Friday, October 17, 2025

داستانِ محبت🌹 بابِ دوم: جام میرا توبہ شکن، توبہ میری جام شکن

🌹داستانِ محبت🌹



عتیق اللہ کلیم ✍️

بابِ دوم: جام میرا توبہ شکن، توبہ میری جام شکن 


اگر آپ نے اس داستان کا پہلا باب نہیں پڑھا تو توقف کیجیے — کیونکہ یہ باب اُس کے جذباتی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔

: بابِ اوّل ملاحظہ ہو

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/10/blog-post.html


عرش کے دل میں اب ایک نیا موسم اتر چکا تھا۔ مختصر مگر گہرے لمحوں نے روشی کے لیے اُس کے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا کر دیا تھا۔ ہر صبح وہ پہلے سے زیادہ سنور کر، بہتر لباس پہن کر، خود کو عمدہ عطر سے معطر کر کے یونیورسٹی جاتا۔ مگر اس کا اصل مقصد علم نہیں، روشی کا ایک دیدار تھا۔

رابطہ بڑھا، مگر عرش کی دیانتِ ایمانی نے ایک لکیر کھینچ دی تھی۔

: وہ کہتا


اگر میں میسج سے بات کروں گا تو شاید گناہ ہلکا ہو جائے، لیکن آواز میں مٹھاس سن کر… شاید دل اور بھی بہک جائے۔


یوں وہ صرف تحریر کی حد تک رشتہ قائم رکھے ہوئے تھا۔


جمعرات کا دن تھا۔ چھٹی کے بعد اچانک دل میں خیال آیا —

کیا بہتر نہیں کہ میں کچھ وقت کے لیے دعوت و تبلیغ میں چلا جاؤں؟ شاید دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔


شام میں وہ رفقا کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ جمعہ کے دن اُس نے بیان بھی دیا — ایمان کی گرمی الفاظ میں محسوس ہو رہی تھی۔ نمازِ جمعہ کے بعد جب اُس نے ہاتھ اٹھائے، تو آنکھوں سے سیلاب بہہ نکلا۔ دل کی گہرائیوں سے توبہ کی صدا اٹھی 

یا اللہ! مجھے معاف کر دے… میں خود گناہ میں پڑا ہوں، اور تیری باتوں کا مبلغ بنا بیٹھا ہوں


اُسی لمحے اس نے عزم کر لیا —

“بس! اب میں روشی سے بات نہیں کروں گا۔”


مدرسے واپسی پر دل کو قرار تھا، مگر خاموشی کے اندر کوئی خلا جنم لے چکا تھا۔ دو دن بیت گئے۔ تیسری شام دل کا طوفان قابو سے باہر ہو گیا۔ اس نے اسٹیشن کے قریب بیٹھ کر روشی کا نمبر ملایا۔

فون بجا — اور جیسے ہی کال ملی، الفاظ لبوں سے پھسل گئے، 

آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے


روشی… مجھے معاف کر دو… میں تم سے بات نہیں کر سکتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ مجھ سے اپنی توفیق چھین نہ لے


روشی سن رہی تھی — خاموش، مگر دل سے۔ وہ بھی ایک عالمہ تھی، اُس کے ایمان نے بھی جواب میں نرمی پیدا کی


ٹھیک ہے… مت بات کیجیے، میں بھی آپ کو معاف کرتی ہوں۔


عرش نے فوراً اُسے بلاک کر دیا۔ دل مطمئن ہوا… مگر وقت گزرتے ہی وہی دل بے چین ہونے لگا۔

دو دن کے بعد ضبط نے ہار مان لی۔

اس نے پیغام بھیجا


“السلام علیکم… کیسی ہو؟”

جواب آیا

“الحمدللہ، آپ کیسے ہو؟”

“میں بھی ٹھیک ہوں”


روشی نے چُپ توڑی


“آپ نے تو مجھے بلاک کر دیا تھا، پھر کیا ہوا؟”

ہاں، جوشِ ایمانی میں کر دیا تھا… مگر اب تمہاری یاد برداشت نہیں ہوتی۔ میں تم سے واقعی محبت کرتا ہوں۔


روشی نے لمحہ بھر توقف کیا، پھر گویا ہوئی


میں جانتی ہوں… لیکن میں ویسی نہیں ہوں۔ اور ابھی آپ بات کر رہے ہو، کل پھر آپکا ایمان جاگ جائے گا اور مجھے بلاک کر دو گے۔


عرش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا


کیا کروں، سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔ سنبھلنے میں وقت لگ رہا ہے


یوں باتوں کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا۔

کلاسیں، یونیورسٹی، دعائیں، نظریں — سب اسی کشش میں بندھتے گئے۔


اور روشی

روشی تو گویا حسن کا پیکر تھی —

آنکھیں، جیسے نیلے آسمان پر بادل کا سایہ

ہونٹ، گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی نرم

دانت، چمکتے ہیروں کی طرح شفاف

اور آواز… ایسی کہ سننے والا لمحوں میں خود کو بھول جائے۔


عرش کے دل میں ایمان اور عشق کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ چکی تھی —

ایک طرف توبہ تھی ،جو جام شکن تھی

اور دوسری طرف روشی تھی —

جو توبہ شکن تھی۔

🌿 حاصلِ سبق 🌿

توبہ وہ چراغ ہے جو دل کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے، لیکن اگر دل دوبارہ خواہش کے بادلوں میں گھِر جائے تو وہ چراغ مدھم پڑنے لگتا ہے۔


