بسم اللہ الرحمن الرحیم
سالانہ تعطیل رمضان 1447ھ اور ہماری سرگرمیاں
عتیق اللہ کلیم ✍️
مادرِ علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں جیسے ہی تعطیلاتِ رمضان کا اعلان چسپاں ہوا، شب و روز کی تھکن اور تعلیمی جدوجہد کے بعد بالآخر سکون کے وہ لمحات میسر آئے جنہیں 'چھٹی' کہا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ کی بڑی تعداد رختِ سفر باندھ کر اپنے گھر کو روانہ ہوگئی۔
میرے رفقائے درس سید امین الدین اور معراج بھائی کا ارادہ تھا کہ ہم ان تعطیلات میں دارالعلوم ہی میں قیام کریں گے اور ان فارغ اوقات میں مطالعہ اور کمپیوٹر کورس کریں گے۔ ان کا عزم دیکھ کر میں نے بھی دس روز تک ان کا ساتھ دینے کی حامی بھر لی۔
ابتدا میں ادارے کی جانب سے طعام کی اجازت نہ مل سکی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ وقت جو ہم نے مطالعے کے لیے وقف کر رکھا تھا، اب وہ صبح کے ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے عشائیے کی نذر ہونے لگا۔ سارا وقت انہیں ضرورتوں کی تگ و دو میں صرف ہوجاتا۔ اس وقت ہمیں شدت سے اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ اگر دارالعلوم کی جانب سے طعام و قیام کی سہولیات میسر نہ ہوں، تو حصولِ علم ناممکن نہیں تو دشوار ترین ضرور ہوجاتا۔
اس قیام کے دوران ہمیں یہ عملی تجربہ ہوا کہ معاشی فکر اور دیگر ضروریات کے ساتھ یکسوئی سے پڑھنا کتنا کٹھن عمل ہے، اور جو لوگ ان حالات میں بھی علمی تشنگی بجھاتے ہیں، وہ کس قدر جفاکش ہوں گے!! ان تمام تر پریشانیوں اور مصروفیات کے باوجود، ہم نے رمضان المبارک کے موضوع پر مطالعہ جاری رکھا اور روزانہ عصر کے بعد دارالعلوم کی مسجد میں کتاب خوانی کی سعادت حاصل کی۔
تاہم، دل میں ایک خلش سی باقی ہے کہ ہم ان قیمتی لمحات سے جس قدر فیضیاب ہونا چاہتے تھے اور ان کا جیسا حق تھا، ویسا استفادہ نہ کر سکے۔
لکھنؤ سے گورکھپور ایک یادگار سفر
تعطیلات کے دس دن گزر چکے تھے، گھر کی یاد اب شدت سے ستا رہی تھی کہ اسی دوران میرے رفیقِ درس محمد شاہد کی طرف سے اصرار تھا کہ کچھ وقت ان کے ساتھ گورکھپور میں گزاروں۔ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ اسی بہانے گورکھپور کی سیر بھی ہو جائے گی۔
17 فروری 2026 کی صبح ساڑھے چار بجے میں چار باغ اسٹیشن کے لیے روانہ ہوا، جہاں سے پانچ بجے میری ٹرین تھی۔ الحمدللہ، میں بروقت اسٹیشن پہنچ گیا اور ٹرین اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو گئی۔ دورانِ سفر میں نے رمضان المبارک کی مناسبت سے ایک کتاب بنام رمضان المبارک اور اس کے تقاضے از : حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کا مطالعہ کیا، جس کی وجہ سے وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور میں دن کے گیارہ بجے گورکھپور پہنچ گیا۔ شاہد بھائی، جو پپرائچ سے بیس کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئے تھے، اسٹیشن پر میرے انتظار میں بیٹھے تھے ۔
