Wednesday, November 26, 2025

‎ ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ — ایک ایسی یاد جو کبھی مٹ نہیں سکتی

سيرة الشيخ الدكتور نذير أحمد الندوي لا تنسى أبدا 

بقلم: الشيخ محمد فضل الرحيم المجددي ( رئيس جامعة الهداية ، جي فور ، الأمين العام لهيئة قانون الأحوال الشخصية للمسلمين لعموم الهند)

 مترجّم:  عتیق اللہ كليم 

ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ — ایک ایسی یاد جو کبھی مٹ نہیں سکتی

تحریر: شیخ محمد فضل الرحیم المجددی

‎صدر جامعہ الہدایہ، جے پور، اور جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

‎آج ہم ایک ایسے مردِ علم و فضل کو یاد کر رہے ہیں، جو "ندوة العلماء" کے ان روشن چراغوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے علم، اخلاق اور خدمات سے ایسی روشنی پھیلائی جو کبھی مدھم نہیں پڑ سکتی۔

‎وہ عظیم المرتبت شخصیت شیخ ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ تھے۔

‎ان کی یاد محض ایک رسمِ تعزیت نہیں، بلکہ ان سے کیے گئے عہدِ محبت و وفا کی تجدید ہے۔

‎ان کی زندگی خلوص، زہد، صبر، اور خدمتِ دین و علم کی پیکر تھی۔ میں نے ان سے وفات سے چند دن قبل ملاقات کی تھی، "ندوة العلماء" میں ایک فقہی نشست کے موقع پر۔

‎ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نور تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھنے سے دل کو عجب اطمینان نصیب ہوتا۔ وہ بات میں نرمی رکھتے، لہجے میں شفقت، اور گفتگو میں علم و وقار کی خوشبو ہوتی۔

: ‎جب میں نے ان کی بیماری کا حال پوچھا تو وہ مسکرا کر بولے

‎یہ کمزوری نہیں، عبدیت کی نشانی ہے۔ میں اللہ سے عافیت مانگتا ہوں تاکہ دین کی خدمت جاری رکھ سکوں۔

‎میں نے کبھی ان کے لبوں سے شکایت نہیں سنی۔ ان کی آنکھوں میں صبر و رضا کی چمک تھی۔ وہ گویا خاموش زبان میں یہ دعا کر رہے تھے

‎"اے اللہ! مجھے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جلد ملا دے۔"

‎میں جب بھی ان سے ملتا، محسوس کرتا کہ میں دنیا کے کسی انسان سے نہیں بلکہ آخرت کے ایک مسافر سے ہمکلام ہوں۔

‎ان کی مجلس سادگی اور روحانیت سے بھری ہوتی۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی اور دل کی صفائی شامل تھی۔

‎وہ جزا یا تعریف کے خواہاں نہیں تھے، صرف اللہ کی رضا کے متلاشی۔

‎اللہ نے انہیں ایک جامع علمی شخصیت عطا فرمائی تھی۔ وہ چار زبانوں کے ماہر تھے — عربی، فارسی، اردو اور انگریزی۔

‎لیکن اتنی وسعتِ علم کے باوجود ان کے دل میں تکبر کا ذرہ نہ تھا۔

‎وہ ہمیشہ سچائی کے ساتھ علم دیتے، اخلاص کے ساتھ تحقیق کرتے، اور اللہ سے جڑے دل کے ساتھ لکھتے تھے۔

‎میں نے کبھی انہیں کسی کی غیبت کرتے یا کسی انسان کی عزت پر بات کرتے نہیں سنا۔

‎اگر کوئی کمی یا غلطی نظر آتی تو بڑی نرمی اور محبت سے نصیحت کرتے، اور ہمیشہ دوسروں کے لیے بھلائی اور خیر کی دعا کرتے۔

‎ان کے نزدیک تدریس کوئی محض ملازمت یا روزی کا ذریعہ نہ تھی، بلکہ ایک عبادت، ذمہ داری اور امانت تھی۔

‎وہ خود کو اپنے شاگردوں کے ذہنوں اور دلوں کا امین سمجھتے تھے۔

‎ان کی دیانت کا یہ عالم تھا کہ کئی مرتبہ جب انہیں تدریس یا علمی کام کے بدلے کوئی انعام یا اعزازیہ دیا گیا، تو انہوں نے واپس کر دیا —

‎یہ کہہ کر کہ ”میں نے ابھی تک علم کا حق ویسے ادا نہیں کیا جیسے کرنا چاہیے تھا“۔

‎یہی ان کا ورع (تقویٰ) تھا، یہی ان کا حیاء اور خدا ترسی۔

‎وہ تمام اہلِ علم سے محبت کرتے، اپنے ساتھیوں کا احترام کرتے

‎اور شاگردوں کے لیے شفقت و مہربانی کا سراپا نمونہ تھے۔

‎ان کے نزدیک سب شاگرد ایک جیسے تھے — وہ سب میں اپنے 

‎بیٹے اور بھائی دیکھتے تھے۔

‎وہ "ندوة العلماء" کو محض ایک درسگاہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے روحانی تربیت کا مرکز مانتے تھے، ایک ایسی جگہ جو عقل و روح دونوں کو سیراب کرتی ہے۔

‎ان کی سیرت، ندوہ کی اس اصل روح کی زندہ تعبیر تھی سادگی، علم اور اخلاق۔

‎ان نمایاں خصوصیات میں سے ایک ان کی جامعہ الہدایہ سے گہری وابستگی بھی تھی۔

‎اگرچہ وہ وہاں کے باقاعدہ مدرس یا استاد نہیں تھے، لیکن یہ ادارہ ہمیشہ ان کے دل میں بسا رہا۔

‎وہ اکثر اپنی دعاؤں میں جامعہ کا ذکر کرتے، اس کے حالات پوچھتے، اور جہاں تک ممکن ہوتا اس کی مدد کرتے۔

‎ان کے نزدیک جامعہ الہدایہ دراصل ندوة العلماء کی علمی اور فکری روح کا تسلسل تھی ۔

‎ایک ایسا مرکز جو علم و دین کی خدمت کو آگے بڑھا رہا تھا۔

‎انہیں یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی کہ جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ علم و دین کی خدمت میں سرگرم ہیں۔

‎جب کبھی جامعہ یا اس کے طلبہ کا تذکرہ ہوتا، تو وہ محبت سے دعا دیتے

‎اللہ ان کی محنتوں میں برکت دے، اور ان کی کوششوں کو ثمر آور بنائے۔

‎ان کی یہ محبت، سچی، خالص اور قلبی تھی

‎اور جب تک وہ زندہ رہے، ان کی دعائیں اس ادارے اور اس کے لوگوں کے ساتھ رہیں۔

‎اللہ نے ان کی زندگی کے آخری ایام میں آزمائشیں بھی دیں، لیکن انہوں نے ہر تکلیف کو صبر و رضا سے قبول کیا۔

