Wednesday, November 5, 2025

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

🌹داستانِ محبت🌹

عتیق اللہ کلیم ✍️

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

اب محبت عرش کے لیے عبادت بن چکی تھی۔

روشی اُس کی دنیا نہیں، اُس کی زندگی بن چکی تھی۔

وہ اب اس کے خیالات میں سانس لیتی تھی، اُس کی یادوں میں بستی تھی۔

عرش کے لیے محبت اب محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک ایمان تھی —

اور اسی یقین کے ساتھ اُس نے چاہا کہ یہ رشتہ اور مضبوط ہو۔


چنانچہ اُس نے اپنی بہن انم سے روشی کی بات چھیڑی

تاکہ یہ تعلق دوستی سے آگے، اپنائیت کی حدوں میں داخل ہو جائے۔

انم اور روشی کی بات چیت شروع ہوئی

دونوں کے درمیان ہنسی مذاق، بھروسہ اور باتوں کی وہ قربت پیدا ہو گئی

جس میں عرش خود کو مطمئن محسوس کرنے لگا۔


ان دنوں روشی اکثر عرش کو اپنی تصویریں بھیجتی تھی۔

لیکن ایک عجیب سا اصول تھا 

وہ ہر تصویر صرف ایک لمحے کے لیے کھلتی، اور پھر جیسے ہوا میں تحلیل ہو جاتی۔

عرش صرف اُسی پل میں اُسے دیکھ پاتا

اور وہ لمحہ اُس کے لیے کسی عبادت کی طرح مقدس بن جاتا۔


: پھر ایک دن عرش نے اپنی بہن انم سے نرمی سے کہا

اگر تمھارے پاس روشی کی کوئی تصویر ہو تو دکھا دو

انم نے بے فکری سے وہی تصویر بھیج دی جو روشی نے خود اُس پر اعتماد کر کے دی تھی۔

عرش نے محبت کے جوش میں وہ تصویر اپنی تصویر کے ساتھ جوڑ کرایک خوبصورت یادگار بنائی اور  محبت سے روشی کو بھیج دی۔

مگر روشی کے لیے وہ تصویر ایک یادگار نہیں

بلکہ اعتماد کا ٹوٹ جانا تھی۔

اُس نے تصویر پہچان لی 

یہ تو وہی تصویر ہے۔۔۔

اور ایک لمحے میں اُس کا لہجہ بدل گیا۔

غصہ، حیرت، دکھ — سب کچھ اُس کے الفاظ میں سمٹ آیا۔

اُس نے انم کو بلاک کر دیا

اور لکھا: میں اُس لڑکی سے بات نہیں کر سکتی، جو میرے اعتماد کے ساتھ دھوکہ کرے۔


انم حیران تھی۔

وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ عرش تو اپنا ہے

کوئی غیر نہیں۔

مگر اب دونوں طرف خاموشی چھا گئی 

ایک طرف روشی کا گلہ، دوسری طرف انم کی خفگی 

اور بیچ میں عرش، جو خود سے زیادہ دوسروں کے احساسات کا قیدی تھا۔


اگلی صبح جیسے آسمان نے بھی رخ بدل لیا۔

ہوا میں وہی مانوس خوشبو نہیں تھی۔

عرش جب یونیورسٹی پہنچا تو دل بوجھل تھا

نہ باتوں میں مزا، نہ کتابوں میں دھیان۔


کینٹین کی طرف جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر لائبریری کے سامنے والے پارک میں گئی —

اور وہاں، روشی ایک انجان لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی۔

(روشی کے مطابق وہ لڑکا اُسی کا بتایا ہوا” دوست“ تھا

مگر عرش اُسے پہچان نہ پایا۔

بس وہ منظر دیکھنا تھا کہ

عرش کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔

دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

اُس کے اندر سناٹا پھیل گیا

اور دماغ ایک ہی سوچ میں گم ہو گیا — یہ کیا دیکھ لیا میں نے


اُسی لمحے، غصہ اور بے بسی کے ملے جلے جذبے نے

اُسے ویڈیو نکالنے پر مجبور کر دیا۔

ساحل نے روکا — مت کر، یہ مناسب نہیں۔

مگر عرش کے اندر کا عاشق اب دلیل نہیں سنتا تھا۔

وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ بعد میں جب سوال کرے

تو سچ اُس کے پاس موجود ہو۔


روشی اُسے دیکھ کر گھبرا گئی 

اُٹھی، پیچھے مڑ کر دیکھا، اور بھاگتی چلی گئی۔

اور عرش؟

وہ تھم گیا — جیسے وقت رک گیا ہو۔


: مدرسے پہنچ کر اُس نے لرزتے ہاتھوں سے میسج لکھا

اگر تم نے وضاحت نہیں دی، تو میں یہ ویڈیو تمھارے گھر بھیج دوں گا۔


یہ وہ الفاظ تھے جو اُس نے محبت میں نہیں

غصے اور زخم میں کہے تھے۔

اور شاید وہ خود بھی جانتا تھا کہ

وہ ایسا کبھی نہیں کر پائے گا۔


مگر محبت کا دل نازک ہوتا ہے —

روشی کے دل پر یہ دھمکی تیر کی طرح لگی۔

: اُس نے جواب دیا

تم مجھے دھمکی دیتے ہو؟ 

اور پھر اُس نے ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا۔


اب عرش کی دنیا اجڑ گئی تھی۔

روشی نے کبھی الفاظ میں نہیں کہا تھا کہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے

لیکن اُس کے رویے، اُس کی باتیں —

وہ سب کچھ کہہ جاتی تھیں۔


عرش نے بار بار معافی مانگی

نئے نمبر سے کوشش کی، نئی آئڈز بنائی 

مگر ہر بار روشی پہچان لیتی —

“یہ وہی دیوانہ ہے”


