Thursday, July 31, 2025

قرآن مجید: انسانیت کے لیے ہدایت کی کتاب

قرآن مجید: انسانیت کے لیے ہدایت کی کتاب




عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے زندگی گزارنے کے لیے عقل و شعور عطا کیا۔ مگر عقل تنہا راہِ حق کی طرف مکمل رہنمائی نہیں کر سکتی، اس لیے اللہ نے اپنے انبیاء و رسل کے ذریعے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں تاکہ انسان سیدھا راستہ اختیار کرے۔ ان ہی الہامی کتابوں میں سے آخری اور کامل کتاب قرآن مجید ہے جو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نجات کا ذریعہ ہے۔

: قرآن مجید کا تعارف

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے، جو حضرت محمد ﷺ پر 23 برسوں میں نازل ہوا۔ یہ کتاب نہ صرف عقائد اور عبادات کی تعلیم دیتی ہے بلکہ زندگی کے ہر پہلو — انفرادی، اجتماعی، اخلاقی، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی — کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًى لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَى وَالْفُرْقَانِ" (البقرہ: 185)

ترجمہ: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح نشانیاں رکھتا ہے اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔


: قرآن مجید کی ہدایت کا دائرہ

:  روحانی ہدایت


قرآن انسان کے دل و دماغ کو تسکین دیتا ہے، اسے اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے اور روحانیت کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔

 أَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد: 28)

ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔


: اخلاقی ہدایت


قرآن سچائی، دیانت، عفو و درگزر، صبر، انکساری اور عدل جیسے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ معاشرے کو ظلم، جھوٹ، فریب، حسد اور نفرت سے پاک کرنے کا پیغام دیتا ہے۔


:  سماجی و معاشرتی ہدایت


قرآن خاندان، معاشرے اور ریاست کے قیام میں عدل و مساوات، حسن سلوک، عورتوں کے حقوق، یتیموں کی کفالت، غرباء کی مدد، اور پڑوسیوں سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔


: قانونی و سیاسی ہدایت


قرآن ایک منصفانہ اور بامقصد نظام حکومت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ حاکم کو رعایا کا خادم قرار دیتا ہے اور ظلم و استبداد کی مخالفت کرتا ہے۔


: قرآن کی ہدایت کی جامعیت


قرآن مجید کسی مخصوص قوم یا علاقے کے لیے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے
 تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

ترجمہ:  اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔


: سائنسی و فطری حقائق


قرآن میں موجود بہت سے سائنسی حقائق جیسے کائنات کا ارتقاء، انسانی جنین کی تشکیل، پہاڑوں کا کردار، پانی کا چکر وغیرہ ایسے حقائق ہیں جنہیں جدید سائنس نے حال ہی میں دریافت کیا، جب کہ قرآن نے ان کا ذکر چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن صرف مذہبی کتاب نہیں، بلکہ علم و شعور کی ابدی روشنی ہے۔


: عصرِ حاضر میں قرآن کی ضرورت


آج کا انسان سائنسی ترقی کے باوجود روحانی اور اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ مادہ پرستی، لالچ، فساد، جنگیں، بے راہ روی اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ جیسی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ ایسے میں قرآن ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو سکون، عدل، رحم اور فلاح کی راہ دکھا سکتا ہے۔


: نتیجہ

قرآن مجید انسانیت کے لیے اللہ کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کے ہر انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔ جو بھی خلوص نیت سے اس کتاب کو پڑھے گا اور اس پر عمل کرے گا، وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوگا بلکہ آخرت میں بھی نجات پائے گا۔


یہ کتاب وہ ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگاروں کے 

لیے(البقرہ: 2)

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post_27.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/blog-post_18.html