ایمان کی حفاظت سب سے بڑی جدوجہد ہے۔ عرش نے توبہ تو کرلی، مگر دل کے کسی کونے میں روشی کی یاد باقی رہی، یہی یاد انسان کو دوبارہ آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔


محبت اور ایمان کا تعلق نازک ہے۔ اگر محبت ایمان کے تابع رہے تو نور بنتی ہے، اگر ایمان محبت کے تابع ہو جائے تو گناہ۔


گناہ کا احساس خود ایک نعمت ہے۔ جو شخص اپنے گناہ پر شرمندہ ہے، وہ اب بھی اللہ کے قریب ہے۔


 انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانے، ان سے بھاگے نہیں بلکہ اللہ سے مدد مانگے — کیونکہ ہدایت کا سفر صبر سے گزرتا ہے۔



“جو اپنی کمزوری پہ رو پڑا، وہی مضبوط ایمان والا ہے۔”


اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ عرش اور روشی کی کہانی آگے کیا رخ اختیار کرتی ہے — تو نیچے کمنٹ میں ضرور لکھیں

"ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آگے کیا ہوا" 💬

 

Thursday, October 16, 2025

ایک سچا اور دلچسپ واقعہ

 🌸 داستانِ محبت


عتیق اللہ کلیم ✍️

‎باب اوّل: سفرِ علم سے عشق تک

یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں ہے — 2024 کی بات ہے۔

‎ایک لڑکا، عرش، علم کے حصول کے لیے اپنے وطن سے بہت 

دور لکھنؤ کے سفر پر نکلا۔
‎دل میں خواب، آنکھوں میں عزم، اور ذہن میں صرف ایک مقصد 

— علم کی طلب۔

‎عرش نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی ایک شاخ میں داخلہ لیا۔

‎بارہویں جماعت مکمل ہو چکی تھی، اور اب وہ بی۔اے کے لیے

 لکھنؤ یونیورسٹی میں انٹرنس امتحان پاس کرکے داخلہ پا چکا تھا۔

عرش نہایت شریف، سادہ دل اور متواضع طبیعت کا مالک تھا۔

‎مدرسہ میں اُس کا دوست ساحل بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ لے چکا تھا۔

‎دونوں اکٹھے کلاسوں میں جانے لگے۔

‎پہلے ہی دن کلاس میں ساحل، جو ذرا شوخ مزاج لڑکا تھا

‎سامنے بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھ کر مسکرا اٹھا۔

: ‎چپکے سے عرش سے کہنے لگا

‎ "اس لڑکی سے بات مت کرنا، یہ مجھے پسند آگئی ہے۔"
‎‎
‎عرش نے مسکرا کر بات کو ٹال دیا 

‎وہ ایسا نہیں تھا جو ان باتوں میں پڑتا۔

‎دوسرے دن جب وہی لڑکی آئی تو اس نے چشمہ لگائی ہوئی تھی۔

: ‎ساحل فوراً بولا

 "اب مجھے چشمے والی لڑکیاں پسند نہیں"
‎‎
: ‎اور چند ہی لمحوں بعد وہی ساحل عرش کو چیلنج دیتا ہے

‎ "تم تین دن میں اس لڑکی سے بات کر کے دکھاؤ"
‎‎
‎عرش کو یہ بات ناپسند تو تھی، مگر اُس کے دل میں کوئی بُرا ارادہ نہیں تھا۔
‎بس ایک تجسس — کہ دیکھیں بات کہاں تک پہنچتی ہے۔

‎کلاس کے واٹس ایپ گروپ میں اُسی لڑکی کا نمبر دیکھا تو

‎عرش نے چپکے سے محفوظ کر لیا۔

‎اُس نمبر پر نام “مرزا” لکھا ہوا تھا۔

‎شام کو جب وہ مدرسے لوٹا، دل میں ایک ہلکی سی دھڑکن کے ساتھ

 اس نے میسج کیا‎

‎ "السلام علیکم، آپ مرزا بھائی؟"

: ‎جواب آیا‎

 "نہیں، میں لڑکی ہوں۔"‎

: ‎عرش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا

‎ اوہ، میں پہچان نہیں پایا۔ ویسے پہچانوں بھی کیسے؟ میں تو دو دن ہی کلاس گیا ہوں۔

: ‎جواب آیا

‎ "میں نقاب میں آتی ہوں۔"

: ‎عرش نے چالاکی سے کہا

‎ "نقاب میں تو بہت سی لڑکیاں آتی ہیں، آپ کو کیسے پہچانوں؟"‎‎
: ‎لڑکی‎
‎"میں چشمے والی ہوں۔"
‎‎
‎عرش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی 

‎دل میں ایک نرم سا احساس جاگا۔

‎ اچھا، میں پہچان گیا۔ سچ کہوں تو آپ کو حسنِ یوسف سے حصہ ملا ہے۔
‎‎
: ‎لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا

‎ "اتنی بھی خوبصورت نہیں ہوں۔"
‎‎
: ‎عرش نے لکھا‎
‎ "ایسی بات نہیں، جو بھی آپ کو دیکھے، ایک نظر میں فدا ہو جائے گا۔
‎ویسے آپ کا نام جان سکتا ہوں؟
‎‎
: ‎لڑکی‎
‎ "جی۔۔۔ روشی۔"
‎‎
: ‎عرش نے شوخی سے لکھا

‎میں نے گوگل پر آپ کو بہت تلاش کیا، آپ کہیں ملی نہیں، کہاں رہتی ہیں آپ؟‎‎

: ‎روشی نے ہنستے ہوئے جواب دیا

‎ "میں آسمان میں۔ 😂"
‎‎
: ‎عرش

‎ "اس تاروں کے شہر کا نام جان سکتا ہوں؟"
‎‎
: روشی ‎
‎"جی، دوبگا۔"
‎‎
‎یوں دونوں میں باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔

