Friday, December 26, 2025

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی


عتیق اللہ کلیم ✍️
 

وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار

سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ ماہ و سال کی یہ گردش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا۔ زندگی اس برف کی مانند ہے جو ہر لمحہ پگھل رہی ہے۔ ہم جسے "نئے سال کی آمد" کہتے ہیں، وہ حقیقت میں ہماری عمرِ عزیز کے ایک اور سال کا اختتام اور موت سے ہماری قربت کا ایک اور سنگِ میل ہے۔

عہدِ الست اور مقصدِ تخلیق

انسان اس دنیا میں محض وقت گزاری کے لیے نہیں آیا، بلکہ اس کے کندھوں پر "خلافتِ ارضی" کی عظیم ذمہ داری ہے۔ عالمِ ارواح میں ہم نے اپنے رب سے وفاداری کا جو وعدہ (عہدِ الست) کیا تھا، گزرتا ہوا ہر لمحہ اسی کی یاد دہانی ہے۔ قدرت ہمیں مہلت دے رہی ہے کہ ہم اپنی سمت درست کر لیں۔ قرآنِ کریم نے واشگاف انداز میں خبردار کیا:

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ  (اے انسان! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اور بالآخر تجھے اس سے ملنا ہے)۔

اپنا محاسبہ کیجیے (Self Introspection)

سالِ نو کی اصل روح جشن منانا نہیں، بلکہ خلوت میں بیٹھ کر محاسبہ کرنا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ زریں اصول ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے

اپنا حساب کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو تول لو اس سے پہلے کہ وہ تولے جائیں۔

: آئیے اس موڑ پر رک کر سوچیں

کیا میری عبادات اور معاملات اللہ کی رضا کے مطابق ہیں؟

کیا میرے اخلاق اور معاشرتی رویے ایک مومن کی شان کے عکاس ہیں؟

کیا میرے دن اور راتیں گناہوں کی نذر ہو رہی ہیں یا اطاعتِ الٰہی میں؟

: علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا

صورتِ  شمشیر  ہے  دستِ  قضا  میں  وہ  قوم

کرتی ہے  جو  ہر زماں  اپنے عمل  کا حساب

فرصت کو غنیمت جانیے

نبی کریم ﷺ نے ہمیں پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جاننے کی تاکید فرمائی ہے: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو مفلسی سے پہلے، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ یہ حدیث ہمیں مستقبل کی منصوبہ بندی اور وقت کی قدردانی کا درس دیتی ہے۔

حرفِ آخر: ایک نیا عزم

جو بیت گیا وہ ماضی کا حصہ بن گیا، مگر جو باقی ہے وہ ابھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ سالِ نو کا اصل پیغام یہ ہے کہ اگر اب تک غفلت میں زندگی گزری ہے، تو آج ہی ندامت کے آنسوؤں سے پچھلے داغ دھو ڈالیں اور ایک نئے عزم کے ساتھ زندگی کی بقیہ گھڑیوں کو "عہدِ الست" کی پاسداری میں وقف کر دیں۔

یاد رکھیے! تلافی کا موقع اب بھی موجود ہے، بس بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

اپنی رہنمائی اور دعا سے ضرور نوازیں ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں ۔۔۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/09/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

Sunday, December 21, 2025

ایک باپ کی پکار ۔۔۔۔

ایک باپ کی پکار: دیوار پر چسپاں رشتوں کی تلاش 




عتیق اللہ کلیم ✍️

آج کے جدید دور میں، جہاں مواصلات کے لاتعداد ذرائع موجود ہیں اور دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، کسی تعلیمی ادارے کی بیرونی دیوار پر ایک سادہ سا کاغذ چسپاں دیکھنا دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ محض کوئی اشتہار نہیں، بلکہ ایک باپ کی بے بسی اور معاشرتی دباؤ کا خاموش چیختا ہوا اظہار ہے۔

اس پرچہ کی ایک تصویر 


ضرورت: مجھے اپنی بیٹی کے لیے رشتے کی تلاش ہے اگر کسی طالب علم کے گھر والے رشتے کی تلاش میں ہیں تو وہ رابطہ کریں (یوپی سے ہونا چاہیے)

مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء، کی دیوار پر چسپاں یہ پرچہ صرف ایک فرد کی داستان نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کے نظامِ رشتۂ ازدواج کے سنگین تضادات اور خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

 یہ پرچہ کیا کہتا ہے؟

یہ منظر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے اور کئی تلخ حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے

رشتے کا بحران: اگر ایک تعلیم یافتہ طبقے (طالب علم) کے لیے رشتے تلاش کرنے والا شخص اس قدر بے بس ہے کہ اسے دیواروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، تو عام آدمی کی کیا صورتِ حال ہوگی؟ یہ واضح کرتا ہے کہ اچھے اور شریف گھرانوں کے درمیان رابطے اور اعتماد کا فقدان ہے۔