Monday, July 28, 2025

مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف

مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف 




عتیق اللہ کلیم ✍️

: مسلم پرسنل لا کا مطلب 

مسلم پرسنل لا کے لفظ کے پس منظر میں دو بڑی بنیاد غلط فہمیاں راہ پاگئیں ہیں ، ایک تو خود لفظ” پرسنل“ ہی غلط فہمی کی بنیاد بن جاتی ہے ، جو مذہب کے شخصی اور ذاتی تصور سے پھوٹا ہے، جس کے مطابق مذہب فرد کا پرائیوٹ معاملہ ہے دوسرے لفظ” مسلم“ کی  پیدا کردہ غلط فہمی یہ ہے کہ اس سے عام طور سے ذہنوں میں یہی خیال کام کر رہا ہے کہ دوسری قوموں کے” پرسنل لاء“ کی طرح یہ ”مسلم پرسنل لا “بھی مسلمانوں کے خاندانی رسم و رواج اور معاشی اور معاشرتی حالات کا پیدا کردہ اور ان کی ایجاد ہے ، یہ نقطۂ نظر دوسری قوموں کے فیملی لاز ، کے متعلق صحیح ہوسکتا ہے ، لیکن مسلمانوں کے حق میں یقیناً صحیح نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کے لحاظ سے اس کا ایک معمولی حصہ اجتہاد و قیاس اور عرف استحسان پر مبنی ہے اور قرآنی تصریحات کے مطابق ان احکام میں کوئی انسانی ترمیم و تنسیخ ، ظلم و فسق اور کفر ہے ۔

مسلم پرسنل لا  کا مفہوم انگریزی دور میں بھی تقریباً پورے ہی اسلامی قانون و شریعت کے ہوتے تھے ، یعنی وہ قانون جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے ، اور اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا ،ظفر احمد   صاحب لکھتے ہیں 

آرٹکل ۲۵(۲) میں ہے کہ ریاست کا کسی اقتصادی ، مالی سیاسی یا سیکولر فعل کو ریگولیٹ کرنا پابندی عائد کرنا جس کا تعلق کسی مذہبی رواج سے ہو اس لۓ حکومت یا پارلیمنٹ کو اسلامی پرسنل لاء کے بدلنے کا اختیار نہیں ہوسکتا ، اور آرٹیکل ٤٤ میں ریاست کو یکساں سول کوڈ بنانے کا جو اختیار دیا گیا ہے ،وہ متذکرہ بالا حقوق کے تابع ہے، حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ رواجی قانون اور ان قوانین میں فرق کرے جو رواجی نہیں بلکہ جزو مذہب ہیں ، رواجی اور مذہبی قوانین کے فرق کو مسٹر چھاگلا چیف جسٹس بمبئی ہائی کورٹ نے اپنے رولنگ بمقدمہ اسٹیٹ آف بمبئی بنام نراسواپا مالی شائع شدہ اے آر ۱۹۵۲ بمبئی صفحہ نمبر ۸٤ میں واضح کر رہا ہے، لائق چیف جسٹس نے فرمایا کہ مذہبی عقائد اور مذہبی رواج میں فرق کرنا ملکی ضرورت ہے، بے شک جو رواج کسی مذہب کا جزء لاینفک ہے، وہ پبلک آرڈر، ضابطۂ اخلاق اور سوشل ویلفیئر کے مقابلے میں قائم نہیں رکھا جا سکتا، لیکن یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مذہبی عقائد اور ان قوانین کا تحفظ کرے جو جزءِ مذہب ہوں ۔

(بحوالہ: نداۓ ملت ١٦/فروری ١٩٦٩ء)