‎وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہا۔

‎عرش کو محسوس ہوا کہ یہ لڑکی عام نہیں۔

‎نقاب کے پیچھے چھپی آنکھوں میں ادب، سادگی اور ایک انوکھی

 معصومیت تھی۔

‎چشمے کے شیشوں کے پیچھے خاموش روشنی — جو دیکھنے والے کو اپنی

 طرف کھینچ لیتی تھی۔


: ‎عرش نے دیر نا کرتے ہوئے لکھا‎

‎دیکھو، میں ادھر اُدھر کی باتیں نہیں کرتا، بات صرف اتنی ہے کہ 

تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔

‎کیا تم مجھ سے نکاح کروگی؟‎

‎روشی چونک گئی۔

‎ "اللہ... ابو کاٹ نہیں دیں گے اگر محبت میں شادی کی تو۔"
‎‎
: ‎عرش نے نرمی سے کہا

‎ شادی تو والدین ہی کریں گے، میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں  کیا 

تمہیں میں پسند ہوں یا نہیں؟

: ‎روشی نے دیر بعد جواب دیا

‎تم اچھے لڑکے ہو، لیکن اتنی دور شادی نہیں ہوگی۔

‎میرے گھر والے کاسٹ بھی دیکھتے ہیں۔

: ‎عرش نے دل تھام کر کہا‎

‎میں تو تمہارے کاسٹ کا نہیں، مگر تم تو عالمہ ہو ‎جانتی ہو نا، اسلام 

میں کاسٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔

: ‎روشی ‎
‎ہاں، پر آج کل کے لوگ یہی دیکھتے ہیں۔

‎مجھے معاف کرو، میں مجبور ہوں۔

‎تمہیں جو بھی لڑکی ملےگی، وہ اچھی ہی ہوگی۔

‎ہاں تم مجھ سے فرینڈلی بات کر سکتے ہو

‎لیکن یاد رکھنا — مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوگی۔
‎‎
‎عرش نے خاموشی سے فون بند کر دیا۔

‎اس کے لیے یہ سب خواب جیسا تھا 

کیا کہانی یہیں ختم ہوگئ، کیا وہ دونوں ہمیشہ کے لیے جدا ہوگۓ، آخر 

کیا ہو، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو کمینٹ کریں۔


📖 حاصلِ سبق — بابِ اوّل

کہانی کے اس باب سے چند اہم اسباق اور نکات حاصل ہوتے ہیں

 انسان کو اپنے مقصدِ زندگی سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر وہ دنیوی

 لہو و لعب اور وقتی جذبات میں الجھ جائے تو آہستہ آہستہ اسی کا 

عادی بن جاتا ہے، اور اپنے اصل ہدف — یعنی علم، عمل اور تعمیرِ ذات — سے بھٹک جاتا ہے۔

دین کا صحیح فہم انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ جس طرح عرش 

نے دنیاوی دوستی یا جذباتی تعلق کے بجائے نکاح کی پیش کش کی، یہ
 اس بات کی علامت ہے کہ علمِ دین انسان کے فیصلوں کو پاکیزگی بخشتا ہے۔

 مسلم معاشرے کی ایک بڑی کمزوری “کاسٹ پرستی” ہے۔ نکاح

 کے معاملے میں اکثر والدین دینداری کے بجائے ذات پات 

کوترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اسلام نے اس نظریے کو مکمل طور پر ردکیا

 ہے۔ یہ دراصل ہندو معاشرت سے آیا ہوا اثر ہے، جس نےمسلم

 سوسائٹی کی سادگی کو مسخ کر دیا ہے۔

: نبی کریم ﷺ نے فرمایا

تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا

فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ

(متفق علیہ)
: یعنی عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے

 مال،حسب و نسب، حسن اور دین۔ پس تم دیندار عورت کو

 ترجیح دو، یہی کامیابی کی علامت ہے۔

 اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ کاسٹ کا دینِ اسلام سے کوئی

 تعلق نہیں۔ نکاح کے فیصلے میں دینداری، اخلاق اور خاندان کی

 نیک شہرت کو معیار بنانا چاہیے، نہ کہ سماجی رُتبے یا نسبی تفریق کو۔


:  خلاصۂ کلام

کامیاب زندگی اسی کی ہے جو اپنے مقصد سے غافل نہ ہو، علم کے ساتھ عمل کو جوڑے، اور دین کی روشنی میں اپنے فیصلے کرے۔
: بابِ دوم  ملاحظہ ہو