یہ ایک مہینے کی کہانی تھی —

مگر اُس ایک مہینے میں زندگی کے سارے موسم گزر گئے۔

اب جب بھی وہ یونیورسٹی جاتا

“دل کہتا — ”شاید آج وہ مل جائے

اور جب ملتی

تو نگاہیں ملنے سے پہلے ہی جھک جاتیں۔


عرش آج بھی اُس کے لیے ویسا ہی ہے

جیسے پہلے دن تھا۔

اُس نے خود سے وعدہ کر لیا ہے —

“روشی کے نکاح تک میں کسی لڑکی سے بات نہیں کروں گا”


وہ جانتا ہے کہ شاید وہ کبھی واپس نہ آئے

مگر اُسے اب محبت سے گلہ نہیں۔

وہ اب صرف دعا کرتا ہے —

“اللہ، وہ خوش رہے، چاہے میرے بغیر ہی کیوں نہ ہو۔”


کبھی کبھی وہ رات کے سکوت میں اپنی تحریر دیکھتا ہے

پھر سوچتا ہے —

کیا یہ تحریر روشی کی نگاہوں سے گزری ہوگی؟

اگر گزری ہو —

تو کیا اُس کے دل میں کوئی لرزش پیدا ہوئی ہوگی؟


اور یہیں داستان ختم نہیں ہوتی

یہ تو وہ خاموش سوال ہے

جو عرش کے دل سے آج بھی گونجتا ہے —

“کیا وہ لوٹ آئے گی…؟” 


✨حاصلِ سبق ✨

محبت جب اعتماد کھو دے تو رشتے کی روح مر جاتی ہے۔

اعتماد، وفا، اور ادب — یہ تین ستون ہیں جن پر محبت قائم رہتی ہے۔

عرش اور روشی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کے لمحاتی فیصلے ہمیشہ نقصان دیتے ہیں۔

محبت اگر صبر، شعور، اور پاکیزگی کے ساتھ نبھائی جائے تو عبادت بن جاتی ہے۔

ورنہ یہی محبت، ایک آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔

اور سچا عاشق وہ نہیں جو وصل پائے —

بلکہ وہ ہے جو بچھڑ کر بھی دعا دینا نہ چھوڑے۔


Monday, October 27, 2025

داستانِ محبت — شادی💕

🌹داستان محبت🌹



عتیق اللہ کلیم ✍️

💞 بابِ پنجم — شادی

یونہی دن گزرتے گئے اور دلوں کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ اب عرش کے لیے یونیورسٹی جانا محض تعلیم نہیں،

 بلکہ روشی سے ملنے کا بہانہ بن چکا تھا۔

مدرسے میں رفقائے درس اکثر ٹوکتے 

یار عرش، یہ تُو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے کیسا نیک، سنجیدہ، مطالعہ پسند لڑکا تھا، اور اب دیکھ۔۔۔

یہ جملے سن کر وہ مسکرا دیتا، مگر دل میں کوئی ایسی ضد جاگتی جسے وہ خود بھی سمجھ نہ پاتا۔

اب عرش صرف عاشق نہیں رہا تھا، روشی اُس کی زندگی کی عبادت بن چکی تھی۔

: ایک دن گفتگو کے دوران روشی نے اچانک کہا

“شادی میں آؤ گے نا؟”

عرش چونک گیا۔ کس کی شادی؟

روشی ہنس پڑی، میری۔

عرش کے چہرے کا رنگ اڑ گیا — کیا کہہ رہی ہو یار؟

روشی ہنسی، کیسا لگا مذاق؟ پریشان ہو گئے کیا؟

پھر فوراً کارڈ بھیجا اور کہا، ایسی بات نہیں، میری بہن کی شادی ہے۔ آپ ضرور آئیے، اپنے دونوں دوست ساحل

 اور مرشد کو بھی ساتھ لانا۔

عرش نے سکون کی سانس لی، ارے تو یہ بات تھی… میں تو دل ہی ہار بیٹھا تھا۔

پھر مسکرا کر بولا، خیر سنو، یونیورسٹی کا اسائنمنٹ آیا ہے، تم شادی کی تیاری کرو، میں لکھ دیتا ہوں تمہارا بھی۔

روشی نے انکار کیا، نہیں، بعد میں احسان جتلاؤ گے۔

عرش نے نرمی سے کہا، ایسا کچھ نہیں… تمہارا لکھنا میرے دل کی خوشی ہے۔

آخر روشی مان گئی، اور بیچارا عرش محبت کے جذبے میں ڈوبا ہوا، اپنا اور اُس کا دونوں اسائنمنٹ لکھ کر جمع کر

 آیا۔

انہی دنوں میں عرش نے روشی کے لیے لائبریری کارڈ بنوانے کے بہانے تصویر مانگی — ایک زیادہ مانگ کر اپنے

 پاس بھی رکھ لی۔

روشی جب اپنی بہن کے ساتھ شادی کے جوڑے لینے گئی تو عرش کو کال کی۔

عرش نے اس کی پسند میں اپنی پسند بتائی ۔

اب شادی کا دن قریب آ گیا۔

عرش پہلی بار روشی کے گھر والوں سے ملنے جا رہا تھا۔ اس نے سوچا، کیا پہنوں؟

آخر فیصلہ کیا — سفید کرتا، پاجامہ، ٹوپی، اوپر سے کالی صدری، ہاتھ میں عمدہ گھڑی اور جوتی ۔

عرش جب آئینے کے سامنے آیا تو یوں لگا جیسے سادگی نے خود کو وقار میں ڈھال لیا ہو — سفید کرتا، کالی صدری،

 سرمگیں آ نکھیں اور چہرے پر وہی معصوم تبسم۔

یوں لگتا تھا جیسے شرافت اور عشق نے ایک ہی پیکر میں جنم لے لیا ہو۔

اُس کی سادہ وجاہت میں ایسی دلکشی تھی کہ دیکھنے والا پہلی نظر میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔

اُدھر میریج ہال کی بالکنی میں روشی اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھڑی اُس کا انتظار کر رہی تھی۔