: پرسنل لا  کی ملی اہمیت 

قوموں کے لئے ان کے اقدار حیات، نظریات زندگی، اخلاق کے اصول، معاملات کے طریقے، ان کے قانونی نظام، عزیز ہوتے ہیں ، فکری سرمایہ، مذہبی اور اخلاقی تصورات ہی کسی تہذیب کا سرچشمہ اور اس کا بنیادی پتھر ہوتے ہیں، لیکن ان سب میں پرسنل لاء کسی قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتا ہے، اسلام میں قانون سازی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا و الذي اوحينا إليك جسم اگر بےجان کے، درخت بے جڑ کے قائم نہیں رہ سکتا ہے تو کوئی ملت بغیر اپنے عائلی قوانین اور خاندانی نظام کے زندہ رہ سکتی ہے، ورنہ نہیں، کسی قوم کے لئے اس کی اتنی اہمیت ہو یا نہ ہو، مسلمانوں کے لئے بہر حال ہے، اس لئے کہ مسلمانوں کا وجود ایمان و اسلام، یعنی ماننے اور اطاعت کرنے اور اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا قلادہ گردن میں ڈال لینے سے ہے، اور یہ اسلام و ایمان قولا ہی نہیں بلکہ بالفعل اور علمی طور پر اس کی پوری زندگی میں زندہ و تابندہ، جاری اور نافذ ہونا چاہئے ۔

پرسنل لاء اگر ایک طرف عقیدہ و ایمان کا مدار ہے دوسری جانب امت مسلمہ کے وجود و بقا کا انحصار ! یہ وہ دو دھاری تلوار ہے، جسے اگر کسی قوم کے خلاف استعمال کیا جائے تو اس کے معنوی وجود کےساتھ اس کے ظاہری ہیئت و بود اور نمود کو ختم کر کے رکھ دے 

بحوالہ: مسلم پرسنل لا اور اسلام کا عائلی نظام ، از :شمس تبریز خان 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_17.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_7.html


Wednesday, July 23, 2025

طلبُ العِلمِ وأهمِّيَّتُهُ في حياةِ الإنسانِ

طلبُ العِلمِ وأهمِّيَّتُهُ في حياةِ الإنسانِ

مسجد دار العلوم لندوة العلماء، لكناؤ


عتیق اللہ کلیم ✍️

العِلمُ هو النُّورُ الّذي يُضيءُ طَريقَ الإنسانِ، ويُرشدُهُ إلى الخَيرِ والصَّلاحِ. وقد رَفَعَ اللهُ تعالى شأنَ العِلمِ وأهلِهِ في كتابِهِ الكريمِ، فقالَ: "يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" [المجادلة: 11]

العِلمُ هو أساسُ الحضارةِ، وبالعِلمِ يتقدَّمُ الإنسانُ في جميعِ مجالاتِ الحياةِ، سواءٌ في الدينِ أو الدُّنيا. فبالعِلمِ يعرفُ الإنسانُ ربَّهُ، ويفهمُ أوامرَهُ ونواهيَهُ، ويعبدُهُ على بصيرةٍ ويقينٍ.

وقد حثَّ الإسلامُ على طلبِ العِلمِ، وجعلَهُ فريضةً على كلِّ مسلمٍ ومسلمةٍ، كما قالَ النبيُّ صلّى الله عليه وسلم: "طَلَبُ العِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ

وممّا يدلُّ على تَفاضُلِ أنواعِ العِلمِ ما رواهُ النبيُّ ﷺ حيث قالَ

العِلمُ عِلمانِ ؛ علمٌ في القلبِ ، فذاك العلمُ النافعُ ، وعلمٌ على اللسانِ ، فذاك  حُجَّةُ اللهِ على ابنِ آدمَ

فالعِلمُ النّافعُ هو ما يسكنُ القلبَ ويُثمرُ في العملِ والتقوى، أمّا العِلمُ المجرَّدُ عن الإيمانِ والعملِ، فهو حجّةٌ على صاحبِه، يُحاسَبُ عليه إن لم يعملْ به. وهذا يُبيِّنُ أنَّ المقصودَ من طلبِ العِلمِ ليس فقط معرفةُ الأقوالِ، بل تطبيقُها بإخلاصٍ في الواقعِ والسلوكِ

العِلمُ يُربِّي الأخلاقَ، ويُهذّبُ النُّفوسَ، ويمنحُ الإنسانَ قوةَ الفهمِ والتمييزِ بينَ الحقِّ والباطلِ، وبينَ الخيرِ والشّرِّ. والعالِمُ الحقيقيُّ هو الذي يجمعُ بينَ العِلمِ والعملِ، فلا يَكتفي بالمعلوماتِ، بل يَستخدمُها فيما يُرضي اللهَ ويخدمُ الإنسانيّةَ

وفي زمانِنا هذا، نَحتاجُ إلى التزوُّدِ بالعِلمِ النافعِ في جميعِ المجالاتِ: في الطبِّ، والهندسةِ، والاقتصادِ، والتعليمِ، والتكنولوجيا، مع المحافظةِ على الأخلاقِ والقِيَمِ الإسلاميّةِ.


