ثمَّ تبحث عنَّا، وتنصحنا وترشدنا.

إنَّها لَمِنْ شفقتِك ورحمتِك بِنَا، ومنْ فضلِك علينا، فنرفعَ إليك طلبَ العفوِ والسماحِ، أن تعفوعَنْ زَلَّاتِنَا وَأَخْطَائِنَا، جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، وَأَطَالَ اللَّهُ فِي عُمُرِك فِي طَاعَتِهِ وَبَارَكَ فِيك

نَحْنُ شَدِيدُو الشُّكْرِ وَالِامْتِنَانِ لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشيخِ أبي الجيش - حَفِظَهُ اللهُ -، فَقَدْ كُنْت تُوَضِّحُ لَنَا كُتُبَ الأَدَبِ الْعَرَبِيِّ بِأُسْلُوبٍ سَهْلٍ وَوَاضِحٍ، وَلَمْ تَبْخَل عَلَيْنَا بِعِلْمِك حَتَّى فِي الأَوْقَاتِ غَيْرِ الدِّرَاسِيَّةِ، كُنْت تَرْشِدُنَا وَتُوَجِّهُنَا لِكُلِّ خَيْرٍ.

وَلَكِنَّنَا أَسَفًا قَدْ أَتْعَبْنَاك وَكُنَّا نُقَصِّرُ فِي أَدَاءِ المَسْؤُولِيَّاتِ الَّتِي كُنْت تُوَكِّلُهَا إِلَيْنَا، فَلَا نُتِمُّهَا فِي الْوَقْتِ الْمُحَدَّدِ

وَنَحْنُ شَاكِرُونَ جِدًّا لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ المَوْلَانَا أَسَدُ اللَّهِ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ فِي تَدْرِيسِ النَّحْوِ وَالصَّرْفِ، فَقَدْ جَعَلَهُمَا سَهْلَيْنِ وَرَاسِخَيْنِ فِي قُلُوبِنَا.

جَزَاهُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ

ونحنُ نَشْكُرُ مِنْ أَعْمَاقِ قُلُوبِنَا أُسْتَاذَنَا الْمُشْفِقَ وَالْمُرَبِّيَ الْفَاضِلَ، الشيخَ أحمد إلياس الندوي- حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ الْمُبَارَكَةِ، فَقَدْ دَرَّسَ الهداية لَنَا بِطَرِيقَةٍ رَسَخَتْ فِي قُلُوبِنَا، حَتَّى صَارَتْ نَقْشًا فِيهَا، وَفَهِمْنَا الْمَسَائِلَ بِصُورَةٍ أَفْضَلَ وَأَوْضَحَ.

وَلَكِنَّنَا نَشْعُرُ بِالْخِزْيِ وَالْأَسَفِ،للْغَفْلَة وَالنَّوْم تَغْلِبُ عَلَيْنَا في الصف، فَكُنْت تَتَأَلَّمُ وكُنْت تَغْضَب أَحْيَانًا، لَكِنَّك لَمْ تَسْتَعْمِل قَطُّ أَلْفَاظًا غَيْرَ لَائِقَةٍ، وَكُلَّمَا لَمْ نَفْهَمْ أَمْرًا، كُنْت تَبْذُلُ كُلَّ جُهْدِك فِي تَوْضِيحِهِ لَنَا بِكُلِّ صَبْرٍ وَحِلْمٍ.


فَنَسْأَلُكُمْ بِكُلِّ تَوَاضُعٍ أَنْ تَعْفُوا عَنْ زلتنا و غفلتنا، وَأَنْ تَدْعُو لَنَا بِالْخَيْرِ، لِيَجْعَلَنَا اللَّهُ مِنْ خِيَرَةِ الرَّاحِلِينَ فِي طَرِيقِ الْعِلْمِ، وَمِنْ أَفْضَلِ الْمُرْشِدِينَ وَالْهَادِينَ.

جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، وَبَارَكَ فِيكُمْ، وَنَفَعَنَا بِعِلْمِكُمْ.