جب عرش کی گاڑی رکی، تو وہ پوری شان سے اندر داخل ہوا۔

روشی نے جیسے ہی اُسے دیکھا، دوڑتی ہوئی قریب آئی۔

عرش نے مسکراتے ہوئے سلام کیا اور گفٹ پیش کیا۔

آج تو روشی سرخ کپڑے میں حسن کی ملکہ لگ رہی تھی ﴿اسکی

 پیشانی کشادہ اسکی رنگت میں دودھ اور گلاب کی آمیزش تھی بال

 کالے تھے اور ذرا اُبھرے ہوئے پپوٹوں اور لمبی پلکوں کے نیچے

 کالے رنگ کی بڑی بڑی آنکھیں بلور کی طرح شفاف اور چمکدار تھیں

 ناک خوبصورت اور ذرا اوپر کی طرف اٹھتی ہوئی نوک اُسکے حسن

 کی دلکشی میں غیر معمولی اضافہ کر رہی تھی، اُسکے ہونٹوں میں ایک

 نیم واغنچے کی تازگی اور لطافت تھی اور دانت جو صرف بات کرتے


 وقت دکھائی دیتے تھے، موتیوں کی طرح چمکتے تھے لیکن مسکرانے


 کے لئے اسے چمکتے ہوئے موتیوں کی نمائش کرنے کی ضرورت نہ


 تھی، صرف ہونٹوں کی ایک ہلکی سی جنبش کے ساتھ اُسکے گالوں پر


 گڑھے پڑ جاتے آنکھیں چمک اٹھتی اور اُسکا چہرہ مسکراہٹوں سے


 لبریز ہو جاتا اور اُسکی آواز جسکی مٹھاس روح میں محسوس کی جا سکتی


 تھی﴾۔


عرش کے دل نے جیسے کہا — یہ لمحہ، یہ منظر، یہ چہرہ — سب کچھ زندگی


 کے برابر ہے۔


روشی نے عرش کو اپنی بہنوں سے ملوایا، سب بہت خوش ہوئیں۔


دوستوں کے گمان کے برعکس، روشی نے عرش اور اس کے دوستوں کا بہت خیال رکھا۔


وقفہ وقفہ سے آتی، پوچھتی، کچھ چاہیے تو نہیں؟


عرش نے مسکرا کر کہا، تمہاری مسکراہٹ سے بڑھ کر اور کیا چاہیے۔۔۔


کھانے کے وقت روشی کے بھائی نے خود کھانا کھلایا۔ کھانا نہایت لذیذ تھا۔


کھانے کے بعد روشی کے والد نے عرش کو اشارہ کیا۔


عرش آگے بڑھا، بات چیت ہوئی، مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ روشی کے والد ہیں۔


جب پتہ چلا تو ایک دم سنبھل کر رہ گیا، کاش پہلے معلوم ہوتا۔۔۔


رخصتی کا وقت آیا۔


مرشد نے اپنا کلام سنایا۔


عرش سٹیج کے سامنے بیٹھا روشی کو دیکھ رہا تھا — اور روشی بھی نظریں چرا نہ سکی۔


وہ ایک لمحہ ایسا تھا کہ دونوں کی خاموشیاں ہی ان کے دلوں کی گواہی دے رہی تھیں۔


آخر میں روشی کی والدہ سے ملاقات ہوئی۔


انہوں نے محبت سے کہا: بیٹا، آپ لوگ بہت اچھے لگے، پھر کبھی ضرور آئیے گا۔


عرش نے ادب سے سر جھکایا۔


اب رخصتی ہو چکی تھی۔


گاڑی چلی، اور عرش کی نظریں شیشے کے پار تکتی رہ گئیں


یہاں تک کہ وہ منظر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا 


مگر دل میں ایک تصویر ہمیشہ کے لیے نقش کر گیا۔

🌷حاصلِ سبق🌷

محبت اگر پاکیزہ نیت اور حلال جذبے سے ہو تو وہ انسان کو بگاڑتی نہیں، سنوار دیتی ہے۔

عرش اور روشی کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ تعلقات کی بنیاد صرف جذبات نہیں بلکہ احترام، دیانت، اور حیا پر ہونی

 چاہیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب دل کا رشتہ ایمان کی روشنی میں پرویا جائے تو وہ کبھی گمراہی نہیں لاتا، بلکہ انسان کو خود

 اُس کے رب کے قریب کر دیتا ہے۔

محبت کا سفر خوبصورت ہے، مگر صرف اُس وقت جب اس کی رہنمائی دل نہیں، ضمیر اور ایمان کر رہے ہوں۔
: بابِ اول 
: بابِ دوم 
: بابِ سوم 
: بابِ چہارم 

Saturday, October 25, 2025

💝جذبوں کی دنیا، ایمان کی سرحد

🌹داستانِ محبت 🌹


عتیق اللہ کلیم ✍️

بابِ چہارم: جذبوں کی دنیا، ایمان کی سرحد

عرش کئی دنوں سے روشی سے ساتھ ناشتہ کرنے کی خواہش دل میں دبائے ہوئے تھا، مگر ہر بار روشی کسی نہ کسی

 بہانے سے انکار کر دیتی۔ وہ نہایت محتاط مزاج کی تھی، جبکہ عرش کا دل چاہتا تھا کہ اس لمحے کو یادگار بنا لے۔

‎بالآخر ایک دن لکھنؤ یونیورسٹی کی لائبریری کے سامنے والے پارک میں، ہلکی ہوا کے جھونکوں کے درمیان، دونوں

 کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ بات ختم ہونے پر عرش نے ایک بار پھر روشی سے کینٹین چلنے کی فرمائش کی۔ روشی

 نے حسبِ عادت انکار کیا اور شوخی سے پلٹ کر بھاگنے لگی۔
‎عرش نے بے خیالی میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔

‎ایک پل کو وقت تھم سا گیا۔۔

‎دونوں کے بدن میں جیسے بجلی سی دوڑ گئی

‎آنکھیں چندھیا گئیں، اور پھر عرش نے گھبرا کر ہاتھ چھوڑ دیا۔
‎کچھ دیر بعد دونوں کینٹین پہنچے۔ عرش نے روشی کے فون پر کھانے کی فہرست بھیجی۔

‎روشی نے فنگر فرینچ منگوائے، اور عرش نے چاٹ۔

‎دونوں بیٹھے، نرم گفتگو میں گم ہو گئے۔

‎روشی نقاب میں تھی — مگر وہ نقاب کیا تھا؟ ایک ریشمی بادل، جو چاند کی شرمیلی مسکراہٹ کو اپنے دامن میں

