🌹داستانِ محبت🌹
بابِ دوم: جام میرا توبہ شکن، توبہ میری جام شکن
اگر آپ نے اس داستان کا پہلا باب نہیں پڑھا تو توقف کیجیے — کیونکہ یہ باب اُس کے جذباتی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔
: بابِ اوّل ملاحظہ ہو
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/10/blog-post.html
عرش کے دل میں اب ایک نیا موسم اتر چکا تھا۔ مختصر مگر گہرے لمحوں نے روشی کے لیے اُس کے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا کر دیا تھا۔ ہر صبح وہ پہلے سے زیادہ سنور کر، بہتر لباس پہن کر، خود کو عمدہ عطر سے معطر کر کے یونیورسٹی جاتا۔ مگر اس کا اصل مقصد علم نہیں، روشی کا ایک دیدار تھا۔
رابطہ بڑھا، مگر عرش کی دیانتِ ایمانی نے ایک لکیر کھینچ دی تھی۔
: وہ کہتا
اگر میں میسج سے بات کروں گا تو شاید گناہ ہلکا ہو جائے، لیکن آواز میں مٹھاس سن کر… شاید دل اور بھی بہک جائے۔
یوں وہ صرف تحریر کی حد تک رشتہ قائم رکھے ہوئے تھا۔
جمعرات کا دن تھا۔ چھٹی کے بعد اچانک دل میں خیال آیا —
کیا بہتر نہیں کہ میں کچھ وقت کے لیے دعوت و تبلیغ میں چلا جاؤں؟ شاید دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔
شام میں وہ رفقا کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ جمعہ کے دن اُس نے بیان بھی دیا — ایمان کی گرمی الفاظ میں محسوس ہو رہی تھی۔ نمازِ جمعہ کے بعد جب اُس نے ہاتھ اٹھائے، تو آنکھوں سے سیلاب بہہ نکلا۔ دل کی گہرائیوں سے توبہ کی صدا اٹھی
یا اللہ! مجھے معاف کر دے… میں خود گناہ میں پڑا ہوں، اور تیری باتوں کا مبلغ بنا بیٹھا ہوں
اُسی لمحے اس نے عزم کر لیا —
“بس! اب میں روشی سے بات نہیں کروں گا۔”
مدرسے واپسی پر دل کو قرار تھا، مگر خاموشی کے اندر کوئی خلا جنم لے چکا تھا۔ دو دن بیت گئے۔ تیسری شام دل کا طوفان قابو سے باہر ہو گیا۔ اس نے اسٹیشن کے قریب بیٹھ کر روشی کا نمبر ملایا۔
فون بجا — اور جیسے ہی کال ملی، الفاظ لبوں سے پھسل گئے،
آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے
روشی… مجھے معاف کر دو… میں تم سے بات نہیں کر سکتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ مجھ سے اپنی توفیق چھین نہ لے
روشی سن رہی تھی — خاموش، مگر دل سے۔ وہ بھی ایک عالمہ تھی، اُس کے ایمان نے بھی جواب میں نرمی پیدا کی
ٹھیک ہے… مت بات کیجیے، میں بھی آپ کو معاف کرتی ہوں۔
عرش نے فوراً اُسے بلاک کر دیا۔ دل مطمئن ہوا… مگر وقت گزرتے ہی وہی دل بے چین ہونے لگا۔
دو دن کے بعد ضبط نے ہار مان لی۔
اس نے پیغام بھیجا
“السلام علیکم… کیسی ہو؟”
جواب آیا
“الحمدللہ، آپ کیسے ہو؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں”
روشی نے چُپ توڑی
“آپ نے تو مجھے بلاک کر دیا تھا، پھر کیا ہوا؟”
ہاں، جوشِ ایمانی میں کر دیا تھا… مگر اب تمہاری یاد برداشت نہیں ہوتی۔ میں تم سے واقعی محبت کرتا ہوں۔
روشی نے لمحہ بھر توقف کیا، پھر گویا ہوئی
میں جانتی ہوں… لیکن میں ویسی نہیں ہوں۔ اور ابھی آپ بات کر رہے ہو، کل پھر آپکا ایمان جاگ جائے گا اور مجھے بلاک کر دو گے۔
عرش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
کیا کروں، سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔ سنبھلنے میں وقت لگ رہا ہے
یوں باتوں کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا۔
کلاسیں، یونیورسٹی، دعائیں، نظریں — سب اسی کشش میں بندھتے گئے۔
اور روشی
روشی تو گویا حسن کا پیکر تھی —
آنکھیں، جیسے نیلے آسمان پر بادل کا سایہ
ہونٹ، گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی نرم
دانت، چمکتے ہیروں کی طرح شفاف
اور آواز… ایسی کہ سننے والا لمحوں میں خود کو بھول جائے۔
عرش کے دل میں ایمان اور عشق کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ چکی تھی —
ایک طرف توبہ تھی ،جو جام شکن تھی
اور دوسری طرف روشی تھی —
جو توبہ شکن تھی۔
🌿 حاصلِ سبق 🌿
توبہ وہ چراغ ہے جو دل کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے، لیکن اگر دل دوبارہ خواہش کے بادلوں میں گھِر جائے تو وہ چراغ مدھم پڑنے لگتا ہے۔
ایمان کی حفاظت سب سے بڑی جدوجہد ہے۔ عرش نے توبہ تو کرلی، مگر دل کے کسی کونے میں روشی کی یاد باقی رہی، یہی یاد انسان کو دوبارہ آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔
محبت اور ایمان کا تعلق نازک ہے۔ اگر محبت ایمان کے تابع رہے تو نور بنتی ہے، اگر ایمان محبت کے تابع ہو جائے تو گناہ۔
گناہ کا احساس خود ایک نعمت ہے۔ جو شخص اپنے گناہ پر شرمندہ ہے، وہ اب بھی اللہ کے قریب ہے۔
انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانے، ان سے بھاگے نہیں بلکہ اللہ سے مدد مانگے — کیونکہ ہدایت کا سفر صبر سے گزرتا ہے۔
“جو اپنی کمزوری پہ رو پڑا، وہی مضبوط ایمان والا ہے۔”
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ عرش اور روشی کی کہانی آگے کیا رخ اختیار کرتی ہے — تو نیچے کمنٹ میں ضرور لکھیں
"ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آگے کیا ہوا" 💬







