Thursday, July 17, 2025

اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟

 اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟



عتیق اللہ کلیم ✍️

مغرب کی درس گاہوں، تحقیقاتی اداروں اور علمی مرکزوں سے مسلسل ایک آواز ہم سے مخاطب ہے مگر افسوس کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا، کسی کا خون جوش نہیں مارتا اور کسی کی غیرت نہیں جاگتی۔

: یہ آواز کہتی ہے 

اے مسلمانو! اے ہمارے غلامو! سنو تمہارے علم کے کنویں سوکھ گئے اور تمہارے اقتدار کا سورج ڈوب گیا، اب تمہیں حکمرانی اور سلطانی سے کیا واسطہ تمہارے بازو اب شل ہو گۓ اور تمہاری تلواریں زنک آلود، اب ہم تمہارے آقا ہیں اور تم سب ہمارے غلام ہو، دیکھو ہم نے سر سے پاؤں تک کیسا تمہیں اپنی غلامی کے سانچے میں ڈھالا ہے ،ہمارا لباس پہن کر اور ہماری زبان بول کر اور ہمارے طور طریقے اختیار کر کے تمہارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں ۔ 

ہم بے وقوف نہیں تھے ہم تمہارے دل و دماغ کو اپنا غلام بنا چکے تھے ،اب تم ہماری آنکھوں سے دیکھتے ہو ، ہمارے کانوں سے سنتے ہو اور ہمارے دماغ سے سوچتے ہو اب تمہارے وجود میں تمہارا اپنا کچھ نہیں اب تم  ہر شعبۂ زندگی میں ہمارے محتاج ہو، تمہارے سکولوں اور کالجوں میں ہمارا مرتب کیا ہوا نصاب، تمہارے بازاروں میں ہمارا سامان ہے، تمہارے جیبوں میں ہمارا سکہ ہے، تمہارے سکے کو ہم پہلے مٹی کر چکے ہیں ،تم ہمارے حکم سے کیسے سرتابی کر سکتے ہو، تم اربوں اور کھربوں روپے کے ہمارے قرضدار ہو، تمہاری معیشت ہمارے قبضے میں ہے تمہاری منڈیاں ہمارے رحم و کرم پر ہیں اور تمہارے سارے تجارتی ادارے صبح اٹھتے ہی ہمارے سکے کو سلام کرتے ہیں ،تمہیں اپنے جوانوں پر بڑا ناز تھا ، تم کہتے تھے ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی “ تو سنو اس زرخیز زمین کو ہم نے ہیروئن بھرے سگریٹ، شہوت انگیز تصویروں ، ہیجان خیز ، زنا کے مناظر سے لبریز فلموں اور ہوس زر  کا آب شور  شامل کر کے بنجر کر دیا ہے۔

