Friday, June 27, 2025
درس من القران الكريم
Saturday, June 14, 2025
سفر نامہ: لکھنؤ سے چھپرہ
سفر نامہ
:عید کی آمد اور وطن کی تڑپ
:ریل گاڑی کی بوگی: گرمی،گھٹن اور بے قراری
:باپ اور اولاد
:سبق آموز منظر
Friday, May 30, 2025
تبصرہ : بر مسئلہ قربانی مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ
تبصرہ : بر مسئلہ قربانی
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ
مسئلہ قربانی – ایک فکری و تہذیبی تجزیہ
جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے جلیل القدر مفکر و مصلح کی تحریر سامنے آتی ہے، تو محض ایک مضمون نہیں، بلکہ فکر و نظر کی پوری ایک کائنات ہماری نگاہوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ "مسئلہ قربانی" مولانا کا ایک مختصر مگر نہایت جامع رسالہ ہے، جو صرف تیس صفحات پر مشتمل ہے، لیکن معنویت اور استدلال کے اعتبار سے ایک فکری شاہکار ہے۔
یہ رسالہ اس وقت تحریر کیا گیا جب معاشرے میں قربانی جیسی عظیم عبادت پر مختلف زاویوں سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ کہیں سادگی کے نام پر اس سنت کو ثانوی حیثیت دی جا رہی تھی، تو کہیں معاشی مفادات کی آڑ میں اسے بےمعنی اور دقیانوسی قرار دینے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ایسے میں مولانا مودودیؒ نے دلائل، تاریخ، شریعت، اور تہذیب کے سہارے اس سنت کی اصل روح کو نہ صرف واضح کیا بلکہ مخالفین کی فکری کمزوریوں کو بھی بےنقاب کیا۔
:دلائل کا جادو
مولانا نے ابتدا میں ہی یہ واضح کیا کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک علامتی عبادت ہے، جس میں عبد کا رب کے حضور مکمل تسلیم و رضا کا اظہار شامل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کو مولانا نے نہایت پر اثر انداز میں بیان کرتے ہوئے یہ باور کرایا کہ قربانی کا مفہوم صرف جسمانی یا مالی نہیں، بلکہ روحانی ہے – ایک تزکیہ نفس، ایک تہذیبی شعور، اور ایک اجتماعی وابستگی ہے۔
: سنت کی حفاظت کا جذبہ
رسائل و جرائد میں قربانی کے خلاف پھیلائے گئے مغالطوں کا مدلل جواب دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں کہ اگر قربانی کو "مالی ضیاع" کہہ کر ترک کر دیا جائے، تو دین اسلام کی روحانیات، شعائر اور عبادات پر بھی ایک دن یہی تہمتیں لگیں گی اور انھیں غیر ضروری اور رسمی کہ کر ان کے ترک پر امت مسلمہ کو قائل کیا جائیگا اس مختصر سے رسالے میں وہ نہایت سلیقے اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ اسلامی تہذیب کا ایک ستون ہے۔
: ادبی و فکری اسلوب
مولانا کا اسلوب ہمیشہ کی طرح متین، سادہ مگر پراثر ہے۔ ان کے جملوں میں دلائل کی کاٹ بھی ہے، اور روح کی حلاوت بھی۔ کہیں وہ قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، تو کہیں احادیث سے۔ کہیں تاریخی تناظر بیان کرتے ہیں، تو کہیں معاشرتی تغیرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا قلم ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم اور حکمت کی مشعل تھامے ہوئے ہو۔
: مخالفین پر شائستہ تنقید