سماجی دباؤ: بیٹی کی شادی کی فکر ایک باپ کے لیے قرض سے بھی زیادہ بھاری کیوں ہو گئی ہے؟ جہیز، نمود و نمائش، اور غیر ضروری رسومات نے نکاح کو آسان بنانے کے بجائے مشکل ترین بنا دیا ہے۔

اعتماد کی تلاش: باپ نے خاص طور پر ایک دینی ادارے کے باہر یہ پرچہ کیوں لگایا؟ یقیناً وہ ایک ایسا رشتہ تلاش کر رہا ہے جو دیندار، سادہ اور ذمہ دار ہو، اور اسے امید ہے کہ اس ماحول سے منسلک لوگ ان اقدار کے حامل ہوں گے۔

: خواص و علماء کے لیے ایک فکری پیغام

یہ پرچہ دراصل معاشرے کے رہبروں، علماء، اور اہلِ دانش کے لیے ایک چیلنج اور دعوتِ فکر ہے۔

خطباتِ جمعہ کا موضوع: ہمارے مساجد کے خطبات میں یہ موضوع محض ایک ضمنی بات نہیں، بلکہ مرکزی مسئلہ ہونا چاہیے۔ علماء کو نکاح کی آسانی، سادگی، اور غیر شرعی مطالبات (جہیز، بھاری اخراجات) کی مذمت کو اپنی ذمہ داری بنانا چاہیے۔

تنظیمی کردار: دینی و سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ "رشتہ جوڑنے" کے فعال مراکز قائم کریں جو قابلِ اعتماد ہوں اور جن کا مقصد صرف سادگی سے نکاح کروانا ہو۔ ان مراکز میں ذات پات، اونچ نیچ، اور دولت کی بجائے سیرت و کردار کو ترجیح دی جائے۔

تربیت: ہمیں نوجوانوں کی اس طرح تربیت کرنی چاہیے کہ وہ سادہ زندگی گزارنے پر فخر محسوس کریں اور شادی کو ایک عظیم عبادت سمجھیں، نہ کہ ایک مالی بوجھ یا سماجی مقابلہ۔

 حل کیا ہے؟

اس مایوسی کے عالم میں، ہمیں نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کو مشعل راہ بنانا ہوگا: "وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو“( عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة

والدین عہد کریں: ہم بیٹیوں کی شادی میں صرف "ضروریات" کو اہمیت دیں گے، نہ کہ "خواہشات" کو۔

لڑکے والے پہل کریں: سسرال سے کسی بھی قسم کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیں۔

معاشرہ اپنائے: ایسے سادہ نکاح کرنے والوں کو تنقید کی بجائے تحسین کی نظر سے دیکھیں۔

ایک باپ کا دیوار پر پرچہ لگانا ہماری اجتماعی ناکامی کا ثبوت ہے۔ آئیے، اس باپ کی پکار کو سنیں اور اپنے رویوں کو بدلیں۔ جب ہم نکاح کو آسان بنائیں گے، تب ہی ہم بے راہ روی اور بے چینی سے پاک ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں گے۔ یہ پرچہ ایک شرمندگی بھی ہے اور اصلاحِ معاشرہ کی ایک تحریک بھی۔ 

Thursday, December 18, 2025

عربی زبان: انسانی تہذیب کا شاہکار اور علم و حکمت کا امین

عربی زبان: انسانی تہذیب کا شاہکار اور علم و حکمت کا امین


عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

زبانیں قوموں کی پہچان اور ان کی تہذیب کی عکاس ہوتی ہیں، لیکن کچھ زبانیں ایسی ہوتی ہیں جو جغرافیائی حدود کو عبور کر کے عالمگیر انسانی ورثہ بن جاتی ہیں۔ عربی زبان بھی ایک ایسی ہی زبان ہے۔ ہر سال 18 دسمبر کو جب دنیا "عالمی یومِ عربی زبان" مناتی ہے، تو درحقیقت یہ اس لسانی معجزے کا جشن ہوتا ہے جس نے ریگزارِ عرب سے نکل کر پوری دنیا کے علم، ادب اور فلسفے کی آبیاری کی۔ یہ محض ایک زبان نہیں، بلکہ فصاحت و بلاغت کا وہ سمندر ہے جس کی موجیں صدیوں سے انسانی شعور کو سیراب کر رہی ہیں۔

: فصاحت و بلاغت کا معجزہ

عربی زبان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی فصاحت (صفائی) اور بلاغت (جامعیت) ہے۔ قدیم عرب اپنی زبان کی مٹھاس اور وسعت پر اس قدر فخر کرتے تھے کہ باقی دنیا کو "عجم" یعنی گونگا قرار دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ کلام کی اصل طاقت صرف ان کے پاس ہے۔ مشہور قول ہے:

عربی سیکھو، کیونکہ یہ عقل میں اضافہ کرتی ہے اور مروت کو پختہ کرتی ہے۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ)

اس زبان کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عربی میں ایک ہی جذبے یا شے کے لیے سینکڑوں الفاظ موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، محبت کے مختلف درجات کے لیے عربی میں جتنے باریک اور لطیف الفاظ ملتے ہیں، وہ دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں پائے جاتے۔