  تمہیں اپنی افواج پر بھی بڑا گھمنڈ تھا؟

: تو دیکھو

تمہاری افواج اب ہمارے ہتھیاروں کی محتاج ہیں

ان کے ہاتھ میں ہماری بندوقیں

ان کے نقشے ہمارے کمروں میں بنتے ہیں

اور ان کے فیصلے ہمارے مشوروں پر ہوتے ہیں۔

تمہارے جنرلوں کی وردیاں تو چمکتی ہیں

مگر ان کے دل غلامی کے جال میں گرفتار ہیں۔

اور تمہیں اپنی آزادی پر فخر ہے؟


: تو سوچو

یہ کیسی آزادی ہے

جس میں تمہارا نصاب ہم بناتے ہیں؟

تمہارا میڈیا ہم چلاتے ہیں؟

تمہارے نغمے، تمہاری فلمیں، تمہاری سوچ 

سب کچھ ہم طے کرتے ہیں۔


تمہاری مسجدیں تو آباد ہیں، مگر دل ویران

تمہارے آذانیں تو گونجتی ہیں، مگر عمل ساکت

تمہارے قرآن کے حافظ تو ہزاروں میں ہیں، مگر فکرِ قرآنی ناپید۔

 تو اے امت! اب جاگ جا

یہ وقت ہے کہ تم اپنے گریبان میں جھانکو

اپنے وجود کو پہچانو

اپنے خالق سے تعلق جوڑو

اور غیر کے فکری شکنجوں کو توڑ دو۔

کیوں کہ اگر تم نے اب بھی خودی کو نہ پہچانا

تو کل تم اپنے نام سے بھی ناواقف ہو گے

اور تاریخ میں تمہارا ذکر فقط ایک مثالِ عبرت بن کر رہ جائے گا۔

: اختتامیہ

غلامی کے طوق جسم سے نکل سکتے ہیں

مگر جب روح غلام ہو جائے

تو وہی سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔

ان ہی درد و کرب کا اظہار شاعر مشرق علامہ اقبال نے یوں کیا تھا

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل

نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی

نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں

کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے

امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں



https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/02/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

Thursday, July 10, 2025

علم کی فضیلت

 علم کی فضیلت 


عتیق اللہ کلیم ✍️

علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ و دل اویز انداز میں پائ جاتی ہے ، اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی،  تعلیم و تر بیت تو گویا اس دین برحق کا جز ولا ینفک ہے  کلام پاک کے تقریبا 78 ہزار الفاظ میں  سب سے پہلا لفظ پروردگار عالم نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ ”اقرا“ ہے یعنی ”پڑھ“گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس بات کی طرف سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع بشر کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا، پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا، اور مزید اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ”قل هل يستوى الذين يعلمون والذين لا يعلمون“ کہ اے نبی کہہ دیجئے اہل علم اور جاھل ایک ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہو سکتے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” فضل العالم علی العابد کفضلی علی أدناکم“ ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”إن الله و ملائكته و أهل السموت و الأرضين حتى النملة في جحره‍ا و حتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير“( رواه الترمذي )

  عالم کی فضیلت عابد پر ایسی  ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی پر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالی رحمت نا زل کرتے ہیں اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں تک لوگوں کے معلم کے لئے بھلائی کی دعا کرتی ہیں ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کہ علم کا سیکھنا مومن پر فرض ہے۔

: تحصیل علم میں مشقتیں برداشت کرنا 

علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی تکالیف اور مشقتوں کو خندہ  پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا طالب علم کے لیے تحصیل علم میں استقامت کا ذریعہ ہے ، عربی کا شاعر کہتا ہے

تمنیت أن تصبح فقيها مناظرا

بغير عناء والجنون فنون 

وليس اكتساب المال دون مشقة

تحمله‍ا، فالعلم كيف يكون

تمہاری خواہش ہے کہ بغیر تکلیف اور مشقت اٹھا ئے ہوئے بڑے فقیہ اور عالم بن جاؤ، یہ پاگل پن اور جنون ہے، کیونکہ جب مال و دولت کا حصول مشقت برداشت کیے بغیر  نہیں ہو سکتا تو پھر علم جو اس سے بدر جہاں بلند اور بالا ہے اس کا حصول مشقت کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے؟ 

حضرت امام شافعی تحصیل علم میں چھ اہم امور کو ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے اشعار میں یوں بیان فرماتے ہیں

أخي  لن تنال العلم الا بسته 

سأنبيك عن تفصيلها ببيان 

ذكاء وحرص واجتهاد وبلغه

وصحبه استاذ وطول زمان

،اے بھائی!  تو علم حاصل نہیں کر سکتا مگر چھ چیز وں کے ذریعے میں تجھے وہ تفصیلا بتانا چاہتا ہوں ذکاوت ،علم کی حرص ،محنت اور گزارے کا سامان، استاد کی صحبت اور زمانہ دراز تک حصول علم۔