مولانا کا خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ تنقید برائے تنقید کے قائل نہیں۔ وہ اختلاف رکھنے والوں کو رد کرتے ہیں، مگر عزت و شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان کی زبان میں نہ تلخی ہے، نہ تندی، بلکہ دلائل کی روشنی میں حق کو نمایاں کرنے کا خلوص ہے۔
: تہذیب کا مقدمہ
قربانی کو اگر تہذیبی مظہر کے طور پر دیکھا جائے، تو مولانا نے نہایت خوبصورتی سے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ اسلامی تہذیب اپنی علامتوں سے پہچانی جاتی ہے، اور اگر ان علامتوں کو مٹانے کی کوشش کی گئی، تو امت کا تشخص مٹ جائے گا، روحانی جوہر ماند پڑ جائے گا، اور دینی شعائر محض رسوم بن کر رہ جائیں گے۔
: اختتامیہ
یہ رسالہ صرف ایک فقہی یا عقلی بحث نہیں، بلکہ ایک فکری تجزیہ ہے، جو قربانی جیسے عظیم عمل کی حقیقت، اہمیت اور اثرات کو آج کے دور کے تنقیدی مزاج کے سامنے نہایت خوبی سے پیش کرتا ہے۔ مولانا نے سنتِ ابراہیمی کے تقدس کو نئی نسل کے دلوں میں جاگزیں کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کا انداز نہ صرف قاری کو مطمئن کرتا ہے بلکہ اسے جھنجھوڑتا ہے، بیدار کرتا ہے، اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ رسالہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے، جذب کرنے، اور عمل کرنے کے لیے ہے۔ ایک ایسا اثاثہ جو ہر صاحبِ علم و دین کے مطالعے میں ہونا چاہیے۔
برادرم محمد عمران خیرآبادی
درجہ :عالیہ رابعہ شریعہ
متعلم :دارالعلوم ندوۃ العلماء ،لکھنؤ
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2025/05/blog-post.html
Friday, May 23, 2025
روزنامچہ بتاریخ ۲۰ مئی ۲۰۲۵
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
روزنامچہ
تاریخ: ۲۰ مئ ۲۰۲۵
دن: اتوار
![]() |
| مسجد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ |
آج کی صبح کچھ خاص تھی۔ فجر کی اذان نے جب سکوتِ شب کو چیر کر بیداری کی ندا دی، تو دل نے خوشی سے کہاالحمد للہ، آج بھی بیداری کی نعمت نصیب ہوئیبا جماعت نمازِ فجر ادا کی، پھر تلاوتِ کلامِ الٰہی سے دل و دماغ کو منور کیا، اور تن آسانی کی چادر کو جھٹک کر ورزش گاہ گیا، آدھے گھنٹے کی ورزش نے جسم میں توانائی پیدا کر دی۔ورزش کے بعد میں حسب معمول اپنے محبوب و محترم استاد، مولانا مسعود عالم ندوی دامت برکاتهم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ معمول کے مطابق کاپی پیش کی، چند غلطیوں پر تنبیہ فرمائی، جو گویا جنہیں دور کرنے کا اسی وقت عزم کر لیا ۔ پھر آئندہ کے لیے نیا سبق عطا فرمایا، جو میرے علمی سفر کا ایک اور سنگِ میل بنا۔دارالعلوم واپسی پر ناشتہ کیا، اور ترمذی شریف کا اعادہ و مطالعہ اس ذوق و شوق سے کیا جیسے کوئی پیاسا چشمۂ علم پر جھک جائے۔ وقت سے پہلے درجہ میں حاضری دے دی۔الحمد للہ، آج تمام اوقاتِ درس پوری توجہ سے گزرے۔ ہر گھنٹہ جیسے علم کا ایک چراغ تھا، جو ذہن کی تاریکیوں کو روشن کرتا رہا۔نمازِ ظہر کے بعد اپنے رفیقِ درس، برادرم شاہد کے ساتھ "نخبۃ الأدب" کے چند اسباق کا ترجمہ کیا۔ یہ لمحات صرف مطالعے کے نہ تھے، بلکہ ذہن میں فکر اور عمل کا عزم پیدا ہوا۔کچھ ہی دیر بعد ہمارے قدیم اور عزیز رفیق، عاقب بھائی تشریف لائے، جن کے لیے دل بے اختیار مسکرا اٹھا۔ ضیافت کی، کچھ احوال پرسی ہوئی۔ پھر عصر سے کچھ قبل تھوڑی دیر قیلولہ کیا — جو بدن کی راحت اور ذہن کی تازگی کا سامان بن گیا۔نمازِ عصر کے بعد تبلیغی مشورے میں شرکت کی، پھر ایک دعا اور چند احادیث حفظ کیا، اور کچھ دیر چہل قدمی کرکے واپس مسجد آیا اور دعا میں مشغول ہو گیا۔مغرب کے بعد ایک علمی محفل میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ہال "علامہ حیدر حسن ٹونکی" میں ایک باوقار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں دارالعلوم کے ناظم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی، نائب ناظم مولانا عبد القادر ندوی، مہتمم سعید الرحمن اعظمی ندوی نائب مہتمم مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی،اساتذہ کرام اور ممتاز مہمانانِ گرامی موجود تھے۔تقریب کا آغاز عالیہ رابعہ کےطالب علم، برادرم ثمامہ کی تلاوت سے ہوا۔ ماجد دیوبندی صاحب نے نعتِ رسول پیش کی، اور پھر ترانۂ ندوہ پیش کیا گیا ۔اس کے بعد وہ لمحہ آیا، جب استاد محترم ڈاکٹر محمد فرمان صاحب ندوی مدظلہ العالی کی تصنیف "الشیخ سعید الاعظمی الندوی: حیاتہ و آثارہ" کا باضابطہ اجرا ہوا۔ آپ نے حضرت مہتمم صاحب کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اور بتایا کہ حضرت نے ۷۱ سالوں میں البعث کے لیے ۷۲۸ اداریے اور الرائد میں ٦٧ سالوں میں ۱١٤۰ مستقل کالم تحریر فرمائے۔
:تاثرات
:مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی نے کہا کہ
دوسروں کے لئے قربانی دینا اور دوسروں کے لئے جینا بہت بڑی بات ہے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا وہ آج تک قائم ہے، ان کے آگے صرف ندوہ ہی تھا، وہ دار العلوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ نے کہا کہ
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ۱۹۹۳ء میں مسلمانوں کی عصری علوم کے فروغ کے لئے انٹیگرل یونیورسٹی کو قائم کیا ، میں اس کا گواہ ہوں کہ مولانا کو دارالعلوم کے ساتھ ساتھ یو نیورسٹی قائم کرنے کی بہت فکر تھی ، آج یونیورسٹی جس شکل میں سامنے ہے، اس میں مولانا اعظمی کی توجہات شامل ہیں۔
![]() |
تقریب رسم اجراء |
![]() |
| ناظرین کی سہولت کے لیے ایل سی ڈی اسکرین کا اہتمام |
تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ ہال کے باہر ایک بڑی ایل سی ڈی اسکرین نصب کی گئی تھی تاکہ وہ افراد جو اندر نشست حاصل نہ کر سکے، وہ بھی اس روح پرور لمحے کا مشاہدہ کر سکیں۔ نتیجتاً ہال کے باہر بھی شائقینِ علم کی ایک بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہر طرف علم و ادب کے متوالوں کا ہجوم، اور کتاب سے محبت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔
![]() |
| طلبہ اور ناظرین کا جم غفیر |
بزم کا اختتام حضرت مہتمم صاحب کی دعاؤں سے ہوا۔
عشاء کے بعد کچھ ساتھیوں کے درمیان ہدایہ کا مذاکرہ کرایا، روزنامچہ رقم کیا، اور دل کو رب کے حضور سونپ کر پرسکون نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں بہتر بہتر سے مشغولیت میں مصروف رکھے اور یہ ہماری زندگی کا معمول بن جاۓ۔ آمین
تحریر کے تئیں اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کریں۔
