Friday, August 15, 2025

یومِ آزادئ ہند

یومِ آزادئ  ہند 


عتیق اللہ کلیم ✍️
تاریخ ہند میں دو دن 15 اگست اور 26 جنوری کو وہ غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جو کسی دوسرے دنوں کو حاصل نہیں ہے، 15 اگست 1947 کو ہمارا ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا تھا اور 26 جنوری 1950 کو اس ملک کا اپنا جمہوری قانون نافذ کیا گیا تھا ،آج کی اس تاریخ میں ہندوستان کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں باشندگان ہند نے جشن جمہوریت منایا ہوگا اور مجاہدین آزادی کے کارناموں کو یاد کیا ہوگا اور جمہوری ترانہ گنگنایا ہوگا اور یہ دعوی کیا جا رہا ہوگا کہ ہندوستان میں جمہوری حکومت قائم ہے اور ہر ایک کو چاہے وہ مسلم ہو کہ ہندو ،سکھ ہو یا عیسائی، مذہبی و ملی اور شخصی آزادی حاصل ہے اور اور ایسا بتایا بھی جاتا ہے کہ سب کے حقوق برابر ہیں اور سب کے لیے رعایات یکساں ہیں ہر ایک کے مفاد کے متعلق سوچ و فکر ہو رہی ہے سب کے حقوق یکساں طور پر دیے جا رہے ہیں اور یہ یاد کرایا جاتا ہے کہ ہر شخص ہر شہری کو مکمل آزادی حاصل ہے کسی کو کسی سے کوئی شکوہ نہیں آج کی اس تاریخ میں اس وقت بڑا ادنی سے ادنی سیاسی لیڈر یہی گفتگو کرتا ملے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے جھوٹے سیاست دانوں نے جمہوریت کے نام پر اس کی دھجیاں اڑائی ہیں اور جمہوریت کے نام پر اقلیت کا ہر میدان میں استیصال کیا ہے، کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ اقلیت پر اور بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا جائے؟
 کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ ماؤں اور بہنوں کی عزت و آبرو کو سر بازار کیا جائے؟ 
۔۔۔۔۔۔۔کسانوں اور کاشتکاروں کے حقوق سلب کیے جائیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔مساجد اور مدارس پر پابندیاں لگائی جائیں؟
۔۔۔۔۔۔۔ این آر سی اور سی اے اے کے نام پر شہریت ختم کیا جائے؟
۔۔۔۔۔۔ ملک میں دنگائی اور فسادیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے؟ ۔۔۔۔۔۔ملک میں کسانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا جائے ؟
اللہ اکبر !کیا فساد ،کیا ہنگامہ ،کیسا بھیانک منظر، کیسی درد آمیز کراہیں اور چیخ و پکار جس کے محض تصور سے ہی جسم کا رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے، کتنی آنکھیں اشکوں کے سمندر میں تیرنے لگتی ہیں  اور کتنی ہی زبانیں بلبلانے لگتی ہیں۔
 اے قائدین ملک بتاؤ کہ یہ کس وجہ سے ہوا اور اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟آج تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا محسوس منظر ہے، تو اگر اسی کا نام جمہوریت اور اسی کا نام آزادی ہے تو ایسی آزادی اور ایسی جمہوریت پر ہم کل بھی لات مارتے تھے اور آج بھی مارتے ہیں۔
!سن لو اے دانشورانِ ملت
ہمیں آزادی چاہیے دین اسلام کے تحفظ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب و ملت کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عزت و ابرو کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔خانہ خدا کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدارس و مکاتب کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔مساجد و معاہد کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم و زیادتی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالم حکومت وہ مہنگائی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنگا و فساد اور کالے قانون سے
 اب اگر ان چیزوں کی آزادی ہمیں نہیں ملتی جیسا کہ آج مشاہدات وہ واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں تو یاد رکھو کہ یہ آزادی اور جمہوریت کی بدنامی ہے اور ان دونوں لفظوں کو بےکار استعمال کیا جا رہا ہے ۔