بلا شبہ امام موصوف کی یہ نصیحت بڑی قیمتی ہے اور چشم کشا حقائق پر مبنی بھی، کاش! ہم اسے حرز جان بنا لیں۔



Monday, July 7, 2025

فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں

 فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں



عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

آج کے اس ترقی یافتہ اور تغیر پذیر دور میں مدارس اسلامیہ کی کثرت اور ان کی افادیت کسی سے مخفی نہیں۔ یہ مدارس ملتِ اسلامیہ کے علمی، فکری اور دینی تشخص کے مضبوط قلعے ہیں۔ یہی وہ گہوارۂ علم و عرفان ہے جہاں انسان سازی، کردار پروری، دینی بیداری، اور روحانی تربیت کا کام خاموشی سے انجام پا رہا ہے۔ یہ مدارس علومِ اسلامیہ کے سرچشمے ہیں، جہاں لاکھوں تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھا چکے ہیں اور آج پوری دنیا میں دینِ حق کی ترجمانی اور خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

فارغینِ مدارس کون ہیں؟

فارغینِ مدارس وہ خوش نصیب افراد ہیں جو علومِ دینیہ و اسلامیہ کے جامع نصاب سے فراغت حاصل کرتے ہیں، جنہیں درسِ نظامی، قراءت، تجوید، تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، عقائد، اور دیگر اہم اسلامی علوم میں مہارت دی جاتی ہے۔ ان کی یہ تعلیم محض رسمی نہیں، بلکہ ایک روحانی اور فکری تربیت کے ساتھ جُڑی ہوتی ہے، جو انہیں زندگی بھر کے لیے دین کا خادم اور ملت کا رہنما بناتی ہے۔

فارغینِ مدارس کی اہم ذمہ داریاں

فارغینِ مدارس کی ذمہ داریاں صرف منبر و محراب تک محدود نہیں، بلکہ ان کی خدمات کا دائرہ پوری امت، معاشرہ، اور بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داریاں حسبِ ذیل ہیں

اسلام کا تعارف اور دفاع

دورِ جدید میں جہاں اسلام پر فکری حملے ہو رہے ہیں، وہاں فارغین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کا صحیح تعارف، حکمت و موعظت کے ساتھ پیش کریں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

یعنی: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ"۔

 اصلاحِ معاشرہ اور امر بالمعروف

فارغین کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان پھیلی ہوئی اخلاقی، سماجی اور دینی برائیوں کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ان کی بنیادی دینی ذمہ داری ہے۔

 جدید تعلیمی نظام میں شمولیت

فارغینِ مدارس کو چاہیے کہ وہ عصری تعلیمی اداروں میں اسلامی اصولوں کو داخل کریں، نصاب میں اخلاقیات، سیرت النبی ﷺ، اسلامی افکار و اقدار کو جگہ دلوائیں تاکہ نئی نسل دین سے مربوط رہے۔

 تحریری و ابلاغی صلاحیتوں کا فروغ

تحریر، تقریر، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو دین کی دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کریں۔ آج کا دور تحریر و ابلاغ کا ہے، اس میں خاموش رہنا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔

 اداروں کی بنیاد اور قیادت

فارغین کو چاہیے کہ وہ ایسے ادارے قائم کریں جو دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج پیش کریں۔ جہاں جدید تعلیم کے ساتھ اسلامی نظریات کی تعلیم و تربیت بھی دی جائے، تاکہ مسلمان نوجوان گمراہی سے بچے رہیں۔

ذاتی اصلاح اور روحانی ارتقاء

فارغین کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنی ذات کی اصلاح ہے۔ اخلاص، ایمان، یقین، تعلق مع اللہ، دعا، تضرّع، خشوع، تواضع، اور اعتماد علی اللہ جیسے خصائص کو اپنا کر وہ نبوی اسوہ کو اپنے اندر زندہ کریں تاکہ ان کی دعوت و تبلیغ مؤثر ہو سکے