https://urduarabiccorner.blogspot.com/2024/09/molana-abul-kalam-azad.html
Wednesday, February 26, 2025
سوشل میڈیا کے منفی اثرات
سوشل میڈیا کے منفی اثرات

:تمہید
دورِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کو بے حد سہولتیں فراہم کی ہیں۔ انہی سہولتوں میں سے ایک سوشل میڈیا بھی ہے، جو دنیا کے ہر فرد کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اسلام ہمیں جدید ذرائع کے مثبت استعمال کی ترغیب دیتا ہے، لیکن ہر ایجاد کے ساتھ خیر و شر کا پہلو جُڑا ہوتا ہے۔ یہی معاملہ سوشل میڈیا کا بھی ہے، جو ایک طرف معلومات کی تیز تر ترسیل کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف اس کے غیر محتاط استعمال سے کئی معاشرتی اور اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں
سوشل میڈیا کیا ہے؟
سوشل میڈیا انٹرنیٹ پر مبنی ایسے پلیٹ فارمز کا مجموعہ ہے جہاں لوگ معلومات کا تبادلہ، خیالات کی تشہیر، اور آپس میں گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس میں فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب، اور دیگر ایپلیکیشنز شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز فوری معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر اس کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
: سوشل میڈیا کے منفی اثرات
:١۔غور و فکر کی صلاحیت میں کمی
:٣.عزتِ نفس کی پامالی اور نفسیاتی مسائل
:٤.صحت پر منفی اثرات
:٥.وقت کا ضیاع
:٩. جرائم میں اضافہ
:خاتمہ
حاصل کلام یہ ہے سوشل میڈیا برائی اور اچھائی کا مشترک مجموعہ ہے لہذا اس کا استعمال احتیاط سے کرنا ہماری ذمہ داری ہے یہ فیصلہ صارفین پر منحصر ہے آیا اس کے مثبت استعمال سے ہم دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنوارلیں یا دونوں جہانوں کی ناکامی اپنے سر لے لیں۔
Saturday, February 22, 2025
الخطبة الوداعية عند مفارقة الاصدقاء
الخطبة الوداعية
الحمد لله الذي جعل لكل شيء قدرا و جعل لكل شيء فراقا و الصلاة و السلام على نبيه المختار و على آله و أصحابه الأخيار أما بعد
عتیق اللہ کلیم ✍️
قدِمتُ إلى مدرسة سيدنا بلال في عام ثلاثة و عشرين و ألفين من المسيح، و التحقت بالسنة السادسة من الثانوية، فوجدتُ المدرسة أفضل بكثير مما كنتُ قد سمعتُ عنها لكن يا مدرستي الحبيبة يا منبع العلم ويا موطن الذكريات الجميلة، أقف اليوم مودعًا وأنا أشعر بمزيج من الفرح والحزن، الفرح لأني أكملت هذه المرحلة من حياتي، والحزن لأنني سأفارق هذا المكان الذي كان لي بيتًا ثانيًا كم تعلمت منكِ يا مدرستي! تعلمت العلم النافع، والأخلاق السامية، والقيم التي ستبقى رفيقي في درب الحياة. لقد كانت لحظاتنا هنا مليئة بالتعب والجهد، لكنها كانت ممتعة ومليئة بالفائدة
مدرستي يا روضتي يا جنتي
فيكِ عشتُ أجملَ اللحظاتِ
!أساتذتي الكرام
يقف قلمي عاجزًا عن التعبير، وتختلط مشاعري بين الفرح والحزن، فرحٌ بما تعلمته على أيديكم، وحزنٌ لفراقكم، فكيف لي أن أودع من كان لهم الفضل بعد الله في تنوير عقلي، وتربية روحي، وتهذيب أخلاقي؟ لم تعطونا علما فقط، بل زينتمونا بالثقافة و الأخلاق أنتم المعرفة و أنتم الجامعة. أعطيتمونا خريطة الكنز و رسمتم عليها الطريق و دونتم لنا الغنيمة تعبتم و وقفتم في سبيلنا فنبقى شاكرين لكم ما دامت الحياة فينا