فيا شبابَ الأُمّةِ! لا تُضيّعوا أوقاتَكم، واطلُبوا العِلمَ بجدٍّ واجتهادٍ، فهو طريقُ الفلاحِ والنّجاحِ في الدُّنيا والآخرةِ 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/httpsurduarabiccorner.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post_27.html

Thursday, July 17, 2025

اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟

 اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟



عتیق اللہ کلیم ✍️

مغرب کی درس گاہوں، تحقیقاتی اداروں اور علمی مرکزوں سے مسلسل ایک آواز ہم سے مخاطب ہے مگر افسوس کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا، کسی کا خون جوش نہیں مارتا اور کسی کی غیرت نہیں جاگتی۔

: یہ آواز کہتی ہے 

اے مسلمانو! اے ہمارے غلامو! سنو تمہارے علم کے کنویں سوکھ گئے اور تمہارے اقتدار کا سورج ڈوب گیا، اب تمہیں حکمرانی اور سلطانی سے کیا واسطہ تمہارے بازو اب شل ہو گۓ اور تمہاری تلواریں زنک آلود، اب ہم تمہارے آقا ہیں اور تم سب ہمارے غلام ہو، دیکھو ہم نے سر سے پاؤں تک کیسا تمہیں اپنی غلامی کے سانچے میں ڈھالا ہے ،ہمارا لباس پہن کر اور ہماری زبان بول کر اور ہمارے طور طریقے اختیار کر کے تمہارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں ۔ 

ہم بے وقوف نہیں تھے ہم تمہارے دل و دماغ کو اپنا غلام بنا چکے تھے ،اب تم ہماری آنکھوں سے دیکھتے ہو ، ہمارے کانوں سے سنتے ہو اور ہمارے دماغ سے سوچتے ہو اب تمہارے وجود میں تمہارا اپنا کچھ نہیں اب تم  ہر شعبۂ زندگی میں ہمارے محتاج ہو، تمہارے سکولوں اور کالجوں میں ہمارا مرتب کیا ہوا نصاب، تمہارے بازاروں میں ہمارا سامان ہے، تمہارے جیبوں میں ہمارا سکہ ہے، تمہارے سکے کو ہم پہلے مٹی کر چکے ہیں ،تم ہمارے حکم سے کیسے سرتابی کر سکتے ہو، تم اربوں اور کھربوں روپے کے ہمارے قرضدار ہو، تمہاری معیشت ہمارے قبضے میں ہے تمہاری منڈیاں ہمارے رحم و کرم پر ہیں اور تمہارے سارے تجارتی ادارے صبح اٹھتے ہی ہمارے سکے کو سلام کرتے ہیں ،تمہیں اپنے جوانوں پر بڑا ناز تھا ، تم کہتے تھے ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی “ تو سنو اس زرخیز زمین کو ہم نے ہیروئن بھرے سگریٹ، شہوت انگیز تصویروں ، ہیجان خیز ، زنا کے مناظر سے لبریز فلموں اور ہوس زر  کا آب شور  شامل کر کے بنجر کر دیا ہے۔