فتنوں کا علمی و فکری ردّ

یہ دور فتنوں کا ہے  دہریت، الحاد، سیکولرزم، لبرل ازم، قادیانیت، باطنیت، اور دیگر گمراہ کن نظریات نت نئے انداز سے نوجوانوں کے دل و دماغ کو متاثر کر رہے ہیں۔ فارغینِ مدارس کی یہ نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ان فتنوں کو گہرائی سے سمجھیں، ان کے علمی و فکری پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور قرآنی و نبوی روشنی میں دلائل و حکمت کے ساتھ ان کا ردّ کریں۔

یاد رکھیں! صرف نعرے اور تقاریر کافی نہیں، بلکہ تحقیق، علم اور بصیرت کے ساتھ گفتگو کرنا ہوگی۔

خاتمہ

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مدارس کے یہ فرزند—فارغینِ مدارس—اسلامی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ زمانے کی بدلتی ضروریات کو سمجھ کر اپنی دعوتی، اصلاحی، تعلیمی اور تنظیمی ذمہ داریوں کو شعور اور حکمت کے ساتھ نبھائیں۔ یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ وہ قلم و زبان دونوں سے دینِ اسلام کی حقانیت کو اجاگر کریں، امت کی رہنمائی کریں اور دشمنانِ اسلام کے فکری حملوں کا مدلل جواب دیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام فارغینِ مدارس کو امتِ مسلمہ کی صحیح قیادت و رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے، اور انہیں فتنوں کے اس سیلاب میں چراغِ ہدایت بنائے۔ آمین۔

Thursday, July 3, 2025

درس من السنة

 درس من السنة 



عتیق اللہ کلیم ✍️

  عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أي الصيام أفضل بعد شهر رمضان ؟ قال شهر الله الذي تدعونه المحرم(  رواه أحمد و النسائ في السنن الكبرى وابن مواجه)

شهر محرم الحرام أول الشهور من السنة الهجرية، وكان الناس في الجاهلية يعظمونه و يؤقرونه، و يحرمونه القتال فيه، و في هذا الشهر العظيم يوم عظيم يقال ”يوم العاشوراء“ وله أهمية كبرى أيضا،كما جاء في الحديث الشريف وقال عليه السلام أيضًا
أفضل  الصيام بعد رمضان شهر المحرم (رواه مسلم)

إن يوم العاشوراء يوم كانت تعظمه اليهود والنصارى والعرب كانوا يصومون فيه ويتخذونه عيدا، كما جاء في الحديث عن أبي موسى رضي الله عنه قالكان أهل خيبر يصومون يوم عاشوراء يتخذونه عيدا و يلبسون نساءهم فيه حليهم و شارتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فصوموه أنتم “(رواه مسلم)
و كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم يوم العاشوراء و أمر بصيامه، روى ابن عباس رضي الله عنه قال: حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم و أمر بصيامه، قالوا :  يا رسول الله إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع، قال : فلم يأت العام المقبل حتى توفي  رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم (رواه مسلم)

حين أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصيامه قال الصحابة : يا رسول الله ”إنه يوم تعظمه اليهود و النصارى“ والمراد بهذا القول كأنما تشبهم بالصوم في تعظيمه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع والمراد به أننا صمنا اليوم التاسع في العام المقبل فلا يبقى التشابه و المشابهة بيننا و بينهم بهذا العمل، من أجل ذلك يقول الفقهاء لا يصوم أحد يوم عاشوراء فقط بل يصوم معه اليوم التاسع أو اليوم الحادي عشر و أخيرا أدعو الله أن يؤفقنا إلى أداء حقه۔


Wednesday, July 2, 2025

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کے احوال و آثار

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور 
پوری اور ان کے احوال و آثار 