 چھپائے ہوئے تھا۔

‎روشنی اُس کے گرد یوں پگھل رہی تھی جیسے چاندنی نے ہوا کے ہاتھوں میں خود کو سپرد کر دیا ہو۔

‎عرش نے اُس کی طرف دیکھا، اور دنیا جیسے ٹھہر گئی۔

‎اُس کی مخمور آنکھوں میں ایسا سکوت، ایسا نشہ، ایسا جادو تھا کہ عرش بھی اپنی رفعت بھول جائے۔

‎یوں محسوس ہوا جیسے آسمان اپنی بلندی سے اتر کر اُس کی نگاہوں میں پناہ تلاش کرنے لگا ہو۔
‎نقاب کے پیچھے وہ روشنی، وہ چمک، وہ خاموش مسکراہٹ — سب کچھ کہہ گئی، بغیر کچھ کہے۔

‎اور عرش؟
‎عرش تو بس ایک مسحور سا خواب بن کر اُس کی آنکھوں میں گم ہو گیا۔

: ‎عرش نے بوتل سے پانی لیا، اور مسکرا کر کہا

‎اب تو پانی بھی میٹھا لگنے لگا ہے، شاید تمہارے ہونٹوں کی تاثیر ہے۔

‎روشی شرما گئی، مگر کچھ نہ بولی۔
‎کھانے کے بعد عرش نے جیب سے وہ انگوٹھی نکالی جو کئی دنوں سے وہ اپنے ساتھ لیے پھرتا تھا۔

‎نہ جانے کیوں، ہر ملاقات میں موقع نہیں ملا تھا۔

‎اس نے دھڑکتے دل سے وہ انگوٹھی روشی کے ہاتھ میں رکھ دی۔

‎خود سے پہنا نہ سکا— وہ اتنا شرمیلا تھا۔

‎انگوٹھی ذرا بڑی تھی، مگر روشی کے لبوں پر تبسم تھا۔

‎اتنی مہنگی انگوٹھی کی کیا ضرورت تھی؟ اُس نے کہا۔

‎عرش نے حیرت سے افسوس بھرے لہجے میں جواب دیا: تمہاری اُنگلی اتنی پتلی اور نازک ہے کہ انگوٹھی بھی خود کو

 اجنبی سا محسوس کرے۔

‎ چلو، اگلی بار بالکل مناسب لاؤں گا — تمہارے لیے، تمہاری طرح
‎اُس دن روشی کو گاڑی پر بٹھا کر عرش سائیکل سے لوٹ گیا— دل میں عجب سکون اور بےچینی لیے۔
‎‎🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

‎ایک دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔

‎اردو ڈیپارٹمنٹ کے سامنے عرش روشی کا انتظار کر رہا تھا۔

‎فضا میں نرمی اور ہوا میں وہ مٹھاس تھی جو کسی نغمے کے آغاز سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔
‎چند لمحوں بعد روشی کلاس سے نکلی، اس کی نظر عرش پر پڑی، اور وہ مسکرا دی۔

‎عرش نے آگے بڑھ کر خاموشی سے اس کا بیگ تھام لیا۔

‎بارش کی بوندیں ان دونوں کے درمیان کسی ان کہی بات کی مانند جھوم رہی تھیں۔
‎رومی نغمے کی طرح وہ دن بھی یادوں کی دھن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

‎روشی نے شوخی سے پانی کے چھپڑوں پر پاؤں مارے، بوندیں اڑ کر عرش کے کپڑوں تک جا پہنچیں۔

: ‎عرش نے مسکرا کر کہا

‎“میرے کپڑے تو تم بھگا چکی ہو، اب دھوؤ گی بھی تم ہی؟”
‎روشی نے ہونٹوں پر آتی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کی۔

‎اور بارش کے سنگ وہ لمحہ ہمیشہ کے لیے ان دونوں کی یادوں میں بھیگ گیا۔
‎‎🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

‎دن گزرتے گئے، اور عرش نے ایک بار پھر ساتھ کھانے کی خواہش ظاہر کی۔

‎کافی منانے کے بعد روشی تیار ہوئی۔

‎دونوں یونیورسٹی سے باہر نکلے۔

‎عرش نے کہا، “چلو کسی اچھے ریسٹورینٹ میں چلتے ہیں۔”
‎لیکن روشی گھبرا گئی۔

‎“آپ پہلے اندر جاؤ، ویڈیو کال کرو، میں دیکھوں گی پھر آؤں گی۔”

‎آخر روشی کسی وجہ سے اندر آنے کو تیار نہیں ہوئی۔

‎دونوں نے باہر ہی آئس کریم لی۔۔۔ 

‎عرش کے پاس اُس دن پیسے نہ تھے، اس نے پہلے ہی اپنے دوست ساحل سے کہا تھا

جب میں میسج کروں بھیجوں فوراً پیمنٹ کردینا 

‎مگر روشی کو اندازہ ہو گیا، اور اس نے فوراً اپنے ہاتھ سے پیسے دے دیے۔

: ‎عرش کو شرمندگی ہوئی، مگر روشی نے کہا

میں نے دیدیا تو کیا ہوگیا، اب ہر بار تم ہی کھلاؤ گے اچھا نہیں لگتا
‎واپسی میں رکشہ خالی تھا۔