Saturday, September 20, 2025

سیرت کوئز کمپٹیشن کا کامیاب انعقاد

جامع مسجد مستی چک میں سیرت کوئز کمپٹیشن کا کامیاب انعقاد




عتیق اللہ کلیم ✍️

میرا سفر – سیرت کوئز کمپٹیشن تک

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
میرے علاقے کے حالات ایسے ہیں کہ دینی کاموں کے لئے لوگوں کی بے رغبتی حد سے بڑھ چکی ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا تھا کہ یہاں کسی علمی یا دینی پروگرام کا انعقاد ناممکن ہے۔ مگر میرے دل میں ایک عزم تھا، ایک خواب تھا کہ میں اپنے علاقے کے بچوں کو سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑنے کا کوئی ذریعہ بنا کر رہوں گا۔ اسی خواب نے مجھے ہمت دی اور میں نے طے کر لیا کہ سیرت کوئز کمپٹیشن ہر حال میں ہوگا، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
جب میں 7؍ ستمبر 2025ء کو تعطیل ششماہی کے موقع پر گھر پہنچا تو میرے ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا۔ میں نے اسی دن محنت شروع کر دی۔ وسائل میرے پاس نہ تھے، رقم بھی نہیں تھی، اور نہ ہی کوئی بڑا انتظامی ڈھانچہ تھا۔ لیکن دل میں جو تڑپ تھی وہ سب پر بھاری تھی۔
میں نے سب سے پہلے اپنے موبائل پر دونوں طبقوں کے لئے پچاس سوالات تیار کئے اور انہی کے ساتھ پوسٹر بھی ڈیزائن کیا۔ پرنٹ نکالنے کے لئے اپنے مخلص رفیق آصف بھائی کے پاس گیا۔ میرے پاس نقد رقم نہ ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت محبت سے مدد کی۔ یہ پہلا قدم تھا اور اللہ نے اسے آسان فرما دیا۔
پھر میں نے گاؤں گاؤں جا کر محنت شروع کی۔
سب سے پہلے اپنے گاؤں بساہی میں بات کی۔ وہاں سے 15 بچوں نے رجسٹریشن کیا۔
پھر میں مستی چک گیا، وہاں سے 17 بچوں کے نام آئے۔
اس کے بعد اپنے گاؤں سے تین کلومیٹر دور سائیکل پر گیا۔ ایک بار رجسٹریشن مکمل نہ ہو سکا، تو دوبارہ جانا پڑا۔ وہاں سے 24 بچوں نے حصہ لیا۔
آخر میں میں پوجھی گیا، جہاں سے 7 بچوں کے نام درج ہوئے۔
یعنی میرا ہر دن دوڑ دھوپ اور محنت میں گزرا۔ کبھی سائیکل پر سفر، کبھی رجسٹریشن فارم بانٹنا، کبھی والدین کو سمجھانا، کبھی بچوں کو تیار کرنا۔
جمعہ میں 12 تاریخ کو مجھے موقع ملا کہ لوگوں کے سامنے  
 پروگرام کی اہمیت بیان کروں۔ اس بیان کے بعد دلوں میں کچھ چراغ روشن ہوئے اور مزید حوصلہ ملا۔
میں نے رجسٹریشن فیس صرف 20 روپیہ رکھی تھی، لیکن یہ رقم بھی مکمل نہ ہو سکی۔ اس قلیل وسائل میں اتنا بڑا پروگرام کیسے ہوتا؟ ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ سب کچھ ناممکن سا لگنے لگا۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے اپنے ہی تعلقات میں مخلص احباب سے تعاون کی اپیل کی اور اللہ نے ان کے ذریعے انتظام فرما دیا۔
یہ سب لمحے میرے لئے محض ایک تیاری نہیں تھے بلکہ ایمان، محنت اور صبر کا امتحان تھے۔ 

سیرت کوئز کمپٹیشن کی ضرورت و اہمیت

الحمد للہ  اب میری محنت رنگ لائی اور    جامع مسجد مستی چک، پرسا بازار، چھپرا میں بروز منگل 16؍ ستمبر 2025ء کو سیرت کوئز کمپٹیشن نہایت کامیابی اور حسنِ انتظام کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ پروگرام خالص دینی و تعلیمی فضا میں ہوا، جس میں بچوں اور بچیوں نے غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

: مسابقہ دو طبقوں میں تقسیم کیا گیا تھا

سفلی: 8 سے 12 برس کی عمر تک
علیا: 13 سے 16 برس کی عمر تک


دونوں طبقوں کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی تعلیمات پر مشتمل پچاس سوالات تیار کیے گئے تھے۔ بچوں نے نہایت اعتماد، شوق اور دلچسپی کے ساتھ جوابات دیے۔

پروگرام کا آغاز محمد داوٗد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور برادرم حافظ محمد عبد اللہ نے رسول اکرم ﷺ کی مدح میں نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کیا۔

مسابقے کے لئے پچاس سوالات کی پرچیاں تیار کی گئی تھیں، جن میں سے ہر شریک دس پرچیاں منتخب کرتا اور انہی سوالات سے اس کا امتحان لیا جاتا۔

سب سے پہلے طبقہ سفلی کا مقابلہ ہوا، اس کے بعد طبقہ علیا کا۔

طبقہ سفلی سے: سعد عزیز بن ڈاکٹر سعید، عاصیہ پروین بنت مطیع اللہ اور محمد داوٗد بن ڈاکٹر علی شیر نے بالترتیب پوزیشن حاصل کی۔

طبقہ علیا سے: حورعین فاطمہ بنت سمیع اللہ، محمد انیس الرحمن بن محمد کلیم اور ایان بن ریاض نے بالترتیب پوزیشن حاصل کی۔


یہ مقابلہ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بامقصد جدوجہد ہے۔ آج کے دور میں جب بچے موبائل، کھیل اور فضول مشاغل میں وقت ضائع کرتے ہیں، ایسے مواقع ان کو دین و سیرت سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

کوئز کمپٹیشن کے ذریعے نہ صرف بچوں میں مطالعہ اور یادداشت کی عادت پروان چڑھتی ہے بلکہ وہ سیرتِ رسول ﷺ سے ایسے جواہر حاصل کرتے ہیں جو ان کی شخصیت اور اخلاق کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

یہ مقابلے دراصل نئی نسل کے دلوں میں ایمان کی تازگی، رسول اللہ ﷺ کی محبت اور نیکی میں سبقت کا جذبہ پیدا کرنے کی بہترین تدبیر ہیں۔

اس موقع پر علما و ائمہ کرام نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقابلہ نسلِ نو کو سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑنے کی ایک مؤثر اور کامیاب کوشش ہے۔