فَنَلْتَمِسُ مِنْكُمْ الْعُذْرَ، وَنَرْجُو مِنْكُمْ الْعَفْوَ عَنْ تَقْصِيرِنَا وَإِهْمَالِنَا.جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الْجَزَاءِ

نَحْنُ شَاكِرُونَ لِفَضِيلَةِ نَائِبِ المُدير، أُسْتَاذِنَا المُشْفِقِ وَالمُرَبِّي، الشَّيْخِ سَلْمَانَ القَاسِمِيِّ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ الْمُبَارَكَةِ فِي تَعْلِيمِنَا، فَقَدْ كُنْت تُدَرِّسُنَا بِطَرِيقَةٍ مُمْتِعَةٍ، تَجْعَلُنَا نَفْرَحُ وَنَبْتَسِمُ، وَمَا شَعَرْنَا قَطُّ بِالْمَلَلِ فِي دُرُوسِك

وَمَعَ ذَلِكَ نَلْتَمِسُ مِنْكُمُ الْعُذْرَ، وَنَرْجُو مِنْك أَنْ تَعْفُوا عَنْ أَيِّ خَطَأٍ صَدَرَ مِنَّا بِسَبَبِ تَقْصِيرِنَا أَوْ إِهْمَالِنَا.

جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرَ الجَزَاءِ

وَكَيْفَ نَنْسَى مُديرنا الْكَرِيمَ، الَّذِي كَانَ يُوَجِّهُنَا فِي كُلِّ وَقْتٍ، وَيَبْذُلُ كُلَّ مَا فِي وُسْعِهِ لِرَاحَتِنَا وَسُكُونِنَا؟!

فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَةِ العَمُودِ الرَّئِيسِيِّ لِهَذِهِ المَدْرَسَةِ، الَّذِي تَقُومُ عَلَيْهِ نَجَاحَاتُهَا وَإِنْجَازَاتُهَا

نَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَ كُلَّ مَدْرَسَةٍ مِثْلَكُمْ فِي الإِخْلَاصِ وَالمَسْؤُولِيَّةِ، وَسامحنا يا سيدنا فَقَدْ شَغَلْنَاكُمْ وَأَتْعَبْنَاكُمْ كَثِيرًافَاعْفُوا عَنَّا، وَادْعُوا لَنَا بِالخَيْرِ وَالتَّوْفِيقِ

سأغادر الدارَ لكنْ لستُ أنساكمُ

يا منبعَ العلمِ يا أنوارَ أفلاكي

ما زالَ حبُّكمُ في القلبِ يسكنُهُ

كأنكم بينَ أضلاعي وأشراكي

لقد تلقيت منكم، أساتذتي الكرام، علماً نافعًا، وأدبًا راقيًا، ونصحًا مخلصًا، فجزاكم الله عني خير الجزاء، وجعل ما قدمتموه لنا نورًا في صحائف أعمالكم، وشاهداً لكم يوم لا ينفع مال ولا بنون

إخواني الأحبة، لقد كنا هنا كأسرة واحدة، جمعتنا المحبة، ووحدتنا الأهداف النبيلة، وعشنا معًا لحظات لا تُنسى، فكيف للقلب أن ينسى من كان لهم فيه مكان!؟

باللهِ يا صحبَتي لا تنسَوا مودّتنا

واذكُروا أخًا قد مضى والشوقُ يُحييـه

إنْ غِبتُ عنكم فإنّ الروحَ متّصلـةٌ

والودُّ يبقى وإن غابتْ لياليه

أوصيكم أيها الأحبة، بتقوى الله، والجد والاجتهاد في طلب العلم، والتمسك بالأخلاق الفاضلة، فهذه الدنيا قصيرة، ولن يبقى منها إلا العمل الصالح والعلم النافع.