‎وہ بیماری میں بھی مطمئن، دل کے سکون اور چہرے کے نور سے معمور رہتے۔

‎ان کے نزدیک مصیبتیں اللہ کے قرب کا ذریعہ تھیں، نہ کہ شکوے کا سبب۔

: ‎قرآن کہتا ہے

‎"اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ"

‎بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

‎ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ یقیناً ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جنہیں یہ وعدہ نصیب ہوا۔

‎ان کا اثر و فیض آج بھی زندہ ہے، اور ان کے نقوش دلوں میں تازہ ہیں۔

‎میرے فرزند استاذ حبیب الرحیم ندوی اور میرے داماد استاذ حذیفہ ندوی —

‎دونوں ہی خالص طلبۂ علم میں سے ہیں —

‎انہوں نے شیخ نذیر احمد ندوی رحمہ اللہ سے بہت کچھ سیکھا، فیض پایا، ان کے اخلاق، ان کے انکسار، اور ان کے علمی طریقے سے گہرا اثر قبول کیا۔

‎علماء دراصل کبھی رخصت نہیں ہوتے

‎کیونکہ ان کے آثار باقی رہتے ہیں

‎ان کے اسباق ان کے شاگردوں کی زبانوں پر دہراتے رہتے ہیں

‎اور ان کے لیے دعائیں ان کے چاہنے والوں کے لبوں سے رات کے سناٹے میں آسمان کی طرف بلند ہوتی رہتی ہیں۔

: ‎رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا

‎ "جب ابنِ آدم وفات پاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے

‎ایک صدقۂ جاریہ

‎یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے

‎یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

‎اور بے شک شیخ نذیر احمد ندویؒ نے یہ تینوں نعمتیں اپنے دامن میں سمیٹ لی تھیں

‎ان کا نفع بخش علم

‎ان کے نیک شاگرد

‎اور ان کا باعزت، باایمان اور صالح خاندان۔

‎اللہ ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔

‎وہ صبر کے پیکر، زہد کی مثال، اور نبی ﷺ کے اس ارشاد کے مظہر تھے

‎سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع رساں ہو۔

‎انہوں نے اپنی زبان سے تعلیم دی، اپنے اخلاق سے تربیت کی، اور اپنی سیرت سے دعوت کا فریضہ ادا کیا

‎یوں وہ ان خوش نصیبوں میں شامل ہو گئے جن کا نام علم اور وفا کے ساتھ ہمیشہ خیر سے لیا جاتا ہے۔

!‎اے اللہ! اے بے پایاں رحمت والے

!‎اے علماء و اولیاء کے ربّ

‎ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ اپنے بندے، شیخ نذیر احمد ندویؒ کو بخش دے

‎اور انہیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ وہ عزت و کرامت عطا فرما جو تُو نے اپنے صالحین سے وعدہ کی ہے۔

‎اے اللہ! ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے

‎اس میں نور بھر دے 

‎اسے سکون، رحمت اور رضا سے منور فرما۔

‎اے اللہ! انہیں امت کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرما

‎اور ان کے شاگردوں، اہلِ خانہ اور محبوں کی جانب سے احسن الجزاء مرحمت فرما۔

‎اے اللہ! ان کا علم صدقۂ جاریہ بنا دے

‎اور ان کے شاگردوں اور اہلِ خاندان کو ان کے علم و عمل کے سچے امین بنا۔

‎اے اللہ! ان کے اہل و محبین کے دلوں پر صبرِ جمیل نازل فرما

‎اور انہیں اپنے فیصلے پر راضی رہنے والا بنا دے۔

‎اور ہمیں سب کو ان عملی علماء کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنا دے

‎تاکہ ہم بھی ان کے نقشِ حیات پر چلتے ہوئے دارِ ابدی تک پہنچ جائیں۔

‎اور ہمارا آخری کلمہ یہ ہے کہ

‎تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں،

‎اور درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ، ان کے اہلِ بیت اور تمام صحابہؓ پر۔ 

Sunday, November 9, 2025

رحمۃ اللعالمین کے منتخب اقتباسات

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 
رحمۃ اللعالمین (از : قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری) کے منتخب اقتباسا ت

(  قسط اول:( ص: 1 تا 80 


تمہید


قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف "رحمۃ للعالمین" کا مطالعہ میں نے اپنے مربی و محسن استاد مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتہم کی نگرانی اور رہنمائی میں کیا۔ یہ مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کی معرفت، محبت اور حقیقتِ رسالت کی تجدید کے جذبے کے ساتھ تھا۔ کتاب کے ابواب، دلائل اور تحقیقی اسلوب نے میری فکر و بصیرت کو ایک نئی سمت عطا کی، اور مجھے یہ احساس دلایا کہ سیرت کا مطالعہ صرف ایک علمی مشق نہیں بلکہ روحانی تربیت اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔
اس مطالعے کے دوران میں نے اہم مباحث، دلائل، واقعات اور گہرے نکات کو نہایت احتیاط سے نوٹ کیا۔ اب میں ان منتخب نقاط اور اقتباسات کو ایک سلسلہ وار شکل میں اپنے بلاگ اور قارئین کے درمیان پیش کر رہا ہوں، تاکہ یہ روشنی صرف میرے دل تک محدود نہ رہے، بلکہ دوسرے دلوں اور ذہنوں تک بھی پہنچے۔ میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ سیرتِ پاک ﷺ کی عظمت، جامعیت اور آفاقیت کے شعور کو مزید مستحکم کرنے کا سبب بنے۔


رحمۃ للعالمینؐ کے مطالعے سے حاصل شدہ نکات


1. قرآن و حدیث اور دیگر مذاہب کی کتابوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نبی برحق ہیں۔

2. آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب مصنفؒ نے نہایت مدلل انداز میں خود معترضین کی مذہبی کتب کی روشنی میں دیا ہے۔

3. اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کے اوصافِ حسنہ حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ میں کامل صورت میں جمع تھے۔

4. مصنفؒ نے تقابلی انداز میں دیگر انبیاء کے مقابلے میں نبی اکرم ﷺ کی جامع اور برتر فضیلت کو ثابت کیا ہے۔

5. آپ ﷺ کے نسبِ پاک، آباء و اجداد اور خاندانِ بنی ہاشم کی سیرت و تاریخ نہایت جامع، واضح اور معتبر سند کے ساتھ مذکور ہے۔