نتائج کے اعلان کے بعد کامیاب طلبہ و طالبات کو شیلڈ، کپ اور میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ تمام شرکا کی حوصلہ افزائی کے لئے میڈلز اور کتابیں بھی پیش کی گئیں۔ اس سے بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کے اندر مزید پڑھنے اور سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔

واضح رہے کہ حکم کے فرائض رفیق درس محمد شاہد اور محمد معراج نے انجام دیے، جبکہ بزم کی نظامت خود کنوینر محمد عتیق اللہ نے کی۔


: صدارتی خطاب میں مولانا ظفر عالم قاسمی مدظلہ العالی نے فرمایا

 جب میں یہاں آیا تھا تو مجھے لگا تھا کہ اس علاقے میں دینی ترقی کے آثار ظاہر ہونے میں کم از کم پچاس سال لگیں گے، لیکن ایسے پروگرامز کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ اب ان شاء اللہ بہت جلد تبدیلی آئے گی۔


: اسی موقع پر اقبالؔ کا یہ شعر پڑھا گیا

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی


: مولانا نے مزید فرمایا کہ


تعلیمی بیداری نہایت ضروری ہے، لہٰذا اسے عبادت سمجھ کر انجام دیا جائے۔


: راقم الحروف نے اپنے خطاب میں کہا

 یہ علمی مسابقہ دراصل ہمارے بچوں کے ذہن و دل میں علم و ایمان کی شمع روشن کرنے کی کوشش ہے، اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمارے معاشرے کی فکری و اخلاقی بیداری کا ذریعہ بنائے۔


آخر میں صدر محترم، حکم حضرات اور مہمانانِ کرام کو بھی میڈل پیش کیے گئے اور خوبصورت فوٹو سیشن کے بعد یہ نورانی محفل دعا پر ختم ہوئی۔

 بقلم: محمد عتیق اللہ بن محمد کلیم 

متعلم: دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ 

Thursday, September 4, 2025

تعطیل ششماہی : محنت کا تسلسل اور بامقصد منصوبہ بندی

 تعطیل ششماہی : محنت کا تسلسل اور بامقصد منصوبہ بندی



عتیق اللہ کلیم ✍️

الحمدللہ! ششماہی امتحانات کا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔ دن رات کی محنت اور محاسبے کے بعد اب سکون کے چند ایام یعنی چھٹیاں نصیب ہو رہی ہیں۔ یہ وقت محض آرام اور تفریح کے لیے نہیں بلکہ ایک قیمتی سرمایہ ہے، جسے اگر مثبت منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو آنے والے دنوں میں بہترین نتائج دے سکتا ہے۔

: استاد کی رہنمائی میں منصوبہ بندی

یہ سنہرا موقع ضائع نہ ہوجائے اس لئے استاد محترم کی رہنمائی میں منصوبہ بنائیں کہ اس تعطیل میں کیا کرنا ہے ،مثال کے طور پر مطالعہ کی جہت متعین کرانا ، کتاب کا انتخاب اور دیگر کاموں میں رہنمائی حاصل کرنا وغیرہ ۔ 

: درسیات میں کمزروی کی تلافی 

سال کے دوران جس مضمون میں آپ کی کارکردگی کمزور رہی ہے، اس کمی کو دور کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ اپنے استاذ سے رہنمائی حاصل کر کے اس مضمون میں اپنی کمزوری پر قابو پانے کی کوشش کریں، تاکہ آئندہ کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

: والدین اور بڑوں کا احترام

والدین کی خدمت، بڑوں کا ادب، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت برتنا دنیا و آخرت کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے اگر آپ کچھ عرصہ والدین کی خدمت سے محروم رہے ہیں اور یہ موقع آپ کے بھائی بہنوں کو ملا ہے، تو اب یہ کمی پوری کرنے کا بہترین وقت ہے۔ والدین کی خدمت میں خوشی محسوس کریں، ان کے احکام کو دل سے مانیں اور گھر کے کاموں میں خوش دلی سے ہاتھ بٹائیں۔ ان شاء اللہ، والدین کی خوشنودی اور دعائیں آپ کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اور سکون کا باعث بنیں گی۔ بھائی بہنوں کے ساتھ محبت، اخوت اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں تاکہ آپ ایک حقیقی سعادت مند انسان بن سکیں۔

: معاشرتی و تعلیمی خدمات 

چھٹی کا یہ وقت صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کے لیے بھی مفید بنایا جا سکتا ہے۔ کسی تعلیمی، دینی یا سیاسی مجلس میں شریک ہونا، یا کسی سماجی خدمت میں حصہ لینا نہ صرف نیکی کا باعث ہوگا بلکہ ہمارے علم اور تجربے میں اضافہ بھی کرے گا۔

اس کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر آپ کے علاقے میں مکتب قائم ہے تو اس میں تعلیم حاصل کرنے والے چھوٹے بچوں اور بچیوں کے درمیان انعامی مسابقہ کرائیں اور اس میں اپنے علاقے کے اہلِ فکر کو دعوت دیں۔

آپ دیکھیں گے مسابقہ تعلیمی اعتبار سے نہایت مفید ثابت ہوا۔ 

: عوامی اصلاح اور دعوتی سرگرمیاں

چھٹیوں کے دوران محلے یا گاؤں کی مسجد میں جمعہ کے خطبات یا مختصر بیانات کے ذریعے عوامی اصلاح کا کام بھی شامل کیا جائے۔ یہ نہ صرف دین کی دعوت کا ذریعہ ہے بلکہ آپ کی تقریری صلاحیت کو بھی نکھارتا ہے۔

