Sunday, June 28, 2026

محرم الحرام: ایثار، قربانی اور حق و صداقت کا عالمگیر پیغام

محرم الحرام: ایثار، قربانی اور حق و صداقت کا عالمگیر پیغام



✍️عتیق اللہ کلیم 

​اسلامی تقویم (ہجری سال) کا آغاز ماہِ محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک نئے سال کی آمد کا اعلان نہیں ہے، بلکہ یہ مبارک مہینہ اپنے دامن میں اسلامی تاریخ کے عظیم ترین اسباق، لازوال قربانیوں اور فکری بیداری کا ایک پورا جہاں سمیٹے ہوئے ہے۔ محرم الحرام ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بات حق، انصاف اور اصولوں کی ہو، تو کسی بھی مصلحت کے تحت باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا جاتا۔

محرم الحرام کی عظمت اور شرعی حیثیت

​قرآن مجید میں جن چار حرمت والے مہینوں کا ذکر کیا گیا ہے، محرم الحرام ان میں سے ایک نمایاں مہینہ ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اسے "شہر اللہ" یعنی اللہ کا مہینہ بھی کہا گیا ہے، جو اس کی روحانی فضیلت کو واضح کرتا ہے۔ تاریخِ اسلام میں اس ماہ کو ہمیشہ سے ایک خاص تقدس حاصل رہا ہے، اور اس کے روزے رکھنے کی فضیلت عام دنوں کے روزوں سے بڑھ کر بتائی گئی ہے۔ یہ مہینہ بنیادی طور پر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی زندگی کا اصل مقصد اپنے نفس کی اصلاح، خدا کی بندگی اور معاشرے میں امن و انصاف کا قیام ہے۔

​معرکہ کربلا: حق اور باطل کا ٹکراؤ

​جب بھی محرم الحرام کا مہینہ آتا ہے، تاریخِ انسانی کا وہ عظیم الشان اور دلخراش معرکہ ہمارے ذہنوں میں تازہ ہو جاتا ہے جو نواسۂ رسول، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء نے میدانِ کربلا میں لڑا۔ یہ جنگ محض دو لشکروں یا دو گروہوں کے درمیان اقتدار کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، اور انسانی اقدار اور استبداد کے درمیان ایک واضح لکیر تھی۔

​امام عالی مقام نے میدانِ کربلا میں اپنی اور اپنے خاندان کی بے مثال قربانی دے کر قیامت تک کے لیے یہ ثابت کر دیا کہ سر تو کٹ سکتا ہے، لیکن جابر و ظالم قوتوں کے سامنے جھک نہیں سکتا۔ آپ کی یہ قربانی کسی ایک خطے یا مذہب تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے حریت اور آزادی کا ایک ابدی مینارہ ہے۔

​ہمارے لیے فکری اور اخلاقی اسباق

​موجودہ دور میں جب ہم اس مبارک مہینے کا استقبال کرتے ہیں، تو ہمیں اس کے پیغام کو صرف تاریخ کے اوراق یا رسمی تذکروں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے اپنی عملی زندگی اور فکری ارتقاء کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ اس مہینے سے ہمیں چند اہم اسباق ملتے ہیں:

  • حق گوئی اور بے باکی: حالات کتنے ہی کٹھن اور ناموافق کیوں نہ ہوں، ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا۔

  • صبر اور استقامت: مصائب اور آزمائشوں کے دور میں گھبرانے کے بجائے اللہ کی رضا پر شاکر رہنا اور اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا۔

  • کردار کی بلندی (Self-Improvement): اپنی ذاتی اور سماجی زندگی کو اعلیٰ اخلاقی و علمی اقدار کے سانچے میں ڈھالنا، تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔

خاتمہ اور فکری دعوت

​محرم الحرام کا اصل حاصل یہ ہے کہ ہم اپنے اندر مظلوم کا ساتھ دینے اور ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کریں۔ یہ مہینہ ہر سال ہمیں ایک نئی فکری اور روایتی توانائی بخشتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگیوں کو بامقصد، بااخلاق اور انسانیت کے لیے نفع بخش بنا سکیں۔

آپ کی رائے: آپ کے خیال میں موجودہ دور کی علمی اور ڈیجیٹل دنیا میں معرکہ کربلا کے آفاقی پیغام کو عام کرنے کے لیے ہمیں کیا حکمتِ عملی اپنانی چاہیے؟ کمنٹ سیکشن میں اپنے قیمتی خیالات کا اظہار ضرور کریں اور اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

مزید پڑھیں :

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2026/06/blog-post.html


Tuesday, June 23, 2026

اسلام کا نظامِ وراثت

 اسلام کا نظامِ وراثت



  بقلم: عتیق اللہ کلیم 

 :  اور وراثت کا مفہوم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے ہمیں ایک ایسا منصفانہ اقتصادی ڈھانچہ دیا ہے جس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ اس معاشی نظام کا درخشندہ باب "اسلامی نظامِ وراثت" ہے۔