عتیق اللہ کلیم ✍️

ان کے خاندان کے ایک بزرگ پیر محمد عہد مغلیہ میں دہلی کے منصب قضا پر فائز تھے، اس لیے انہیں قاضی پیر محمد کہا جاتا تھا، اس کے بعد خاندان کے ہر فرد کو قاضی کہا جانے لگا۔

آگے چل کر ان کا سلسلہ نسب حضرت علی سے جا ملتا ہے لیکن کسی نے اپنے نام کے ساتھ ’علوی‘ نہیں لکھا۔

قاضی محمد سلیمان کے پردادا قاضی محمد باقی باللہ ضلع فیروز پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں بڈھیمال کے رہنے والے تھے حضرت غلام علی شاہ مجددی دہلوی کے حکم سے تبلیغ دین کے لیے منصور پور میں سکونت اختیار کر لیا ہے۔
قاضی باقی باللہ کے بیٹے غازی معز الدین اور ان کے لڑکے  قاضی
 ا حمد شاہ ،قاضی محمد سلیمان کے والد مکرم تھے، وہ ۱۲۵۰ھ (1834) منصور پور میں پیدا ہوئے
آپ ریاست  پٹیالہ کے محکمہ مال میں ملازم تھے۔
قاضی احمد شاہ ۲۸ محرم ۱۳۲۸ھ(19 فروری 1990) کو پٹیالہ میں فوت ہوئے ۔
 قاضی احمد کی نرینہ اولاد تین بیٹے تھے ،جن کے نام یہ ہیں: محمد سلیمان ،عبدالرحمن، اور محمد ،جو کم سنی میں وفات پا گئے تھے۔
عبدالرحمن طویل عرصے تک ریاست پٹیالہ کے منصب وکالت (ریاست میں وکالت ایک نہایت ذمہ دارانہ منصب تھا اس کے معنی تھے سفارت اور نمائندگی) پر فائض رہے، ۳۰ دسمبر ١٩٤٧ کو لاہور میں فوت ہوئے ۔

 قاضی محمد سلیمان


قاضی صاحب۱۸٦٧ (١٢٨٤ھ) کو منصورپور میں پیدا ہوا۔
آپ کی والدہ کا نام ”اللہ جوئی “ تھا اور لوگ انہیں مائ  جی کہہ کر پکار تے تھے ۔

: تعلیم


قاضی صاحب نے قران مجید اور اس دور کی مروجہ تعلیم والد گرامی قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔
مولانا عبدالعزیز فروکش سے علوم متداولہ کی تحصیل کی فارسی کی تعلیم مہندرہ کا لج کے پروفیسر  منشی سکھن لال سے حاصل کی جو آتش یا ناسخ کے شاگرد تھے۔
سترہ برس کی عمر میں وہ علوم عربیہ ،دینیہ اور فارسی کی اعلی مروجہ تعلیم سے فارغ ہو چکے تھے ۔

 : ملازمت
 ۱۸۸۵
 میں ریاست پٹیالہ کے محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ   کے طور پر  تقررہوا۔
اور کم و بیش 1۵ سال اس خدمت کو انجام دیا۔
اس کے بعد قاضی صاحب تمام عمر عدلیہ میں رہے اور تھوڑے عرصے میں اتنی ترقی کی ریاست کے سیشن جج بنا دیے گئے۔

تصانیف 

الجمال و الکمال ( یہ سورہ یوسف کی تفسیر ہے) 
شرح اسماء الحسنٰی 
مہر نبوت ( یہ سیرت پر ان کی مختصر کتاب ہے) 
 اصحاب بدر 
 غایۃ المرام اور تائید الاسلام ( یہ دو کتابیں مرزا غلام احمد قادیانی کے 
(دعوائے مسحیت اور اُن کی کتابوں کے میں لکھیں