6. غزواتِ نبوی کے واقعات، حکمتیں، نتائج اور ان میں شہید ہونے والے صحابہؓ کے حالات تحقیقی رنگ میں پیش کیے گئے ہیں۔

7. کتاب میں شامل جداول (چارٹس) فہمِ مضامین میں نہایت سہولت اور ترتیب پیدا کرتے ہیں، جیسے غزوات کے ساتھ شہداء کے اسماء، امہات المؤمنینؓ کے انساب وغیرہ۔

8. پہلی اور دوسری جلد میں اسلوب سہل، روان اور عام فہم ہے، جبکہ تیسری جلد میں اسلوب علمی و ادبی طور پر اعلیٰ درجے کا ہے۔

9. مصنف نے کئی مقامات پر اپنے ذاتی علمی و فکری نقطۂ نظر کو بھی وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

10. تاریخ کے مباحث میں مصنفؒ کی گہری تحقیق اور مضبوط علمی گرفت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

11. تیسری جلد کے آخر میں خاص فقہی و اعتقادی مباحث نہایت دقیق اور محققانہ انداز میں سامنے آتے ہیں۔

12. پوری کتاب میں ہر مقام پر رسولِ اکرم ﷺ سے مصنفؒ کی بے پناہ محبت اور والہانہ عقیدت جھلکتی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ میری یہ کتاب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حامد و محاسن کا اظہار اسی قدر کر سکتی ہے ،جس قدر ذرۂ بے مقدار آفتاب عالم تاب کے انوار کو آشکارا کر سکتا ہے۔ (مصنف علیہ الرحمہ)
عبد مناف کا نام مغیرہ تھا،  پیدائش کے بعد ان کو مناف کے مندر میں لے گئے تھے اس لئے عبد مناف مشہور ہو گئے تھے ۔
ہاشم کا نام عمر تھا، یہ شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر غریبوں کو کھلایا کرتے تھے ہاشم نام پڑ گیا۔
عبدالمطلب کا نام شیبہ تھا، پیدائش کے وقت چند بال سفید تھے اس لیے ماں نے ان کا نام شیبہ ( بوڑھا )رکھا اپنے چچا المطلب کی شکر گزاری میں یہ تمام عمر عبدالمطلب کہلاۓ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم الشان معجزہ دکھایا کہ دلوں کو بدل دیا اور روح کو پاکیزہ بنا دیا انسان اور لاٹھی، انسان اور سانپ، انسان اور پتھر میں جتنا تفاوت ہے وہی تفاوت اس معجزہ اور دیگر معجزات میں بھی ہے۔
حجر اسود کے  نصب کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ جب مختلف اغراض اور مختلف مقاصد کے لوگ ایک جگہ فراہم ہو جائیں تو ان کو کیوں کر مرکز واحد پر لا سکتے ہیں، نیز ثابت فرما دیا کہ خدشہ جنگ کے ٹال دینے اور امن کو مستحکم رکھنے کے لیے جنگی طاقت کی نہیں بلکہ اعلی دماغی قابلیت کی ضرورت ہے۔


ذات مبارک صلی اللہ علیہ وسلم میں نوح کی سی گرمی، ابراہیم جیسی نرم دلی، یوسف کی سی درگزر، داؤد کی سی فتوحات، یعقوب کا سا صبر ،سلیمان کی سی سطوت، عیسی کی سی خاکساری، یحیی کا سا زہد ،اسماعیل کی سی سبک روحی کامل ظہور بخش تھی۔
خورشید رسالت میں اگرچہ تمام مقدس رنگ موجود تھے لیکن ” رحمتہ اللعالمینی“ کا وہ نور تھا جس نے تمام رنگتوں کو اپنے اندر لے کر دنیا کو ایک برگزیدہ و چیدہ روشنی سے منور کر دیا ہے، ذرہ بے مقدار کی کیا تاب کہ خورشید عالم افروز کی جلوہ نمائی میں آئینہ داری کرے  ۔
: حسان بن ثابت کا شعر ہے
وشق له من اسمه ليجله 
 فذو العرش محمود وهذا محمد
،واضح ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد سے خاص مناسبت ہے حضور کا نام محمد و احمد ہے، اور حضور کے مقام شفاعت کا نام محمود ہے، امت محمدیہ کا نام حمادون ہے۔
ہمارے نبیﷺ موسمِ بہار میں دو شنبہ ( پیر) کے دن 9 ربیع الاول 1 عام الفیل مطابق 122 اپریل 571 ہے مُطابق یکم جیٹھ  628 بکرمی کو مکّہ معظمہ میں بعد از صبح صادق و قبل از طلوع نير عالم تاب پیدا ہوئے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں دوشنبہ کا دن خصوصیت رکھتا ہے، ولادت ،نبوت، ہجرت، وفات سب اسی دن ہوئی ہیں ۔
،سب کا اتفاق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دوشنبہ کو ہوا چونکہ دو شنبہ کا دن نو ربیع الاول کے سوا کسی اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے نو ربیع الاول ہی صحیح ہے، تاریخ دول العرب والاسلام  میں  محمد طلعت بک نے بھی نو ربیع الاول ہی کو صحیح قرار دیا ہے۔
بحیرہ راہب کی ملاقات کی داستان ناقابل اعتبار ہے ۔
پادری صاحبان نے اتنی بات پر کہ بحیرہ نصرانی ملا تھا یہ شاخ و برگ اور بھی  لگا دیے کہ 40 سال کی عمر کے بعد جو تعلیم آپ نے ظاہر کی تھی، وہ اس راہب کی تعلیم کا اثر تھا ،میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے تثلیث اور کفارہ کا رد مسیح کے سلیب پر جان دینے کا بطلان، اس راہب کی تعلیمی سے کیا تھا، تو اب عیسائی اپنے اس بزرگ کی تعلیم کو قبول کیوں نہیں کرتے۔
غار حرا کا طول چار گز ،عرض پونے دو گز تھا ۔
امام طبری نے نزول قران کی تاریخ 17 یا 18 رمضان روایت کی ہے چونکہ 18 رمضان ایک نبوت کو یوم جمعہ تھا ( بمطابق ١٧اگست ٦١٠ء) اس لیے نزول قران مجید شب جمعہ 18 رمضان کو تھا۔
انسانی آزادی وہ ہے جو قانون اور مذہب کی پابندی کے تحت میں ہر شخص کو حاصل ہے اور حیوانی آزادی وہ ہیں جو قانون اور مذہب کے اثر کو باطل ٹھہرا کر حاصل ہوئی ہو۔
یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔۔۔
نوٹ: یہاں ان اقتباسات کو ارسال کیا جا رہا ہے جو عام طور پر دوسری کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں ۔



