Tuesday, August 19, 2025

امتحان اور طالب علم کا سفر

امتحان اور طالب علم کا سفر 


محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو
بے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی


عتیق اللہ کلیم ✍️

زندگی دراصل ایک مسلسل امتحان کا نام ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک کا ہر لمحہ کسی نہ کسی آزمائش سے عبارت ہے۔ کبھی یہ امتحان غربت و افلاس کی صورت میں آتا ہے، کبھی دولت و ثروت کے نشے میں، کبھی راحت و سکون کے پردے میں، اور کبھی غم و مصیبت کی آندھیوں میں۔ انسان اگر غور کرے تو سمجھے گا کہ کائنات کی پوری بساط امتحان ہی کے اصول پر بچھی ہوئی ہے۔


تعلیمی دنیا میں ہونے والا امتحان بھی دراصل اسی ازلی و ابدی قانون کی جھلک ہے۔ طلبہ کی محنت، لگن، ذہانت اور استقامت کو جانچنے کے لئے امتحان کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں دن رات کی محنت، جاگتی ہوئی آنکھیں، اور کھوئے ہوئے سکون کے لمحے اپنی حقیقت آشکار کرتے ہیں۔ امتحان کاغذ پر لکھے چند سوالات کا نام نہیں، بلکہ یہ عزم و ہمت کی وہ کسوٹی ہے جو مستقبل کی راہوں کو متعین کرتی ہے۔


امتحان ہر طالب علم کی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ ہے جو نہ صرف اس کی محنت اور مطالعے کا آئینہ دار ہوتا ہے بلکہ اس کے مستقبل کی کامیابی کے دروازے بھی اسی پر کھلتے ہیں۔ یہ صرف چند سوالات کے جوابات دینے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جو ہمیں محنت، صبر اور استقامت کی اہمیت سکھاتا ہے۔


امتحان کا وقت وہی طلبہ آسانی سے گزارتے ہیں جنہوں نے پورے سال محنت کی ہو۔ لیکن جو لوگ سارا وقت کھیل کود اور غفلت میں گزار دیتے ہیں، ان کے لیے امتحان کی گھڑیاں بڑی بھاری ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے عقل مند طالب علم وہ ہے جو امتحان سے کئی ماہ پہلے سے ہی اپنی تیاری شروع کر دے، وقت کو قیمتی سمجھے، اور مطالعہ کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لے۔


امتحان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف انہی کو ملتی ہے جو محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ محنت سے بڑھ کر کوئی جادو نہیں، اور غفلت سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں۔ لہٰذا جو طالب علم دل لگا کر پڑھتے ہیں وہ کمرۂ امتحان میں پُر اعتماد ہوتے ہیں، اور جو سستی کرتے ہیں وہ پریشان اور گھبرائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مسجد میں طلبہ کی محنت کا روح پرور منظر👇👇👇


یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امتحان صرف یادداشت کی جانچ نہیں کرتا بلکہ کردار کا بھی امتحان ہے۔ نقل سے وقتی کامیابی تو شاید مل جائے، لیکن یہ زندگی کے اصل امتحان میں ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ اصل کامیابی وہ ہے جو ایمانداری اور محنت سے حاصل ہو، کیونکہ یہی کامیابی انسان کے لئے عزت، اعتماد اور روشن مستقبل کا ذریعہ بنتی ہے۔


امتحان کے دنوں میں دعا، محنت اور وقت کی صحیح تقسیم سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ جو طالب علم وقت کی قدر کرتے ہیں، اپنی صحت اور نیند کا خیال رکھتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، ان کے لیے امتحان مشکل نہیں رہتا بلکہ کامیابی کا زینہ بن جاتا ہے۔


آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ امتحان خوف کی چیز نہیں بلکہ ترقی کا دروازہ ہے۔ طالب علم کو چاہئے کہ وہ اس مرحلے کو حوصلے، محنت اور ایمانداری کے ساتھ طے کرے تاکہ زندگی کے بڑے امتحانوں میں بھی کامیاب ہو سکے۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