محترم قارئین! آئیے ہم اپنے قول و فعل سے نشست و برخاست،  طور طریق سے آزادی کا صحیح مفہوم واضح کریں اور نفرت  عداوت ، تعصب و منافرت ،لاقانونیت و بربریت ،فرقہ پرستی و دہشت گردی کو ہوا دینے والی جماعتوں سے جم کر مقابلہ کریں ۔
اور امن و اشتی کا ہندوستان                           خوشحالی و پرامن ہندوستان 
گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ....    ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہندوستان
شیخ الہند اور مولانا قاسم کا.....                مولانا آزاد و مولانا جعفر کا
مہاتمہ گاندھی اور نہرو کا ......                 علامہ اقبال اور ٹیگور کا.........     ایمبیڈکر اور فضل حق خیرآبادی کا...  ٹیپو سلطان اور بھگت سنگھ کا سھباس چندر بوس واشفاق اللہ خان کا......    نارنک اور چشتی کا ہندوستان اور جیسا پرامن ہندوستان تھا ویسا ہی ہندوستان بن جائے اور آنکھوں کے سامنے آ جائے ۔
مذہب نہیں سکھاتا اپس میں بیر رکھنا
ہندی ہے ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا 

Wednesday, August 6, 2025

صور من حياة عبد الرحمن بن عوف

صور من حياة عبد الرحمن بن عوف



عتیق اللہ کلیم ✍️

هو أحد الثمانية السابقين إلى الإسلام و أحد العشرة المبشرين بالجنة، و أحد النفر الذين يفتون بالمدينة وكان اسمه في الجاهلية عبد عمر فلما أسلم دعاه الرسول الكريم صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن، وأسلم بعد إسلام الصديق بيومين اثنين، و لقي من العذاب في سبيل الله ما لقيه المسلون الأولون فصبر و صبروا۔

: الصورة الأولى 

ولما ه‍اجر عبد الرحمن بن عوف إلى المدينة آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري رضي الله عنه، فقال سعد لعبد الرحمن بن عوف: عندي اثنان من كل شيء فخذ أحدا ما أحب إليك منهما، فقال عبد الرحمن له بارك الله لك في أهلك ومالك، ولكن دلني على السوق فدله عليه فجعل۔ يتجر ويربح و يدخر۔

: الصورة الثانية 

وما هو إلا قليل حتى اجتمع لديه مهر امرأة فتزوج، وجاء الرسول عليه السلام فقال له: ”مهيم يا عبد الرحمن“ فقال: تزوجت فقال: ”وما عطيت زوجتك من المه‍ر“ قال: وزن نواة من ذهب قال: ”أولم ولو بشاة بارك الله لك في مالك“۔

: الصورة الثالثة 

وجاهد عبد الرحمن في يوم بدر في الله حق جهاده وفي غزوه أحد عليه بضعة وعشرون جرحا بعضها عميق تدخل فيه يد الرجل۔

: الصورة الرابعة 

وقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ”تصدقوا فإني أريد أن أبعث بعثا“ فبادر عبد الرحمن إليه وقال: يا رسول الله عندي أربعة آلاف:ألفان منها اقرضتهما ربي وألفان تركتهما لعيالي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”بارك الله لك فيما أعطيت وبارك الله لك فيما أمسكت“ ۔

: الصورة الخامسة 

وعند غزوه تبوك لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابه باالنفقة في سبيل الله، فقد تصدق بمأتي أوقيه من الذهب، فقال عمر بن الخطاب للنبي صلى الله عليه وسلم: إني لا أرى عبد الرحمن إلا مرتكبا إثما، فما ترك لأهله شيئا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم هل تركت لأهلك شيئا.... عبد الرحمن؟ فقال: نعم، تركت لهم أكثر مما أنفقت و أطيب.قال صلى الله عليه وسلم: كم؟ قال: ما وعد الله ورسوله من الرزق والخير والأجر. و أم المسلمين في تبوك فصلى خلفه رسول الله صلى الله عليه وسلم ولما لحق الرسول عليه السلام بالرفيق الاعلى قام بكل مصالح  أمهات المسلمين حتى قالت عائشة رضي الله عنها، مرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لا يحنو عليكن من بعدي إلا الصابرون“ ۔