وها أنا أودعكم بدمع العين، وخفقات القلب، وأسأل الله أن يجمعنا بكم في الدنيا على الخير، وفي الآخرة في مستقر رحمته، في جنات عدن عند مليك مقتدر

سلامٌ على الدارِ التي قد أحبَّها

وسلامٌ على الإخوانِ في كلِّ وادي

فإنْ فرَّقَتْنا الدهرُ لا بدَّ من لِقا

ففي جنةِ الفردوسِ أبهى المعادِ

 محمد عتيق الله ( الطالب في السنة الثانية من العالية) في مدرسة سيدنا بلال ،دالى غنج لكناؤ






Saturday, February 8, 2025

عطلة يوم الاستقلال

 عطلة يوم الاستقلال



عتیق اللہ کلیم ✍️
قد كنت سئمت في يوم الاستقلال وأصدقائي قد ذهبوا إلى عيش باغ وكانوا يتجولون وينتزهون من مكان إلى مكان آخر وصدري يتضايق علي فنمت حزينا ولم أستيقظ إلا قبل العصر والآن عزمت على أن أذهب إلى أي منتزه من منتزهات مدينة لكناؤ فحملت رفيقاي سيد أمين الدين وأبا الحيات على ان يذهبا معي فاكترينا سيارة بمأة و خمسين روبية و توجهنا إلى منتزه أمبيدكر۔

رأينا جانبي الطريق بيوتا مكسورة هدمتها حكومة بى جے بي الظالمة في أثناء السفر وما زلنا نتذاكر ونتجاذب أطراف الحديث بهذا الموضوع حتى وصلنا إلى المنتزه وهناك لاقينا أصدقائي معراج احسان معتصم وراشد فاصطحبنا معهم وذهبنا إلى مكتب التذاكر وتموج الأرض بالرجال والنساء من مختلفة الطبقات اشترينا التذاكر بعشرين روبية ودخلنا فيها فرأينا مبان مختلفة شامخة توسعت في ساحة واسعة وكانت آية في البناء والهندسة نتعجب من حسن بنائها وبهجتها ثم صعدنا فوق إحدى عماراته فما إن سرحنا النظر أسفلها بدا كل شيء يرى أصغر من حجمه وأولعنا بذلك المنظر البهيج و التقطنا صورا۔

وقد لبس كثير من الناس ثيابا ملونة باللون الأحمر والأبيض والأخضر وهذه هي الالوان التي صبغت بها راية بلادنا الحبيبة الهند وهم كانوا يظاهرون حب البطن بثيابهم وليسوا محبي الوطن لأنهم ليسوا فرحين مسرورين في هذه الحكومة التي وصلت إلى سدة الحكم باسم إلهي راما التي فرقت بين المسلمين والهنادس۔
حديقة أمبيدكر ابتدا بناؤها في سنة خمس و تسعين و تسع مأة و ألف من الميلاد خلال فترة ولاية رئيسة وزراء اترا براديش وتم افتتاحها في سنة ثمانية و ألفين من الهجرة بلغ بناء الحديقة حول سبع مليون روبية هندية ۔

هناك تمثال كبير للدكتور به‍يمراؤ أمبيدكر وينصب فيهاأربعون فيلا ضخيما كبير الجثة۔

جميع التماثل واله‍ياكل الموجودة في المنتزه مصنوعة من الرخام الأبيض وتعتبر حديقة أمبيدكر آية ليس فقط لهندسته الفريدة وهياكله المصنوعة من الرخام وحجر دولبور ولكنها أيضا شهيرة للسياحة في مدينة لكناؤ۔
 




Tuesday, December 31, 2024

أدب الكاتب لابن قتيبة

أدب الكاتب لابن قتيبة




عتیق اللہ کلیم ✍️

:ترجمة ابن قتيبة

هو محمد عبد الله بن مسلم بن قتيبة،يقال له المروزي لأن أباه كان من مروز ويقال له الكوفي لأنه ولد بها ويقال له الدينوري لأنه ولي قضاءها فأقام بها مدة
ولد في ٢١٣ه‍ بالكوفة،ويقال ببغداد،وبها نشأ ويرى بعض المؤرخين أنه عربي النسب،قرأ على أبي يعقوب إسحاق بن إبراهيم المعروف بابن راهوية،وأبي سعيد بن خالد الضرير وأبي الفضل العباس،وعبد الرحمن بن عبد الله بن أخي الأصمعي
قال الخطيب في تاريخ بغداد: ” كان ثقة دينا فاضلا“قال ابن حجر العسقلاني في لسان الميزان: ” كان لغويا،كثير التأليف،عالما
بالتصنيف،صدوقا من أهل السنة وفي بغية الوعاة : كان رأسا في   العربية واللغة والأخبار وأيام الناس
وقال ابن تيمية: أهل لأهل السنة الجاحظ للمعتزلة فإنه خطيب السنة كما أن الجاحظ خطيب المعتزلة