Friday, August 15, 2025

یومِ آزادئ ہند

یومِ آزادئ  ہند 


عتیق اللہ کلیم ✍️
تاریخ ہند میں دو دن 15 اگست اور 26 جنوری کو وہ غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جو کسی دوسرے دنوں کو حاصل نہیں ہے، 15 اگست 1947 کو ہمارا ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا تھا اور 26 جنوری 1950 کو اس ملک کا اپنا جمہوری قانون نافذ کیا گیا تھا ،آج کی اس تاریخ میں ہندوستان کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں باشندگان ہند نے جشن جمہوریت منایا ہوگا اور مجاہدین آزادی کے کارناموں کو یاد کیا ہوگا اور جمہوری ترانہ گنگنایا ہوگا اور یہ دعوی کیا جا رہا ہوگا کہ ہندوستان میں جمہوری حکومت قائم ہے اور ہر ایک کو چاہے وہ مسلم ہو کہ ہندو ،سکھ ہو یا عیسائی، مذہبی و ملی اور شخصی آزادی حاصل ہے اور اور ایسا بتایا بھی جاتا ہے کہ سب کے حقوق برابر ہیں اور سب کے لیے رعایات یکساں ہیں ہر ایک کے مفاد کے متعلق سوچ و فکر ہو رہی ہے سب کے حقوق یکساں طور پر دیے جا رہے ہیں اور یہ یاد کرایا جاتا ہے کہ ہر شخص ہر شہری کو مکمل آزادی حاصل ہے کسی کو کسی سے کوئی شکوہ نہیں آج کی اس تاریخ میں اس وقت بڑا ادنی سے ادنی سیاسی لیڈر یہی گفتگو کرتا ملے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے جھوٹے سیاست دانوں نے جمہوریت کے نام پر اس کی دھجیاں اڑائی ہیں اور جمہوریت کے نام پر اقلیت کا ہر میدان میں استیصال کیا ہے، کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ اقلیت پر اور بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا جائے؟
 کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ ماؤں اور بہنوں کی عزت و آبرو کو سر بازار کیا جائے؟ 
۔۔۔۔۔۔۔کسانوں اور کاشتکاروں کے حقوق سلب کیے جائیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔مساجد اور مدارس پر پابندیاں لگائی جائیں؟
۔۔۔۔۔۔۔ این آر سی اور سی اے اے کے نام پر شہریت ختم کیا جائے؟
۔۔۔۔۔۔ ملک میں دنگائی اور فسادیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے؟ ۔۔۔۔۔۔ملک میں کسانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا جائے ؟
اللہ اکبر !کیا فساد ،کیا ہنگامہ ،کیسا بھیانک منظر، کیسی درد آمیز کراہیں اور چیخ و پکار جس کے محض تصور سے ہی جسم کا رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے، کتنی آنکھیں اشکوں کے سمندر میں تیرنے لگتی ہیں  اور کتنی ہی زبانیں بلبلانے لگتی ہیں۔
 اے قائدین ملک بتاؤ کہ یہ کس وجہ سے ہوا اور اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟آج تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا محسوس منظر ہے، تو اگر اسی کا نام جمہوریت اور اسی کا نام آزادی ہے تو ایسی آزادی اور ایسی جمہوریت پر ہم کل بھی لات مارتے تھے اور آج بھی مارتے ہیں۔
!سن لو اے دانشورانِ ملت
ہمیں آزادی چاہیے دین اسلام کے تحفظ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب و ملت کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عزت و ابرو کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔خانہ خدا کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدارس و مکاتب کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔مساجد و معاہد کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم و زیادتی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالم حکومت وہ مہنگائی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنگا و فساد اور کالے قانون سے
 اب اگر ان چیزوں کی آزادی ہمیں نہیں ملتی جیسا کہ آج مشاہدات وہ واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں تو یاد رکھو کہ یہ آزادی اور جمہوریت کی بدنامی ہے اور ان دونوں لفظوں کو بےکار استعمال کیا جا رہا ہے ۔