سب سے پہلے ہم شاہد بھائی کی خالہ کے گھر گئے، وہاں سامان رکھنے کے بعد ہم گورکھپور کی مشہور تفریح گاہ 'نوکا وہار' کی سیر کو نکلے۔ وہاں ایک وسیع و عریض تالاب ہے جس کے بیچوں بیچ دو بڑے اسٹیمر موجود ہیں۔ بظاہر تو وہ اسٹیمر ہیں، مگر اندرونِ خانہ وہ کسی محل سے کم نہیں؛ وہاں خوبصورت میرج ہال، ریسٹورنٹ اور دیگر دلکش مناظر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ ہم نے بھی ایک چھوٹے اسٹیمر میں بیٹھ کر تالاب کی لہروں کا لطف اٹھایا اور ان یادگار لمحوں کو محفوظ کیا۔
اس کے بعد ہم 'نوکا وہار ٹو' پہنچے، جو ایک نہایت کشادہ اور خوبصورت پارک ہے۔ رنگ برنگے پھولوں، پودوں اور پانی کے فواروں نے ایک سحر انگیز سماں باندھ رکھا تھا۔ اسی سیر و تفریح کے دوران ایک بینچ پر ہمیں ایک موبائل فون پڑا ہوا ملا۔ فون کی حالت تو بہت اچھی نہ تھی، مگر وہ قابلِ استعمال تھا۔ میں نے اس میں موجود ایک نمبر پر رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ صاحب اپنا فون وہیں بھول گئے تھے۔ جب ہم نے ان سے ملاقات کر کے فون ان کے حوالے کیا، تو ان کی حیرت اور خوشی قابل دید تھی۔ گورکھپور کے موجودہ سماجی حالات میں ایک مسلم نوجوان کی طرف سے دیانت داری کا یہ مظاہرہ اس ہندو بھائی کے لیے نہایت حیرت کا باعث تھا۔ اس طرح ہماری یہ تفریح محض سیر تک محدود نہ رہی، بلکہ اسلام کے آفاقی اور اخلاقی پیغام کی تبلیغ کا ذریعہ بھی بن گئی۔
رات عشاء کی نماز کے بعد ہم شاہد بھائی کے گھر پہنچے اور شاہد بھائی کے والدین اور بھائی سے ملاقات کی امی نے آج کھانے میں چکن روٹی اور چاول بنایا تھا کھانا بے حد لذیذ تھا کھانے سے فارغ ہو کر ہم سب نے خوب باتیں کی اور پھر سو گئے۔
شاہد بھائی کے گھر مجھے بہت اچھا لگا اور مجھے محسوس ہی نہ ہوا کہ میں پہلی بار ان کے گھر آیا ہوں ۔ ان کے والدین اور بھائی نے خوب خیال رکھا ۔
اگلی صبح چار بجے شاہد بھائی نے مجھے اسٹیشن چھوڑا اور میں اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔
دورانِ سفر ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میرے بغل والی سیٹ پر بیٹھے ایک شخص کو اچانک دورہ پڑ گیا، اس کے ہاتھ پاؤں سکڑنے لگے اور اس پر ایک غیر معمولی کیفیت طاری ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا، ہر شخص یہی فکر کر رہا تھا کہ اس کی حالت کیسے سنبھلے۔ کوئی چمڑے کا جوتا سُنگھا رہا تھا، کوئی اس کے ہاتھ پاؤں سہلا رہا تھا اور کوئی دوسری تدبیر آزما رہا تھا۔ اسی ڈبے میں ایک کم سن لڑکی بھی موجود تھی، جو میڈیکل کی طالبہ تھی، اس نے ایک مناسب ترکیب آزمائی اور اللہ کے فضل سے وہ شخص جلد ہی سنبھل گیا۔ اس موقع پر نہ کسی نے دین دیکھا، نہ مذہب، نہ نسل، نہ رنگ و روپ؛ سب نے مل کر انسانیت کا پیغام دیا۔
اثنائے سفر ، الحمدللہ، رمضان سے متعلق مختلف مضامین کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ 18 فروری کو ظہر کی نماز سے پہلے میں گھر پہنچ گیا، جہاں والدین اور بھائی بہنوں سے ملاقات کر کے بے حد خوشی ہوئی۔
رمضان کے بیس روز
