Tuesday, June 23, 2026

اسلام کا نظامِ وراثت

 اسلام کا نظامِ وراثت



  بقلم: عتیق اللہ کلیم 

 :  اور وراثت کا مفہوم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے ہمیں ایک ایسا منصفانہ اقتصادی ڈھانچہ دیا ہے جس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ اس معاشی نظام کا درخشندہ باب "اسلامی نظامِ وراثت" ہے۔

وراثت سے مراد کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا چھوڑا ہوا تمام مال، جائیداد اور اثاثے ہیں، جو ایک طے شدہ اسلامی ضابطے کے تحت متوفی کے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ دولت کا ارتکاز رکے اور معاشی عدل قائم رہے۔

:  زمانہ جاہلیت بمقابلہ اسلامی عدل

زمانہ جاہلیت میں وراثت کا کوئی مستقل قانون نہیں تھا۔ جائیداد صرف طاقتور مردوں یا لڑنے کے قابل افراد میں تقسیم ہوتی تھی۔ عورت خواہ ماں ہو، بیٹی، بیوی یا بہن، اسے جائیداد سے مکمل محروم رکھا جاتا تھا۔ دیگر قدیم مذاہب کا حال بھی ایسا ہی تھا۔ لیکن اسلام نے اس ظلم کا خاتمہ کیا، حاجت و ضرورت اور رشتوں کے تقدس کو بنیاد بنا کر وراثت کا ایک عادلانہ نظام قائم کیا اور عورت کو باقاعدہ وارث ٹھہرایا۔

: قرآن و حدیث میں وراثت کی اہمیت

اسلام نے وراثت کے احکامات کو اجمالی نہیں چھوڑا بلکہ قرآنِ کریم میں اس کی مکمل تفصیل بیان کی ہے۔

اللہ کی حدود: قرآن مجید (سورۃ النساء) میں وراثت کے حصص بیان کرنے کے بعد انہیں "اللہ کی مقرر کردہ حدود" قرار دیا گیا ہے اور یتیموں کا مال ناحق کھانے والوں کو جہنم کی دہکتی آگ کی وعید سنائی گئی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان: آپ ﷺ نے علمِ میراث سیکھنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا: "جس نے اپنے کسی وارث کو میراث سے محروم کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت کی میراث سے محروم کر دے گا۔"

 عورت کا حصہ نصف کیوں؟ ایک عقلی حکمت

سطحی نظر رکھنے والے اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ عورت کا حصہ مرد سے نصف کیوں ہے؟ اس کی بنیادی حکمت یہ ہے کہ اسلام نے عورت پر کوئی مالی ذمہ داری نہیں ڈالی۔

عورت کا اپنا خرچ، شادی کے بعد کا خرچ، بچوں اور خاندان کی کفالت سب مرد کے ذمے ہے۔

نکاح کے وقت مرد کو مہر ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ عورت مہر وصول کرتی ہے۔

نتیجتاً، عورت کو وراثت سے جو کچھ ملتا ہے وہ خالصتاً اس کی اپنی ملکیت ہوتا ہے جسے وہ محفوظ کر سکتی ہے، جبکہ مرد کا حصہ اس کی خاندانی اور معاشی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔

:  موجودہ مسلم معاشرے کا المیہ

یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم عبادات پر تو زور دیتے ہیں مگر وراثت کے معاملے میں اللہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ آج کے معاشرے میں چند بڑی خامیاں یہ ہیں:

خواتین کی محرومی: یہ غلط سوچ عام ہے کہ بیٹی کو جہیز دے دیا تو اب وراثت میں اس کا حصہ نہیں۔

حق بخشی کی ظالمانہ رسم: بہنوں پر معاشرتی اور جذباتی دباؤ ڈال کر زبردستی ان کا حصہ معاف کروانا۔

تاخیر اور ٹال مٹول: وراثت کی تقسیم کو سالوں لٹکائے رکھنا، جس سے کئی حق دار اپنا حصہ پائے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

یتیموں کا حق مارنا: طاقتور ورثاء کا اپنے کمزور یا یتیم بہن بھائیوں کے مال پر قابض ہو جانا۔

: اختتامیہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسلام کا نظامِ وراثت عدل و انصاف کا وہ عظیم شاہکار ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں روکنے کے بجائے پورے خاندان میں گردش دیتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جاہلانہ رسوم و رواج کی زنجیریں توڑیں اور اللہ کے مقرر کردہ حصوں کو خوش دلی سے تسلیم کریں۔ عورتوں، یتیموں اور کمزور وارثوں کا حق ادا کرنا محض ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ اللہ کی حدود کی پاسداری ہے، جس میں ہماری دنیاوی خوشحالی اور اخروی نجات پنہاں ہے۔

: اس مقالہ کو تیار کرنے میں مندرجہ ذیل کتب استفادہ کیا گیا ہے 

۔ اسلام میں میراث کی اہمیت ( از: مفتی احمد اللہ نثار قاسمی )

۔ اسلام کا وراثتی نظام ( از: پروفیسر عبدالرشید )

۔ معاشرتی مسائل دین فطرت کی روشنی میں ( از : برہان الدین سنبھلی )

۔ عورتوں کے لیے اسلام کے تحفے ( از : برہان الدین سنبھلی )

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2026/05/blog-post.html

No comments:

Post a Comment

مشاكل وتحديات الترجمة بين اللغة العربية واللغة الأردية

مشاكل وتحديات الترجمة بين اللغة العربية واللغة الأردية عتيق الله كليم✍️ : المقدمة اللغة العربية واللغة الأردية من أهم اللغات في العالم الإسل...