: قرآنِ کریم: بقا اور عظمت کی ضمانت

عربی زبان کی بقا اور اس کے عالمی عروج کا سب سے بڑا سبب اسلام اور قرآنِ مجید ہے۔ اگرچہ دنیا کی قدیم زبانیں وقت کے ساتھ بدل گئیں یا ناپید ہو گئیں، لیکن عربی آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو اپنے آخری پیغام کے لیے منتخب فرمایا

بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا تاکہ تم سمجھ سکو۔ (القرآن)

قرآن کی وجہ سے نہ صرف یہ زبان محفوظ ہوئی بلکہ اس کے قواعد (Grammar) مدون ہوئے اور لغت (Dictionary) تیار ہوئی۔ آج دنیا کے ہر کونے میں بسنے والا مسلمان، چاہے وہ چینی ہو یا افریقی، جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اسی عربی زبان کے ذریعے اپنے خالق سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ روحانی تعلق عربی کو ایک "زندہ جاوید" زبان بناتا ہے۔

: علم و حکمت کا عالمی مرکز

تاریخ کے صفحات پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، تب عربی زبان علم و دانش کی واحد علامت تھی۔ آٹھویں سے تیرہویں صدی عیسوی تک، جسے "اسلامی سنہری دور" کہا جاتا ہے، عربی بین الاقوامی سائنسی زبان تھی۔

ریاضی: الخوارزمی نے عربی میں "الجبر" کی بنیاد رکھی، جس کے بغیر آج کا کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی ناممکن تھی۔

طب: ابنِ سینا (Avicenna) کی عربی تصانیف پانچ سو سال تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں طب کی بنیادی کتب رہیں۔

فلسفہ: ارسطو اور افلاطون کے یونانی فلسفے کو عرب مفکرین نے نہ صرف عربی میں ترجمہ کر کے محفوظ کیا بلکہ اس پر ایسی شرح لکھی کہ جدید فلسفے کی بنیاد پڑی۔

: اردو اور عربی کا اٹوٹ رشتہ

اردو بولنے والوں کے لیے عربی اجنبی نہیں ہے۔ اردو کا خمیر ہی عربی و فارسی سے اٹھا ہے۔ ہماری روزمرہ گفتگو میں شامل الفاظ جیسے حق، انصاف، دنیا، کتاب، قلم، مشورہ، دعا—یہ سب عربی سے آئے ہیں۔ اردو کا رسم الخط اور اس کی شعری روایات (جیسے نعت، حمد، منقبت) براہِ راست عربی ادب سے متاثر ہیں۔ فارسی کے مشہور شاعر سعدی شیرازی نے کیا خوب کہا تھا۔

عربی زبان کا ذائقہ وہی جانتا ہے جس نے اس کے ادب کی مٹھاس چکھی ہو۔

: فنِ خطاطی: حروف کا رقص

عربی زبان نے فنِ لطیفہ کو "خطاطی" کی صورت میں ایک انمول تحفہ دیا ہے۔ خطِ ثلث، خطِ نسخ اور خطِ دیوانی کی صورت میں جب عربی حروف کاغذ یا دیواروں پر بکھرتے ہیں، تو وہ محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ ایک مسحور کن فن پارہ بن جاتے ہیں۔ مساجد کے میناروں سے لے کر جدید آرٹ گیلریوں تک، عربی رسم الخط کی کشش غیر عربوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔

: جدید دور کے چیلنجز اور اہمیت

آج کے دور میں عربی کی اہمیت صرف مذہبی یا تاریخی نہیں، بلکہ معاشی اور تزویراتی (Strategic) بھی ہے۔ دنیا کی 22 ریاستوں کی سرکاری زبان عربی ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کی چھ سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی معیشت اور توانائی کے ذخائر نے عربی سیکھنے کو ایک عالمی ضرورت بنا دیا ہے۔ آج ڈیجیٹل دنیا میں بھی عربی مواد تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قدیم زبان جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

حرفِ آخر

عالمی یومِ عربی زبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اس عظیم لسانی ورثے کی قدر کریں۔ یہ زبان صرف عربوں کی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی ہے جو علم، ادب اور روحانیت سے لگاؤ رکھتا ہے۔ عربی سیکھنا دراصل ایک وسیع تاریخ اور روشن تہذیب کے دروازے کھولنا ہے۔ آئیے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس زبان سے روشناس کرائیں گے تاکہ وہ اپنے علمی اور مذہبی ورثے سے جڑے رہیں۔

: جیسا کہ عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے

اللسانُ مِفتاحُ القلب (زبان دل کی کنجی ہے)۔

اور عربی زبان تو وہ کنجی ہے جس نے صدیوں سے انسانیت کے لیے علم اور معرفت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ 