‎عرش نے وہی انگوٹھی، جو چھوٹی کروائی تھی

‎روشی کے ہاتھ میں رکھ دی۔

‎اس بار بالکل مناسب تھی۔

‎روشی نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر ہلکا سا ہاتھ مارا

‎اور کہا، اب یہ بلکل ٹھیک ہے۔

‎عرش کا دل جیسے پگھل گیا۔

‎وہ ضد کر رہا تھا کہ گھر تک چھوڑوں گا

‎مگر روشی نے منع کر دیا۔

‎عرش رکا، دیکھا، اور پھر دھیرے دھیرے لوٹ گیا 

‎ساتھ بس وہ لمحے، وہ ہنسی، وہ احساس

‎جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔

 🌿 ‎حاصلِ سبق 🌿


‎محبت میں جذبہ ہونا فطری ہے، مگر ایمان کی سرحدیں کبھی نہیں بھولنی چاہییں۔


‎جذبات اگر ایمان کے تابع ہوں تو محبت عبادت بن جاتی ہے،


‎اور اگر سرحد سے باہر نکل جائے تو انسان بھٹک جاتا ہے۔

‎عرش اور روشی دونوں نے سچائی اور احساس کا مظاہرہ کیا،


‎مگر اُن سے لغزش بھی ہوئی — کیونکہ جوانی میں دل جلد بہک جاتا ہے۔


‎یہی سبب ہے کہ اسلام نے نگاہ، لمس، اور خلوت کی سختی سے ممانعت کی ہے۔

‎محبت اگر نکاح کے دائرے میں ہو تو رحمت ہے

‎ورنہ آزمائش۔

‎اللہ تعالیٰ ہمیں وہ محبت عطا کرے جو پاکیزگی، صبر، اور عزت کے دائرے میں ہو۔

‎اور معاشرے کے لیے سبق یہ ہے کہ —


‎محبت جرم نہیں، لیکن اس کی حدود متعین ہیں۔


‎ایمان سے بڑی کوئی محبت نہیں۔


‎ایسے معاشرے کی بنیاد تب ہی مضبوط ہو سکتی ہے جب نوجوان اپنی خواہشات پر لگام ڈال کر اپنی محبت کو نکاح

 کے مقدس بندھن تک محفوظ رکھیں۔

‎ 

Sunday, October 19, 2025

کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے💓

🌹داستانِ محبت 🌹




عتیق اللہ کلیم ✍️

 بابِ سوم: کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے

اگر آپ نے اس داستان کا پہلا اور دوسرا باب نہیں پڑھا تو توقف کیجیے — کیونکہ یہ باب اُس کے جذباتی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔
: بابِ دوم ملاحظہ ہو 

شام کی ہوا میں ہلکی سی خنکی گھلی ہوئی تھی۔ حسبِ معمول عرش اور روشی واٹس ایپ پر باتوں میں مگن تھے۔ عرش اپنے دوست ساحل کے ساتھ پیزا کھا رہا تھا کہ شرارتاً ایک تصویر کھینچی اور روشی کو بھیج دی۔

روشی نے مسکرا کر کہا، "آپ اکیلے ہی کھا رہے ہیں؟ میں بھی کھاؤں گی

عرش نے بے ساختہ جواب دیا، ٹھہرو، میں آن لائن آرڈر کر دیتا ہوں۔


چند لمحوں میں آرڈر دے دیا گیا، مگر جب ڈیلیوری بوائے پہنچ گیا— تو بس گھر سے دس قدم باہر جانا تھا۔

مگر روشی نے ہچکچاتے ہوئے کہا : نہیں، میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔ آپ آرڈر کینسل کر دو۔

آرڈر تو کینسل نہ ہوا، مگر پیسے ضرور ضائع ہو گئے۔

اگلے دن عرش نے دل میں عزم کیا کہ آج روشی کو پیزا ضرور کھلا کر رہوں گا

نمازِ عصر کے بعد وہ اپنے وفادار دوست ساحل کے ساتھ بائیک پر روانہ ہوا۔

رستہ انجانا تھا، اس لیے گوگل میپ کا سہارا لیا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا — کئی چکر کاٹنے کے بعد آخرکار وہ روشی کے محلے پہنچ ہی گئے۔

قریب ہی سے پیزا پیک کروایا اور مسجد کے سامنے کھڑے ہو کر روشی کو کال کی

تمہارا ڈیلیوری بوائے پہنچ گیا ہے، جا کر پیزا لے لو

روشی کو علم نہ تھا کہ ڈیلیوری بوائے کوئی اجنبی نہیں، بلکہ وہی دیوانہ ہے جو اُس کے لیے دل کا پیزا سینک لایا ہے۔


روشی نے سادگی سے کہا : ٹھیک ہے، میں ابو سے کہتی ہوں وہ لے آئیں گے۔

بس یہ سنتے ہی عرش کے اوسان خطا ہوگئے، اور ساحل تو گھبرا کر فوراً بائیک دوڑا لے گیا

یار، مجھے کال کر لینا، میں پٹنے کے لیے نہیں آیا


.....مگر عرش ٹھہر گیا، محبت کا اسیر، دیوانہ

: اس نے جلدی سے روشی کو میسج کیا

براہ کرم ابو کو نہ بھیجو، وہ ڈیلیوری بوائے کوئی اور نہیں… میں خود ہوں۔ میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔


یہ پڑھتے ہی روشی کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی

آپ خود مار کھائیں گے اور مجھے بھی کھلوائیں گے؟ اچھا رکو، میں ہی آتی ہوں ورنہ آپ مار کھا جاؤ گے


روشی نے دروازے پر بہن کو پہرہ دینے کے لیے کھڑا کیا اور خود بھاگتی ہوئی آئی۔

سلام کیا، تیزی سے پیزا لیا، اور بجلی کی طرح واپس اندر غائب ہو گئی۔

عرش اپنی محبوبہ کو دیکھ بھی نہ سکا جس کے لیے اتنی دور سے آیا تھا۔

ایک لمحے کی دید کے لیے تڑپتا رہ گیا۔


عرش کے دل میں عجب سا سکون اور اداسی دونوں جمع ہو گئے 

سکون، اس بات کا کہ وہ اپنی چاہت کو خوشی دے سکا

اور اداسی اس بات کی کہ اُس کی دیدارِ یار کی حسرت ادھوری رہ گئی۔


رات گہری ہو چکی تھی۔ دونوں دوست واپسی کے سفر پر تھے۔ راستے میں روشی برابر کال کرتی رہی