رمضان المبارک کا بابرکت اور باعزت مہینہ آ گیا۔ سرکش شیاطین قید کر دیے گئے، مسجدیں آباد ہو گئیں اور لوگ عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔ جمعہ کے دن پہلا روزہ تھا، الحمدللہ! اسی دن میں نے رمضان کے موضوع پر جمعہ میں بیان بھی کیا۔ ماہِ رمضان کے شب و روز میں نے بڑے ذوق و شوق اور روحانی مسرت کے ساتھ گزارے۔
سحر کا وقت
رمضان بھر میرا دن، سحر کے پُرنور لمحات میں بیدار ہونے سے شروع ہوتا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر نوافل ادا کرتا، دعائیں مانگتا، اور پھر اہل خانہ کے ساتھ سحری میں شریک ہوتا۔ فجر کی نماز کے بعد تلاوتِ قرآنِ کریم میرا محبوب مشغلہ ہوتا، جو نیند غالب آنے تک جاری رہتا۔ اس کے بعد کچھ دیر آرام کرتا اور پھر تقریباً دس بجے بیدار ہوتا۔
والد صاحب کی معاونت اور کتب بینی
بیدار ہونے کے بعد میرا معمول تھا کہ میں اپنے والد صاحب کی دکان پر چلا جاتا؛ چوں کہ ان دنوں دکان پر کام کی مصروفیت زیادہ نہیں ہوتی تھی؛ اس لیے میں اس فرصت کو غنیمت جان کر قرآنِ پاک کی تلاوت اور کتابوں کے مطالعے میں صرف کرتا۔
درسِ قرآن
نمازِ ظہر کے بعد جامع مسجد میں درسِ قرآن دیتا۔ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی یہ سلسلہ جاری رہا، بلکہ خوشی کی بات یہ تھی کہ سال رواں حلقۂ درس میں حاضرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس ادنیٰ سی کوشش کو قبول فرمائے اور اسے میرے لیے نجات کا ذریعہ بنائے۔
گھریلو ذمہ داریاں اور افطار کی رونقیں
نمازِ عصر تک دکان پر وقت گزارنے کے بعد میں گھر لوٹ آتا؛ تاکہ اپنی والدہ محترمہ کا ہاتھ بٹا سکوں۔ افطار کے لیے مشروبات تیار کرنا، پھل کاٹنا اور دسترخوان سجانا میری روزمرہ کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ افطار کے وقت اہلِ خانہ کا مل کر دعا مانگنا ایک نہایت ایمان افروز منظر ہوتا۔
مغرب بعد اکثر کچن جاکر افطار کے برتن دھو دیتا والدہ اکثر منع کرتی لیکن خوش ہو کر دعائیں دیتی پھر تھوڑی دیر اپنے والد صاحب کے پاس بیٹھتا اور ان کی خدمت میں مشغول رہتا۔ تھوڑی دیر آرام کے بعد عشاء اور تراویح کے لیے مسجد جاتا۔ نماز کے بعد ہم سب مل کر کھانا کھاتے، جس کے بعد میں دوبارہ والد صاحب کی خدمت، خصوصاً ان کے پاؤں دبانے، میں لگ جاتا۔ فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر موبائل فون کے ذریعے دنیا کے حالات سے باخبر ہوتا۔
ان دنوں نیند کی کمی کا سامنا تھا، لیکن میں نے اس کا مثبت حل یہ نکالا کہ تلاوت کرتے کرتے جب نیند آتی تو سو جاتا۔ اس وجہ سے تہجد کے وقت بیدار ہونا کبھی کبھی مشکل محسوس ہوتا، مگر میں پوری کوشش کرتا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیدار ہو جاتا۔
اعتکاف کے مبارک ایام
رمضان المبارک کے بیس دن گزر چکے تھے۔ ان دنوں مختلف مشغولیات رہیں، مگر دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ آخری دس دن مکمل یکسوئی کے ساتھ تلاوتِ قرآن، نوافل اور مطالعے میں گزارے جائیں۔ چنانچہ والدین سے اجازت لے کر میں نے سنتِ اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔اعتکاف کے ان مبارک دنوں میں نوافل، مطالعہ اور بالخصوص تلاوتِ قرآنِ پاک پر خصوصی توجہ رہی۔ الحمدللہ! اس دوران تین سے زائد مرتبہ قرآنِ مجید کی مکمل تلاوت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ساتھ ہی درسِ قرآن کا سلسلہ بھی جاری رہا، اس لیے تفسیر کے مطالعے کا بھی اہتمام رہا۔ تفسیر کے لیے زیادہ تر معارف القرآن سے رجوع کرتا تھا، جب کہ قرآنی افادات کا بھی مکمل مطالعہ کیا۔