اللغة العربية: شمس الحضارة و لغة البيان

 اللغة العربية: شمس الحضارة ولغة البيان



 عتيق الله كليم ✍️ 

: مقدمة

يحتفل العالم في الثامن عشر من ديسمبر من كل عام بـ "اليوم العالمي للغة العربية"، وهو اليوم الذي اعتمدت فيه الجمعية العامة للأمم المتحدة اللغة العربية كلغة رسمية سادسة في عام 1973. إن هذا الاحتفاء ليس مجرد مناسبة عابرة، بل هو اعتراف دولي بعظمة لغة قدمت للبشرية إرثاً علمياً وأدبياً لا ينضب، وكانت جسراً للتواصل بين الحضارات لقرون طويلة

: لغة القرآن والقدسية

تستمد اللغة العربية مكانتها الرفيعة لدى المليارات من البشر لكونها لغة القرآن الكريم. لقد اختارها الله سبحانه وتعالى لتكون وعاءً لرسالته الخاتمة، كما قال في كتابه العزيز: "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ". وبفضل القرآن، حفظت العربية قواعدها وتوسعت مفرداتها، وأصبحت لغة التعبد والروحانية للمسلمين في شتى بقاع الأرض، مما جعلها لغة "خالدة" لا تموت بموت قائلها

: عبقرية البيان وفصاحة اللسان

تتميز اللغة العربية بمرونتها واشتقاقاتها العجيبة التي تجعلها من أغنى لغات العالم. إن نظام "الجذور" في العربية يسمح بتوليد آلاف الكلمات من أصل واحد، مما يمنح المتحدث قدرة فائقة على التعبير عن أدق المشاعر والأفكار. وقد قال أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه

"تعلموا العربية؛ فإنها تزيد في المروءة، وتثبت العقل"

: دور العربية في النهضة العلمية

في العصور الوسطى، كانت اللغة العربية هي لغة العلم والبحث الأولى في العالم. ففي بيت الحكمة ببغداد ومدارس قرطبة، دُونت أعظم الاكتشافات في الطب، والرياضيات، والفلك، والكيمياء. إن كلمات مثل "الجبر" و"الخوارزميات" و"الإنبيق" لا تزال شاهدة في اللغات العالمية على فضل العلماء العرب والمسلمين الذين كتبوا بالعربية ونقلوا مشعل الحضارة إلى أوروبا

: جمالية الخط العربي

لم تقف العربية عند حدود النطق، بل تجاوزتها إلى فن البصر عبر "الخط العربي". إن أنواع الخطوط مثل الثلث، والنسخ، والكوفي، والديواني، تعتبر سيمفونية بصرية تعكس روح الفن الإسلامي. هذا الجمال جعل من الحرف العربي زينة للمساجد والقصور واللوحات الفنية، وجذب قلوب غير العرب قبل عربهم

: العربية في العصر الحديث

اليوم، تعد اللغة العربية لغة حية نابضة بالحياة، يتحدث بها أكثر من 400 مليون نسمة، وهي لغة رسمية في 22 دولة. في ظل العولمة، تبرز أهمية العربية كضرورة اقتصادية وسياسية، حيث يسعى الكثيرون حول العالم لتعلمها لفهم الشرق الأوسط وبناء روابط تجارية وثقافية متينة

: خاتمة

إن الاحتفاء باللغة العربية هو احتفاء بالهوية والثقافة والقيم الإنسانية. هي لغة الماضي العريق، والحاضر المتجدد، والمستقبل الواعد. واجبنا اليوم ليس فقط التحدث بها، بل الحفاظ على سلامتها ونشرها بين الأجيال القادمة، لتبقى دائماً منارة للعلم والأدب

: كما قيل قديماً

"العربية لسان الضاد، وهي أجمل لغات الأرض بياناً"

فرمان خدا — تشریح

فرمان خدا — تشریح 


  عتیق اللہ کلیم ✍️

جیسا کہ پچھلی نظم ("لینین خدا کے حضور میں") میں لینین نے شکوہ کیا تھا، یہ نظم اس کا جواب ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو مخاطب کر کے حکم دیتا ہے کہ جاؤ اور زمین پر قائم ظالمانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کو الٹ دو۔ یہ اقبال کی انقلابی شاعری کا شاہکار ہے۔

: اس کی تشریح شعر بہ شعر پیش خدمت ہے

حصہ اول: انقلاب کا حکم

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو

تشریح: اللہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جاؤ اور میری دنیا کے سوئے ہوئے اور پسے ہوئے غریبوں کو بیدار کر دو (ان میں شعور پیدا کرو)۔ امیروں اور بادشاہوں کے محلات (کاخِ امرا) کی بنیادیں ہلا دو۔ یعنی امیر طبقے کے رعب اور طاقت کو ختم کر دو۔

گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے

کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

تشریح: غلاموں کے دلوں میں "یقین کی آگ" (ایمان اور خود اعتماد) بھر دو تاکہ ان کا خون جوش مارے۔ ایک کمزور چڑیا (کنجشکِ فرومایہ/غریب) کو تیار کرو کہ وہ طاقتور شاہین (ظالم حکمران) سے ٹکرا جائے۔ یعنی کمزور کو اتنی ہمت دو کہ وہ طاقتور کا مقابلہ کر سکے۔

سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

تشریح: اب عوام کی حکمرانی (جمہوریت/خلافتِ ارضی) کا دور آنے والا ہے۔ اس لیے پرانے اور ظالمانہ نظام کے جتنے بھی نشانات (نقشِ کہن) نظر آئیں، انہیں مٹا دو۔ بادشاہت اور آمریت کے دور کو ختم کر دو۔

حصہ دوم: معاشی اور مذہبی اصلاح

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

تشریح: (یہ اقبال کا بہت مشہور انقلابی شعر ہے)۔ وہ کھیت جس میں محنت تو کسان (دہقان) کرے لیکن اس کی کمائی سے اسے اپنی روٹی (روزی) بھی نہ ملے اور سارا نفع جاگیردار لے جائے، ایسے کھیت میں گندم کی بالیوں کو اگنے کا کوئی حق نہیں، اسے جلا کر راکھ کر دو۔ (مراد یہ ہے کہ ایسے استحصالی معاشی نظام کو تباہ کر دو جو مزدور کو اس کا حق نہیں دیتا)۔

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے

پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

تشریح: بندے اور خدا کے درمیان کسی رکاوٹ یا پردے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ چرچ کے پادری (پیرانِ کلیسا) جو خدا کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں اور مذہب کے نام پر لوگوں کو لوٹتے ہیں، انہیں عبادت گاہوں سے نکال باہر کرو۔ (یہاں اشارہ مذہبی پیشواؤں کی طرف ہے جو ظالم حکمرانوں کا ساتھ دیتے ہیں)۔

حق را بسجودے، صنماں را بطوافے

بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو

تشریح: یہ لوگ عجیب منافق ہیں، سجدہ تو خدا (حق) کو کرتے ہیں لیکن طواف (چکر) بتوں کا لگاتے ہیں (یعنی دل میں دولت اور طاقت کے بت بسے ہیں)۔ ایسی منافقانہ عبادت کا کیا فائدہ؟ اس سے بہتر ہے کہ مسجد (حرم) اور مندر (دیر) کے چراغ بجھا دیے جائیں کیونکہ وہاں اب روح باقی نہیں رہی، صرف دکھاوا ہے۔

میں ناخوش و بے زار ہوں مرمر کی سلوں سے

میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

تشریح: مجھے یہ سنگِ مرمر کی عالی شان مسجدیں اور عبادت گاہیں پسند نہیں ہیں جو غریبوں کا خون چوس کر بنائی گئی ہیں۔ میں ان سے بیزار ہوں۔ میرے لیے کچی مٹی کا سادہ سا گھر بنا دو (جیسا مسجد نبوی کا ابتدائی دور تھا)، جہاں خلوص اور سچی بندگی ہو۔

حصہ سوم: شاعر (اقبال) کے لیے دعا

تہذیبِ نوی کارگہِ شیشہ گراں ہے

آدابِ جنوں شاعرِ مشرق کو سکھا دو

تشریح: یہ نئی مغربی تہذیب شیشے کے برتن بنانے والے کے کارخانے کی طرح ہے (یعنی بہت نازک ہے، ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جائے گی)۔ اے فرشتو! "شاعرِ مشرق" (خود علامہ اقبال) کو وہ دیوانگی اور جنون کے آداب سکھا دو جس سے وہ اپنی شاعری کے ذریعے قوم میں انقلاب کی روح پھونک سکے۔

: خلاصہ

یہ نظم دراصل "اسلامی سوشلزم" یا اسلام کے نظامِ عدل کا اعلان ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ وہ غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ظلم، سرمایہ داری اور مذہبی اجارہ داری کا نظام ختم ہو کر عدل و انصاف کا نظام قائم ہو۔ 

یہ نظم علامہ اقبال نے اپنی نظم ” لینین خدا کے حضور میں “ کے

:جواب میں لکھا تھا ، لہذا اس نظم کی بھی تشریح  پیش خدمت ہے

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_17.html

Wednesday, December 17, 2025

لینین خدا کے حضور میں — تشریح

لینین خدا کے حضور میں — تشریح


  عتیق اللہ کلیم✍️

 یہ علامہ اقبال کی مشہور نظم "لینین خدا کے حضور میں" ہے۔ یہ نظم ان کی کتاب بالِ جبریل میں شامل ہے۔

شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ 


اس نظم میں اقبال نے اشتراکی انقلاب کے رہنما 'لینین' کی زبان سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام، سامراجیت اور منافقت پر شدید تنقید کی ہے۔ لینین مرنے کے بعد خدا کے سامنے پیش ہوتا ہے اور اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔

: یہاں اس نظم کے ایک ایک شعر کی تشریح پیش خدمت ہے

حصہ اول: خدا کے وجود کا اعتراف

اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات

حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات

تشریح: لینین خدا کے حضور کہتا ہے کہ اے خدا! اب مجھے کائنات کی ہر چیز (آفاق) اور خود انسانی جانوں (انفس) میں تیری نشانیاں صاف نظر آ رہی ہیں۔ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ حق اور سچ صرف یہی ہے کہ تیری ذات ہمیشہ رہنے والی اور زندہ ہے۔ (مرنے کے بعد حقیقت کھلنے کا اعتراف)۔

میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے

ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات

تشریح: میں اپنی دنیاوی زندگی میں کیسے یقین کرتا کہ تو موجود ہے یا نہیں؟ کیونکہ میری عقل اور انسانی فلسفے تو ہر لمحہ بدلتے رہتے تھے۔ انسانی عقل محدود تھی اور کسی ایک حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قاصر تھی، اس لیے میں تیری ذات کا ادراک نہ کر سکا۔

محرم نہیں فطرت کے سرودِ ازلی سے

بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

تشریح: چاہے وہ ستاروں کا مشاہدہ کرنے والا ماہرِ فلکیات ہو یا پودوں کا علم رکھنے والا ماہرِ نباتات، یہ سب مادہ پرست ہیں۔ یہ لوگ کائنات کے ظاہری ڈھانچے کو تو دیکھتے ہیں لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے "سرودِ ازلی" (روحانی نغمے یا اصل مقصد) سے ناواقف ہیں۔ سائنسدان ظاہری آنکھ رکھتا ہے مگر باطنی حقیقت سے محروم ہے۔

آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت

میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات

تشریح: آج مرنے کے بعد جب میری آنکھ کھلی اور پردہ ہٹا تو وہ روحانی دنیا سچ ثابت ہو گئی جسے میں چرچ (مذہب) کے قصے، کہانیاں اور خرافات سمجھتا تھا۔ آج غیب کی دنیا مشاہدے میں آ گئی ہے۔

ہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے

تو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات

تشریح: ہم انسان تو دن اور رات (وقت) کی قید میں جکڑے ہوئے مجبور لوگ ہیں، جبکہ تو زمانوں کا پیدا کرنے والا اور لمحوں کو بنانے والا ہے۔ تیری ذات زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔

حصہ دوم: لینین کا سوال اور مغربی تہذیب پر تنقید

اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں

حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

تشریح: اے خدا! اگر مجھے اجازت ہو تو میں تجھ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں اور داناؤں کی کتابوں میں بھی نہیں مل سکا۔

جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے

کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

تشریح: جب تک میں آسمان کے نیچے زندہ رہا، یہ بات میرے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی رہی اور مجھے بے چین رکھتی رہی۔

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

تشریح: (یہاں لینین اپنے لہجے کی معذرت کر رہا ہے) وہ کہتا ہے کہ جب روح کے اندر خیالات کا طوفان برپا ہو تو انسان کے لیے گفتگو کے سلیقے اور آداب پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے اگر گستاخی ہو جائے تو معاف کرنا۔

وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود

وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟

تشریح: اے خدا! وہ کون سا انسان ہے جس کا تو خدا ہے؟ کیا تو واقعی اس "آدمِ خاکی" (غریب انسان) کا بھی خدا ہے جو آسمان کے نیچے بس رہا ہے؟ (طنز یہ ہے کہ دنیا کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ غریب کا کوئی خدا نہیں)۔

مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی

مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات

تشریح: دنیا کا حال تو یہ ہے کہ مشرق (غلام قوموں) کے خدا تو "انگریز" (سفید فام آقا) بنے بیٹھے ہیں، اور خود مغرب والوں کا خدا "چمکتی ہوئی دھاتیں" یعنی سونے چاندی کے سکے (دولت) ہیں۔ یہاں خدا کی نہیں بلکہ طاقت اور دولت کی پوجا ہو رہی ہے۔

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

تشریح: یورپ میں ظاہری طور پر سائنس، ٹیکنالوجی اور علم کی بہت روشنی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سب "اندھیرا" ہے کیونکہ اس میں "چشمۂ حیواں" (آبِ حیات/ روحانیت اور اخلاق) نہیں ہے۔ بغیر اخلاق اور روحانیت کے یہ ترقی محض تباہی ہے۔

رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں

گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

تشریح: مغرب میں بینکوں کی عمارتیں خوبصورتی، صفائی اور شان و شوکت میں گرجوں (عبادت گاہوں) سے کہیں زیادہ بلند اور شاندار ہیں۔ مطلب یہ کہ وہاں مذہب سے زیادہ اہمیت "بینکنگ اور سود" کو دی جاتی ہے۔

حصہ سوم: سرمایہ دارانہ نظام کی ہولناکی

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے

سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

تشریح: مغربی نظام معیشت دیکھنے میں تو تجارت لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ "جوا" ہے۔ یہاں ایک شخص کا منافع (سود کھانے والا سرمایہ دار) لاکھوں غریبوں کی اچانک موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ نظام استحصال پر مبنی ہے۔

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت

پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

تشریح: مغرب کا علم، ان کی فلاسفی، ان کی سیاست اور ان کی حکومتیں سب منافق ہیں۔ یہ منہ سے تو "مساوات" اور انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ کمزوروں اور مزدوروں کا خون چوستے ہیں۔

بیکاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات

تشریح: بے روزگاری، بے حیائی (عریانی)، شراب نوشی اور غربت— کیا یہ سب مغربی تہذیب کی کامیابیاں نہیں ہیں؟ یعنی ان کی نام نہاد ترقی کا نتیجہ صرف اخلاقی اور معاشی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم

حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

تشریح: وہ قوم جو آسمانی ہدایت اور روحانی فیض سے محروم ہو جائے، اس کی ترقی کی انتہا صرف یہ ہے کہ وہ بجلی اور بھاپ (مشینوں) پر قابو پا لے۔ وہ مادے کو تو تسخیر کر لیتی ہے مگر انسانیت کو کھو دیتی ہے۔

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

تشریح: یہ مشینوں کی حکمرانی (مشینی دور) انسانی دل کے لیے موت کا پیغام ہے۔ مشینیں اور اوزار انسان کے اندر سے ہمدردی، محبت اور مروت کے جذبات کو کچل دیتے ہیں، انسان بھی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔

حصہ چہارم: نظام کا زوال اور خدا سے شکوہ

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر

تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

تشریح: اب دنیا میں کچھ ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ انسانی چالوں (سرمایہ دارانہ تدبیروں) کو تقدیر کے شاطر کھلاڑی (خدا/فطرت) نے شکست دے دی ہے۔ یعنی ظلم کا یہ نظام اب اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔

مے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل

بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرابات

تشریح: دنیا کے اس نظام (مے خانہ) کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ اس نظام کے چلانے والے (پیرانِ خرابات/ سرمایہ دار حکمران) اب پریشان بیٹھے ہیں کہ اس گرتی ہوئی عمارت کو کیسے بچائیں۔

چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سرِ شام

یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات

تشریح: مغربی تہذیب کے چہرے پر جو رونق اور سرخی نظر آتی ہے، وہ صحت کی علامت نہیں ہے۔ یا تو وہ میک اپ (غازہ/بناوٹ) ہے یا پھر شراب کے نشے کی وجہ سے عارضی سرخی ہے۔ یعنی یہ تہذیب اندر سے کھوکھلی اور بیمار ہے۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

تشریح: (یہ نظم کا نچوڑ ہے) لینین کہتا ہے: اے خدا! تو ہر چیز پر قادر ہے اور انصاف کرنے والا ہے، مگر تیری خدائی میں مزدور اور محنت کش کی زندگی اتنی تلخ اور مشکل کیوں ہے؟ تیری موجودگی اور عدل کے باوجود غریب کیوں پس رہا ہے؟

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

دنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات

تشریح: یہ سرمایہ پرستی اور ظلم کا جہاز کب ڈوبے گا؟ یہ پوری دنیا تیرے "روزِ مکافات" (جزا و سزا کے دن / انصاف کے دن) کا انتظار کر رہی ہے تاکہ غریب کو اس کا حق مل سکے۔

: خلاصہ

اس نظم میں اقبال نے لینین کے کردار کے ذریعے دراصل اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ اسلام اور انسانیت کا اصل دشمن مغربی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ یہ نظام انسان کو روحانیت سے دور کرتا ہے اور کمزور کا استحصال کرتا ہے۔ لینین کا شکوہ دراصل خدا کے انصاف کو پکار رہا ہے کہ وہ آئے اور اس ظالمانہ نظام کو درہم برہم کر دے۔

: علامہ اقبال نے  اس نظم کا جواب  نظم ” فرمان خدا “ سے دیا ہے ، وہ بھی پیش خدمت ہے 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_18.html

Sunday, December 7, 2025

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر — تشریح

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر — تشریح 


عتیق اللہ کلیم ✍️

یہ اکبر الہ آبادی کی ایک  شاہکار اور انتہائی دلچسپ نظم ہے۔ اس میں انہوں نے مسلمانوں کی کام چوری، محنت سے جی چرانے اور محض جذباتی ہونے کی عادت پر گہرا طنز کیا ہے۔

اس نظم میں "مجنوں" مسلمانوں کی نمائندگی کر رہا ہے اور "لیلیٰ" ترقی یا مقصد کی علامت ہے۔

: آئیے اس کی شعر بہ شعر تشریح کرتے ہیں

: مسلمانوں کی حالت پر مایوسی

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ

مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

: تشریح

شاعر (اکبر) اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اللہ ہی حافظ ہے (یعنی ان کا کچھ نہیں ہو سکتا)۔ مجھے تو ان کی خوشحالی اور ترقی سے "یاس" یعنی مایوسی ہو چکی ہے۔ مجھے امید نہیں کہ یہ سدھریں گے۔

یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں

نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

: تشریح

یہ لوگ (مسلمان) "شاہدِ مقصود" (یعنی اپنی منزل یا کامیابی) کے عاشق تو ہیں، یعنی یہ چاہتے تو ہیں کہ انہیں ترقی مل جائے، لیکن یہ "سعی" (کوشش/محنت) کے پاس بھی نہیں جائیں گے۔ یہ بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