Wednesday, November 5, 2025

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

🌹داستانِ محبت🌹

عتیق اللہ کلیم ✍️

آخری باب: کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم۔۔۔

اب محبت عرش کے لیے عبادت بن چکی تھی۔

روشی اُس کی دنیا نہیں، اُس کی زندگی بن چکی تھی۔

وہ اب اس کے خیالات میں سانس لیتی تھی، اُس کی یادوں میں بستی تھی۔

عرش کے لیے محبت اب محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک ایمان تھی —

اور اسی یقین کے ساتھ اُس نے چاہا کہ یہ رشتہ اور مضبوط ہو۔


چنانچہ اُس نے اپنی بہن انم سے روشی کی بات چھیڑی

تاکہ یہ تعلق دوستی سے آگے، اپنائیت کی حدوں میں داخل ہو جائے۔

انم اور روشی کی بات چیت شروع ہوئی

دونوں کے درمیان ہنسی مذاق، بھروسہ اور باتوں کی وہ قربت پیدا ہو گئی

جس میں عرش خود کو مطمئن محسوس کرنے لگا۔


ان دنوں روشی اکثر عرش کو اپنی تصویریں بھیجتی تھی۔

لیکن ایک عجیب سا اصول تھا 

وہ ہر تصویر صرف ایک لمحے کے لیے کھلتی، اور پھر جیسے ہوا میں تحلیل ہو جاتی۔

عرش صرف اُسی پل میں اُسے دیکھ پاتا

اور وہ لمحہ اُس کے لیے کسی عبادت کی طرح مقدس بن جاتا۔


: پھر ایک دن عرش نے اپنی بہن انم سے نرمی سے کہا

اگر تمھارے پاس روشی کی کوئی تصویر ہو تو دکھا دو

انم نے بے فکری سے وہی تصویر بھیج دی جو روشی نے خود اُس پر اعتماد کر کے دی تھی۔

عرش نے محبت کے جوش میں وہ تصویر اپنی تصویر کے ساتھ جوڑ کرایک خوبصورت یادگار بنائی اور  محبت سے روشی کو بھیج دی۔

مگر روشی کے لیے وہ تصویر ایک یادگار نہیں

بلکہ اعتماد کا ٹوٹ جانا تھی۔

اُس نے تصویر پہچان لی 

یہ تو وہی تصویر ہے۔۔۔

اور ایک لمحے میں اُس کا لہجہ بدل گیا۔

غصہ، حیرت، دکھ — سب کچھ اُس کے الفاظ میں سمٹ آیا۔

اُس نے انم کو بلاک کر دیا

اور لکھا: میں اُس لڑکی سے بات نہیں کر سکتی، جو میرے اعتماد کے ساتھ دھوکہ کرے۔


انم حیران تھی۔

وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ عرش تو اپنا ہے

کوئی غیر نہیں۔

مگر اب دونوں طرف خاموشی چھا گئی 

ایک طرف روشی کا گلہ، دوسری طرف انم کی خفگی 

اور بیچ میں عرش، جو خود سے زیادہ دوسروں کے احساسات کا قیدی تھا۔


اگلی صبح جیسے آسمان نے بھی رخ بدل لیا۔

ہوا میں وہی مانوس خوشبو نہیں تھی۔

عرش جب یونیورسٹی پہنچا تو دل بوجھل تھا

نہ باتوں میں مزا، نہ کتابوں میں دھیان۔


کینٹین کی طرف جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر لائبریری کے سامنے والے پارک میں گئی —

اور وہاں، روشی ایک انجان لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی۔

(روشی کے مطابق وہ لڑکا اُسی کا بتایا ہوا” دوست“ تھا

مگر عرش اُسے پہچان نہ پایا۔

بس وہ منظر دیکھنا تھا کہ

عرش کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔

دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

اُس کے اندر سناٹا پھیل گیا

اور دماغ ایک ہی سوچ میں گم ہو گیا — یہ کیا دیکھ لیا میں نے


اُسی لمحے، غصہ اور بے بسی کے ملے جلے جذبے نے

اُسے ویڈیو نکالنے پر مجبور کر دیا۔

ساحل نے روکا — مت کر، یہ مناسب نہیں۔

مگر عرش کے اندر کا عاشق اب دلیل نہیں سنتا تھا۔

وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ بعد میں جب سوال کرے

تو سچ اُس کے پاس موجود ہو۔


روشی اُسے دیکھ کر گھبرا گئی 

اُٹھی، پیچھے مڑ کر دیکھا، اور بھاگتی چلی گئی۔

اور عرش؟

وہ تھم گیا — جیسے وقت رک گیا ہو۔


: مدرسے پہنچ کر اُس نے لرزتے ہاتھوں سے میسج لکھا

اگر تم نے وضاحت نہیں دی، تو میں یہ ویڈیو تمھارے گھر بھیج دوں گا۔


یہ وہ الفاظ تھے جو اُس نے محبت میں نہیں

غصے اور زخم میں کہے تھے۔

اور شاید وہ خود بھی جانتا تھا کہ

وہ ایسا کبھی نہیں کر پائے گا۔


مگر محبت کا دل نازک ہوتا ہے —

روشی کے دل پر یہ دھمکی تیر کی طرح لگی۔

: اُس نے جواب دیا

تم مجھے دھمکی دیتے ہو؟ 

اور پھر اُس نے ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا۔


اب عرش کی دنیا اجڑ گئی تھی۔

روشی نے کبھی الفاظ میں نہیں کہا تھا کہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے

لیکن اُس کے رویے، اُس کی باتیں —

وہ سب کچھ کہہ جاتی تھیں۔


عرش نے بار بار معافی مانگی

نئے نمبر سے کوشش کی، نئی آئڈز بنائی 

مگر ہر بار روشی پہچان لیتی —

“یہ وہی دیوانہ ہے”


یہ ایک مہینے کی کہانی تھی —

مگر اُس ایک مہینے میں زندگی کے سارے موسم گزر گئے۔

اب جب بھی وہ یونیورسٹی جاتا

“دل کہتا — ”شاید آج وہ مل جائے

اور جب ملتی

تو نگاہیں ملنے سے پہلے ہی جھک جاتیں۔


عرش آج بھی اُس کے لیے ویسا ہی ہے

جیسے پہلے دن تھا۔

اُس نے خود سے وعدہ کر لیا ہے —

“روشی کے نکاح تک میں کسی لڑکی سے بات نہیں کروں گا”


