بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم رحمۃ اللعالمین (از : قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری) کے منتخب اقتباسا ت
( قسط اول:( ص: 1 تا 80
تمہید
رحمۃ للعالمینؐ کے مطالعے سے حاصل شدہ نکات
ذات مبارک صلی اللہ علیہ وسلم میں نوح کی سی گرمی، ابراہیم جیسی نرم دلی، یوسف کی سی درگزر، داؤد کی سی فتوحات، یعقوب کا سا صبر ،سلیمان کی سی سطوت، عیسی کی سی خاکساری، یحیی کا سا زہد ،اسماعیل کی سی سبک روحی کامل ظہور بخش تھی۔
خورشید رسالت میں اگرچہ تمام مقدس رنگ موجود تھے لیکن ” رحمتہ اللعالمینی“ کا وہ نور تھا جس نے تمام رنگتوں کو اپنے اندر لے کر دنیا کو ایک برگزیدہ و چیدہ روشنی سے منور کر دیا ہے، ذرہ بے مقدار کی کیا تاب کہ خورشید عالم افروز کی جلوہ نمائی میں آئینہ داری کرے ۔
: حسان بن ثابت کا شعر ہے
وشق له من اسمه ليجله
فذو العرش محمود وهذا محمد
،واضح ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد سے خاص مناسبت ہے حضور کا نام محمد و احمد ہے، اور حضور کے مقام شفاعت کا نام محمود ہے، امت محمدیہ کا نام حمادون ہے۔
ہمارے نبیﷺ موسمِ بہار میں دو شنبہ ( پیر) کے دن 9 ربیع الاول 1 عام الفیل مطابق 122 اپریل 571 ہے مُطابق یکم جیٹھ 628 بکرمی کو مکّہ معظمہ میں بعد از صبح صادق و قبل از طلوع نير عالم تاب پیدا ہوئے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں دوشنبہ کا دن خصوصیت رکھتا ہے، ولادت ،نبوت، ہجرت، وفات سب اسی دن ہوئی ہیں ۔
،سب کا اتفاق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دوشنبہ کو ہوا چونکہ دو شنبہ کا دن نو ربیع الاول کے سوا کسی اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے نو ربیع الاول ہی صحیح ہے، تاریخ دول العرب والاسلام میں محمد طلعت بک نے بھی نو ربیع الاول ہی کو صحیح قرار دیا ہے۔
بحیرہ راہب کی ملاقات کی داستان ناقابل اعتبار ہے ۔
پادری صاحبان نے اتنی بات پر کہ بحیرہ نصرانی ملا تھا یہ شاخ و برگ اور بھی لگا دیے کہ 40 سال کی عمر کے بعد جو تعلیم آپ نے ظاہر کی تھی، وہ اس راہب کی تعلیم کا اثر تھا ،میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے تثلیث اور کفارہ کا رد مسیح کے سلیب پر جان دینے کا بطلان، اس راہب کی تعلیمی سے کیا تھا، تو اب عیسائی اپنے اس بزرگ کی تعلیم کو قبول کیوں نہیں کرتے۔
غار حرا کا طول چار گز ،عرض پونے دو گز تھا ۔
امام طبری نے نزول قران کی تاریخ 17 یا 18 رمضان روایت کی ہے چونکہ 18 رمضان ایک نبوت کو یوم جمعہ تھا ( بمطابق ١٧اگست ٦١٠ء) اس لیے نزول قران مجید شب جمعہ 18 رمضان کو تھا۔
انسانی آزادی وہ ہے جو قانون اور مذہب کی پابندی کے تحت میں ہر شخص کو حاصل ہے اور حیوانی آزادی وہ ہیں جو قانون اور مذہب کے اثر کو باطل ٹھہرا کر حاصل ہوئی ہو۔
یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔۔۔
نوٹ: یہاں ان اقتباسات کو ارسال کیا جا رہا ہے جو عام طور پر دوسری کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں ۔