: وفاة عبد الرحمن بن عوف 

وبقيت دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن بن عوف بأن يبارك الله له تظلله مامتدت به الحياة فلما حضرت عبد الرحمن الوفاة أعتق خلقا كثيرا من مماليكه وبعد ذلك كله خلف لورثته مالا لا يكاد يحصيه حيث ترك ألف بعير،ومأة فرس، وثلاثة آلاف شاة وكانت نساءه أربعا فبلغ ربع الثمن الذي خص كل واحده منهن ثمانين ألفا۔ 

وحمل جنازته إلى مثواه الأخير خال رسول الله صلى الله عليه وسلم سعد بن أبي وقاص و صلى عليه ذو النورين عثمان بن عفان وشيعه أمير المؤمنين علي بن أبي طالب وهو يقول: إذهب فقد أدركت صفوها، وسبقت زيفه‍ا يرحمك الله ۔

هذا المقال ملخص لقصة عبد الرحمن بن عوف من كتاب ”صور من حياة الصحابة “ للدكتور عبد الرحمن رأفت الباشا

من حياة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه نستخلص العديد من الدروس والعبر التي تنير لنا طريق الإيمان والعمل الصالح، ومن أبرز هذه الدروس

: ١. المبادرة إلى الخير والإسلام

كان عبد الرحمن بن عوف من أوائل من دخلوا في الإسلام، مما يدل على حبه للحق وحرصه على النجاة في الدنيا والآخرة۔

: ٢. الصبر على الشدائد

تحمل في سبيل الله العذاب والاضطهاد، وصبر كما صبر الصحابة الأوائل، وهذا يعلمنا أن طريق الحق مليء بالتضحيات۔

: ٣. الاجتهاد في العمل والرزق الحلال

رغم أنه مهاجر بلا مال، إلا أنه اجتهد في التجارة بصدق وأمانة حتى أصبح من أغنى الصحابة، مما يدل على أهمية السعي والكسب الحلال۔

: ٤. السخاء والإنفاق في سبيل الله

كان من أكثر الصحابة إنفاقاً، يعطي بلا تردد ويؤثر غيره على نفسه، فاستحق دعوة النبي صلى الله عليه وسلم: "بارك الله لك فيما أعطيت وبارك الله لك فيما أمسكت“۔

: ٥. التوازن بين الدين والدنيا

جمع بين الغنى والتقوى، فكان من أثرياء الصحابة لكنه لم يتعلّق بالدنيا بل جعل ماله في خدمة الدين۔

: ٦. الأمانة والمسؤولية

قام على شؤون أمهات المؤمنين بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم، وهذا يعكس حسن الخلق وعلوّ الهمة۔

: ٧. الاستعداد للموت بالأعمال الصالحة

أعتق مماليكه وتصدّق قبل موته، وترك من المال ما يدل على بركة دعوة النبي له، فكانت حياته كلها طاعة وكرم وخدمة للدين۔

: ٨. حب الصحابة له وتقديرهم لمكانته

شيّعه كبار الصحابة، وأثنوا عليه، وهذا يدل على علوّ قدره وفضله في الإسلام۔

: النتيجة

إن حياة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه تمثل نموذجاً فريداً في الجمع بين الإيمان والعمل، وبين الغنى والتواضع، وبين القوة في الجهاد والرحمة في المعاملة، وعلينا أن نقتدي بسيرته في بناء أنفسنا ومجتمعاتنا۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog

post_23.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post_27.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/httpsurduarabiccorner.html




Thursday, July 31, 2025

قرآن مجید: انسانیت کے لیے ہدایت کی کتاب

قرآن مجید: انسانیت کے لیے ہدایت کی کتاب




عتیق اللہ کلیم ✍️

: تمہید

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے زندگی گزارنے کے لیے عقل و شعور عطا کیا۔ مگر عقل تنہا راہِ حق کی طرف مکمل رہنمائی نہیں کر سکتی، اس لیے اللہ نے اپنے انبیاء و رسل کے ذریعے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں تاکہ انسان سیدھا راستہ اختیار کرے۔ ان ہی الہامی کتابوں میں سے آخری اور کامل کتاب قرآن مجید ہے جو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نجات کا ذریعہ ہے۔