وہ جانتا ہے کہ شاید وہ کبھی واپس نہ آئے

مگر اُسے اب محبت سے گلہ نہیں۔

وہ اب صرف دعا کرتا ہے —

“اللہ، وہ خوش رہے، چاہے میرے بغیر ہی کیوں نہ ہو۔”


کبھی کبھی وہ رات کے سکوت میں اپنی تحریر دیکھتا ہے

پھر سوچتا ہے —

کیا یہ تحریر روشی کی نگاہوں سے گزری ہوگی؟

اگر گزری ہو —

تو کیا اُس کے دل میں کوئی لرزش پیدا ہوئی ہوگی؟


اور یہیں داستان ختم نہیں ہوتی

یہ تو وہ خاموش سوال ہے

جو عرش کے دل سے آج بھی گونجتا ہے —

“کیا وہ لوٹ آئے گی…؟” 


✨حاصلِ سبق ✨

محبت جب اعتماد کھو دے تو رشتے کی روح مر جاتی ہے۔

اعتماد، وفا، اور ادب — یہ تین ستون ہیں جن پر محبت قائم رہتی ہے۔

عرش اور روشی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کے لمحاتی فیصلے ہمیشہ نقصان دیتے ہیں۔

محبت اگر صبر، شعور، اور پاکیزگی کے ساتھ نبھائی جائے تو عبادت بن جاتی ہے۔

ورنہ یہی محبت، ایک آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔

اور سچا عاشق وہ نہیں جو وصل پائے —

بلکہ وہ ہے جو بچھڑ کر بھی دعا دینا نہ چھوڑے۔


Monday, October 27, 2025

داستانِ محبت — شادی💕

🌹داستان محبت🌹



عتیق اللہ کلیم ✍️

💞 بابِ پنجم — شادی

یونہی دن گزرتے گئے اور دلوں کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ اب عرش کے لیے یونیورسٹی جانا محض تعلیم نہیں،

 بلکہ روشی سے ملنے کا بہانہ بن چکا تھا۔

مدرسے میں رفقائے درس اکثر ٹوکتے 

یار عرش، یہ تُو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے کیسا نیک، سنجیدہ، مطالعہ پسند لڑکا تھا، اور اب دیکھ۔۔۔

یہ جملے سن کر وہ مسکرا دیتا، مگر دل میں کوئی ایسی ضد جاگتی جسے وہ خود بھی سمجھ نہ پاتا۔

اب عرش صرف عاشق نہیں رہا تھا، روشی اُس کی زندگی کی عبادت بن چکی تھی۔

: ایک دن گفتگو کے دوران روشی نے اچانک کہا

“شادی میں آؤ گے نا؟”

عرش چونک گیا۔ کس کی شادی؟

روشی ہنس پڑی، میری۔

عرش کے چہرے کا رنگ اڑ گیا — کیا کہہ رہی ہو یار؟

روشی ہنسی، کیسا لگا مذاق؟ پریشان ہو گئے کیا؟

پھر فوراً کارڈ بھیجا اور کہا، ایسی بات نہیں، میری بہن کی شادی ہے۔ آپ ضرور آئیے، اپنے دونوں دوست ساحل

 اور مرشد کو بھی ساتھ لانا۔

عرش نے سکون کی سانس لی، ارے تو یہ بات تھی… میں تو دل ہی ہار بیٹھا تھا۔

پھر مسکرا کر بولا، خیر سنو، یونیورسٹی کا اسائنمنٹ آیا ہے، تم شادی کی تیاری کرو، میں لکھ دیتا ہوں تمہارا بھی۔

روشی نے انکار کیا، نہیں، بعد میں احسان جتلاؤ گے۔

عرش نے نرمی سے کہا، ایسا کچھ نہیں… تمہارا لکھنا میرے دل کی خوشی ہے۔

آخر روشی مان گئی، اور بیچارا عرش محبت کے جذبے میں ڈوبا ہوا، اپنا اور اُس کا دونوں اسائنمنٹ لکھ کر جمع کر

 آیا۔

انہی دنوں میں عرش نے روشی کے لیے لائبریری کارڈ بنوانے کے بہانے تصویر مانگی — ایک زیادہ مانگ کر اپنے

 پاس بھی رکھ لی۔

روشی جب اپنی بہن کے ساتھ شادی کے جوڑے لینے گئی تو عرش کو کال کی۔

عرش نے اس کی پسند میں اپنی پسند بتائی ۔

اب شادی کا دن قریب آ گیا۔

عرش پہلی بار روشی کے گھر والوں سے ملنے جا رہا تھا۔ اس نے سوچا، کیا پہنوں؟

آخر فیصلہ کیا — سفید کرتا، پاجامہ، ٹوپی، اوپر سے کالی صدری، ہاتھ میں عمدہ گھڑی اور جوتی ۔

عرش جب آئینے کے سامنے آیا تو یوں لگا جیسے سادگی نے خود کو وقار میں ڈھال لیا ہو — سفید کرتا، کالی صدری،

 سرمگیں آ نکھیں اور چہرے پر وہی معصوم تبسم۔

یوں لگتا تھا جیسے شرافت اور عشق نے ایک ہی پیکر میں جنم لے لیا ہو۔

اُس کی سادہ وجاہت میں ایسی دلکشی تھی کہ دیکھنے والا پہلی نظر میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔

اُدھر میریج ہال کی بالکنی میں روشی اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھڑی اُس کا انتظار کر رہی تھی۔