:مذهب ابن قتيبة

ومذهب ابن قتيبة ومذهب الجمع والوسيطة،إلا أنه يميل الى الجد والتدين،والتحفظ،وهو واحد من الكتاب الثلاثة المجيدين الذين جمعوا العلم من مختلف المصادر،ألفوا في موضوعات متنوعة،الجاحظ وهو أبو حنيفة الدينوري،ومن مزايا ابن قتيبة الترتيب،وفي ذلك يفوق الجاحظ والمبرد،فقد قال في مقدمة عيون الأخبار ما يدل على منهجه في التأليف
 وقارنت الباب بشكله،والتحير بمثله،والكلمة بأختها ليسهل على المتعلم علمها وعلى الدارس حفظها

:أسلوب ابن قتيبة

يمتاز أسلوبه بوضوح واصطفاء ألفاظ والمزاوجة بينها على طريقة الجاحظ أحيانا وأحيانا يسترسل دون محاولة الازدواج،ولا يستطرد ابن قتيبة كاستطراد الجاحظ الذي قد يكون مملا بل ينتسق كلامه تنسيقا،ويفوق الجاحظ في هذا التنسيق 

:مؤلفاته

اشتهر من مؤلفاته: ” معاني والشعر الكبير“
”عجون الشعر“ ” الشعر والشعراء“ ” أدب الكاتب“ ”إعراب القران“  مشكل القران “ ”غريب القران“ ” الرد على القائل بخلق قرآن“ ” قريب الحديث“ ” المعارف“ ”الأشربة“ ”الإمامة والسياسة“ ”تاريخ الخلفاء“ ”عيون الأخبار“كتاب في الفقه وغير ذلك،ومنها أدب الكاتب

 :أدب الكاتب

كتاب صنفه ابن قتيبة للوزير ابي الحسن عبيد الله بن يحيى بن خاكان وزير المعتمد على الله ابن المتوكل على الله الخليفة العباسي،وقشرها هذا الكتاب أبو محمد بن السيد البطليوسي،نبه على مواضع الغلط منه وسماه الاقتذاب في شرح أدب الكتاب

:وقد قال عنه ابن خلدون في مقدمته

” سمعنا من شيوخنا في مجالس التعليم أن أصول هذا الفن الأدب،وأركانه أربعة دواوين،وهي ادب الكاتب لابن قتيبة وكتاب الكامل للمبرد،وكتاب البيان والتبيين للجاحظ كتاب النوارد لأبي علي القالي البغدادي،ما سوى هذه الأربعة فتوابع لها وفروع عنها
المأخوذ من كتاب ’مصادر الأدب العربي‘ ألفه الشيخ محمد واضح رشيد الحسني  



Thursday, December 26, 2024

ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی غیرمسلموں کے ساتھ مذہبی رواداری

 ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی غیر

مسلموں کے ساتھ مذہبی رواداری





عتیق اللہ کلیم ✍️

تمہید) اسلام میں مذہبی رواداری)

اسلام دین رحمت ہے، اس کی مثال اس ابر کرم کی سی ہے جو ہر خطۂ زمین پر برسا، مگر اس سے استفادہ ہر ایک نے اپنے ظرف کے بقدر کیا، اسلام کے پھیلنے میں اس کی مذہبی تعلیمات بالخصوص عدل پروری و گرم گستری، مساوات اور مذہبی رواداری کو بڑا دخل ہے۔