: قرآن مجید کا تعارف

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے، جو حضرت محمد ﷺ پر 23 برسوں میں نازل ہوا۔ یہ کتاب نہ صرف عقائد اور عبادات کی تعلیم دیتی ہے بلکہ زندگی کے ہر پہلو — انفرادی، اجتماعی، اخلاقی، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی — کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًى لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَى وَالْفُرْقَانِ" (البقرہ: 185)

ترجمہ: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح نشانیاں رکھتا ہے اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔


: قرآن مجید کی ہدایت کا دائرہ

:  روحانی ہدایت


قرآن انسان کے دل و دماغ کو تسکین دیتا ہے، اسے اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے اور روحانیت کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔

 أَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد: 28)

ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔


: اخلاقی ہدایت


قرآن سچائی، دیانت، عفو و درگزر، صبر، انکساری اور عدل جیسے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ معاشرے کو ظلم، جھوٹ، فریب، حسد اور نفرت سے پاک کرنے کا پیغام دیتا ہے۔


:  سماجی و معاشرتی ہدایت


قرآن خاندان، معاشرے اور ریاست کے قیام میں عدل و مساوات، حسن سلوک، عورتوں کے حقوق، یتیموں کی کفالت، غرباء کی مدد، اور پڑوسیوں سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔


: قانونی و سیاسی ہدایت


قرآن ایک منصفانہ اور بامقصد نظام حکومت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ حاکم کو رعایا کا خادم قرار دیتا ہے اور ظلم و استبداد کی مخالفت کرتا ہے۔


: قرآن کی ہدایت کی جامعیت


قرآن مجید کسی مخصوص قوم یا علاقے کے لیے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے
 تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

ترجمہ:  اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔


: سائنسی و فطری حقائق


قرآن میں موجود بہت سے سائنسی حقائق جیسے کائنات کا ارتقاء، انسانی جنین کی تشکیل، پہاڑوں کا کردار، پانی کا چکر وغیرہ ایسے حقائق ہیں جنہیں جدید سائنس نے حال ہی میں دریافت کیا، جب کہ قرآن نے ان کا ذکر چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن صرف مذہبی کتاب نہیں، بلکہ علم و شعور کی ابدی روشنی ہے۔


: عصرِ حاضر میں قرآن کی ضرورت


آج کا انسان سائنسی ترقی کے باوجود روحانی اور اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ مادہ پرستی، لالچ، فساد، جنگیں، بے راہ روی اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ جیسی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ ایسے میں قرآن ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو سکون، عدل، رحم اور فلاح کی راہ دکھا سکتا ہے۔


: نتیجہ

قرآن مجید انسانیت کے لیے اللہ کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کے ہر انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔ جو بھی خلوص نیت سے اس کتاب کو پڑھے گا اور اس پر عمل کرے گا، وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوگا بلکہ آخرت میں بھی نجات پائے گا۔


یہ کتاب وہ ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگاروں کے 

لیے(البقرہ: 2)

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post_27.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/blog-post_18.html