  تمہیں اپنی افواج پر بھی بڑا گھمنڈ تھا؟

: تو دیکھو

تمہاری افواج اب ہمارے ہتھیاروں کی محتاج ہیں

ان کے ہاتھ میں ہماری بندوقیں

ان کے نقشے ہمارے کمروں میں بنتے ہیں

اور ان کے فیصلے ہمارے مشوروں پر ہوتے ہیں۔

تمہارے جنرلوں کی وردیاں تو چمکتی ہیں

مگر ان کے دل غلامی کے جال میں گرفتار ہیں۔

اور تمہیں اپنی آزادی پر فخر ہے؟


: تو سوچو

یہ کیسی آزادی ہے

جس میں تمہارا نصاب ہم بناتے ہیں؟

تمہارا میڈیا ہم چلاتے ہیں؟

تمہارے نغمے، تمہاری فلمیں، تمہاری سوچ 

سب کچھ ہم طے کرتے ہیں۔


تمہاری مسجدیں تو آباد ہیں، مگر دل ویران

تمہارے آذانیں تو گونجتی ہیں، مگر عمل ساکت

تمہارے قرآن کے حافظ تو ہزاروں میں ہیں، مگر فکرِ قرآنی ناپید۔

 تو اے امت! اب جاگ جا

یہ وقت ہے کہ تم اپنے گریبان میں جھانکو

اپنے وجود کو پہچانو

اپنے خالق سے تعلق جوڑو

اور غیر کے فکری شکنجوں کو توڑ دو۔

کیوں کہ اگر تم نے اب بھی خودی کو نہ پہچانا

تو کل تم اپنے نام سے بھی ناواقف ہو گے

اور تاریخ میں تمہارا ذکر فقط ایک مثالِ عبرت بن کر رہ جائے گا۔

: اختتامیہ

غلامی کے طوق جسم سے نکل سکتے ہیں

مگر جب روح غلام ہو جائے

تو وہی سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔

ان ہی درد و کرب کا اظہار شاعر مشرق علامہ اقبال نے یوں کیا تھا

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل

نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی

نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں

کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے

امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں



https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/02/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

Thursday, July 10, 2025

علم کی فضیلت

 علم کی فضیلت 


عتیق اللہ کلیم ✍️

علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ و دل اویز انداز میں پائ جاتی ہے ، اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی،  تعلیم و تر بیت تو گویا اس دین برحق کا جز ولا ینفک ہے  کلام پاک کے تقریبا 78 ہزار الفاظ میں  سب سے پہلا لفظ پروردگار عالم نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ ”اقرا“ ہے یعنی ”پڑھ“گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس بات کی طرف سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع بشر کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا، پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا، اور مزید اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ”قل هل يستوى الذين يعلمون والذين لا يعلمون“ کہ اے نبی کہہ دیجئے اہل علم اور جاھل ایک ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہو سکتے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” فضل العالم علی العابد کفضلی علی أدناکم“ ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”إن الله و ملائكته و أهل السموت و الأرضين حتى النملة في جحره‍ا و حتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير“( رواه الترمذي )

  عالم کی فضیلت عابد پر ایسی  ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی پر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالی رحمت نا زل کرتے ہیں اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں تک لوگوں کے معلم کے لئے بھلائی کی دعا کرتی ہیں ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کہ علم کا سیکھنا مومن پر فرض ہے۔

: تحصیل علم میں مشقتیں برداشت کرنا 

علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی تکالیف اور مشقتوں کو خندہ  پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا طالب علم کے لیے تحصیل علم میں استقامت کا ذریعہ ہے ، عربی کا شاعر کہتا ہے

تمنیت أن تصبح فقيها مناظرا

بغير عناء والجنون فنون 

وليس اكتساب المال دون مشقة

تحمله‍ا، فالعلم كيف يكون

تمہاری خواہش ہے کہ بغیر تکلیف اور مشقت اٹھا ئے ہوئے بڑے فقیہ اور عالم بن جاؤ، یہ پاگل پن اور جنون ہے، کیونکہ جب مال و دولت کا حصول مشقت برداشت کیے بغیر  نہیں ہو سکتا تو پھر علم جو اس سے بدر جہاں بلند اور بالا ہے اس کا حصول مشقت کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے؟ 

حضرت امام شافعی تحصیل علم میں چھ اہم امور کو ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے اشعار میں یوں بیان فرماتے ہیں