پہنچ گئے نا؟ ٹھیک ہیں نا؟

اور تب جا کر دلوں کو قرار آیا۔


لیکن اگلی صبح ایک نئی مصیبت انتظار میں تھی 

ساحل کو اپنے بھائی کے دوستوں کی ڈانٹ سننی پڑی۔

گاڑی وہ کسی اور بہانے سے لے گیا تھا، اور جب راز کھلا، تو اعتبار ہی اٹھ گیا۔

جو کل تک ایک کہنے پر گاڑی دے دیتے تھے، اب پوچھ گچھ کرنے لگے۔


ساحل نے سب برداشت کیا، مگر دوستی

 نبھائی۔

: وہ نہ روٹھا، نہ بدلا، بس مسکرا کر کہا

دوست کے لیے تو اس سے قربانیاں دے سکتا ہوں ۔


✨ حاصلِ سبق


محبت کے سفر میں صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا

اس کے لیے حوصلہ، صبر، قربانی اور سب سے بڑھ کر ایمان کی روشنی ضروری ہے۔

سچی محبت وہ نہیں جو زبان سے کہی جائے

بلکہ وہ ہے جو عمل سے، دعا سے، اور دل کی پاک نیت سے ظاہر ہو۔


عرش نے یہ بات ثابت کر دی کہ جب دل میں خلوص ہوتا ہے تو

فاصلہ، تھکن، خطرہ — کچھ بھی انسان کو روک نہیں سکتا۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ دونوں علمِ دین کے طالب ہونے کے باوجود

اس کمزوری میں مبتلا ہوئے جو شیطان کا سب سے پرانا ہتھیار ہے۔


: قرآن نے فرمایا

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ

(شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا۔)

جب آدمؑ جیسے نبی سے لغزش ہو سکتی ہے تو عام انسان کیسے محفوظ رہیں۔

مگر فرق یہ ہے کہ اہلِ ایمان توبہ کر لیتے ہیں

اور یہی توبہ انسان کو گناہ سے بلند کرتی ہے۔


عرش نے ابتدا ہی سے نیت نکاح کی رکھی

اس لیے اس کی محبت میں حیاء اور حد کا احساس باقی رہا

اور یہی احساس اُس کے ایمان کی علامت ہے۔


: جہاں تک ساحل کی بات ہے

تو اُس نے دوستی کی مثال قائم کر دی 

خطا میں شریک بھی ہوا، مگر سنبھالنے والا بھی وہی بنا۔

یہی دوستی کا امتحان ہے۔


: اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا

المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالل

آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ کس کو دوست بنا رہا ہے۔


پس سبق یہی ہے کہ محبت ہو یا دوستی — دونوں میں ایمان، نیت اور ذمہ داری کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔



Friday, October 17, 2025

داستانِ محبت🌹 بابِ دوم: جام میرا توبہ شکن، توبہ میری جام شکن

🌹داستانِ محبت🌹



عتیق اللہ کلیم ✍️

بابِ دوم: جام میرا توبہ شکن، توبہ میری جام شکن 


اگر آپ نے اس داستان کا پہلا باب نہیں پڑھا تو توقف کیجیے — کیونکہ یہ باب اُس کے جذباتی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔

: بابِ اوّل ملاحظہ ہو

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/10/blog-post.html


عرش کے دل میں اب ایک نیا موسم اتر چکا تھا۔ مختصر مگر گہرے لمحوں نے روشی کے لیے اُس کے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا کر دیا تھا۔ ہر صبح وہ پہلے سے زیادہ سنور کر، بہتر لباس پہن کر، خود کو عمدہ عطر سے معطر کر کے یونیورسٹی جاتا۔ مگر اس کا اصل مقصد علم نہیں، روشی کا ایک دیدار تھا۔

رابطہ بڑھا، مگر عرش کی دیانتِ ایمانی نے ایک لکیر کھینچ دی تھی۔

: وہ کہتا


اگر میں میسج سے بات کروں گا تو شاید گناہ ہلکا ہو جائے، لیکن آواز میں مٹھاس سن کر… شاید دل اور بھی بہک جائے۔


یوں وہ صرف تحریر کی حد تک رشتہ قائم رکھے ہوئے تھا۔


جمعرات کا دن تھا۔ چھٹی کے بعد اچانک دل میں خیال آیا —

کیا بہتر نہیں کہ میں کچھ وقت کے لیے دعوت و تبلیغ میں چلا جاؤں؟ شاید دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔


شام میں وہ رفقا کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ جمعہ کے دن اُس نے بیان بھی دیا — ایمان کی گرمی الفاظ میں محسوس ہو رہی تھی۔ نمازِ جمعہ کے بعد جب اُس نے ہاتھ اٹھائے، تو آنکھوں سے سیلاب بہہ نکلا۔ دل کی گہرائیوں سے توبہ کی صدا اٹھی 

یا اللہ! مجھے معاف کر دے… میں خود گناہ میں پڑا ہوں، اور تیری باتوں کا مبلغ بنا بیٹھا ہوں


اُسی لمحے اس نے عزم کر لیا —

“بس! اب میں روشی سے بات نہیں کروں گا۔”


مدرسے واپسی پر دل کو قرار تھا، مگر خاموشی کے اندر کوئی خلا جنم لے چکا تھا۔ دو دن بیت گئے۔ تیسری شام دل کا طوفان قابو سے باہر ہو گیا۔ اس نے اسٹیشن کے قریب بیٹھ کر روشی کا نمبر ملایا۔

فون بجا — اور جیسے ہی کال ملی، الفاظ لبوں سے پھسل گئے، 

آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے


روشی… مجھے معاف کر دو… میں تم سے بات نہیں کر سکتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ مجھ سے اپنی توفیق چھین نہ لے


روشی سن رہی تھی — خاموش، مگر دل سے۔ وہ بھی ایک عالمہ تھی، اُس کے ایمان نے بھی جواب میں نرمی پیدا کی


ٹھیک ہے… مت بات کیجیے، میں بھی آپ کو معاف کرتی ہوں۔


عرش نے فوراً اُسے بلاک کر دیا۔ دل مطمئن ہوا… مگر وقت گزرتے ہی وہی دل بے چین ہونے لگا۔

دو دن کے بعد ضبط نے ہار مان لی۔

اس نے پیغام بھیجا


“السلام علیکم… کیسی ہو؟”