Monday, July 28, 2025

مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف

مسلم پرسنل لا ، ایک تعارف 




عتیق اللہ کلیم ✍️

: مسلم پرسنل لا کا مطلب 

مسلم پرسنل لا کے لفظ کے پس منظر میں دو بڑی بنیاد غلط فہمیاں راہ پاگئیں ہیں ، ایک تو خود لفظ” پرسنل“ ہی غلط فہمی کی بنیاد بن جاتی ہے ، جو مذہب کے شخصی اور ذاتی تصور سے پھوٹا ہے، جس کے مطابق مذہب فرد کا پرائیوٹ معاملہ ہے دوسرے لفظ” مسلم“ کی  پیدا کردہ غلط فہمی یہ ہے کہ اس سے عام طور سے ذہنوں میں یہی خیال کام کر رہا ہے کہ دوسری قوموں کے” پرسنل لاء“ کی طرح یہ ”مسلم پرسنل لا “بھی مسلمانوں کے خاندانی رسم و رواج اور معاشی اور معاشرتی حالات کا پیدا کردہ اور ان کی ایجاد ہے ، یہ نقطۂ نظر دوسری قوموں کے فیملی لاز ، کے متعلق صحیح ہوسکتا ہے ، لیکن مسلمانوں کے حق میں یقیناً صحیح نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کے لحاظ سے اس کا ایک معمولی حصہ اجتہاد و قیاس اور عرف استحسان پر مبنی ہے اور قرآنی تصریحات کے مطابق ان احکام میں کوئی انسانی ترمیم و تنسیخ ، ظلم و فسق اور کفر ہے ۔

مسلم پرسنل لا  کا مفہوم انگریزی دور میں بھی تقریباً پورے ہی اسلامی قانون و شریعت کے ہوتے تھے ، یعنی وہ قانون جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے ، اور اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا ،ظفر احمد   صاحب لکھتے ہیں 

آرٹکل ۲۵(۲) میں ہے کہ ریاست کا کسی اقتصادی ، مالی سیاسی یا سیکولر فعل کو ریگولیٹ کرنا پابندی عائد کرنا جس کا تعلق کسی مذہبی رواج سے ہو اس لۓ حکومت یا پارلیمنٹ کو اسلامی پرسنل لاء کے بدلنے کا اختیار نہیں ہوسکتا ، اور آرٹیکل ٤٤ میں ریاست کو یکساں سول کوڈ بنانے کا جو اختیار دیا گیا ہے ،وہ متذکرہ بالا حقوق کے تابع ہے، حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ رواجی قانون اور ان قوانین میں فرق کرے جو رواجی نہیں بلکہ جزو مذہب ہیں ، رواجی اور مذہبی قوانین کے فرق کو مسٹر چھاگلا چیف جسٹس بمبئی ہائی کورٹ نے اپنے رولنگ بمقدمہ اسٹیٹ آف بمبئی بنام نراسواپا مالی شائع شدہ اے آر ۱۹۵۲ بمبئی صفحہ نمبر ۸٤ میں واضح کر رہا ہے، لائق چیف جسٹس نے فرمایا کہ مذہبی عقائد اور مذہبی رواج میں فرق کرنا ملکی ضرورت ہے، بے شک جو رواج کسی مذہب کا جزء لاینفک ہے، وہ پبلک آرڈر، ضابطۂ اخلاق اور سوشل ویلفیئر کے مقابلے میں قائم نہیں رکھا جا سکتا، لیکن یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مذہبی عقائد اور ان قوانین کا تحفظ کرے جو جزءِ مذہب ہوں ۔

(بحوالہ: نداۓ ملت ١٦/فروری ١٩٦٩ء)

: پرسنل لا  کی ملی اہمیت 

قوموں کے لئے ان کے اقدار حیات، نظریات زندگی، اخلاق کے اصول، معاملات کے طریقے، ان کے قانونی نظام، عزیز ہوتے ہیں ، فکری سرمایہ، مذہبی اور اخلاقی تصورات ہی کسی تہذیب کا سرچشمہ اور اس کا بنیادی پتھر ہوتے ہیں، لیکن ان سب میں پرسنل لاء کسی قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتا ہے، اسلام میں قانون سازی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا و الذي اوحينا إليك جسم اگر بےجان کے، درخت بے جڑ کے قائم نہیں رہ سکتا ہے تو کوئی ملت بغیر اپنے عائلی قوانین اور خاندانی نظام کے زندہ رہ سکتی ہے، ورنہ نہیں، کسی قوم کے لئے اس کی اتنی اہمیت ہو یا نہ ہو، مسلمانوں کے لئے بہر حال ہے، اس لئے کہ مسلمانوں کا وجود ایمان و اسلام، یعنی ماننے اور اطاعت کرنے اور اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا قلادہ گردن میں ڈال لینے سے ہے، اور یہ اسلام و ایمان قولا ہی نہیں بلکہ بالفعل اور علمی طور پر اس کی پوری زندگی میں زندہ و تابندہ، جاری اور نافذ ہونا چاہئے ۔