أخي  لن تنال العلم الا بسته 

سأنبيك عن تفصيلها ببيان 

ذكاء وحرص واجتهاد وبلغه

وصحبه استاذ وطول زمان

،اے بھائی!  تو علم حاصل نہیں کر سکتا مگر چھ چیز وں کے ذریعے میں تجھے وہ تفصیلا بتانا چاہتا ہوں ذکاوت ،علم کی حرص ،محنت اور گزارے کا سامان، استاد کی صحبت اور زمانہ دراز تک حصول علم۔

بلا شبہ امام موصوف کی یہ نصیحت بڑی قیمتی ہے اور چشم کشا حقائق پر مبنی بھی، کاش! ہم اسے حرز جان بنا لیں۔



Monday, July 7, 2025

فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں

 فارغینِ مدارس اور ان کی ذمہ داریاں



عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

آج کے اس ترقی یافتہ اور تغیر پذیر دور میں مدارس اسلامیہ کی کثرت اور ان کی افادیت کسی سے مخفی نہیں۔ یہ مدارس ملتِ اسلامیہ کے علمی، فکری اور دینی تشخص کے مضبوط قلعے ہیں۔ یہی وہ گہوارۂ علم و عرفان ہے جہاں انسان سازی، کردار پروری، دینی بیداری، اور روحانی تربیت کا کام خاموشی سے انجام پا رہا ہے۔ یہ مدارس علومِ اسلامیہ کے سرچشمے ہیں، جہاں لاکھوں تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھا چکے ہیں اور آج پوری دنیا میں دینِ حق کی ترجمانی اور خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

فارغینِ مدارس کون ہیں؟

فارغینِ مدارس وہ خوش نصیب افراد ہیں جو علومِ دینیہ و اسلامیہ کے جامع نصاب سے فراغت حاصل کرتے ہیں، جنہیں درسِ نظامی، قراءت، تجوید، تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، عقائد، اور دیگر اہم اسلامی علوم میں مہارت دی جاتی ہے۔ ان کی یہ تعلیم محض رسمی نہیں، بلکہ ایک روحانی اور فکری تربیت کے ساتھ جُڑی ہوتی ہے، جو انہیں زندگی بھر کے لیے دین کا خادم اور ملت کا رہنما بناتی ہے۔

فارغینِ مدارس کی اہم ذمہ داریاں

فارغینِ مدارس کی ذمہ داریاں صرف منبر و محراب تک محدود نہیں، بلکہ ان کی خدمات کا دائرہ پوری امت، معاشرہ، اور بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داریاں حسبِ ذیل ہیں

اسلام کا تعارف اور دفاع

دورِ جدید میں جہاں اسلام پر فکری حملے ہو رہے ہیں، وہاں فارغین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کا صحیح تعارف، حکمت و موعظت کے ساتھ پیش کریں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

یعنی: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ"۔

 اصلاحِ معاشرہ اور امر بالمعروف

فارغین کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان پھیلی ہوئی اخلاقی، سماجی اور دینی برائیوں کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ان کی بنیادی دینی ذمہ داری ہے۔

 جدید تعلیمی نظام میں شمولیت

فارغینِ مدارس کو چاہیے کہ وہ عصری تعلیمی اداروں میں اسلامی اصولوں کو داخل کریں، نصاب میں اخلاقیات، سیرت النبی ﷺ، اسلامی افکار و اقدار کو جگہ دلوائیں تاکہ نئی نسل دین سے مربوط رہے۔

 تحریری و ابلاغی صلاحیتوں کا فروغ

تحریر، تقریر، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو دین کی دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کریں۔ آج کا دور تحریر و ابلاغ کا ہے، اس میں خاموش رہنا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔

 اداروں کی بنیاد اور قیادت

فارغین کو چاہیے کہ وہ ایسے ادارے قائم کریں جو دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج پیش کریں۔ جہاں جدید تعلیم کے ساتھ اسلامی نظریات کی تعلیم و تربیت بھی دی جائے، تاکہ مسلمان نوجوان گمراہی سے بچے رہیں۔