وَنَحْنُ شَاكِرُونَ جِدًّا لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ كَاشِفِ الصِّدِّيقِيِّ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى تَعْلِيمِهِ لَنَا مَادَّةَ اللُّغَةِ الإِنْجِلِيزِيَّةِ بِكُلِّ شَفَقَةٍ وَلُطْفٍ، وَعَلَى بَذْلِ جُهْدِهِ فِي إِيضَاحِ الدُّرُوسِ كَامِلَةً
جزَاهُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ
نَحْنُ شَاكِرُونَ لِنَاظِرِ مَدْرَسَتِنَا، أُسْتَاذِنَا الْمُخْلِصِ، الشَّيْخِ أَبَا طَلْحَةَ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ العَظِيمَةِ وَإِخْلَاصِهِ فِي خِدْمَةِ الطُّلَّابِ فَقَدْ كُنْت تَمُرُّ عَلَى كُلِّ غُرْفَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ لِتَتَأَكَّد مِنْ حُضُورِنَا، وَكُنْت تَهْتَمُّ أَيْضًا بِتَرْبِيَتِنَا وَنَظَافَةِ المَدْرَسَةِ بِكُلِّ إِخْلَاصٍ وَاجْتِهَادٍ إِنْ كَانَ قَدْ صَدَرَ مِنْ أَحَدِ إِخْوَانِنَا أَيُّ إِيذَاءٍ أَوْ تَقْصِيرٍ، فَنَرْجُو مِنْكُمْ أَنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا.
جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ، وَبَارَكَ فِي جُهُودِكُمْ وَعَمَلِكُمْ، وَجَعَلَ ذَلِكَ فِي مِيزَانِ حَسَنَاتِكُمْ
نَحْنُ شَاكِرُونَ لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ خبِيبٍ القاسمي - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ وَإِخْلَاصِهِ، فَلَمْ يَكْتَفِ بِتَدْرِيسِنَا فِي الصَّفِّ فَقَطْ، بَلْ كَانَ يَتَخَلَّى عَنْ رَاحَتِهِ وَسُكُونِهِ بَعْدَ صَلَاةِ الفَجْرِ لِيُعَلِّمَنَا وَيُوَجِّهَنَا وَلَكِنَّنَا لَمْ نُقَدِّرْكُمْ حَقَّ التَّقْدِيرِ.
نلتمسُ العذرَ من أستاذِنا المُحترمِ، فقد حدثَ مرارًا أنْ كنت تدخل الصفَّ، ونكونُ غائبين، ثمَّ تبحث عنَّا، وتنصحنا وترشدنا.
إنَّها لَمِنْ شفقتِك ورحمتِك بِنَا، ومنْ فضلِك علينا، فنرفعَ إليك طلبَ العفوِ والسماحِ، أن تعفوعَنْ زَلَّاتِنَا وَأَخْطَائِنَا، جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، وَأَطَالَ اللَّهُ فِي عُمُرِك فِي طَاعَتِهِ وَبَارَكَ فِيك
نَحْنُ شَدِيدُو الشُّكْرِ وَالِامْتِنَانِ لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشيخِ أبي الجيش - حَفِظَهُ اللهُ -، فَقَدْ كُنْت تُوَضِّحُ لَنَا كُتُبَ الأَدَبِ الْعَرَبِيِّ بِأُسْلُوبٍ سَهْلٍ وَوَاضِحٍ، وَلَمْ تَبْخَل عَلَيْنَا بِعِلْمِك حَتَّى فِي الأَوْقَاتِ غَيْرِ الدِّرَاسِيَّةِ، كُنْت تَرْشِدُنَا وَتُوَجِّهُنَا لِكُلِّ خَيْرٍ.
وَلَكِنَّنَا أَسَفًا قَدْ أَتْعَبْنَاك وَكُنَّا نُقَصِّرُ فِي أَدَاءِ المَسْؤُولِيَّاتِ الَّتِي كُنْت تُوَكِّلُهَا إِلَيْنَا، فَلَا نُتِمُّهَا فِي الْوَقْتِ الْمُحَدَّدِ
وَنَحْنُ شَاكِرُونَ جِدًّا لِأُسْتَاذِنَا الْمُحْتَرَمِ، الشَّيْخِ المَوْلَانَا أَسَدُ اللَّهِ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ فِي تَدْرِيسِ النَّحْوِ وَالصَّرْفِ، فَقَدْ جَعَلَهُمَا سَهْلَيْنِ وَرَاسِخَيْنِ فِي قُلُوبِنَا.
جَزَاهُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الجَزَاءِ
ونحنُ نَشْكُرُ مِنْ أَعْمَاقِ قُلُوبِنَا أُسْتَاذَنَا الْمُشْفِقَ وَالْمُرَبِّيَ الْفَاضِلَ، الشيخَ أحمد إلياس الندوي- حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ الْمُبَارَكَةِ، فَقَدْ دَرَّسَ الهداية لَنَا بِطَرِيقَةٍ رَسَخَتْ فِي قُلُوبِنَا، حَتَّى صَارَتْ نَقْشًا فِيهَا، وَفَهِمْنَا الْمَسَائِلَ بِصُورَةٍ أَفْضَلَ وَأَوْضَحَ.
وَلَكِنَّنَا نَشْعُرُ بِالْخِزْيِ وَالْأَسَفِ،للْغَفْلَة وَالنَّوْم تَغْلِبُ عَلَيْنَا في الصف، فَكُنْت تَتَأَلَّمُ وكُنْت تَغْضَب أَحْيَانًا، لَكِنَّك لَمْ تَسْتَعْمِل قَطُّ أَلْفَاظًا غَيْرَ لَائِقَةٍ، وَكُلَّمَا لَمْ نَفْهَمْ أَمْرًا، كُنْت تَبْذُلُ كُلَّ جُهْدِك فِي تَوْضِيحِهِ لَنَا بِكُلِّ صَبْرٍ وَحِلْمٍ.
فَنَسْأَلُكُمْ بِكُلِّ تَوَاضُعٍ أَنْ تَعْفُوا عَنْ زلتنا و غفلتنا، وَأَنْ تَدْعُو لَنَا بِالْخَيْرِ، لِيَجْعَلَنَا اللَّهُ مِنْ خِيَرَةِ الرَّاحِلِينَ فِي طَرِيقِ الْعِلْمِ، وَمِنْ أَفْضَلِ الْمُرْشِدِينَ وَالْهَادِينَ.
جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، وَبَارَكَ فِيكُمْ، وَنَفَعَنَا بِعِلْمِكُمْ.
فَنَلْتَمِسُ مِنْكُمْ الْعُذْرَ، وَنَرْجُو مِنْكُمْ الْعَفْوَ عَنْ تَقْصِيرِنَا وَإِهْمَالِنَا.جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الْجَزَاءِ
نَحْنُ شَاكِرُونَ لِفَضِيلَةِ نَائِبِ المُدير، أُسْتَاذِنَا المُشْفِقِ وَالمُرَبِّي، الشَّيْخِ سَلْمَانَ القَاسِمِيِّ - حَفِظَهُ اللهُ -، عَلَى جُهُودِهِ الْمُبَارَكَةِ فِي تَعْلِيمِنَا، فَقَدْ كُنْت تُدَرِّسُنَا بِطَرِيقَةٍ مُمْتِعَةٍ، تَجْعَلُنَا نَفْرَحُ وَنَبْتَسِمُ، وَمَا شَعَرْنَا قَطُّ بِالْمَلَلِ فِي دُرُوسِك
وَمَعَ ذَلِكَ نَلْتَمِسُ مِنْكُمُ الْعُذْرَ، وَنَرْجُو مِنْك أَنْ تَعْفُوا عَنْ أَيِّ خَطَأٍ صَدَرَ مِنَّا بِسَبَبِ تَقْصِيرِنَا أَوْ إِهْمَالِنَا.
جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرَ الجَزَاءِ
وَكَيْفَ نَنْسَى مُديرنا الْكَرِيمَ، الَّذِي كَانَ يُوَجِّهُنَا فِي كُلِّ وَقْتٍ، وَيَبْذُلُ كُلَّ مَا فِي وُسْعِهِ لِرَاحَتِنَا وَسُكُونِنَا؟!
فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَةِ العَمُودِ الرَّئِيسِيِّ لِهَذِهِ المَدْرَسَةِ، الَّذِي تَقُومُ عَلَيْهِ نَجَاحَاتُهَا وَإِنْجَازَاتُهَا
نَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَ كُلَّ مَدْرَسَةٍ مِثْلَكُمْ فِي الإِخْلَاصِ وَالمَسْؤُولِيَّةِ، وَسامحنا يا سيدنا فَقَدْ شَغَلْنَاكُمْ وَأَتْعَبْنَاكُمْ كَثِيرًافَاعْفُوا عَنَّا، وَادْعُوا لَنَا بِالخَيْرِ وَالتَّوْفِيقِ
سأغادر الدارَ لكنْ لستُ أنساكمُ
يا منبعَ العلمِ يا أنوارَ أفلاكي
ما زالَ حبُّكمُ في القلبِ يسكنُهُ
كأنكم بينَ أضلاعي وأشراكي
لقد تلقيت منكم، أساتذتي الكرام، علماً نافعًا، وأدبًا راقيًا، ونصحًا مخلصًا، فجزاكم الله عني خير الجزاء، وجعل ما قدمتموه لنا نورًا في صحائف أعمالكم، وشاهداً لكم يوم لا ينفع مال ولا بنون
إخواني الأحبة، لقد كنا هنا كأسرة واحدة، جمعتنا المحبة، ووحدتنا الأهداف النبيلة، وعشنا معًا لحظات لا تُنسى، فكيف للقلب أن ينسى من كان لهم فيه مكان!؟
باللهِ يا صحبَتي لا تنسَوا مودّتنا
واذكُروا أخًا قد مضى والشوقُ يُحييـه
إنْ غِبتُ عنكم فإنّ الروحَ متّصلـةٌ
والودُّ يبقى وإن غابتْ لياليه
أوصيكم أيها الأحبة، بتقوى الله، والجد والاجتهاد في طلب العلم، والتمسك بالأخلاق الفاضلة، فهذه الدنيا قصيرة، ولن يبقى منها إلا العمل الصالح والعلم النافع.
وها أنا أودعكم بدمع العين، وخفقات القلب، وأسأل الله أن يجمعنا بكم في الدنيا على الخير، وفي الآخرة في مستقر رحمته، في جنات عدن عند مليك مقتدر
سلامٌ على الدارِ التي قد أحبَّها
وسلامٌ على الإخوانِ في كلِّ وادي
فإنْ فرَّقَتْنا الدهرُ لا بدَّ من لِقا
ففي جنةِ الفردوسِ أبهى المعادِ
محمد عتيق الله ( الطالب في السنة الثانية من العالية) في مدرسة سيدنا بلال ،دالى غنج لكناؤ
Saturday, February 8, 2025
عطلة يوم الاستقلال
عطلة يوم الاستقلال
پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی
پیغامِ سالِ نو: وقت کی پکار اور خود احتسابی عتیق اللہ کلیم ✍️ وقت کی تیز گامی اور حیاتِ مستعار سن 2025ء کی شام ڈھل رہی ہے اور 2026ء کا سو...
-
سفر نامہ ٠٤/٠٦/٢٠٢٥ :عید کی آمد اور وطن کی تڑپ عتیق اللہ کلیم ✍️ عید الاضحٰی کی آمد آمد تھی، مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ب...
-
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم روزنامچہ تاریخ: ۲۰ مئ ۲۰۲۵ دن: اتوار مسجد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ عتیق اللہ کلیم ✍️ آج کی صبح ک...
-
الخطبة الوداعية الحمد لله الذي جعل لكل شيء قدرا و جعل لكل شيء فراقا و الصلاة و السلام على نبيه المختار و على آله و أصحابه الأخيار أما بعد...