اسلام نے مذہبی رواداری کے سلسلے میں بڑی واضح تعلیمات فراہم کی ہیں اس سلسلے میں جس کشادہ دلی اور فراخ دلی کا اسلام مظاہرہ کرتا ہے اس کی مثال کسی اور مذہب کی تاریخ میں نہیں ملتی، اسلام نے یہ کہتے ہوئے مکمل مذہبی آزادی فراہم کر دی ’ لا إكراه في الدين ‘(دین کے معاملے میں جبر اور زبردستی نہیں۔

 (بحوالہ: اسلام میں مذہبی رواداری تاریخ اور ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں،از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی،ص: ٢٣)

ہندوستان میں مختلف مسلم حکمرانوں پر مختلف الزامات لگائے گئے ہیں، جن میں مذہبی، ثقافتی، اور سیاسی بنیادوں پر الزامات شامل ہیں۔ ذیل میں ہم چند مشہور مسلم حکمرانوں اور ان پر لگائے گئے الزامات کے ساتھ ان کے جوابات نقل کریں گے۔

 :محمد بن قاسم  

712 عیسوی میں سندھ کی فتح کے دوران، محمد بن قاسم نے نہ صرف اپنی جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ غیر مسلمانوں کے ساتھ انصاف اور رواداری کا مثالی رویہ بھی اپنایا۔ 

محمد بن قاسم نے سندھ میں موجود غیر مسلم عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے سے منع کیا۔ وہ جانتے تھے کہ مذہبی آزادی انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ چنانچہ انہوں نے مندروں کو برقرار رکھنے کی اجازت دی اور انہیں مسلمانوں کے زیرِ استعمال مساجد میں تبدیل نہیں کیا۔

محمد بن قاسم نے غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی۔ ہندو اور بدھ مت کے پیروکاروں کو اپنے عقائد کے مطابق عبادات کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ عمل اُس وقت کی ایک اہم مثال تھی، جب اکثر مفتوح اقوام کے مذہبی حقوق سلب کر لیے جاتے تھے۔

 :محمود غزنوی 

پروفیسر کیشروی پرشاد لکھتے ہیں: 

ایک غیر متعصب محقق اور مؤرخ اس کے زمانے کی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر یہی فیصلہ دینے پر مجبور ہوگا،محمود بلا شبہ اپنے ساتھیوں کا ایک جلیل القدر رہنما،ایک انصاف پسند اور دیانت دار حکمراں،ایک باکمال اور پرجوش سپاہی،عدل و انصاف کا شیدائی،علوم و فنون کا مربی تھا،وہ بلا شک و شبہ دنیا کے بہترین اور عظیم ترین حکمرانوں میں شمار کیے جانے کے لائق ہے‘

غزنوی کے ذریعے سومناتھ کے مندر کو تباہ کیے جانے کی بابت بڑی کہانیاں سنائی جاتی ہیں مگر اس کے حالات زندگی سے یہ حصہ نکال کر نہیں بیان کیا جاتا کہ: 

’جب اس نے متھرا کی مندر دیکھا تو اس کی شوکت و حشمت دیکھ کر ششدر رہ گیا،اپنے ایک مکتوب میں لکھتا ہے کہ اگر کوئی ایسی عمارت بنانا چاہے تو لاکھوں سرخ دینار خرچ کر کے بھی نہیں بنا سکتا اور شاید سو برس میں بھی ایسی عمارت نہ بن سکے۔(تاریخ یمینی بحوالہ الیٹ جلد دوم صفحہ 44) 

یہاں وہ نہ بت شکن بنا اور نہ بت فروش بلکہ اس مندر کی حسن و شوکت سے متاثر رہا،اس کی کوئی مثال نہیں کہ اس نے امن کی حالت میں کسی منزل کو منہدم کیا یا اس نے کسی ہندو کو ترک مذہب کرنے پر مجبور کیا،بلکہ غزنہ میں تو اس نے ہندوؤں کی بودباش کے لیے ایک محلہ بھی آباد کر دیا تھا‘