: رحمۃ للعالمین 

“اس کا نام قران مجید کی ایت کریمہ” وما أرسلنك إلا رحمة للعالمين سے مستعار لیا گیا ہے ۔
پہلی جلد ۱۹۱۲ء میں شائع ہوئی اور دوسری جلد ۱۹۱۸ء میں ہوئی جب کہ تیسری جلد کی اشاعت وفات کے بعد ۱۹۳۳ء میں ہوئی ۔
رحمۃ للعالمین کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قران و سنت کے دلائل کے ساتھ ساتھ دیگر  مذاہب کی کتب ( تورات، انجیل وغیرہ ) سے آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت بیان کی گئی، رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہود و نصاری کے اعتراضات کے مدلل جوابات دیے گئے ہیں۔


: وفات
 

انہوں نے دوسرے حج سے واپس آتے ہوئے جہاز میں وفات پائی نماز جنازہ مولانا اسماعیل غزنوی نے پڑھائی،بعد ازاں ان کی میت سمندر کی لہروں کے سپرد کر دی گئی یہ ۳۰ مئی ۱۹۳۰ کا واقعہ ہے کہ ارحم الراحمین نے ” رحمۃ للعالمین  “کے مصنف کو اپنی رداۓ رحمت میں لے لیا ۔
تلخیص مقدمہ ” رحمۃ للعالمین“ از قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری 


Friday, June 27, 2025

درس من القران الكريم

درس من القران الكريم  


عتیق اللہ کلیم ✍️
“إن هذا القران يهدي للتي هي اقوم”
إن في القران الكريم دروس وعبر وبصائر وهدى  ونور و رحمة للمتقين وفي ذلك نجاح للإنسانية ويهدي الله تعالى الناس إلى هذه البصائر من خلال ما انزل على رسوله المصطفى محمد صلى الله عليه وسلم من الوحي والكتاب العزيز ونور وحياه للناس "هذا بصائر من ربكم وهدى ورحمة لقوم يؤمنون 
كل انسان محتاج إلى النور ليري الطريق الصحيح ويهتدي إلى الصراط المستقيم فالقران هو نور والصراط المستقيم إلى الله فقد رسمه الله للعباد ليصلوا الى الباري عز وجل فهو منظم
حياه لكل عباد الله وهو مسار الفطره ففي هذا الكتاب العزيز صراط قيم ليس فيه ميل. وهو على خط الفطرة السليمة لأن الله تعالى يقول
 الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا قيما لينذر باسا شديدا من لدنه ويبشر المؤمنين
 
فإن القران هو صراط الله المستقيم الذي يخرج الناس من الظلمات إلى النور و برهان في حياة الناس و إن الناس ان حكموا فطرتهم و عقلهم فسوف يسلكون طريق الحق والنور المبين طريق القرآن فان هذا الكتاب لا ريب فيه وهو بيان للناس وإن يتجهوا إلى الظلمة المنصرف عن الصراط المستقيم في الهاوية
 
وإن القران الكريم غزاء العقل والفؤاد والفطرة والإرادة لأن الانسان يحتاج في حركته إلى الله تعالى إلى مصادر كالعقل والفؤاد والفطرة والعزم وإن جميع هذه المصادر يحتاج إلى غذاء والقران هو الغزاء الإلهي وهو الهدي والنور والبصيرة واليقين والعزم الذي يحتاجه الإنسان
. في حركته إلى الله تعالى

 فقد روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال
إنَّ هذا القرآن مأدبةُ اللهِ فتعلموا من مأدبته ما استطعتم، إن هذا القرآن حبلُ الله، وهو النور المبين، والشفاء النافع، عصمةٌ لمن تمسَّك به، ونجاةٌ لمن اتبعه… فاتلوه فإن الله يأجركم على تلاوته بكل حرف عشر حسنات