پرسنل لاء اگر ایک طرف عقیدہ و ایمان کا مدار ہے دوسری جانب امت مسلمہ کے وجود و بقا کا انحصار ! یہ وہ دو دھاری تلوار ہے، جسے اگر کسی قوم کے خلاف استعمال کیا جائے تو اس کے معنوی وجود کےساتھ اس کے ظاہری ہیئت و بود اور نمود کو ختم کر کے رکھ دے 

بحوالہ: مسلم پرسنل لا اور اسلام کا عائلی نظام ، از :شمس تبریز خان 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_17.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_7.html


Wednesday, July 23, 2025

طلبُ العِلمِ وأهمِّيَّتُهُ في حياةِ الإنسانِ

طلبُ العِلمِ وأهمِّيَّتُهُ في حياةِ الإنسانِ

مسجد دار العلوم لندوة العلماء، لكناؤ


عتیق اللہ کلیم ✍️

العِلمُ هو النُّورُ الّذي يُضيءُ طَريقَ الإنسانِ، ويُرشدُهُ إلى الخَيرِ والصَّلاحِ. وقد رَفَعَ اللهُ تعالى شأنَ العِلمِ وأهلِهِ في كتابِهِ الكريمِ، فقالَ: "يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" [المجادلة: 11]

العِلمُ هو أساسُ الحضارةِ، وبالعِلمِ يتقدَّمُ الإنسانُ في جميعِ مجالاتِ الحياةِ، سواءٌ في الدينِ أو الدُّنيا. فبالعِلمِ يعرفُ الإنسانُ ربَّهُ، ويفهمُ أوامرَهُ ونواهيَهُ، ويعبدُهُ على بصيرةٍ ويقينٍ.

وقد حثَّ الإسلامُ على طلبِ العِلمِ، وجعلَهُ فريضةً على كلِّ مسلمٍ ومسلمةٍ، كما قالَ النبيُّ صلّى الله عليه وسلم: "طَلَبُ العِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ

وممّا يدلُّ على تَفاضُلِ أنواعِ العِلمِ ما رواهُ النبيُّ ﷺ حيث قالَ

العِلمُ عِلمانِ ؛ علمٌ في القلبِ ، فذاك العلمُ النافعُ ، وعلمٌ على اللسانِ ، فذاك  حُجَّةُ اللهِ على ابنِ آدمَ

فالعِلمُ النّافعُ هو ما يسكنُ القلبَ ويُثمرُ في العملِ والتقوى، أمّا العِلمُ المجرَّدُ عن الإيمانِ والعملِ، فهو حجّةٌ على صاحبِه، يُحاسَبُ عليه إن لم يعملْ به. وهذا يُبيِّنُ أنَّ المقصودَ من طلبِ العِلمِ ليس فقط معرفةُ الأقوالِ، بل تطبيقُها بإخلاصٍ في الواقعِ والسلوكِ

العِلمُ يُربِّي الأخلاقَ، ويُهذّبُ النُّفوسَ، ويمنحُ الإنسانَ قوةَ الفهمِ والتمييزِ بينَ الحقِّ والباطلِ، وبينَ الخيرِ والشّرِّ. والعالِمُ الحقيقيُّ هو الذي يجمعُ بينَ العِلمِ والعملِ، فلا يَكتفي بالمعلوماتِ، بل يَستخدمُها فيما يُرضي اللهَ ويخدمُ الإنسانيّةَ

وفي زمانِنا هذا، نَحتاجُ إلى التزوُّدِ بالعِلمِ النافعِ في جميعِ المجالاتِ: في الطبِّ، والهندسةِ، والاقتصادِ، والتعليمِ، والتكنولوجيا، مع المحافظةِ على الأخلاقِ والقِيَمِ الإسلاميّةِ.