 :ظہیر الدین بابر 

بابر پر ہندوستان میں حملہ آور ہونے اور منادر توڑنے، ہندوؤں کو بزور شمشیر مسلمان بنانے کے الزامات لگائے جاتے ہیں جبکہ ان کے پوتے جلال الدین محمد اکبر کو ’صلح کل‘ کہا جاتا ہے اور مذہبی رواداری انھیں کا حصہ تصور کی جاتی ہے۔

اس نے ہمایون کے لیے جو وصیت لکھی اس سے اس کی انصاف پسندی اور مدبرانہ قابلیت کا پتہ چلتا ہے۔‘


بابر نے لکها: 'فرزند من، اول یہ کہ مذہب کے نام پر سیاست مت کرو، کہ تم مذہبی تعصب کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہ دو اور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے سب لوگوں کے ساتھ پورا انصاف کرنا۔‘ سیف الدین احمد نے کہا کہ بابر کا یہی نظریہ تو آج سیکولرزم کہلاتا ہے۔

تمہیں کسی قوم کی عبادت گاہ مسمار نہیں کرنا چاہیے اور ہمیشہ پورا انصاف کرنا تاکہ بادشاہ اور رعایا کے تعلقات دوستانہ ہون اور ملک میں امن و امان ہو۔‘

( بحوالہ: اسلام میں مذہبی رواداری تاریخ اور ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں، از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی، ص: ١١٩تا ١٢٣)

 :اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ 

اورنگزیب پر دو الزام سب سے بڑے لگائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ اس نے مندروں کو تباہ کیا،دوسرا یہ کہ اس نے ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنایا،ان دونوں الزامات کی حقیقت سوائے جھوٹ پر مبنی تاریخ سازی،من گھڑت اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں،دونوں الزامات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو عجیب و غریب حقائق سامنے آتے ہیں۔

ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنانے کی بابت ایک عجیب و حیرت انگیز واقعہ نقل کیا گیا ہے

’ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ڈرا دھمکا کر ہندوؤں کو مسلمان بنایا لیکن ہم یہاں ایک ایسی حیرت ناک بات کا بیان کرتے ہیں جس سے اورنگزیب کے انداز فکر اور ذہنیت کا بخوبی علم ہو جائے گا شاہجہاں نے بندھرا کے راجہ اندرامن کو تعمیل حکم نہ کرنے پر قید کر لیا،جب اورنگ زیب اس علاقے یعنی دکن کا صوبہ دار ہوا تو اس نے اندرامن کی رہائی کے لیے شاہجہاں سے التماس کیا،شاہجہان اورنگزیب کو لکھ بھیجا کہ اندرامن نے پے در پے تکلیف پہنچائی ہے،وہ صرف اس شرط پر رہا ہو سکتا ہے کہ اسلام قبول کر لے،اورنگ زیب نے اس بات کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ اس شرط کی تعمیل نہیں کی جا سکتی،ایسا کرنا ناجائز اور تنگ نظری کا کام ہوگا،راجہ کی رہائی اسی کے شرائط کے مطابق ہونی چاہیے،اورنگزیب کا یہ خط آداب عالمگیری (خدا بخش لائبریری کا قلمی نسخہ) میں موجود ہے‘

’ بی اینڈ پانڈے کے بقول اس کی حکومت کی پالیسی ٹھیک ہے اس نے ہندو مندروں اور مٹھوں کے لیے وظیفے مقرر کیے،الہ آباد میں واقع سومیشور ناتھ مہادیو کے مندر،بنارس میں کاشی ویشو ناتھ کے مندر،چھترکوٹ کے بالا جی مندر،گوہاٹی میں واقع،شترونجی میں جین مندر اور شمالی ہند میں واقع بے شمار مندروں اور گردواروں کے لیے اورنگزیب نے جاگیریں وقف کیں‘

 :اوم پرکاش صاحب لکھتے ہیں 

” مندروں کو لوٹنے کا کام مسلمانوں سے زیادہ ہندو حکمرانوں نے کیا ہے کسی بھی مسلمان حکمراہ کے عہد حکومت میں مندروں کو لوٹنے والا محکمہ قائم تھا،اس سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملتا،لیکن 12ویں صدی میں کشمیر کے ہرش نامی حکمران نے”مندر لوٹ“ محکمہ ہی قائم کر دیا تھا جس کا کام مندروں کو لوٹنا تھا 