: سفر اور سیر و تفریح 

دورانِ تعطیل اگر سفر اعتدال کے ساتھ کیا جائے تو یہ نہ صرف ذہنی دباؤ کم کرتا ہے بلکہ نئے تجربات اور علم میں اضافہ کا سبب بھی بنتا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی تفریح دل کو خوش اور دماغ کو توانا کر دیتی ہے، جس سے واپس آنے کے بعد پڑھائی میں مزید دلچسپی اور توجہ پیدا ہوتی ہے۔

: اختتامیہ

چھٹیاں دراصل محنت کے تسلسل کا دوسرا نام ہیں۔ اگر ہم ان ایام کو والدین کی خدمت، علمی ترقی، سیر و تفریح میں اعتدال، رشتے داروں کی ملاقات اور عوامی اصلاح جیسے کاموں میں گزاریں تو یہ چھٹیاں نہ صرف خوشگوار بلکہ بامقصد اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/08/blog-post_19.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html



Tuesday, August 19, 2025

امتحان اور طالب علم کا سفر

امتحان اور طالب علم کا سفر 


محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو
بے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی


عتیق اللہ کلیم ✍️

زندگی دراصل ایک مسلسل امتحان کا نام ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک کا ہر لمحہ کسی نہ کسی آزمائش سے عبارت ہے۔ کبھی یہ امتحان غربت و افلاس کی صورت میں آتا ہے، کبھی دولت و ثروت کے نشے میں، کبھی راحت و سکون کے پردے میں، اور کبھی غم و مصیبت کی آندھیوں میں۔ انسان اگر غور کرے تو سمجھے گا کہ کائنات کی پوری بساط امتحان ہی کے اصول پر بچھی ہوئی ہے۔


تعلیمی دنیا میں ہونے والا امتحان بھی دراصل اسی ازلی و ابدی قانون کی جھلک ہے۔ طلبہ کی محنت، لگن، ذہانت اور استقامت کو جانچنے کے لئے امتحان کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں دن رات کی محنت، جاگتی ہوئی آنکھیں، اور کھوئے ہوئے سکون کے لمحے اپنی حقیقت آشکار کرتے ہیں۔ امتحان کاغذ پر لکھے چند سوالات کا نام نہیں، بلکہ یہ عزم و ہمت کی وہ کسوٹی ہے جو مستقبل کی راہوں کو متعین کرتی ہے۔


امتحان ہر طالب علم کی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ ہے جو نہ صرف اس کی محنت اور مطالعے کا آئینہ دار ہوتا ہے بلکہ اس کے مستقبل کی کامیابی کے دروازے بھی اسی پر کھلتے ہیں۔ یہ صرف چند سوالات کے جوابات دینے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جو ہمیں محنت، صبر اور استقامت کی اہمیت سکھاتا ہے۔


امتحان کا وقت وہی طلبہ آسانی سے گزارتے ہیں جنہوں نے پورے سال محنت کی ہو۔ لیکن جو لوگ سارا وقت کھیل کود اور غفلت میں گزار دیتے ہیں، ان کے لیے امتحان کی گھڑیاں بڑی بھاری ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے عقل مند طالب علم وہ ہے جو امتحان سے کئی ماہ پہلے سے ہی اپنی تیاری شروع کر دے، وقت کو قیمتی سمجھے، اور مطالعہ کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لے۔


امتحان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف انہی کو ملتی ہے جو محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ محنت سے بڑھ کر کوئی جادو نہیں، اور غفلت سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں۔ لہٰذا جو طالب علم دل لگا کر پڑھتے ہیں وہ کمرۂ امتحان میں پُر اعتماد ہوتے ہیں، اور جو سستی کرتے ہیں وہ پریشان اور گھبرائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مسجد میں طلبہ کی محنت کا روح پرور منظر👇👇👇


یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امتحان صرف یادداشت کی جانچ نہیں کرتا بلکہ کردار کا بھی امتحان ہے۔ نقل سے وقتی کامیابی تو شاید مل جائے، لیکن یہ زندگی کے اصل امتحان میں ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ اصل کامیابی وہ ہے جو ایمانداری اور محنت سے حاصل ہو، کیونکہ یہی کامیابی انسان کے لئے عزت، اعتماد اور روشن مستقبل کا ذریعہ بنتی ہے۔


امتحان کے دنوں میں دعا، محنت اور وقت کی صحیح تقسیم سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ جو طالب علم وقت کی قدر کرتے ہیں، اپنی صحت اور نیند کا خیال رکھتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، ان کے لیے امتحان مشکل نہیں رہتا بلکہ کامیابی کا زینہ بن جاتا ہے۔


آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ امتحان خوف کی چیز نہیں بلکہ ترقی کا دروازہ ہے۔ طالب علم کو چاہئے کہ وہ اس مرحلے کو حوصلے، محنت اور ایمانداری کے ساتھ طے کرے تاکہ زندگی کے بڑے امتحانوں میں بھی کامیاب ہو سکے۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog-post_10.html