وراثت سے مراد کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا چھوڑا ہوا تمام مال، جائیداد اور اثاثے ہیں، جو ایک طے شدہ اسلامی ضابطے کے تحت متوفی کے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ دولت کا ارتکاز رکے اور معاشی عدل قائم رہے۔

:  زمانہ جاہلیت بمقابلہ اسلامی عدل

زمانہ جاہلیت میں وراثت کا کوئی مستقل قانون نہیں تھا۔ جائیداد صرف طاقتور مردوں یا لڑنے کے قابل افراد میں تقسیم ہوتی تھی۔ عورت خواہ ماں ہو، بیٹی، بیوی یا بہن، اسے جائیداد سے مکمل محروم رکھا جاتا تھا۔ دیگر قدیم مذاہب کا حال بھی ایسا ہی تھا۔ لیکن اسلام نے اس ظلم کا خاتمہ کیا، حاجت و ضرورت اور رشتوں کے تقدس کو بنیاد بنا کر وراثت کا ایک عادلانہ نظام قائم کیا اور عورت کو باقاعدہ وارث ٹھہرایا۔

: قرآن و حدیث میں وراثت کی اہمیت

اسلام نے وراثت کے احکامات کو اجمالی نہیں چھوڑا بلکہ قرآنِ کریم میں اس کی مکمل تفصیل بیان کی ہے۔

اللہ کی حدود: قرآن مجید (سورۃ النساء) میں وراثت کے حصص بیان کرنے کے بعد انہیں "اللہ کی مقرر کردہ حدود" قرار دیا گیا ہے اور یتیموں کا مال ناحق کھانے والوں کو جہنم کی دہکتی آگ کی وعید سنائی گئی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان: آپ ﷺ نے علمِ میراث سیکھنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا: "جس نے اپنے کسی وارث کو میراث سے محروم کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت کی میراث سے محروم کر دے گا۔"

 عورت کا حصہ نصف کیوں؟ ایک عقلی حکمت

سطحی نظر رکھنے والے اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ عورت کا حصہ مرد سے نصف کیوں ہے؟ اس کی بنیادی حکمت یہ ہے کہ اسلام نے عورت پر کوئی مالی ذمہ داری نہیں ڈالی۔

عورت کا اپنا خرچ، شادی کے بعد کا خرچ، بچوں اور خاندان کی کفالت سب مرد کے ذمے ہے۔

نکاح کے وقت مرد کو مہر ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ عورت مہر وصول کرتی ہے۔

نتیجتاً، عورت کو وراثت سے جو کچھ ملتا ہے وہ خالصتاً اس کی اپنی ملکیت ہوتا ہے جسے وہ محفوظ کر سکتی ہے، جبکہ مرد کا حصہ اس کی خاندانی اور معاشی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔

:  موجودہ مسلم معاشرے کا المیہ

یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم عبادات پر تو زور دیتے ہیں مگر وراثت کے معاملے میں اللہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ آج کے معاشرے میں چند بڑی خامیاں یہ ہیں:

خواتین کی محرومی: یہ غلط سوچ عام ہے کہ بیٹی کو جہیز دے دیا تو اب وراثت میں اس کا حصہ نہیں۔

حق بخشی کی ظالمانہ رسم: بہنوں پر معاشرتی اور جذباتی دباؤ ڈال کر زبردستی ان کا حصہ معاف کروانا۔

تاخیر اور ٹال مٹول: وراثت کی تقسیم کو سالوں لٹکائے رکھنا، جس سے کئی حق دار اپنا حصہ پائے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

یتیموں کا حق مارنا: طاقتور ورثاء کا اپنے کمزور یا یتیم بہن بھائیوں کے مال پر قابض ہو جانا۔

: اختتامیہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسلام کا نظامِ وراثت عدل و انصاف کا وہ عظیم شاہکار ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں روکنے کے بجائے پورے خاندان میں گردش دیتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جاہلانہ رسوم و رواج کی زنجیریں توڑیں اور اللہ کے مقرر کردہ حصوں کو خوش دلی سے تسلیم کریں۔ عورتوں، یتیموں اور کمزور وارثوں کا حق ادا کرنا محض ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ اللہ کی حدود کی پاسداری ہے، جس میں ہماری دنیاوی خوشحالی اور اخروی نجات پنہاں ہے۔

: اس مقالہ کو تیار کرنے میں مندرجہ ذیل کتب استفادہ کیا گیا ہے 

۔ اسلام میں میراث کی اہمیت ( از: مفتی احمد اللہ نثار قاسمی )

۔ اسلام کا وراثتی نظام ( از: پروفیسر عبدالرشید )

۔ معاشرتی مسائل دین فطرت کی روشنی میں ( از : برہان الدین سنبھلی )

۔ عورتوں کے لیے اسلام کے تحفے ( از : برہان الدین سنبھلی )

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2026/05/blog-post.html

مشاكل وتحديات الترجمة بين اللغة العربية واللغة الأردية

مشاكل وتحديات الترجمة بين اللغة العربية واللغة الأردية عتيق الله كليم✍️ : المقدمة اللغة العربية واللغة الأردية من أهم اللغات في العالم الإسل...