جب عرش کی گاڑی رکی، تو وہ پوری شان سے اندر داخل ہوا۔

روشی نے جیسے ہی اُسے دیکھا، دوڑتی ہوئی قریب آئی۔

عرش نے مسکراتے ہوئے سلام کیا اور گفٹ پیش کیا۔

آج تو روشی سرخ کپڑے میں حسن کی ملکہ لگ رہی تھی ﴿اسکی

 پیشانی کشادہ اسکی رنگت میں دودھ اور گلاب کی آمیزش تھی بال

 کالے تھے اور ذرا اُبھرے ہوئے پپوٹوں اور لمبی پلکوں کے نیچے

 کالے رنگ کی بڑی بڑی آنکھیں بلور کی طرح شفاف اور چمکدار تھیں

 ناک خوبصورت اور ذرا اوپر کی طرف اٹھتی ہوئی نوک اُسکے حسن

 کی دلکشی میں غیر معمولی اضافہ کر رہی تھی، اُسکے ہونٹوں میں ایک

 نیم واغنچے کی تازگی اور لطافت تھی اور دانت جو صرف بات کرتے


 وقت دکھائی دیتے تھے، موتیوں کی طرح چمکتے تھے لیکن مسکرانے


 کے لئے اسے چمکتے ہوئے موتیوں کی نمائش کرنے کی ضرورت نہ


 تھی، صرف ہونٹوں کی ایک ہلکی سی جنبش کے ساتھ اُسکے گالوں پر


 گڑھے پڑ جاتے آنکھیں چمک اٹھتی اور اُسکا چہرہ مسکراہٹوں سے


 لبریز ہو جاتا اور اُسکی آواز جسکی مٹھاس روح میں محسوس کی جا سکتی


 تھی﴾۔


عرش کے دل نے جیسے کہا — یہ لمحہ، یہ منظر، یہ چہرہ — سب کچھ زندگی


 کے برابر ہے۔


روشی نے عرش کو اپنی بہنوں سے ملوایا، سب بہت خوش ہوئیں۔


دوستوں کے گمان کے برعکس، روشی نے عرش اور اس کے دوستوں کا بہت خیال رکھا۔


وقفہ وقفہ سے آتی، پوچھتی، کچھ چاہیے تو نہیں؟


عرش نے مسکرا کر کہا، تمہاری مسکراہٹ سے بڑھ کر اور کیا چاہیے۔۔۔


کھانے کے وقت روشی کے بھائی نے خود کھانا کھلایا۔ کھانا نہایت لذیذ تھا۔


کھانے کے بعد روشی کے والد نے عرش کو اشارہ کیا۔


عرش آگے بڑھا، بات چیت ہوئی، مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ روشی کے والد ہیں۔


جب پتہ چلا تو ایک دم سنبھل کر رہ گیا، کاش پہلے معلوم ہوتا۔۔۔


رخصتی کا وقت آیا۔


مرشد نے اپنا کلام سنایا۔


عرش سٹیج کے سامنے بیٹھا روشی کو دیکھ رہا تھا — اور روشی بھی نظریں چرا نہ سکی۔


وہ ایک لمحہ ایسا تھا کہ دونوں کی خاموشیاں ہی ان کے دلوں کی گواہی دے رہی تھیں۔


آخر میں روشی کی والدہ سے ملاقات ہوئی۔


انہوں نے محبت سے کہا: بیٹا، آپ لوگ بہت اچھے لگے، پھر کبھی ضرور آئیے گا۔


عرش نے ادب سے سر جھکایا۔


اب رخصتی ہو چکی تھی۔


گاڑی چلی، اور عرش کی نظریں شیشے کے پار تکتی رہ گئیں


یہاں تک کہ وہ منظر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا 


مگر دل میں ایک تصویر ہمیشہ کے لیے نقش کر گیا۔

🌷حاصلِ سبق🌷

محبت اگر پاکیزہ نیت اور حلال جذبے سے ہو تو وہ انسان کو بگاڑتی نہیں، سنوار دیتی ہے۔

عرش اور روشی کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ تعلقات کی بنیاد صرف جذبات نہیں بلکہ احترام، دیانت، اور حیا پر ہونی

 چاہیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب دل کا رشتہ ایمان کی روشنی میں پرویا جائے تو وہ کبھی گمراہی نہیں لاتا، بلکہ انسان کو خود

 اُس کے رب کے قریب کر دیتا ہے۔

محبت کا سفر خوبصورت ہے، مگر صرف اُس وقت جب اس کی رہنمائی دل نہیں، ضمیر اور ایمان کر رہے ہوں۔
: بابِ اول 
: بابِ دوم 
: بابِ سوم 
: بابِ چہارم 

Saturday, October 25, 2025

💝جذبوں کی دنیا، ایمان کی سرحد

🌹داستانِ محبت 🌹


عتیق اللہ کلیم ✍️

بابِ چہارم: جذبوں کی دنیا، ایمان کی سرحد

عرش کئی دنوں سے روشی سے ساتھ ناشتہ کرنے کی خواہش دل میں دبائے ہوئے تھا، مگر ہر بار روشی کسی نہ کسی

 بہانے سے انکار کر دیتی۔ وہ نہایت محتاط مزاج کی تھی، جبکہ عرش کا دل چاہتا تھا کہ اس لمحے کو یادگار بنا لے۔

‎بالآخر ایک دن لکھنؤ یونیورسٹی کی لائبریری کے سامنے والے پارک میں، ہلکی ہوا کے جھونکوں کے درمیان، دونوں

 کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ بات ختم ہونے پر عرش نے ایک بار پھر روشی سے کینٹین چلنے کی فرمائش کی۔ روشی

 نے حسبِ عادت انکار کیا اور شوخی سے پلٹ کر بھاگنے لگی۔
‎عرش نے بے خیالی میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔

‎ایک پل کو وقت تھم سا گیا۔۔

‎دونوں کے بدن میں جیسے بجلی سی دوڑ گئی

‎آنکھیں چندھیا گئیں، اور پھر عرش نے گھبرا کر ہاتھ چھوڑ دیا۔
‎کچھ دیر بعد دونوں کینٹین پہنچے۔ عرش نے روشی کے فون پر کھانے کی فہرست بھیجی۔

‎روشی نے فنگر فرینچ منگوائے، اور عرش نے چاٹ۔

‎دونوں بیٹھے، نرم گفتگو میں گم ہو گئے۔

‎روشی نقاب میں تھی — مگر وہ نقاب کیا تھا؟ ایک ریشمی بادل، جو چاند کی شرمیلی مسکراہٹ کو اپنے دامن میں

 چھپائے ہوئے تھا۔

‎روشنی اُس کے گرد یوں پگھل رہی تھی جیسے چاندنی نے ہوا کے ہاتھوں میں خود کو سپرد کر دیا ہو۔

‎عرش نے اُس کی طرف دیکھا، اور دنیا جیسے ٹھہر گئی۔

‎اُس کی مخمور آنکھوں میں ایسا سکوت، ایسا نشہ، ایسا جادو تھا کہ عرش بھی اپنی رفعت بھول جائے۔

‎یوں محسوس ہوا جیسے آسمان اپنی بلندی سے اتر کر اُس کی نگاہوں میں پناہ تلاش کرنے لگا ہو۔
‎نقاب کے پیچھے وہ روشنی، وہ چمک، وہ خاموش مسکراہٹ — سب کچھ کہہ گئی، بغیر کچھ کہے۔

‎اور عرش؟
‎عرش تو بس ایک مسحور سا خواب بن کر اُس کی آنکھوں میں گم ہو گیا۔

: ‎عرش نے بوتل سے پانی لیا، اور مسکرا کر کہا

‎اب تو پانی بھی میٹھا لگنے لگا ہے، شاید تمہارے ہونٹوں کی تاثیر ہے۔

‎روشی شرما گئی، مگر کچھ نہ بولی۔
‎کھانے کے بعد عرش نے جیب سے وہ انگوٹھی نکالی جو کئی دنوں سے وہ اپنے ساتھ لیے پھرتا تھا۔