Saturday, June 14, 2025

سفر نامہ: لکھنؤ سے چھپرہ

سفر نامہ 

٠٤/٠٦/٢٠٢٥

:عید کی آمد اور وطن کی تڑپ

عتیق اللہ کلیم ✍️
عید الاضحٰی کی آمد آمد تھی، مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی چھٹی ہو چکی تھی۔ ہر چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ میں بھی اپنے وطن، گاؤں، والدین، بھائیوں اور بہن سے ملنے کے لیے بیتاب تھا۔
 میں نے  کار بک کیا اور اپنے بھائی اطیع اللہ اور دوستوں کے ساتھ گومتی نگر ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا، ابھی ٹرین روانہ بھی نہ ہوئی تھی کہ انسانوں کا سیلاب آن پہنچا۔ ہر طرف دھکے، آوازیں، پسینہ اور بے بسی کا عالم تھا۔

:ریل گاڑی کی بوگی: گرمی،گھٹن اور بے قراری

مسافروں کا سیلاب 
 
بوگی کے اندر ایک قیامت خیز منظر تھا — جسم در جسم چپکے ہوئے، دھوپ سے جھلستی کھڑکیاں، ٹھنڈی ہوا کا کہیں گزر نہیں،اور مسافروں کے چہروں پر ایک ہی سوال
"کیا منزل ابھی بہت دور ہے؟"

:چنے بیچتا باپ — قربانی کا استعارہ
قربانی کا ایک منظر یہ بھی 


اسی بھیڑ کے درمیان ایک منظر نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باپ، سر پر چنے کی بالٹی لیے، کمر کے گرد کپڑا باندھے، پسینے میں شرابور، زور زور سے آواز لگا رہا تھا
"چنے لے لو، گرم چنے"
"میں نے بےساختہ پوچھا: "اتنی بھیڑ میں چنے بیچ رہے ہو؟
:اس نے مسکرا کر کہا
"اے مہاراج، ہمنی کے ت ایکرا سے زادہ بھیڑ میں چنا بیچ نی"
جناب! یہ کچھ بھی نہیں، ہم تو اس سے بھی زیادہ بھیڑ میں چنے بیچتے ہیں۔

میں نے اُس کے چہرے پر غور کیا۔ وہ تھکا ہوا، دھوپ سے جھلسا ہوا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں عزم کی ایک چمک باقی تھی۔ اُس کی آواز میں محنت کی تھکن بھی تھی اور رزق کی طلب بھی۔ وہ بھیڑ میں دھکیلا بھی جا رہا تھا، مگر گرتے پڑتے، ہر مسافر کو مخاطب کر کے اپنی روزی کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔

:باپ اور اولاد


 باپ وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کی راحت و آرام کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ وہ پسینے میں شرابور، تھکن سے چُور، اپنی خواہشات کو قربان کر کے صرف اس لیے محنت کرتا ہے کہ اُس کی اولاد آرام و راحت کی زندگی بسر کر سکے، اُس کی بیوی خوش رہے، اور گھر میں چین و سکون قائم رہے۔

وہ کبھی شکوہ نہیں کرتا، بس اولاد کے روشن مستقبل کی امید میں جیتا ہے۔ اُس کی دعائیں، اُس کی راتوں کی جاگ، اُس کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے چھپی قربانی... یہ سب وہی جانتا ہے جو "باپ" کہلانے کا شرف رکھتا ہے۔

لیکن افسوس! وہی اولاد جب جوان ہوتی ہے، جب اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا وقت آتا ہے، تو اکثر اُن قدموں کے نیچے وہی باپ آ جاتا ہے۔ وہ احسانات جو کبھی گنے نہیں جا سکتے، نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ جس شخص نے تمام عمر سہارا دیا، اُسی کے لیے سہارا بننے سے کترایا جاتا ہے۔ باپ اُس عمر میں، جب اُسے محبت، توجہ اور سکون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے۔

اے نوجوانو! ذرا ایک لمحے کو رک کر سوچو... جن پیسوں پر تم عیش کرتے ہو، وہ کتنی محنت، کتنی قربانی اور کتنی دعاؤں کا حاصل ہیں؟ اُن پیسوں کے پیچھے ایک باپ کی جوانی، اُس کا وقت، اُس کی نیندیں اور اُس کی خوشیاں دفن ہیں۔