مذکورہ بالا ماحول کی روشنی میں ہمیں اورنگزیب کی عہد حکومت اور اس کے مذہبی نظریات کو سمجھنا ہوگا،بنارس کے کاشی وشونات مندر کو توڑنے کے سلسلے میں پی سیتارام ناتھ نے نہایت اہم ثبوت پیش کیا ہے جسے بی اینڈ پانڈے نے بھی اپنے مضمون میں بطور حوالہ تحریر کیا ہے،لکھتے ہیں کہ” کچھ کی آٹھ مہرانیہ کاشی وشوناتھ میں درشن کرنے گئیں،ان میں سے ایک حسین رانی کو مہنتوں نے اغوا کر لیا،کچھ کے راجہ نے اس واقعے کی اطلاع اورنگزیب کو پہنچائی،پہلے تو اورنگزیب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ ہندوؤں کا آپسی معاملہ ہے اور اس میں اس کی طرف کوئی بھی قدم اٹھانا ٹھیک نہیں ہوگا،لیکن جب کچھ کے راجہ نے کافی منت سماجت کی تو اورنگزیب نے کچھ ہندو سپاہیوں کو واقعے کی چھان بین اور حقیقت معلوم کرنے کے لیے بھیجا،سپاہیوں کو مہنت کے آدمیوں نے ڈاٹا ڈپٹا اور مارپیٹ کر بھگا دیا،اورنگزیب کو سپاہیوں کے ساتھ کیے گئے اس برتاؤ پر ناگواری ہوئی،اس نے دوبارہ کچھ اہل اور بہتر فوجی جوانوں کو اصل واقعات معلوم کرنے کی غرض سے بھیجا،لیکن مندر کے پجاریوں نے اس مرتبہ بھی ڈٹ کر مخالفت کی،مغل فوجیوں نے مقابلہ کیا،مندر کے اندر فوجیوں اور پجاریوں کے درمیان ہوئی لڑائی کے نتیجے میں مندر تباہ ہوا،اور لڑائی کی صورت میں ایسا ہونا امکانی بات ہے،فوجی جب مندر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تو انہوں نے گمشدہ رانی کی تلاش شروع کر دی،تلاش کے دوران خاص دیوتا کے پیچھے ایک سرنگ کا پتہ چلا جس سے انتہائی ناگوار قسم کی بدبو نکل رہی تھی،دو دن تک دوا چھڑک کر اس بدبو کو ختم کیا گیا،اور فوجی برابر پہرا دیتے رہے،تیسرے دن فوجیوں نے سرنگ میں گھس کر کئی گلی سڑی لاشیں جو عورتوں کی تھی وہاں سے برآمد کیں ،کچ کی لاپت رانی کی لاش بھی ملی جو برہنہ تھی،اجتماعی آبروریزی کی وجہ سے وہ ختم ہو گئی تھی،بڑا پجاری گرفتار کیا گیا اور اسے سخت سزا دی گئی۔“

(بحوالہ: اسلام میں مذہبی رواداری تاریخ اور ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں، از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی)

:خاتمہ 

اس مقالے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمان حکمرانوں کے زمانے میں ہندوستان میں جتنی جنگیں ہوئیں وہ سب سیاسی نوعیت کی تھی،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے نظام رحمت کو پوری قوت سے پیش کیا جائے، اس کے عادلانہ نظام کا تعارف کرایا جائے۔

وطن عزیز کے تناظر میں ہر ذمہ دار شہری کو اس کا ماضی سامنے رکھتے ہوئے حال کے حالات کی ناہمواری اور مستقبل کی خطرات کے پیش نظر اب یہ سوچنا ضروری ہے

لکھی ہوئی تھی جہاں داستان رشتوں کی 

بس ایک پل میں وہ چہرہ بدل گیا کیوں ہے




پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...