‎نہ جانے کیوں، ہر ملاقات میں موقع نہیں ملا تھا۔

‎اس نے دھڑکتے دل سے وہ انگوٹھی روشی کے ہاتھ میں رکھ دی۔

‎خود سے پہنا نہ سکا— وہ اتنا شرمیلا تھا۔

‎انگوٹھی ذرا بڑی تھی، مگر روشی کے لبوں پر تبسم تھا۔

‎اتنی مہنگی انگوٹھی کی کیا ضرورت تھی؟ اُس نے کہا۔

‎عرش نے حیرت سے افسوس بھرے لہجے میں جواب دیا: تمہاری اُنگلی اتنی پتلی اور نازک ہے کہ انگوٹھی بھی خود کو

 اجنبی سا محسوس کرے۔

‎ چلو، اگلی بار بالکل مناسب لاؤں گا — تمہارے لیے، تمہاری طرح
‎اُس دن روشی کو گاڑی پر بٹھا کر عرش سائیکل سے لوٹ گیا— دل میں عجب سکون اور بےچینی لیے۔
‎‎🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

‎ایک دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔

‎اردو ڈیپارٹمنٹ کے سامنے عرش روشی کا انتظار کر رہا تھا۔

‎فضا میں نرمی اور ہوا میں وہ مٹھاس تھی جو کسی نغمے کے آغاز سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔
‎چند لمحوں بعد روشی کلاس سے نکلی، اس کی نظر عرش پر پڑی، اور وہ مسکرا دی۔

‎عرش نے آگے بڑھ کر خاموشی سے اس کا بیگ تھام لیا۔

‎بارش کی بوندیں ان دونوں کے درمیان کسی ان کہی بات کی مانند جھوم رہی تھیں۔
‎رومی نغمے کی طرح وہ دن بھی یادوں کی دھن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

‎روشی نے شوخی سے پانی کے چھپڑوں پر پاؤں مارے، بوندیں اڑ کر عرش کے کپڑوں تک جا پہنچیں۔

: ‎عرش نے مسکرا کر کہا

‎“میرے کپڑے تو تم بھگا چکی ہو، اب دھوؤ گی بھی تم ہی؟”
‎روشی نے ہونٹوں پر آتی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کی۔

‎اور بارش کے سنگ وہ لمحہ ہمیشہ کے لیے ان دونوں کی یادوں میں بھیگ گیا۔
‎‎🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

‎دن گزرتے گئے، اور عرش نے ایک بار پھر ساتھ کھانے کی خواہش ظاہر کی۔

‎کافی منانے کے بعد روشی تیار ہوئی۔

‎دونوں یونیورسٹی سے باہر نکلے۔

‎عرش نے کہا، “چلو کسی اچھے ریسٹورینٹ میں چلتے ہیں۔”
‎لیکن روشی گھبرا گئی۔

‎“آپ پہلے اندر جاؤ، ویڈیو کال کرو، میں دیکھوں گی پھر آؤں گی۔”

‎آخر روشی کسی وجہ سے اندر آنے کو تیار نہیں ہوئی۔

‎دونوں نے باہر ہی آئس کریم لی۔۔۔ 

‎عرش کے پاس اُس دن پیسے نہ تھے، اس نے پہلے ہی اپنے دوست ساحل سے کہا تھا

جب میں میسج کروں بھیجوں فوراً پیمنٹ کردینا 

‎مگر روشی کو اندازہ ہو گیا، اور اس نے فوراً اپنے ہاتھ سے پیسے دے دیے۔

: ‎عرش کو شرمندگی ہوئی، مگر روشی نے کہا

میں نے دیدیا تو کیا ہوگیا، اب ہر بار تم ہی کھلاؤ گے اچھا نہیں لگتا
‎واپسی میں رکشہ خالی تھا۔

‎عرش نے وہی انگوٹھی، جو چھوٹی کروائی تھی

‎روشی کے ہاتھ میں رکھ دی۔

‎اس بار بالکل مناسب تھی۔

‎روشی نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر ہلکا سا ہاتھ مارا

‎اور کہا، اب یہ بلکل ٹھیک ہے۔

‎عرش کا دل جیسے پگھل گیا۔

‎وہ ضد کر رہا تھا کہ گھر تک چھوڑوں گا

‎مگر روشی نے منع کر دیا۔

‎عرش رکا، دیکھا، اور پھر دھیرے دھیرے لوٹ گیا 

‎ساتھ بس وہ لمحے، وہ ہنسی، وہ احساس

‎جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔

 🌿 ‎حاصلِ سبق 🌿


‎محبت میں جذبہ ہونا فطری ہے، مگر ایمان کی سرحدیں کبھی نہیں بھولنی چاہییں۔


‎جذبات اگر ایمان کے تابع ہوں تو محبت عبادت بن جاتی ہے،


‎اور اگر سرحد سے باہر نکل جائے تو انسان بھٹک جاتا ہے۔

‎عرش اور روشی دونوں نے سچائی اور احساس کا مظاہرہ کیا،


‎مگر اُن سے لغزش بھی ہوئی — کیونکہ جوانی میں دل جلد بہک جاتا ہے۔


‎یہی سبب ہے کہ اسلام نے نگاہ، لمس، اور خلوت کی سختی سے ممانعت کی ہے۔

‎محبت اگر نکاح کے دائرے میں ہو تو رحمت ہے

‎ورنہ آزمائش۔

‎اللہ تعالیٰ ہمیں وہ محبت عطا کرے جو پاکیزگی، صبر، اور عزت کے دائرے میں ہو۔

‎اور معاشرے کے لیے سبق یہ ہے کہ —


‎محبت جرم نہیں، لیکن اس کی حدود متعین ہیں۔


‎ایمان سے بڑی کوئی محبت نہیں۔


‎ایسے معاشرے کی بنیاد تب ہی مضبوط ہو سکتی ہے جب نوجوان اپنی خواہشات پر لگام ڈال کر اپنی محبت کو نکاح

 کے مقدس بندھن تک محفوظ رکھیں۔

‎ 

Sunday, October 19, 2025

کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے💓

🌹داستانِ محبت 🌹




عتیق اللہ کلیم ✍️

 بابِ سوم: کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے

اگر آپ نے اس داستان کا پہلا اور دوسرا باب نہیں پڑھا تو توقف کیجیے — کیونکہ یہ باب اُس کے جذباتی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔
: بابِ دوم ملاحظہ ہو 