فيا شبابَ الأُمّةِ! لا تُضيّعوا أوقاتَكم، واطلُبوا العِلمَ بجدٍّ واجتهادٍ، فهو طريقُ الفلاحِ والنّجاحِ في الدُّنيا والآخرةِ 

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/httpsurduarabiccorner.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post_27.html

Thursday, July 17, 2025

اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟

 اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟



عتیق اللہ کلیم ✍️

مغرب کی درس گاہوں، تحقیقاتی اداروں اور علمی مرکزوں سے مسلسل ایک آواز ہم سے مخاطب ہے مگر افسوس کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا، کسی کا خون جوش نہیں مارتا اور کسی کی غیرت نہیں جاگتی۔

: یہ آواز کہتی ہے 

اے مسلمانو! اے ہمارے غلامو! سنو تمہارے علم کے کنویں سوکھ گئے اور تمہارے اقتدار کا سورج ڈوب گیا، اب تمہیں حکمرانی اور سلطانی سے کیا واسطہ تمہارے بازو اب شل ہو گۓ اور تمہاری تلواریں زنک آلود، اب ہم تمہارے آقا ہیں اور تم سب ہمارے غلام ہو، دیکھو ہم نے سر سے پاؤں تک کیسا تمہیں اپنی غلامی کے سانچے میں ڈھالا ہے ،ہمارا لباس پہن کر اور ہماری زبان بول کر اور ہمارے طور طریقے اختیار کر کے تمہارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں ۔ 

ہم بے وقوف نہیں تھے ہم تمہارے دل و دماغ کو اپنا غلام بنا چکے تھے ،اب تم ہماری آنکھوں سے دیکھتے ہو ، ہمارے کانوں سے سنتے ہو اور ہمارے دماغ سے سوچتے ہو اب تمہارے وجود میں تمہارا اپنا کچھ نہیں اب تم  ہر شعبۂ زندگی میں ہمارے محتاج ہو، تمہارے سکولوں اور کالجوں میں ہمارا مرتب کیا ہوا نصاب، تمہارے بازاروں میں ہمارا سامان ہے، تمہارے جیبوں میں ہمارا سکہ ہے، تمہارے سکے کو ہم پہلے مٹی کر چکے ہیں ،تم ہمارے حکم سے کیسے سرتابی کر سکتے ہو، تم اربوں اور کھربوں روپے کے ہمارے قرضدار ہو، تمہاری معیشت ہمارے قبضے میں ہے تمہاری منڈیاں ہمارے رحم و کرم پر ہیں اور تمہارے سارے تجارتی ادارے صبح اٹھتے ہی ہمارے سکے کو سلام کرتے ہیں ،تمہیں اپنے جوانوں پر بڑا ناز تھا ، تم کہتے تھے ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی “ تو سنو اس زرخیز زمین کو ہم نے ہیروئن بھرے سگریٹ، شہوت انگیز تصویروں ، ہیجان خیز ، زنا کے مناظر سے لبریز فلموں اور ہوس زر  کا آب شور  شامل کر کے بنجر کر دیا ہے۔