جواب آیا

“الحمدللہ، آپ کیسے ہو؟”

“میں بھی ٹھیک ہوں”


روشی نے چُپ توڑی


“آپ نے تو مجھے بلاک کر دیا تھا، پھر کیا ہوا؟”

ہاں، جوشِ ایمانی میں کر دیا تھا… مگر اب تمہاری یاد برداشت نہیں ہوتی۔ میں تم سے واقعی محبت کرتا ہوں۔


روشی نے لمحہ بھر توقف کیا، پھر گویا ہوئی


میں جانتی ہوں… لیکن میں ویسی نہیں ہوں۔ اور ابھی آپ بات کر رہے ہو، کل پھر آپکا ایمان جاگ جائے گا اور مجھے بلاک کر دو گے۔


عرش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا


کیا کروں، سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔ سنبھلنے میں وقت لگ رہا ہے


یوں باتوں کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا۔

کلاسیں، یونیورسٹی، دعائیں، نظریں — سب اسی کشش میں بندھتے گئے۔


اور روشی

روشی تو گویا حسن کا پیکر تھی —

آنکھیں، جیسے نیلے آسمان پر بادل کا سایہ

ہونٹ، گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی نرم

دانت، چمکتے ہیروں کی طرح شفاف

اور آواز… ایسی کہ سننے والا لمحوں میں خود کو بھول جائے۔


عرش کے دل میں ایمان اور عشق کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ چکی تھی —

ایک طرف توبہ تھی ،جو جام شکن تھی

اور دوسری طرف روشی تھی —

جو توبہ شکن تھی۔

🌿 حاصلِ سبق 🌿

توبہ وہ چراغ ہے جو دل کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے، لیکن اگر دل دوبارہ خواہش کے بادلوں میں گھِر جائے تو وہ چراغ مدھم پڑنے لگتا ہے۔


ایمان کی حفاظت سب سے بڑی جدوجہد ہے۔ عرش نے توبہ تو کرلی، مگر دل کے کسی کونے میں روشی کی یاد باقی رہی، یہی یاد انسان کو دوبارہ آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔


محبت اور ایمان کا تعلق نازک ہے۔ اگر محبت ایمان کے تابع رہے تو نور بنتی ہے، اگر ایمان محبت کے تابع ہو جائے تو گناہ۔


گناہ کا احساس خود ایک نعمت ہے۔ جو شخص اپنے گناہ پر شرمندہ ہے، وہ اب بھی اللہ کے قریب ہے۔


 انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانے، ان سے بھاگے نہیں بلکہ اللہ سے مدد مانگے — کیونکہ ہدایت کا سفر صبر سے گزرتا ہے۔



“جو اپنی کمزوری پہ رو پڑا، وہی مضبوط ایمان والا ہے۔”


اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ عرش اور روشی کی کہانی آگے کیا رخ اختیار کرتی ہے — تو نیچے کمنٹ میں ضرور لکھیں

"ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آگے کیا ہوا" 💬

 

Thursday, October 16, 2025

ایک سچا اور دلچسپ واقعہ

 🌸 داستانِ محبت


عتیق اللہ کلیم ✍️

‎باب اوّل: سفرِ علم سے عشق تک

یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں ہے — 2024 کی بات ہے۔

‎ایک لڑکا، عرش، علم کے حصول کے لیے اپنے وطن سے بہت 

دور لکھنؤ کے سفر پر نکلا۔
‎دل میں خواب، آنکھوں میں عزم، اور ذہن میں صرف ایک مقصد 

— علم کی طلب۔

‎عرش نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی ایک شاخ میں داخلہ لیا۔

‎بارہویں جماعت مکمل ہو چکی تھی، اور اب وہ بی۔اے کے لیے

 لکھنؤ یونیورسٹی میں انٹرنس امتحان پاس کرکے داخلہ پا چکا تھا۔

عرش نہایت شریف، سادہ دل اور متواضع طبیعت کا مالک تھا۔

‎مدرسہ میں اُس کا دوست ساحل بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ لے چکا تھا۔

‎دونوں اکٹھے کلاسوں میں جانے لگے۔

‎پہلے ہی دن کلاس میں ساحل، جو ذرا شوخ مزاج لڑکا تھا

‎سامنے بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھ کر مسکرا اٹھا۔

: ‎چپکے سے عرش سے کہنے لگا

‎ "اس لڑکی سے بات مت کرنا، یہ مجھے پسند آگئی ہے۔"
‎‎
‎عرش نے مسکرا کر بات کو ٹال دیا 

‎وہ ایسا نہیں تھا جو ان باتوں میں پڑتا۔

‎دوسرے دن جب وہی لڑکی آئی تو اس نے چشمہ لگائی ہوئی تھی۔

: ‎ساحل فوراً بولا

 "اب مجھے چشمے والی لڑکیاں پسند نہیں"
‎‎
: ‎اور چند ہی لمحوں بعد وہی ساحل عرش کو چیلنج دیتا ہے

‎ "تم تین دن میں اس لڑکی سے بات کر کے دکھاؤ"
‎‎
‎عرش کو یہ بات ناپسند تو تھی، مگر اُس کے دل میں کوئی بُرا ارادہ نہیں تھا۔
‎بس ایک تجسس — کہ دیکھیں بات کہاں تک پہنچتی ہے۔

‎کلاس کے واٹس ایپ گروپ میں اُسی لڑکی کا نمبر دیکھا تو

‎عرش نے چپکے سے محفوظ کر لیا۔

‎اُس نمبر پر نام “مرزا” لکھا ہوا تھا۔

‎شام کو جب وہ مدرسے لوٹا، دل میں ایک ہلکی سی دھڑکن کے ساتھ

 اس نے میسج کیا‎

‎ "السلام علیکم، آپ مرزا بھائی؟"

: ‎جواب آیا‎

 "نہیں، میں لڑکی ہوں۔"‎

: ‎عرش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا

‎ اوہ، میں پہچان نہیں پایا۔ ویسے پہچانوں بھی کیسے؟ میں تو دو دن ہی کلاس گیا ہوں۔

: ‎جواب آیا

‎ "میں نقاب میں آتی ہوں۔"