Friday, August 15, 2025

یومِ آزادئ ہند

یومِ آزادئ  ہند 


عتیق اللہ کلیم ✍️
تاریخ ہند میں دو دن 15 اگست اور 26 جنوری کو وہ غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جو کسی دوسرے دنوں کو حاصل نہیں ہے، 15 اگست 1947 کو ہمارا ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا تھا اور 26 جنوری 1950 کو اس ملک کا اپنا جمہوری قانون نافذ کیا گیا تھا ،آج کی اس تاریخ میں ہندوستان کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں باشندگان ہند نے جشن جمہوریت منایا ہوگا اور مجاہدین آزادی کے کارناموں کو یاد کیا ہوگا اور جمہوری ترانہ گنگنایا ہوگا اور یہ دعوی کیا جا رہا ہوگا کہ ہندوستان میں جمہوری حکومت قائم ہے اور ہر ایک کو چاہے وہ مسلم ہو کہ ہندو ،سکھ ہو یا عیسائی، مذہبی و ملی اور شخصی آزادی حاصل ہے اور اور ایسا بتایا بھی جاتا ہے کہ سب کے حقوق برابر ہیں اور سب کے لیے رعایات یکساں ہیں ہر ایک کے مفاد کے متعلق سوچ و فکر ہو رہی ہے سب کے حقوق یکساں طور پر دیے جا رہے ہیں اور یہ یاد کرایا جاتا ہے کہ ہر شخص ہر شہری کو مکمل آزادی حاصل ہے کسی کو کسی سے کوئی شکوہ نہیں آج کی اس تاریخ میں اس وقت بڑا ادنی سے ادنی سیاسی لیڈر یہی گفتگو کرتا ملے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے جھوٹے سیاست دانوں نے جمہوریت کے نام پر اس کی دھجیاں اڑائی ہیں اور جمہوریت کے نام پر اقلیت کا ہر میدان میں استیصال کیا ہے، کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ اقلیت پر اور بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا جائے؟
 کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ ماؤں اور بہنوں کی عزت و آبرو کو سر بازار کیا جائے؟ 
۔۔۔۔۔۔۔کسانوں اور کاشتکاروں کے حقوق سلب کیے جائیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔مساجد اور مدارس پر پابندیاں لگائی جائیں؟
۔۔۔۔۔۔۔ این آر سی اور سی اے اے کے نام پر شہریت ختم کیا جائے؟
۔۔۔۔۔۔ ملک میں دنگائی اور فسادیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے؟ ۔۔۔۔۔۔ملک میں کسانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا جائے ؟
اللہ اکبر !کیا فساد ،کیا ہنگامہ ،کیسا بھیانک منظر، کیسی درد آمیز کراہیں اور چیخ و پکار جس کے محض تصور سے ہی جسم کا رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے، کتنی آنکھیں اشکوں کے سمندر میں تیرنے لگتی ہیں  اور کتنی ہی زبانیں بلبلانے لگتی ہیں۔
 اے قائدین ملک بتاؤ کہ یہ کس وجہ سے ہوا اور اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟آج تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا محسوس منظر ہے، تو اگر اسی کا نام جمہوریت اور اسی کا نام آزادی ہے تو ایسی آزادی اور ایسی جمہوریت پر ہم کل بھی لات مارتے تھے اور آج بھی مارتے ہیں۔
!سن لو اے دانشورانِ ملت
ہمیں آزادی چاہیے دین اسلام کے تحفظ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب و ملت کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عزت و ابرو کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔خانہ خدا کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدارس و مکاتب کی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔مساجد و معاہد کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم و زیادتی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالم حکومت وہ مہنگائی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنگا و فساد اور کالے قانون سے
 اب اگر ان چیزوں کی آزادی ہمیں نہیں ملتی جیسا کہ آج مشاہدات وہ واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں تو یاد رکھو کہ یہ آزادی اور جمہوریت کی بدنامی ہے اور ان دونوں لفظوں کو بےکار استعمال کیا جا رہا ہے ۔

محترم قارئین! آئیے ہم اپنے قول و فعل سے نشست و برخاست،  طور طریق سے آزادی کا صحیح مفہوم واضح کریں اور نفرت  عداوت ، تعصب و منافرت ،لاقانونیت و بربریت ،فرقہ پرستی و دہشت گردی کو ہوا دینے والی جماعتوں سے جم کر مقابلہ کریں ۔
اور امن و اشتی کا ہندوستان                           خوشحالی و پرامن ہندوستان 
گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ....    ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہندوستان
شیخ الہند اور مولانا قاسم کا.....                مولانا آزاد و مولانا جعفر کا
مہاتمہ گاندھی اور نہرو کا ......                 علامہ اقبال اور ٹیگور کا.........     ایمبیڈکر اور فضل حق خیرآبادی کا...  ٹیپو سلطان اور بھگت سنگھ کا سھباس چندر بوس واشفاق اللہ خان کا......    نارنک اور چشتی کا ہندوستان اور جیسا پرامن ہندوستان تھا ویسا ہی ہندوستان بن جائے اور آنکھوں کے سامنے آ جائے ۔
مذہب نہیں سکھاتا اپس میں بیر رکھنا
ہندی ہے ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا 

Wednesday, August 6, 2025

صور من حياة عبد الرحمن بن عوف

صور من حياة عبد الرحمن بن عوف



عتیق اللہ کلیم ✍️

هو أحد الثمانية السابقين إلى الإسلام و أحد العشرة المبشرين بالجنة، و أحد النفر الذين يفتون بالمدينة وكان اسمه في الجاهلية عبد عمر فلما أسلم دعاه الرسول الكريم صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن، وأسلم بعد إسلام الصديق بيومين اثنين، و لقي من العذاب في سبيل الله ما لقيه المسلون الأولون فصبر و صبروا۔

: الصورة الأولى 

ولما ه‍اجر عبد الرحمن بن عوف إلى المدينة آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري رضي الله عنه، فقال سعد لعبد الرحمن بن عوف: عندي اثنان من كل شيء فخذ أحدا ما أحب إليك منهما، فقال عبد الرحمن له بارك الله لك في أهلك ومالك، ولكن دلني على السوق فدله عليه فجعل۔ يتجر ويربح و يدخر۔