اس تعطیل کے دوران مختلف جمعوں میں، تراویح ختمِ قرآن کے مواقع پر متعدد مسجدوں میں، اور عید کے دن بھی خطاب کرنے کا موقع ملا۔ ان بیانات کا اثر یہ ہوا کہ لوگ کافی متاثر ہوئے۔ مسجد میں آنے والے نوجوانوں سے بھی گفتگو رہتی۔ میں نے ان کے سامنے تعلیمی بیداری مہم سمانچل بہار کا تعارف کرایا اور بتایا کہ میں اپنے علاقے میں بھی ایسی مہم شروع کرنا چاہتا ہوں۔ سب نے اس تجویز سے اتفاق کیا، بلکہ بعض نوجوانوں نے میرا نمبر بھی لیا تاکہ ایک گروپ بنا کر اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی جا سکے اور کام کو عملی شکل دے سکیں۔
میرے بیانات اور بعض مخلص حضرات کی کوششوں کے نتیجے میں میرے علاقے کے چند لڑکے حفظِ قرآن کے لیے آمادہ ہوئے۔ اتفاق سے وہ ان دنوں گاؤں میں موجود تھے اور مجھ سے ملنا چاہتے تھے، لیکن مدارس میں اساتذہ کی طرف سے مارپیٹ کے ماحول سے متاثر ہو کر جھجھک بھی محسوس کر رہے تھے۔ تاہم اس باب میں حالات بہت بہتر ہوئے ہیں ، ستائیسویں شب نمازِ عشاء کے بعد کچھ چھوٹے بچے مسجد میں موجود تھے۔ میں نے ان سے گفتگو کی کوشش کی مگر وہ گھبرا رہے تھے۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ میں سختی نہیں کرتا۔ بچوں نے حیرت سے پوچھا: "سچ میں؟" میں نے مسکرا کر کہا: "ہاں!" پھر میں نے انہیں بسکٹ دئے۔ وہ بچے بہت متاثر ہوئے۔ میں نے ان کی نماز کی ہیئت درست کرائی، کلمے اور دعائیں بھی ان سے سنیں۔ اس واقعے کے بعد وہ بچے مجھے ڈھونڈتے ہوئے آنے لگے۔
انہیں دنوں میں اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی آن لائن نشست میں بھی شرکت کی اور سپرد کی گئی ذمہ داری ادا کی۔ اسی طرح دار البحث و الاعلام کے ڈائریکٹر، استادِ محترم مولانا مسعود عالم ندوی مد ظلہ العالی نے ادارے کی مالی معاونت کے لیے ایک رسید دی تھیں۔ الحمدللہ، میں نے پانچ ہزار روپے جمع کیے۔
اعتکاف کا آخری دن
اعتکاف کے آخری دن جب ہم معتکفین گھر واپس ہونے لگے تو مسجد کے نمازی حضرات دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ سب نے نہایت محبت سے معانقہ کیا اور ہدیے بھی پیش کیے۔ یہ محبت و اخلاص میرے لیے ایک خوشگوار یاد بن گئی۔
عید کا دن
عید کی صبح فجر کے بعد ہی تیاری شروع کر دی؛ کیونکہ عید کے موقع پر بیان بھی کرنا تھا۔ اس لیے میں اپنے چھوٹے بھائی اطیع اللہ کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے عیدگاہ پہنچ گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ عیدگاہ کے سکریٹری اور دیگر ذمہ داران نے طے کیا تھا کہ یہ عاجز خطاب کرے گا۔