ذاتی اصلاح اور روحانی ارتقاء

فارغین کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنی ذات کی اصلاح ہے۔ اخلاص، ایمان، یقین، تعلق مع اللہ، دعا، تضرّع، خشوع، تواضع، اور اعتماد علی اللہ جیسے خصائص کو اپنا کر وہ نبوی اسوہ کو اپنے اندر زندہ کریں تاکہ ان کی دعوت و تبلیغ مؤثر ہو سکے

فتنوں کا علمی و فکری ردّ

یہ دور فتنوں کا ہے  دہریت، الحاد، سیکولرزم، لبرل ازم، قادیانیت، باطنیت، اور دیگر گمراہ کن نظریات نت نئے انداز سے نوجوانوں کے دل و دماغ کو متاثر کر رہے ہیں۔ فارغینِ مدارس کی یہ نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ان فتنوں کو گہرائی سے سمجھیں، ان کے علمی و فکری پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور قرآنی و نبوی روشنی میں دلائل و حکمت کے ساتھ ان کا ردّ کریں۔

یاد رکھیں! صرف نعرے اور تقاریر کافی نہیں، بلکہ تحقیق، علم اور بصیرت کے ساتھ گفتگو کرنا ہوگی۔

خاتمہ

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مدارس کے یہ فرزند—فارغینِ مدارس—اسلامی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ زمانے کی بدلتی ضروریات کو سمجھ کر اپنی دعوتی، اصلاحی، تعلیمی اور تنظیمی ذمہ داریوں کو شعور اور حکمت کے ساتھ نبھائیں۔ یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ وہ قلم و زبان دونوں سے دینِ اسلام کی حقانیت کو اجاگر کریں، امت کی رہنمائی کریں اور دشمنانِ اسلام کے فکری حملوں کا مدلل جواب دیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام فارغینِ مدارس کو امتِ مسلمہ کی صحیح قیادت و رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے، اور انہیں فتنوں کے اس سیلاب میں چراغِ ہدایت بنائے۔ آمین۔

Thursday, July 3, 2025

درس من السنة

 درس من السنة 



عتیق اللہ کلیم ✍️

  عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أي الصيام أفضل بعد شهر رمضان ؟ قال شهر الله الذي تدعونه المحرم(  رواه أحمد و النسائ في السنن الكبرى وابن مواجه)

شهر محرم الحرام أول الشهور من السنة الهجرية، وكان الناس في الجاهلية يعظمونه و يؤقرونه، و يحرمونه القتال فيه، و في هذا الشهر العظيم يوم عظيم يقال ”يوم العاشوراء“ وله أهمية كبرى أيضا،كما جاء في الحديث الشريف وقال عليه السلام أيضًا
أفضل  الصيام بعد رمضان شهر المحرم (رواه مسلم)

إن يوم العاشوراء يوم كانت تعظمه اليهود والنصارى والعرب كانوا يصومون فيه ويتخذونه عيدا، كما جاء في الحديث عن أبي موسى رضي الله عنه قالكان أهل خيبر يصومون يوم عاشوراء يتخذونه عيدا و يلبسون نساءهم فيه حليهم و شارتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فصوموه أنتم “(رواه مسلم)
و كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم يوم العاشوراء و أمر بصيامه، روى ابن عباس رضي الله عنه قال: حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم و أمر بصيامه، قالوا :  يا رسول الله إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع، قال : فلم يأت العام المقبل حتى توفي  رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم (رواه مسلم)

حين أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصيامه قال الصحابة : يا رسول الله ”إنه يوم تعظمه اليهود و النصارى“ والمراد بهذا القول كأنما تشبهم بالصوم في تعظيمه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع والمراد به أننا صمنا اليوم التاسع في العام المقبل فلا يبقى التشابه و المشابهة بيننا و بينهم بهذا العمل، من أجل ذلك يقول الفقهاء لا يصوم أحد يوم عاشوراء فقط بل يصوم معه اليوم التاسع أو اليوم الحادي عشر و أخيرا أدعو الله أن يؤفقنا إلى أداء حقه۔


پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...