: الصورة الثانية 

وما هو إلا قليل حتى اجتمع لديه مهر امرأة فتزوج، وجاء الرسول عليه السلام فقال له: ”مهيم يا عبد الرحمن“ فقال: تزوجت فقال: ”وما عطيت زوجتك من المه‍ر“ قال: وزن نواة من ذهب قال: ”أولم ولو بشاة بارك الله لك في مالك“۔

: الصورة الثالثة 

وجاهد عبد الرحمن في يوم بدر في الله حق جهاده وفي غزوه أحد عليه بضعة وعشرون جرحا بعضها عميق تدخل فيه يد الرجل۔

: الصورة الرابعة 

وقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ”تصدقوا فإني أريد أن أبعث بعثا“ فبادر عبد الرحمن إليه وقال: يا رسول الله عندي أربعة آلاف:ألفان منها اقرضتهما ربي وألفان تركتهما لعيالي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”بارك الله لك فيما أعطيت وبارك الله لك فيما أمسكت“ ۔

: الصورة الخامسة 

وعند غزوه تبوك لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابه باالنفقة في سبيل الله، فقد تصدق بمأتي أوقيه من الذهب، فقال عمر بن الخطاب للنبي صلى الله عليه وسلم: إني لا أرى عبد الرحمن إلا مرتكبا إثما، فما ترك لأهله شيئا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم هل تركت لأهلك شيئا.... عبد الرحمن؟ فقال: نعم، تركت لهم أكثر مما أنفقت و أطيب.قال صلى الله عليه وسلم: كم؟ قال: ما وعد الله ورسوله من الرزق والخير والأجر. و أم المسلمين في تبوك فصلى خلفه رسول الله صلى الله عليه وسلم ولما لحق الرسول عليه السلام بالرفيق الاعلى قام بكل مصالح  أمهات المسلمين حتى قالت عائشة رضي الله عنها، مرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لا يحنو عليكن من بعدي إلا الصابرون“ ۔

: وفاة عبد الرحمن بن عوف 

وبقيت دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن بن عوف بأن يبارك الله له تظلله مامتدت به الحياة فلما حضرت عبد الرحمن الوفاة أعتق خلقا كثيرا من مماليكه وبعد ذلك كله خلف لورثته مالا لا يكاد يحصيه حيث ترك ألف بعير،ومأة فرس، وثلاثة آلاف شاة وكانت نساءه أربعا فبلغ ربع الثمن الذي خص كل واحده منهن ثمانين ألفا۔ 

وحمل جنازته إلى مثواه الأخير خال رسول الله صلى الله عليه وسلم سعد بن أبي وقاص و صلى عليه ذو النورين عثمان بن عفان وشيعه أمير المؤمنين علي بن أبي طالب وهو يقول: إذهب فقد أدركت صفوها، وسبقت زيفه‍ا يرحمك الله ۔

هذا المقال ملخص لقصة عبد الرحمن بن عوف من كتاب ”صور من حياة الصحابة “ للدكتور عبد الرحمن رأفت الباشا

من حياة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه نستخلص العديد من الدروس والعبر التي تنير لنا طريق الإيمان والعمل الصالح، ومن أبرز هذه الدروس

: ١. المبادرة إلى الخير والإسلام

كان عبد الرحمن بن عوف من أوائل من دخلوا في الإسلام، مما يدل على حبه للحق وحرصه على النجاة في الدنيا والآخرة۔

: ٢. الصبر على الشدائد

تحمل في سبيل الله العذاب والاضطهاد، وصبر كما صبر الصحابة الأوائل، وهذا يعلمنا أن طريق الحق مليء بالتضحيات۔

: ٣. الاجتهاد في العمل والرزق الحلال

رغم أنه مهاجر بلا مال، إلا أنه اجتهد في التجارة بصدق وأمانة حتى أصبح من أغنى الصحابة، مما يدل على أهمية السعي والكسب الحلال۔

: ٤. السخاء والإنفاق في سبيل الله

كان من أكثر الصحابة إنفاقاً، يعطي بلا تردد ويؤثر غيره على نفسه، فاستحق دعوة النبي صلى الله عليه وسلم: "بارك الله لك فيما أعطيت وبارك الله لك فيما أمسكت“۔

: ٥. التوازن بين الدين والدنيا

جمع بين الغنى والتقوى، فكان من أثرياء الصحابة لكنه لم يتعلّق بالدنيا بل جعل ماله في خدمة الدين۔

: ٦. الأمانة والمسؤولية

قام على شؤون أمهات المؤمنين بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم، وهذا يعكس حسن الخلق وعلوّ الهمة۔

: ٧. الاستعداد للموت بالأعمال الصالحة

أعتق مماليكه وتصدّق قبل موته، وترك من المال ما يدل على بركة دعوة النبي له، فكانت حياته كلها طاعة وكرم وخدمة للدين۔

: ٨. حب الصحابة له وتقديرهم لمكانته

شيّعه كبار الصحابة، وأثنوا عليه، وهذا يدل على علوّ قدره وفضله في الإسلام۔

: النتيجة

إن حياة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه تمثل نموذجاً فريداً في الجمع بين الإيمان والعمل، وبين الغنى والتواضع، وبين القوة في الجهاد والرحمة في المعاملة، وعلينا أن نقتدي بسيرته في بناء أنفسنا ومجتمعاتنا۔

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/blog

post_23.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/06/blog-post_27.html

https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/07/httpsurduarabiccorner.html




پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی

 پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️   وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...