محترم قارئین! آئیے ہم اپنے قول و فعل سے نشست و برخاست،  طور طریق سے آزادی کا صحیح مفہوم واضح کریں اور نفرت  عداوت ، تعصب و منافرت ،لاقانونیت و بربریت ،فرقہ پرستی و دہشت گردی کو ہوا دینے والی جماعتوں سے جم کر مقابلہ کریں ۔
اور امن و اشتی کا ہندوستان                           خوشحالی و پرامن ہندوستان 
گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ....    ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہندوستان
شیخ الہند اور مولانا قاسم کا.....                مولانا آزاد و مولانا جعفر کا
مہاتمہ گاندھی اور نہرو کا ......                 علامہ اقبال اور ٹیگور کا.........     ایمبیڈکر اور فضل حق خیرآبادی کا...  ٹیپو سلطان اور بھگت سنگھ کا سھباس چندر بوس واشفاق اللہ خان کا......    نارنک اور چشتی کا ہندوستان اور جیسا پرامن ہندوستان تھا ویسا ہی ہندوستان بن جائے اور آنکھوں کے سامنے آ جائے ۔
مذہب نہیں سکھاتا اپس میں بیر رکھنا
ہندی ہے ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا 

Wednesday, August 6, 2025

صور من حياة عبد الرحمن بن عوف

صور من حياة عبد الرحمن بن عوف



عتیق اللہ کلیم ✍️

هو أحد الثمانية السابقين إلى الإسلام و أحد العشرة المبشرين بالجنة، و أحد النفر الذين يفتون بالمدينة وكان اسمه في الجاهلية عبد عمر فلما أسلم دعاه الرسول الكريم صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن، وأسلم بعد إسلام الصديق بيومين اثنين، و لقي من العذاب في سبيل الله ما لقيه المسلون الأولون فصبر و صبروا۔

: الصورة الأولى 

ولما ه‍اجر عبد الرحمن بن عوف إلى المدينة آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري رضي الله عنه، فقال سعد لعبد الرحمن بن عوف: عندي اثنان من كل شيء فخذ أحدا ما أحب إليك منهما، فقال عبد الرحمن له بارك الله لك في أهلك ومالك، ولكن دلني على السوق فدله عليه فجعل۔ يتجر ويربح و يدخر۔

: الصورة الثانية 

وما هو إلا قليل حتى اجتمع لديه مهر امرأة فتزوج، وجاء الرسول عليه السلام فقال له: ”مهيم يا عبد الرحمن“ فقال: تزوجت فقال: ”وما عطيت زوجتك من المه‍ر“ قال: وزن نواة من ذهب قال: ”أولم ولو بشاة بارك الله لك في مالك“۔

: الصورة الثالثة 

وجاهد عبد الرحمن في يوم بدر في الله حق جهاده وفي غزوه أحد عليه بضعة وعشرون جرحا بعضها عميق تدخل فيه يد الرجل۔

: الصورة الرابعة 

وقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ”تصدقوا فإني أريد أن أبعث بعثا“ فبادر عبد الرحمن إليه وقال: يا رسول الله عندي أربعة آلاف:ألفان منها اقرضتهما ربي وألفان تركتهما لعيالي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”بارك الله لك فيما أعطيت وبارك الله لك فيما أمسكت“ ۔

: الصورة الخامسة 

وعند غزوه تبوك لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابه باالنفقة في سبيل الله، فقد تصدق بمأتي أوقيه من الذهب، فقال عمر بن الخطاب للنبي صلى الله عليه وسلم: إني لا أرى عبد الرحمن إلا مرتكبا إثما، فما ترك لأهله شيئا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم هل تركت لأهلك شيئا.... عبد الرحمن؟ فقال: نعم، تركت لهم أكثر مما أنفقت و أطيب.قال صلى الله عليه وسلم: كم؟ قال: ما وعد الله ورسوله من الرزق والخير والأجر. و أم المسلمين في تبوك فصلى خلفه رسول الله صلى الله عليه وسلم ولما لحق الرسول عليه السلام بالرفيق الاعلى قام بكل مصالح  أمهات المسلمين حتى قالت عائشة رضي الله عنها، مرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لا يحنو عليكن من بعدي إلا الصابرون“ ۔