ہمارے یہاں ایک ہی عیدگاہ میں تین گاؤں کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں، مگر چونکہ عیدگاہ والے گاؤں کے لوگ بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ عام طور پر اپنے امام کے علاوہ کسی اور کو خطاب کا موقع نہیں دیتے۔ بچپن سے دیکھتا آیا تھا کہ وہاں خطاب کرنے والا حافظ صاحب کم علمی کے باعث قصے کہانیوں اور بار بار درود شریف پڑھوا کر وقت گزار دیتے تھے۔ دو تین سال پہلے جب میں نے پہلی بار خطاب کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو معاملہ کافی بڑھ گیا تھا، یہاں تک کہ میرے علاقے کے لوگوں نے الگ نماز پڑھنے کی بات بھی کہہ دی تھی۔ بہرحال، حالات سنبھل گئے اور مجھے خطاب کا موقع ملا۔ میں نے عید الاضحی کے موضوع کے بجائے اتحاد و اتفاق پر گفتگو کی۔ لوگ بہت متاثر ہوئے اور نماز کے بعد خوشی سے معانقہ بھی کیا۔
میرے گاؤں میں عید کے دن ایک خوبصورت روایت ہے۔ عیدگاہ سے واپس آتے ہوئے لوگ پیدل ہر مسلمان بھائی کے گھر جاتے ہیں۔ اور ہر گھر میں پہلے سے سویاں، دہی بڑے، چھولے وغیرہ تیار ہوتے ہیں۔ ہر گھر پر سبھی کو کچھ نہ کچھ کھانا لازم ہوتا ہے۔ اس طرح پورا قافلہ گاؤں پہنچتا ہے، جہاں مسجد کے سامنے تخت اور کرسیاں لگا دی جاتی ہیں۔ پھر گاؤں کے ہر گھر سے مختلف کھانے آتے ہیں، اور سب مل کر ایک ساتھ تناول کرتے ہیں۔ واقعی یہ منظر نہایت دلکش ہوتا ہے اور اخوت و بھائی چارگی کا حسین پیغام دیتا ہے۔
گھر واپس آنے کے بعد دوستوں اور بھائیوں کی خواہش ہوئی کہ کہیں سیر و تفریح کے لیے جائیں۔ عام طور پر عید کے پہلے دن اس کی اجازت نہیں ملتی، مگر شاید اس دن میرے بیان کا اثر تھا کہ والد محترم نے اجازت دے دی۔ میں نے خطاب میں کہا تھا کہ اسلام میں عید کے صرف دو دن ہیں، لہٰذا ان دنوں بچوں کو خوشی دی جائے، انہیں گھمایا جائے اور عیدی بھی دی جائے؛ چنانچہ ہم تقریباً دس کلومیٹر دور ایک پارک میں سیر کے لیے گئے۔ اسی دوران علاقے کے بہت سے لوگ میرے گھر آ گئے اور والد صاحب سے میرے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ والد صاحب مسلسل فون کرتے رہے مگر ہم وقت پر نہ پہنچ سکے، جس کی وجہ سے والدین کو پریشانی ہوئی۔ جب گھر واپس پہنچا تو والد صاحب نے ناراضی کا اظہار کیا، اور بجا طور پر مجھے ڈانٹ بھی پڑی۔
عید کے بعد رشتہ داروں سے ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔25/مارچ 2026 کو اپنے چچا زاد بھائی کی شادی میں شرکت کی، اور خوشی کی بات یہ کہ نکاح پڑھانے کی سعادت بھی پہلی بار اسی عاجز کو حاصل ہوئی۔
یوں باقی ایام بھی گزر گئے اور پھر چھٹیاں ختم ہو گئیں۔ 30 اپریل کی شام میں اپنے بھانجے ( چچازاد بہن کے لڑکے ) کے ساتھ گھر سے اپنی مادرِ علمی دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے لیے روانہ ہوا اور الحمدللہ 31/اپریل 2026 کو نماز فجر سے قبل مادر علمی پہنچ گیا۔
یوں رمضان، اعتکاف اور عید کے یہ بابرکت ایام اختتام پذیر ہوئے، مگر ان کی روحانیت اور میٹھی یادیں دل میں باقی رہ گئیں۔ ان دنوں نے مجھے عبادت، خدمتِ خلق اور اخلاص کا حقیقی سبق دیا۔
اللہ تعالیٰ ہماری تمام کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔

No comments:
Post a Comment