: فرضی لطیفے کا آغاز

سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ

کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

: تشریح

اکبر کہتے ہیں کہ اپنی بات سمجھانے کے لیے میں تمہیں ایک "فرضی لطیفہ" (من گھڑت کہانی) سناتا ہوں، جسے میں نے کاغذ پر لکھا ہے (زیبِ قرطاس کیا ہے)۔ یہ کہانی دراصل مسلمانوں کی ذہنیت کی عکاسی ہے۔

: لیلیٰ کی ماں کی شرط (تعلیم)

کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے

کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس

تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے

بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

: تشریح

لطیفہ یہ ہے کہ ایک دن لیلیٰ کی ماں نے مجنوں (عاشق) سے کہا کہ بیٹا! اگر تم صرف "ایم اے" (M.A) کا امتحان پاس کر لو، یعنی تعلیم حاصل کر لو اور کچھ بن جاؤ، تو میں بغیر کسی رکاوٹ یا دقت کے فوراً تمہاری شادی لیلیٰ سے کر دوں گی اور خوشی خوشی تمہاری ساس بن جاؤں گی۔

(یہاں ایم اے سے مراد جدید تعلیم اور محنت ہے)

: مجنوں (مسلمان نوجوان) کا جواب

کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی

کجا عاشق کجا کالج کی بکواس

: تشریح

مجنوں نے یہ سن کر جواب دیا کہ آپ نے بھی کیا خوب بات کہی! بھلا ایک سچے عاشق کا کالج کی بکواس (پڑھائی لکھائی) سے کیا تعلق؟ ہمارا کام عشق کرنا ہے، کتابیں پڑھنا نہیں۔

کجا یہ فطرتی جوش طبیعت

کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس

: تشریح

مجنوں دلیل دیتا ہے کہ کہاں میرے اندر کا یہ قدرتی جوش اور جذبہِ عشق، اور کہاں وہ کالج کی نصابی کتابیں جن میں زبردستی چیزیں دماغ میں ٹھونسی جاتی ہیں۔ مجنوں کے خیال میں پڑھائی اس کی "فطرت" کے خلاف ہے۔

: اپنی "نام نہاد" عظمت کا اظہار

بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے

ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس

: تشریح

مجنوں لیلیٰ کی ماں (بڑی بی) سے کہتا ہے کہ آپ کا دماغ تو نہیں چل گیا؟ کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ "ہرن" (جو کہ ایک نفیس اور خوبصورت جانور ہے) پر گھاس لادی جائے؟

مطلب یہ کہ مجنوں خود کو ہرن کی طرح نفیس اور نازک سمجھتا ہے اور پڑھائی/محنت کو گھاس لادنے جیسا گھٹیا کام سمجھتا ہے

یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی

مجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس

: تشریح

مجنوں غصے میں کہتا ہے کہ آپ نے میری خوب قدر دانی کی! کیا آپ نے مجھے کوئی "ہرچرن داس" (اس دور میں عام محنت کش یا منشیوں کا نام) سمجھ رکھا ہے؟ میں تو عالی نسب مسلمان ہوں، محنت مزدوری یا پڑھائی کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ محض کام چوری کے لیے ایک بہانہ ہے۔

: دماغی محنت سے انکار اور استعفیٰ

دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود

نہیں منظور مغز سر کا آماس

: تشریح

یہ شعر اس نظم کی جان ہے۔ مجنوں کہتا ہے کہ میں عشق میں اپنا دل جلانے، آہیں بھرنے اور خون کرنے کو تو تیار ہوں (کیونکہ جذباتی کام آسان ہیں)، لیکن مجھے "مغز سر کا آماس" (یعنی دماغ کا سوج جانا / دماغی محنت کرنا) منظور نہیں ہے۔ میں جذباتی قربانی دے سکتا ہوں لیکن ذہنی مشقت نہیں کر سکتا۔

یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ

تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

: تشریح

اگر لیلیٰ سے ملنے کی شرط یہی ہے کہ مجھے پڑھنا پڑے گا اور محنت کرنی پڑے گی، تو پھر میرا "استعفیٰ" قبول کریں۔ میں مایوسی اور حسرت کے ساتھ اس عشق سے دستبردار ہوتا ہوں۔

: نظم کا مرکزی خیال (Summary)

اکبر الہ آبادی نے اس لطیفے کے پردے میں مسلمانوں کی اس وقت کی حالتِ زار بیان کی ہے۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ

قوم ترقی (لیلیٰ) تو چاہتی ہے لیکن اس کے لیے جدید تعلیم اور محنت (ایم اے) کرنے کو تیار نہیں۔

وہ اپنی کاہلی کو "عظمت" اور "عشق" کا نام دیتے ہیں۔

وہ جذباتی نعرے لگانے اور جان دینے کو تیار ہیں (دل خون کرنا) لیکن ٹھنڈے دل و دماغ سے علم حاصل کرنے اور محنت کرنے (مغز کا آماس) سے گھبراتے ہیں۔

: یہ بھی پڑھیں 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/12/blog-post_7.html 

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...