: وفاة عبد الرحمن بن عوف 

وبقيت دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن بن عوف بأن يبارك الله له تظلله مامتدت به الحياة فلما حضرت عبد الرحمن الوفاة أعتق خلقا كثيرا من مماليكه وبعد ذلك كله خلف لورثته مالا لا يكاد يحصيه حيث ترك ألف بعير،ومأة فرس، وثلاثة آلاف شاة وكانت نساءه أربعا فبلغ ربع الثمن الذي خص كل واحده منهن ثمانين ألفا۔ 

وحمل جنازته إلى مثواه الأخير خال رسول الله صلى الله عليه وسلم سعد بن أبي وقاص و صلى عليه ذو النورين عثمان بن عفان وشيعه أمير المؤمنين علي بن أبي طالب وهو يقول: إذهب فقد أدركت صفوها، وسبقت زيفه‍ا يرحمك الله ۔

هذا المقال ملخص لقصة عبد الرحمن بن عوف من كتاب ”صور من حياة الصحابة “ للدكتور عبد الرحمن رأفت الباشا

من حياة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه نستخلص العديد من الدروس والعبر التي تنير لنا طريق الإيمان والعمل الصالح، ومن أبرز هذه الدروس

: ١. المبادرة إلى الخير والإسلام

كان عبد الرحمن بن عوف من أوائل من دخلوا في الإسلام، مما يدل على حبه للحق وحرصه على النجاة في الدنيا والآخرة۔

: ٢. الصبر على الشدائد

تحمل في سبيل الله العذاب والاضطهاد، وصبر كما صبر الصحابة الأوائل، وهذا يعلمنا أن طريق الحق مليء بالتضحيات۔

: ٣. الاجتهاد في العمل والرزق الحلال

رغم أنه مهاجر بلا مال، إلا أنه اجتهد في التجارة بصدق وأمانة حتى أصبح من أغنى الصحابة، مما يدل على أهمية السعي والكسب الحلال۔

: ٤. السخاء والإنفاق في سبيل الله

كان من أكثر الصحابة إنفاقاً، يعطي بلا تردد ويؤثر غيره على نفسه، فاستحق دعوة النبي صلى الله عليه وسلم: "بارك الله لك فيما أعطيت وبارك الله لك فيما أمسكت“۔

: ٥. التوازن بين الدين والدنيا

جمع بين الغنى والتقوى، فكان من أثرياء الصحابة لكنه لم يتعلّق بالدنيا بل جعل ماله في خدمة الدين۔

: ٦. الأمانة والمسؤولية

قام على شؤون أمهات المؤمنين بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم، وهذا يعكس حسن الخلق وعلوّ الهمة۔

: ٧. الاستعداد للموت بالأعمال الصالحة

أعتق مماليكه وتصدّق قبل موته، وترك من المال ما يدل على بركة دعوة النبي له، فكانت حياته كلها طاعة وكرم وخدمة للدين۔

: ٨. حب الصحابة له وتقديرهم لمكانته

شيّعه كبار الصحابة، وأثنوا عليه، وهذا يدل على علوّ قدره وفضله في الإسلام۔

: النتيجة

إن حياة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه تمثل نموذجاً فريداً في الجمع بين الإيمان والعمل، وبين الغنى والتواضع، وبين القوة في الجهاد والرحمة في المعاملة، وعلينا أن نقتدي بسيرته في بناء أنفسنا ومجتمعاتنا۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog

post_23.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post_27.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/httpsurduarabiccorner.html




پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...