امتحان اور طالب علم کا سفر
عتیق اللہ کلیم ✍️
زندگی دراصل ایک مسلسل امتحان کا نام ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک کا ہر لمحہ کسی نہ کسی آزمائش سے عبارت ہے۔ کبھی یہ امتحان غربت و افلاس کی صورت میں آتا ہے، کبھی دولت و ثروت کے نشے میں، کبھی راحت و سکون کے پردے میں، اور کبھی غم و مصیبت کی آندھیوں میں۔ انسان اگر غور کرے تو سمجھے گا کہ کائنات کی پوری بساط امتحان ہی کے اصول پر بچھی ہوئی ہے۔
تعلیمی دنیا میں ہونے والا امتحان بھی دراصل اسی ازلی و ابدی قانون کی جھلک ہے۔ طلبہ کی محنت، لگن، ذہانت اور استقامت کو جانچنے کے لئے امتحان کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں دن رات کی محنت، جاگتی ہوئی آنکھیں، اور کھوئے ہوئے سکون کے لمحے اپنی حقیقت آشکار کرتے ہیں۔ امتحان کاغذ پر لکھے چند سوالات کا نام نہیں، بلکہ یہ عزم و ہمت کی وہ کسوٹی ہے جو مستقبل کی راہوں کو متعین کرتی ہے۔
امتحان ہر طالب علم کی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ ہے جو نہ صرف اس کی محنت اور مطالعے کا آئینہ دار ہوتا ہے بلکہ اس کے مستقبل کی کامیابی کے دروازے بھی اسی پر کھلتے ہیں۔ یہ صرف چند سوالات کے جوابات دینے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جو ہمیں محنت، صبر اور استقامت کی اہمیت سکھاتا ہے۔
امتحان کا وقت وہی طلبہ آسانی سے گزارتے ہیں جنہوں نے پورے سال محنت کی ہو۔ لیکن جو لوگ سارا وقت کھیل کود اور غفلت میں گزار دیتے ہیں، ان کے لیے امتحان کی گھڑیاں بڑی بھاری ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے عقل مند طالب علم وہ ہے جو امتحان سے کئی ماہ پہلے سے ہی اپنی تیاری شروع کر دے، وقت کو قیمتی سمجھے، اور مطالعہ کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لے۔
امتحان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف انہی کو ملتی ہے جو محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ محنت سے بڑھ کر کوئی جادو نہیں، اور غفلت سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں۔ لہٰذا جو طالب علم دل لگا کر پڑھتے ہیں وہ کمرۂ امتحان میں پُر اعتماد ہوتے ہیں، اور جو سستی کرتے ہیں وہ پریشان اور گھبرائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مسجد میں طلبہ کی محنت کا روح پرور منظر👇👇👇
یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امتحان صرف یادداشت کی جانچ نہیں کرتا بلکہ کردار کا بھی امتحان ہے۔ نقل سے وقتی کامیابی تو شاید مل جائے، لیکن یہ زندگی کے اصل امتحان میں ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ اصل کامیابی وہ ہے جو ایمانداری اور محنت سے حاصل ہو، کیونکہ یہی کامیابی انسان کے لئے عزت، اعتماد اور روشن مستقبل کا ذریعہ بنتی ہے۔
امتحان کے دنوں میں دعا، محنت اور وقت کی صحیح تقسیم سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ جو طالب علم وقت کی قدر کرتے ہیں، اپنی صحت اور نیند کا خیال رکھتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، ان کے لیے امتحان مشکل نہیں رہتا بلکہ کامیابی کا زینہ بن جاتا ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ امتحان خوف کی چیز نہیں بلکہ ترقی کا دروازہ ہے۔ طالب علم کو چاہئے کہ وہ اس مرحلے کو حوصلے، محنت اور ایمانداری کے ساتھ طے کرے تاکہ زندگی کے بڑے امتحانوں میں بھی کامیاب ہو سکے۔
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html