شام کی ہوا میں ہلکی سی خنکی گھلی ہوئی تھی۔ حسبِ معمول عرش اور روشی واٹس ایپ پر باتوں میں مگن تھے۔ عرش اپنے دوست ساحل کے ساتھ پیزا کھا رہا تھا کہ شرارتاً ایک تصویر کھینچی اور روشی کو بھیج دی۔

روشی نے مسکرا کر کہا، "آپ اکیلے ہی کھا رہے ہیں؟ میں بھی کھاؤں گی

عرش نے بے ساختہ جواب دیا، ٹھہرو، میں آن لائن آرڈر کر دیتا ہوں۔


چند لمحوں میں آرڈر دے دیا گیا، مگر جب ڈیلیوری بوائے پہنچ گیا— تو بس گھر سے دس قدم باہر جانا تھا۔

مگر روشی نے ہچکچاتے ہوئے کہا : نہیں، میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔ آپ آرڈر کینسل کر دو۔

آرڈر تو کینسل نہ ہوا، مگر پیسے ضرور ضائع ہو گئے۔

اگلے دن عرش نے دل میں عزم کیا کہ آج روشی کو پیزا ضرور کھلا کر رہوں گا

نمازِ عصر کے بعد وہ اپنے وفادار دوست ساحل کے ساتھ بائیک پر روانہ ہوا۔

رستہ انجانا تھا، اس لیے گوگل میپ کا سہارا لیا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا — کئی چکر کاٹنے کے بعد آخرکار وہ روشی کے محلے پہنچ ہی گئے۔

قریب ہی سے پیزا پیک کروایا اور مسجد کے سامنے کھڑے ہو کر روشی کو کال کی

تمہارا ڈیلیوری بوائے پہنچ گیا ہے، جا کر پیزا لے لو

روشی کو علم نہ تھا کہ ڈیلیوری بوائے کوئی اجنبی نہیں، بلکہ وہی دیوانہ ہے جو اُس کے لیے دل کا پیزا سینک لایا ہے۔


روشی نے سادگی سے کہا : ٹھیک ہے، میں ابو سے کہتی ہوں وہ لے آئیں گے۔

بس یہ سنتے ہی عرش کے اوسان خطا ہوگئے، اور ساحل تو گھبرا کر فوراً بائیک دوڑا لے گیا

یار، مجھے کال کر لینا، میں پٹنے کے لیے نہیں آیا


.....مگر عرش ٹھہر گیا، محبت کا اسیر، دیوانہ

: اس نے جلدی سے روشی کو میسج کیا

براہ کرم ابو کو نہ بھیجو، وہ ڈیلیوری بوائے کوئی اور نہیں… میں خود ہوں۔ میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔


یہ پڑھتے ہی روشی کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی

آپ خود مار کھائیں گے اور مجھے بھی کھلوائیں گے؟ اچھا رکو، میں ہی آتی ہوں ورنہ آپ مار کھا جاؤ گے


روشی نے دروازے پر بہن کو پہرہ دینے کے لیے کھڑا کیا اور خود بھاگتی ہوئی آئی۔

سلام کیا، تیزی سے پیزا لیا، اور بجلی کی طرح واپس اندر غائب ہو گئی۔

عرش اپنی محبوبہ کو دیکھ بھی نہ سکا جس کے لیے اتنی دور سے آیا تھا۔

ایک لمحے کی دید کے لیے تڑپتا رہ گیا۔


عرش کے دل میں عجب سا سکون اور اداسی دونوں جمع ہو گئے 

سکون، اس بات کا کہ وہ اپنی چاہت کو خوشی دے سکا

اور اداسی اس بات کی کہ اُس کی دیدارِ یار کی حسرت ادھوری رہ گئی۔


رات گہری ہو چکی تھی۔ دونوں دوست واپسی کے سفر پر تھے۔ راستے میں روشی برابر کال کرتی رہی

پہنچ گئے نا؟ ٹھیک ہیں نا؟

اور تب جا کر دلوں کو قرار آیا۔


لیکن اگلی صبح ایک نئی مصیبت انتظار میں تھی 

ساحل کو اپنے بھائی کے دوستوں کی ڈانٹ سننی پڑی۔

گاڑی وہ کسی اور بہانے سے لے گیا تھا، اور جب راز کھلا، تو اعتبار ہی اٹھ گیا۔

جو کل تک ایک کہنے پر گاڑی دے دیتے تھے، اب پوچھ گچھ کرنے لگے۔


ساحل نے سب برداشت کیا، مگر دوستی

 نبھائی۔

: وہ نہ روٹھا، نہ بدلا، بس مسکرا کر کہا

دوست کے لیے تو اس سے قربانیاں دے سکتا ہوں ۔


✨ حاصلِ سبق


محبت کے سفر میں صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا

اس کے لیے حوصلہ، صبر، قربانی اور سب سے بڑھ کر ایمان کی روشنی ضروری ہے۔

سچی محبت وہ نہیں جو زبان سے کہی جائے

بلکہ وہ ہے جو عمل سے، دعا سے، اور دل کی پاک نیت سے ظاہر ہو۔


عرش نے یہ بات ثابت کر دی کہ جب دل میں خلوص ہوتا ہے تو

فاصلہ، تھکن، خطرہ — کچھ بھی انسان کو روک نہیں سکتا۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ دونوں علمِ دین کے طالب ہونے کے باوجود

اس کمزوری میں مبتلا ہوئے جو شیطان کا سب سے پرانا ہتھیار ہے۔


: قرآن نے فرمایا

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ

(شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا۔)

جب آدمؑ جیسے نبی سے لغزش ہو سکتی ہے تو عام انسان کیسے محفوظ رہیں۔

مگر فرق یہ ہے کہ اہلِ ایمان توبہ کر لیتے ہیں

اور یہی توبہ انسان کو گناہ سے بلند کرتی ہے۔


عرش نے ابتدا ہی سے نیت نکاح کی رکھی

اس لیے اس کی محبت میں حیاء اور حد کا احساس باقی رہا

اور یہی احساس اُس کے ایمان کی علامت ہے۔


: جہاں تک ساحل کی بات ہے

تو اُس نے دوستی کی مثال قائم کر دی 

خطا میں شریک بھی ہوا، مگر سنبھالنے والا بھی وہی بنا۔

یہی دوستی کا امتحان ہے۔


: اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا

المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالل

آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ کس کو دوست بنا رہا ہے۔


پس سبق یہی ہے کہ محبت ہو یا دوستی — دونوں میں ایمان، نیت اور ذمہ داری کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔



پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...