: ‎عرش نے چالاکی سے کہا

‎ "نقاب میں تو بہت سی لڑکیاں آتی ہیں، آپ کو کیسے پہچانوں؟"‎‎
: ‎لڑکی‎
‎"میں چشمے والی ہوں۔"
‎‎
‎عرش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی 

‎دل میں ایک نرم سا احساس جاگا۔

‎ اچھا، میں پہچان گیا۔ سچ کہوں تو آپ کو حسنِ یوسف سے حصہ ملا ہے۔
‎‎
: ‎لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا

‎ "اتنی بھی خوبصورت نہیں ہوں۔"
‎‎
: ‎عرش نے لکھا‎
‎ "ایسی بات نہیں، جو بھی آپ کو دیکھے، ایک نظر میں فدا ہو جائے گا۔
‎ویسے آپ کا نام جان سکتا ہوں؟
‎‎
: ‎لڑکی‎
‎ "جی۔۔۔ روشی۔"
‎‎
: ‎عرش نے شوخی سے لکھا

‎میں نے گوگل پر آپ کو بہت تلاش کیا، آپ کہیں ملی نہیں، کہاں رہتی ہیں آپ؟‎‎

: ‎روشی نے ہنستے ہوئے جواب دیا

‎ "میں آسمان میں۔ 😂"
‎‎
: ‎عرش

‎ "اس تاروں کے شہر کا نام جان سکتا ہوں؟"
‎‎
: روشی ‎
‎"جی، دوبگا۔"
‎‎
‎یوں دونوں میں باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔

‎وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہا۔

‎عرش کو محسوس ہوا کہ یہ لڑکی عام نہیں۔

‎نقاب کے پیچھے چھپی آنکھوں میں ادب، سادگی اور ایک انوکھی

 معصومیت تھی۔

‎چشمے کے شیشوں کے پیچھے خاموش روشنی — جو دیکھنے والے کو اپنی

 طرف کھینچ لیتی تھی۔


: ‎عرش نے دیر نا کرتے ہوئے لکھا‎

‎دیکھو، میں ادھر اُدھر کی باتیں نہیں کرتا، بات صرف اتنی ہے کہ 

تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔

‎کیا تم مجھ سے نکاح کروگی؟‎

‎روشی چونک گئی۔

‎ "اللہ... ابو کاٹ نہیں دیں گے اگر محبت میں شادی کی تو۔"
‎‎
: ‎عرش نے نرمی سے کہا

‎ شادی تو والدین ہی کریں گے، میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں  کیا 

تمہیں میں پسند ہوں یا نہیں؟

: ‎روشی نے دیر بعد جواب دیا

‎تم اچھے لڑکے ہو، لیکن اتنی دور شادی نہیں ہوگی۔

‎میرے گھر والے کاسٹ بھی دیکھتے ہیں۔

: ‎عرش نے دل تھام کر کہا‎

‎میں تو تمہارے کاسٹ کا نہیں، مگر تم تو عالمہ ہو ‎جانتی ہو نا، اسلام 

میں کاسٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔

: ‎روشی ‎
‎ہاں، پر آج کل کے لوگ یہی دیکھتے ہیں۔

‎مجھے معاف کرو، میں مجبور ہوں۔

‎تمہیں جو بھی لڑکی ملےگی، وہ اچھی ہی ہوگی۔

‎ہاں تم مجھ سے فرینڈلی بات کر سکتے ہو

‎لیکن یاد رکھنا — مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوگی۔
‎‎
‎عرش نے خاموشی سے فون بند کر دیا۔

‎اس کے لیے یہ سب خواب جیسا تھا 

کیا کہانی یہیں ختم ہوگئ، کیا وہ دونوں ہمیشہ کے لیے جدا ہوگۓ، آخر 

کیا ہو، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو کمینٹ کریں۔


📖 حاصلِ سبق — بابِ اوّل

کہانی کے اس باب سے چند اہم اسباق اور نکات حاصل ہوتے ہیں

 انسان کو اپنے مقصدِ زندگی سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر وہ دنیوی

 لہو و لعب اور وقتی جذبات میں الجھ جائے تو آہستہ آہستہ اسی کا 

عادی بن جاتا ہے، اور اپنے اصل ہدف — یعنی علم، عمل اور تعمیرِ ذات — سے بھٹک جاتا ہے۔

دین کا صحیح فہم انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ جس طرح عرش 

نے دنیاوی دوستی یا جذباتی تعلق کے بجائے نکاح کی پیش کش کی، یہ
 اس بات کی علامت ہے کہ علمِ دین انسان کے فیصلوں کو پاکیزگی بخشتا ہے۔

 مسلم معاشرے کی ایک بڑی کمزوری “کاسٹ پرستی” ہے۔ نکاح

 کے معاملے میں اکثر والدین دینداری کے بجائے ذات پات 

کوترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اسلام نے اس نظریے کو مکمل طور پر ردکیا

 ہے۔ یہ دراصل ہندو معاشرت سے آیا ہوا اثر ہے، جس نےمسلم

 سوسائٹی کی سادگی کو مسخ کر دیا ہے۔

: نبی کریم ﷺ نے فرمایا

تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا

فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ

(متفق علیہ)
: یعنی عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے

 مال،حسب و نسب، حسن اور دین۔ پس تم دیندار عورت کو

 ترجیح دو، یہی کامیابی کی علامت ہے۔

 اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ کاسٹ کا دینِ اسلام سے کوئی

 تعلق نہیں۔ نکاح کے فیصلے میں دینداری، اخلاق اور خاندان کی

 نیک شہرت کو معیار بنانا چاہیے، نہ کہ سماجی رُتبے یا نسبی تفریق کو۔


:  خلاصۂ کلام

کامیاب زندگی اسی کی ہے جو اپنے مقصد سے غافل نہ ہو، علم کے ساتھ عمل کو جوڑے، اور دین کی روشنی میں اپنے فیصلے کرے۔
: بابِ دوم  ملاحظہ ہو

پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...