  تمہیں اپنی افواج پر بھی بڑا گھمنڈ تھا؟

: تو دیکھو

تمہاری افواج اب ہمارے ہتھیاروں کی محتاج ہیں

ان کے ہاتھ میں ہماری بندوقیں

ان کے نقشے ہمارے کمروں میں بنتے ہیں

اور ان کے فیصلے ہمارے مشوروں پر ہوتے ہیں۔

تمہارے جنرلوں کی وردیاں تو چمکتی ہیں

مگر ان کے دل غلامی کے جال میں گرفتار ہیں۔

اور تمہیں اپنی آزادی پر فخر ہے؟


: تو سوچو

یہ کیسی آزادی ہے

جس میں تمہارا نصاب ہم بناتے ہیں؟

تمہارا میڈیا ہم چلاتے ہیں؟

تمہارے نغمے، تمہاری فلمیں، تمہاری سوچ 

سب کچھ ہم طے کرتے ہیں۔


تمہاری مسجدیں تو آباد ہیں، مگر دل ویران

تمہارے آذانیں تو گونجتی ہیں، مگر عمل ساکت

تمہارے قرآن کے حافظ تو ہزاروں میں ہیں، مگر فکرِ قرآنی ناپید۔

 تو اے امت! اب جاگ جا

یہ وقت ہے کہ تم اپنے گریبان میں جھانکو

اپنے وجود کو پہچانو

اپنے خالق سے تعلق جوڑو

اور غیر کے فکری شکنجوں کو توڑ دو۔

کیوں کہ اگر تم نے اب بھی خودی کو نہ پہچانا

تو کل تم اپنے نام سے بھی ناواقف ہو گے

اور تاریخ میں تمہارا ذکر فقط ایک مثالِ عبرت بن کر رہ جائے گا۔

: اختتامیہ

غلامی کے طوق جسم سے نکل سکتے ہیں

مگر جب روح غلام ہو جائے

تو وہی سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔

ان ہی درد و کرب کا اظہار شاعر مشرق علامہ اقبال نے یوں کیا تھا

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل

نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی

نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں

کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے

امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں



https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/02/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

Thursday, July 10, 2025

علم کی فضیلت

 علم کی فضیلت 


عتیق اللہ کلیم ✍️

علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ و دل اویز انداز میں پائ جاتی ہے ، اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی،  تعلیم و تر بیت تو گویا اس دین برحق کا جز ولا ینفک ہے  کلام پاک کے تقریبا 78 ہزار الفاظ میں  سب سے پہلا لفظ پروردگار عالم نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ ”اقرا“ ہے یعنی ”پڑھ“گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس بات کی طرف سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع بشر کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا، پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا، اور مزید اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ”قل هل يستوى الذين يعلمون والذين لا يعلمون“ کہ اے نبی کہہ دیجئے اہل علم اور جاھل ایک ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہو سکتے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” فضل العالم علی العابد کفضلی علی أدناکم“ ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”إن الله و ملائكته و أهل السموت و الأرضين حتى النملة في جحره‍ا و حتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير“( رواه الترمذي )

  عالم کی فضیلت عابد پر ایسی  ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی پر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالی رحمت نا زل کرتے ہیں اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں تک لوگوں کے معلم کے لئے بھلائی کی دعا کرتی ہیں ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کہ علم کا سیکھنا مومن پر فرض ہے۔

: تحصیل علم میں مشقتیں برداشت کرنا 

علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی تکالیف اور مشقتوں کو خندہ  پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا طالب علم کے لیے تحصیل علم میں استقامت کا ذریعہ ہے ، عربی کا شاعر کہتا ہے

تمنیت أن تصبح فقيها مناظرا

بغير عناء والجنون فنون 

وليس اكتساب المال دون مشقة

تحمله‍ا، فالعلم كيف يكون

تمہاری خواہش ہے کہ بغیر تکلیف اور مشقت اٹھا ئے ہوئے بڑے فقیہ اور عالم بن جاؤ، یہ پاگل پن اور جنون ہے، کیونکہ جب مال و دولت کا حصول مشقت برداشت کیے بغیر  نہیں ہو سکتا تو پھر علم جو اس سے بدر جہاں بلند اور بالا ہے اس کا حصول مشقت کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے؟ 

حضرت امام شافعی تحصیل علم میں چھ اہم امور کو ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے اشعار میں یوں بیان فرماتے ہیں

أخي  لن تنال العلم الا بسته 

سأنبيك عن تفصيلها ببيان 

ذكاء وحرص واجتهاد وبلغه

وصحبه استاذ وطول زمان

،اے بھائی!  تو علم حاصل نہیں کر سکتا مگر چھ چیز وں کے ذریعے میں تجھے وہ تفصیلا بتانا چاہتا ہوں ذکاوت ،علم کی حرص ،محنت اور گزارے کا سامان، استاد کی صحبت اور زمانہ دراز تک حصول علم۔

بلا شبہ امام موصوف کی یہ نصیحت بڑی قیمتی ہے اور چشم کشا حقائق پر مبنی بھی، کاش! ہم اسے حرز جان بنا لیں۔



پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...