اگر آج تم نے اُس کا ہاتھ تھام لیا، تو کل تمہارے بچے تمہارا ہاتھ تھامیں گے۔ ورنہ زمانہ وہی سلوک تمہارے ساتھ کرے گا جو تم نے اپنے باپ کے ساتھ کیا۔

:سبق آموز منظر


لیکن اُسی بھیڑ میں ایک اور منظر مجھے چونکا گیا 
میرے پہلو میں ایک غیر مسلم نوجوان بیٹھا تھا۔ کپڑے پسینے سے تر، مگر چہرے پر سکون کی ایک عجیب سی جھلک۔ اُس کے کانوں میں ہینڈفری تھے، اور وہ پوری توجہ سے اپنے فون پر آن لائن تعلیم حاصل کر رہا تھا، جیسے وہ اس شور، گرمی اور بھیڑ سے مکمل طور پر بے نیاز ہو۔

:میرے دل میں سوال پیدا ہوا
یہ نوجوان اتنا مطمئن کیوں ہے؟

:جواب سادہ تھا مگر نہایت گہرا
اس کی منزل محض یہ اسٹیشن نہ تھی، وہ وقتی آرام کا متلاشی نہ تھا، بلکہ وہ ایک روشن مستقبل کی تلاش میں سفر کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل کامیابی اُن لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جب دوسرے تھک ہار کر رک جاتے ہیں۔

!اے نوجوانِ مسلم
یہ منظر تیرے لیے ایک خاموش پیغام ہے۔ کیا تُو قرآن کا وارث ہو کر بھی صرف عارضی منزلوں پر نظر رکھے گا؟
کیا تیرے لیے صرف ظاہری کامیابی کافی ہے، جب کہ تیرا دین تجھ سے دنیا و آخرت دونوں کی بلندی کا طالب ہے؟

اگر غیر مسلم نوجوان تنگی، گرمی، اور بے آرامی میں بھی اپنی اصل منزل کی طرف رواں ہے، تو تُو جو "اقْرَأْ" کا اُمتی ہے، تیرے پاس کیا عذر ہے؟
تجھے تو سب سے پہلے حکم ہی پڑھنے کا ملا تھا۔ پھر کیوں تُو موبائل پر وقت ضائع کرتا ہے، اور محنت کو بھول بیٹھا ہے؟

یاد رکھ
جو نوجوان آج پسینے میں پڑھتا ہے، وہ کل کامیابی کے سائے میں جیتا ہے۔
اور جو آج صرف آرام ڈھونڈتا ہے، کل صرف افسوس پالے گا۔

پس، اے مسلم نوجوان
منزل کو عارضی نہ بنا
اپنا مقصد بلند رکھ
اور ہر حال میں کوشش جاری رکھ
کیونکہ اصل کامیابی اُنہی کو ملتی ہے جو گرمی، بھیڑ، تھکن اور وقت کی سختیوں کے باوجود ہمت نہیں ہارتے۔

:اختتامیہ

گھنٹوں بعد جب ٹرین بہار کی سرزمین میں داخل ہوئی، تو میرے دل کی زمین بھی کچھ بدل چکی تھی۔ میں صرف گھر نہیں جا رہا تھا، میں اپنے اندر ایک نیا شعور لے کر جا رہا تھا،

مدرسے کی تعلیم نے علم دیا، مگر یہ سفر زندگی کا سبق دے گیا۔ ٹرین کی کھڑکی سے میں نے جو مناظر دیکھے، وہ صرف فاصلہ طے کرنے کا ذریعہ نہ تھے، بلکہ روح کی وسعت کا سبب بھی بنے۔
چنے بیچنے والا وہ باپ میرے لیے عیدالاضحٰی کی سب سے بڑی 
قربانی کی علامت بن گیا۔













پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...